<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جاپان کا نیا وزیراعظم کون ہوگا؟</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276704/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;جاپان کے وزیرِاعظم شیگیرو ایشیبا نے اتوار کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے، قریبی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کے دباؤ پر کیا گیا تاکہ حالیہ انتخابات میں ہونے والی شکستوں کی ذمہ داری قبول کی جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیبا کے مستعفی ہونے کے بعد ایل ڈی پی میں نئی قیادت کے انتخاب کی دوڑ شروع ہوگی، تاہم چونکہ حکومتی اتحاد دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت کھو چکا ہے، اس لیے نئے ایل ڈی پی صدر کے وزیرِاعظم بننے کی کوئی ضمانت نہیں رہی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اپوزیشن رہنما کے اقتدار سنبھالنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ممکنہ امیدواروں میں ایل ڈی پی کی سینیئر رہنما سنا تاکائچی شامل ہیں، جو منتخب ہونے کی صورت میں جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بن جائیں گی۔ وہ سخت گیر مؤقف رکھنے والی سیاستدان سمجھی جاتی ہیں اور جاپان کے امن پسند آئین میں ترمیم کی حامی ہیں۔ دوسری جانب شینجیرو کوئزومی، سابق وزیرِ ماحولیات اور ایک سیاسی خانوادے کے وارث، 44 سال کی عمر میں جاپان کے کم عمر ترین وزیراعظم بن سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی فہرست میں یوشی ماسا ہیاشی بھی شامل ہیں، جو انگریزی میں مہارت رکھتے ہیں اور کابینہ کے اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ مرکزی بینک کی آزادانہ پالیسیوں کے حامی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپوزیشن کی جانب سے، سب سے بڑی جماعت آئینی جمہوری پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم یوشی ہیکو نودا مضبوط امیدوار ہیں، جو مالیاتی نظم و ضبط کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ جبکہ یویچیرو تاما کی کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی فار دی پیپل تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، اور وہ ٹیکس میں چھوٹ اور عوامی آمدن بڑھانے کے حامی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال نے جاپان کے سیاسی منظرنامے کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جہاں حکومتی و اپوزیشن دونوں جماعتیں نئی قیادت کے لیے سرگرم ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>جاپان کے وزیرِاعظم شیگیرو ایشیبا نے اتوار کو اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے، قریبی ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ حکمران جماعت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کے دباؤ پر کیا گیا تاکہ حالیہ انتخابات میں ہونے والی شکستوں کی ذمہ داری قبول کی جا سکے۔</strong></p>
<p>ایشیبا کے مستعفی ہونے کے بعد ایل ڈی پی میں نئی قیادت کے انتخاب کی دوڑ شروع ہوگی، تاہم چونکہ حکومتی اتحاد دونوں ایوانوں میں اپنی اکثریت کھو چکا ہے، اس لیے نئے ایل ڈی پی صدر کے وزیرِاعظم بننے کی کوئی ضمانت نہیں رہی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اپوزیشن رہنما کے اقتدار سنبھالنے کے امکانات بھی موجود ہیں۔</p>
<p>ممکنہ امیدواروں میں ایل ڈی پی کی سینیئر رہنما سنا تاکائچی شامل ہیں، جو منتخب ہونے کی صورت میں جاپان کی پہلی خاتون وزیرِاعظم بن جائیں گی۔ وہ سخت گیر مؤقف رکھنے والی سیاستدان سمجھی جاتی ہیں اور جاپان کے امن پسند آئین میں ترمیم کی حامی ہیں۔ دوسری جانب شینجیرو کوئزومی، سابق وزیرِ ماحولیات اور ایک سیاسی خانوادے کے وارث، 44 سال کی عمر میں جاپان کے کم عمر ترین وزیراعظم بن سکتے ہیں۔</p>
<p>اسی فہرست میں یوشی ماسا ہیاشی بھی شامل ہیں، جو انگریزی میں مہارت رکھتے ہیں اور کابینہ کے اہم عہدوں پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ مرکزی بینک کی آزادانہ پالیسیوں کے حامی ہیں۔</p>
<p>اپوزیشن کی جانب سے، سب سے بڑی جماعت آئینی جمہوری پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیراعظم یوشی ہیکو نودا مضبوط امیدوار ہیں، جو مالیاتی نظم و ضبط کے لیے شہرت رکھتے ہیں۔ جبکہ یویچیرو تاما کی کی جماعت ڈیموکریٹک پارٹی فار دی پیپل تیزی سے مقبول ہو رہی ہے، اور وہ ٹیکس میں چھوٹ اور عوامی آمدن بڑھانے کے حامی ہیں۔</p>
<p>اس صورتحال نے جاپان کے سیاسی منظرنامے کو غیر یقینی بنا دیا ہے، جہاں حکومتی و اپوزیشن دونوں جماعتیں نئی قیادت کے لیے سرگرم ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276704</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Sep 2025 15:29:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/071528262b0b845.webp" type="image/webp" medium="image" height="675" width="960">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/071528262b0b845.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
