<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:35:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:35:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>این ڈی ایم اے کا سندھ، بلوچستان اور پنجاب میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی نالوں میں طغیانی کا انتباہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276705/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے اتوار کو الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جاری مون سون اسپیل کے دوران سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایڈوائزری کے مطابق 7 سے 10 ستمبر کے دوران جنوب مشرقی سندھ میں کہیں کہیں شدید سے نہایت شدید بارش کا امکان ہے، جس سے زیریں ساحلی اضلاع میں اربن فلڈنگ کی  صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بلوچستان کے کیرتھر رینجز، لسبیلہ اور خضدار کے علاقوں میں بھی برساتی ندی نالے بپھرنے سے پہاڑی طغیانی آسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ای او سی نے بتایا کہ یہ بارشیں اس موسمی نظام سے جڑی ہیں جو اس وقت بھارتی ریاست گجرات-راجستھان کی سرحد پر موجود ہے اور مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے سندھ، ملحقہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب کو 10 ستمبر تک متاثر کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا ہے کہ سلیمان رینج اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے نتیجے میں مقامی ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے، جس سے اچانک سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینٹر نے عوام پر زور دیا کہ وہ برساتی ندی نالوں کو عبور کرنے سے گریز کریں، نشیبی علاقوں میں حفاظتی اقدامات کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، پنجاب سے آنے والی ایک طاقتور سیلابی لہر سندھ میں داخل ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کے بڑے بیراجوں پر پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سندھ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ہیڈ پنجند پر پانی کی آمد و اخراج 446,820 کیوسک ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ دن کے مقابلے میں 97,706 کیوسک زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تریموں ہیڈ ورکس پر آمد و اخراج 508,371 کیوسک ریکارڈ ہوا۔ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 366,151 کیوسک جبکہ سکھر بیراج پر 329,990 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 245,000 کیوسک اور اخراج 226,497 کیوسک رہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل ایمرجنسیز آپریشن سینٹر (این ای او سی) نے اتوار کو الرٹ جاری کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جاری مون سون اسپیل کے دوران سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں اربن فلڈنگ اور پہاڑی ندی نالوں میں طغیانی کا خطرہ ہے۔</strong></p>
<p>ایڈوائزری کے مطابق 7 سے 10 ستمبر کے دوران جنوب مشرقی سندھ میں کہیں کہیں شدید سے نہایت شدید بارش کا امکان ہے، جس سے زیریں ساحلی اضلاع میں اربن فلڈنگ کی  صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔</p>
<p>بلوچستان کے کیرتھر رینجز، لسبیلہ اور خضدار کے علاقوں میں بھی برساتی ندی نالے بپھرنے سے پہاڑی طغیانی آسکتی ہے۔</p>
<p>این ای او سی نے بتایا کہ یہ بارشیں اس موسمی نظام سے جڑی ہیں جو اس وقت بھارتی ریاست گجرات-راجستھان کی سرحد پر موجود ہے اور مغرب کی جانب بڑھتے ہوئے سندھ، ملحقہ بلوچستان اور جنوبی پنجاب کو 10 ستمبر تک متاثر کر سکتا ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا ہے کہ سلیمان رینج اور جنوبی پنجاب کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کے نتیجے میں مقامی ندی نالوں میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہے، جس سے اچانک سیلاب کا خدشہ پیدا ہوگا۔</p>
<p>سینٹر نے عوام پر زور دیا کہ وہ برساتی ندی نالوں کو عبور کرنے سے گریز کریں، نشیبی علاقوں میں حفاظتی اقدامات کریں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مقامی انتظامیہ کی ہدایات پر عمل کریں۔</p>
<p>دوسری جانب، پنجاب سے آنے والی ایک طاقتور سیلابی لہر سندھ میں داخل ہو چکی ہے، جس کے نتیجے میں صوبے کے بڑے بیراجوں پر پانی کی سطح بلند ہوگئی ہے۔</p>
<p>سندھ انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کے مطابق ہیڈ پنجند پر پانی کی آمد و اخراج 446,820 کیوسک ریکارڈ کی گئی، جو گزشتہ دن کے مقابلے میں 97,706 کیوسک زیادہ ہے۔</p>
<p>تریموں ہیڈ ورکس پر آمد و اخراج 508,371 کیوسک ریکارڈ ہوا۔ گڈو بیراج پر پانی کی آمد 366,151 کیوسک جبکہ سکھر بیراج پر 329,990 کیوسک ریکارڈ کی گئی۔ کوٹری بیراج پر پانی کی آمد 245,000 کیوسک اور اخراج 226,497 کیوسک رہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276705</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Sep 2025 15:50:29 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/07154920a1f27ea.webp" type="image/webp" medium="image" height="158" width="318">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/07154920a1f27ea.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
