<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حساس ذاتی ڈیٹا کی آن لائن فروخت پر تحقیقات کا حکم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276710/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اتوار کے روز ایک مبینہ پرائیویسی اور قومی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی سامنے آئی ہے، جس میں انکشاف ہوا کہ وفاقی وزرا، اعلیٰ سرکاری افسران اور ہزاروں عام شہریوں کے ذاتی کوائف – بشمول موبائل سم کی ملکیت کے ریکارڈ، کال لاگز اور شناختی دستاویزات – کھلے عام آن لائن فروخت ہو رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس پر نوٹس لیتے ہوئے ہدایت دی کہ حساس نوعیت کے ان دستاویزات کی خرید و فروخت کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ یہ معلومات نہایت کم قیمت پر ان ویب سائٹس پر دستیاب ہیں جن تک عام گوگل سرچ کے ذریعے رسائی ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر داخلہ نے قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو جامع تحقیقات کی ہدایت دی اور معاملے کی جانچ کے لیے 14 رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق، این سی سی آئی اے کی ٹیم نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد اس خلاف ورزی کے ذمے داروں کا تعین کرنا اور ان کے خلاف فوری قانونی کارروائی کرنا ہے۔ کمیٹی کو 14 دن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق موبائل سم ملکیت کی تفصیلات، قومی شناختی کارڈز کی تصاویر، کال ڈیٹا ریکارڈز اور حتیٰ کہ بین الاقوامی سفری تاریخ بھی چند سو روپے، یعنی 500 روپے تک میں فروخت کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ غیرقانونی کاروبار عام شہریوں سے لے کر اعلیٰ حکومتی سطح کی دستاویزات تک پھیلا ہوا ہے، جو ڈیٹا سکیورٹی اور ریاستی نگرانی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے سابقہ دعووں کے باوجود کہ ایسی ویب سائٹس بلاک کر دی گئی ہیں، ذاتی ڈیٹا کی غیرقانونی خرید و فروخت بدستور جاری ہے۔ درجنوں پلیٹ فارمز حساس معلومات فروخت کر رہے ہیں جس سے شہری ہراسانی، بلیک میلنگ اور جرائم کا شکار بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سائبر سکیورٹی ماہرین نے اس صورتحال کو نظامی ناکامی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ خلاف ورزی قومی سلامتی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کے لیے دور رس نتائج رکھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تمام معاملے پر پی ٹی اے کی کارکردگی شدید تنقید کی زد میں ہے اور ناقدین مؤثر اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پی ٹی اے کے ترجمان سے رابطے کی متعدد کوششیں ناکام رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اتوار کے روز ایک مبینہ پرائیویسی اور قومی سلامتی کی سنگین خلاف ورزی سامنے آئی ہے، جس میں انکشاف ہوا کہ وفاقی وزرا، اعلیٰ سرکاری افسران اور ہزاروں عام شہریوں کے ذاتی کوائف – بشمول موبائل سم کی ملکیت کے ریکارڈ، کال لاگز اور شناختی دستاویزات – کھلے عام آن لائن فروخت ہو رہے ہیں۔</strong></p>
<p>وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس پر نوٹس لیتے ہوئے ہدایت دی کہ حساس نوعیت کے ان دستاویزات کی خرید و فروخت کی مکمل تحقیقات کی جائیں۔ یہ معلومات نہایت کم قیمت پر ان ویب سائٹس پر دستیاب ہیں جن تک عام گوگل سرچ کے ذریعے رسائی ممکن ہے۔</p>
<p>وزیر داخلہ نے قومی سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کو جامع تحقیقات کی ہدایت دی اور معاملے کی جانچ کے لیے 14 رکنی خصوصی کمیٹی تشکیل دے دی ہے۔ وزارتِ داخلہ کے ترجمان کے مطابق، این سی سی آئی اے کی ٹیم نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے جس کا مقصد اس خلاف ورزی کے ذمے داروں کا تعین کرنا اور ان کے خلاف فوری قانونی کارروائی کرنا ہے۔ کمیٹی کو 14 دن میں رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔</p>
<p>رپورٹس کے مطابق موبائل سم ملکیت کی تفصیلات، قومی شناختی کارڈز کی تصاویر، کال ڈیٹا ریکارڈز اور حتیٰ کہ بین الاقوامی سفری تاریخ بھی چند سو روپے، یعنی 500 روپے تک میں فروخت کی جا رہی ہے۔</p>
<p>یہ غیرقانونی کاروبار عام شہریوں سے لے کر اعلیٰ حکومتی سطح کی دستاویزات تک پھیلا ہوا ہے، جو ڈیٹا سکیورٹی اور ریاستی نگرانی پر سنگین سوالات اٹھاتا ہے۔</p>
<p>پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کے سابقہ دعووں کے باوجود کہ ایسی ویب سائٹس بلاک کر دی گئی ہیں، ذاتی ڈیٹا کی غیرقانونی خرید و فروخت بدستور جاری ہے۔ درجنوں پلیٹ فارمز حساس معلومات فروخت کر رہے ہیں جس سے شہری ہراسانی، بلیک میلنگ اور جرائم کا شکار بن سکتے ہیں۔</p>
<p>سائبر سکیورٹی ماہرین نے اس صورتحال کو نظامی ناکامی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ خلاف ورزی قومی سلامتی اور ریاستی اداروں پر عوامی اعتماد کے لیے دور رس نتائج رکھ سکتی ہے۔</p>
<p>اس تمام معاملے پر پی ٹی اے کی کارکردگی شدید تنقید کی زد میں ہے اور ناقدین مؤثر اصلاحات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پی ٹی اے کے ترجمان سے رابطے کی متعدد کوششیں ناکام رہی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276710</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Sep 2025 09:13:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ذوالفقار احمد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/080912284964490.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/080912284964490.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
