<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 07:04:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 07:04:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاور ڈویژن کی وزیرِاعظم کو 1.225 کھرب روپے کے قرض معاہدے کی تقریب میں شرکت کی دعوت</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276707/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;باخبر ذرائع نے بزنس ریکور کو بتایا کہ توانائی ڈویژن نے وزیرِاعظم شہباز شریف سے درخواست کی ہے کہ وہ بینکوں کے ساتھ 1.225 کھرب روپے کے قرضوں کے معاہدوں پر دستخط کی تقریب کے گواہ بنیں۔ یہ قرضے بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے کے جزوی خاتمے کے لیے حاصل کیے جارہے ہیں، جو اس وقت تقریباً 1.7 کھرب روپے تک ہے۔ یہ حجم ماضی میں 2.5 کھرب روپے تک جا پہنچا تھا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق 18 بینکوں کے ساتھ اس فنانسنگ پیکج کی تمام کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔ ڈسکوز، سی پی پی اے-جی، پاور ڈویژن اور وزارتِ خزانہ کے بورڈز پہلے ہی معاہدوں کی منظوری دے چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام مطلوبہ دستاویزات، گارنٹیاں اور تقاضے مکمل کر لیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1.225 کھرب روپے اور 1.275 کھرب روپے کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ یہ 50 ارب روپے کا معاملہ سی پیک کے چینی آئی پی پیز کی طرف سے لیٹ پیمنٹ سرچارج معاف کرنے سے متعلق نہیں ہے۔ یہ فرق سہ ماہی ادائیگی کے ڈھانچے کی وجہ سے ہے۔ حکومت نے ادائیگیوں کی حد 310 ارب روپے فی سہ ماہی رکھی ہے، جس کے تحت معاہدہ 1.225 کھرب روپے پر طے پایا۔ اگر یہ حد 325 ارب روپے رکھی جاتی تو رقم 1.275 کھرب روپے تک بڑھ جاتی، لیکن اس سے ڈیٹ سروسنگ سرچارج (ڈی ایس ایس) 3.23 روپے فی یونٹ میں اضافہ ہوتا جو حکومت کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فنانسنگ میں سے حکومت کو 659 ارب روپے کے قرضے واپس کرنے ہیں جو پاور ہولڈنگ لمیٹڈ (پی ایچ ایل) پر واجب الادا ہیں۔ تاہم بقیہ رقم بجلی گھروں، پٹرولیم شعبے یا سبسڈی ایڈجسٹمنٹس میں تقسیم کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ پاور ڈویژن نے اب وزیرِاعظم سے رہنمائی مانگی ہے اور امکان ہے کہ معاہدوں پر دستخط کی تقریب وزیرِاعظم ہاؤس میں ان کی موجودگی میں منعقد ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے پر دستخط کے بعد حکومت کے پاس 30 دن ہوں گے جن میں بینکوں سے رقوم جاری کرنے کی باضابطہ درخواست کرنی ہوگی۔ کسی بھی رقم کی درخواست کرنے کے بعد اسے لازمی استعمال کرنا ہوگا، ورنہ جرمانہ عائد ہوگا۔ ایک ماہ بعد حکومت کے پاس مزید تین ماہ ہوں گے جن میں وہ نکالی گئی رقوم استعمال کرسکے گی۔ اسی مرحلے پر حکومت یہ جانچ کرے گی کہ مقامی یا چینی آئی پی پیز میں سے کون اپنے واجبات پر رعایت دینے پر آمادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاہدے میں شامل 18 بینکوں میں میزان بینک، حبیب بینک، نیشنل بینک، الائیڈ بینک، یونائیٹڈ بینک، فیصل بینک، بینک الحبیب، ایم سی بی، بینک الفلاح، دبئی اسلامک بینک، بینک آف پنجاب، بینک اسلامی، عسکری بینک، حبیب میٹروپولیٹن بینک، البرکہ بینک، بینک آف خیبر، ایم سی بی اسلامک اور سونری بینک شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی کابینہ پہلے ہی پاور ڈویژن کی تجاویز کی منظوری دے چکی ہے، جن میں سی پی پی اے-جی کو ڈسکوز کی جانب سے معاہدے پر دستخط کی اجازت، 267 ارب روپے کی فوری ادائیگی، 393 ارب روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری، اور پاور ہولڈنگ لمیٹڈ کے 683 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی شامل ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ نے بجلی اور ٹیکس قوانین میں ترامیم کی منظوری بھی دے دی ہے جنہیں مالیاتی بل 26-2025 کا حصہ بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>باخبر ذرائع نے بزنس ریکور کو بتایا کہ توانائی ڈویژن نے وزیرِاعظم شہباز شریف سے درخواست کی ہے کہ وہ بینکوں کے ساتھ 1.225 کھرب روپے کے قرضوں کے معاہدوں پر دستخط کی تقریب کے گواہ بنیں۔ یہ قرضے بجلی کے شعبے کے گردشی قرضے کے جزوی خاتمے کے لیے حاصل کیے جارہے ہیں، جو اس وقت تقریباً 1.7 کھرب روپے تک ہے۔ یہ حجم ماضی میں 2.5 کھرب روپے تک جا پہنچا تھا۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق 18 بینکوں کے ساتھ اس فنانسنگ پیکج کی تمام کارروائی مکمل ہو چکی ہے۔ ڈسکوز، سی پی پی اے-جی، پاور ڈویژن اور وزارتِ خزانہ کے بورڈز پہلے ہی معاہدوں کی منظوری دے چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ تمام مطلوبہ دستاویزات، گارنٹیاں اور تقاضے مکمل کر لیے گئے ہیں۔</p>
<p>1.225 کھرب روپے اور 1.275 کھرب روپے کے فرق کی وضاحت کرتے ہوئے ذرائع نے کہا کہ یہ 50 ارب روپے کا معاملہ سی پیک کے چینی آئی پی پیز کی طرف سے لیٹ پیمنٹ سرچارج معاف کرنے سے متعلق نہیں ہے۔ یہ فرق سہ ماہی ادائیگی کے ڈھانچے کی وجہ سے ہے۔ حکومت نے ادائیگیوں کی حد 310 ارب روپے فی سہ ماہی رکھی ہے، جس کے تحت معاہدہ 1.225 کھرب روپے پر طے پایا۔ اگر یہ حد 325 ارب روپے رکھی جاتی تو رقم 1.275 کھرب روپے تک بڑھ جاتی، لیکن اس سے ڈیٹ سروسنگ سرچارج (ڈی ایس ایس) 3.23 روپے فی یونٹ میں اضافہ ہوتا جو حکومت کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتا تھا۔</p>
<p>اس فنانسنگ میں سے حکومت کو 659 ارب روپے کے قرضے واپس کرنے ہیں جو پاور ہولڈنگ لمیٹڈ (پی ایچ ایل) پر واجب الادا ہیں۔ تاہم بقیہ رقم بجلی گھروں، پٹرولیم شعبے یا سبسڈی ایڈجسٹمنٹس میں تقسیم کرنے کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔ پاور ڈویژن نے اب وزیرِاعظم سے رہنمائی مانگی ہے اور امکان ہے کہ معاہدوں پر دستخط کی تقریب وزیرِاعظم ہاؤس میں ان کی موجودگی میں منعقد ہو۔</p>
<p>ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے پر دستخط کے بعد حکومت کے پاس 30 دن ہوں گے جن میں بینکوں سے رقوم جاری کرنے کی باضابطہ درخواست کرنی ہوگی۔ کسی بھی رقم کی درخواست کرنے کے بعد اسے لازمی استعمال کرنا ہوگا، ورنہ جرمانہ عائد ہوگا۔ ایک ماہ بعد حکومت کے پاس مزید تین ماہ ہوں گے جن میں وہ نکالی گئی رقوم استعمال کرسکے گی۔ اسی مرحلے پر حکومت یہ جانچ کرے گی کہ مقامی یا چینی آئی پی پیز میں سے کون اپنے واجبات پر رعایت دینے پر آمادہ ہے۔</p>
<p>معاہدے میں شامل 18 بینکوں میں میزان بینک، حبیب بینک، نیشنل بینک، الائیڈ بینک، یونائیٹڈ بینک، فیصل بینک، بینک الحبیب، ایم سی بی، بینک الفلاح، دبئی اسلامک بینک، بینک آف پنجاب، بینک اسلامی، عسکری بینک، حبیب میٹروپولیٹن بینک، البرکہ بینک، بینک آف خیبر، ایم سی بی اسلامک اور سونری بینک شامل ہیں۔</p>
<p>وفاقی کابینہ پہلے ہی پاور ڈویژن کی تجاویز کی منظوری دے چکی ہے، جن میں سی پی پی اے-جی کو ڈسکوز کی جانب سے معاہدے پر دستخط کی اجازت، 267 ارب روپے کی فوری ادائیگی، 393 ارب روپے کے تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری، اور پاور ہولڈنگ لمیٹڈ کے 683 ارب روپے کے واجبات کی ادائیگی شامل ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ نے بجلی اور ٹیکس قوانین میں ترامیم کی منظوری بھی دے دی ہے جنہیں مالیاتی بل 26-2025 کا حصہ بنایا جائے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276707</guid>
      <pubDate>Mon, 08 Sep 2025 08:51:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/08084757fc9f384.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/08084757fc9f384.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
