<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 13:56:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 13:56:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ ٹیرف، 88 ڈاک آپریٹرز نے امریکا کے لیے خدمات معطل کر دیں، اقوام متحدہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276691/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یونیورسل پوسٹل یونین (یو پی یو) نے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد امریکا جانے والی ڈاک کی ترسیل میں 80 فیصد سے زائد کمی آئی ہے، جبکہ دنیا بھر کے 88 پوسٹل آپریٹرز نے اپنی سروسز مکمل یا جزوی طور پر معطل کر دی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو پی یو، جو اقوامِ متحدہ کا ڈاک کے شعبے میں تعاون کا ادارہ ہے، نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ایک نئی تکنیکی حل کی تیز رفتار تیاری پر کام کر رہا ہے تاکہ امریکا کو ڈاک کی ترسیل دوبارہ شروع ہو سکے۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل مساہیکو میتوکی کے مطابق، یہ اقدام فوری ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جولائی کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ وہ 29 اگست سے امریکا آنے والے چھوٹے پیکجز پر ٹیکس استثنیٰ ختم کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کے بعد آسٹریلیا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، بھارت، اٹلی اور جاپان سمیت کئی ممالک کی پوسٹل سروسز نے اعلان کیا کہ اب امریکا جانے والے زیادہ تر پیکجز قبول نہیں کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو پی یو نے بتایا کہ اس کے الیکٹرانک نیٹ ورک کے ذریعے پوسٹل آپریٹرز کے درمیان شیئر کیے گئے ڈیٹا کے مطابق 29 اگست کو امریکا جانے والی ڈاک کی ترسیل ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں 81 فیصد کم ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ 88 پوسٹل آپریٹرز نے یو پی یو کو اطلاع دی ہے کہ انہوں نے امریکا کے لیے کچھ یا تمام ڈاک خدمات معطل کر دی ہیں، جب تک کہ کوئی حل نافذ نہ ہو جائے۔ ان میں جرمنی کی ڈوئچے پوسٹ، برطانیہ کی رائل میل اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے دو آپریٹرز بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یو پی یو، جس کا ہیڈکوارٹر سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن میں واقع ہے، 1874 میں قائم ہوا اور اس کے رکن ممالک کی تعداد 192 ہے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی ڈاک کے تبادلے کے اصول وضع کرتا ہے اور خدمات میں بہتری کے لیے سفارشات فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یونیورسل پوسٹل یونین (یو پی یو) نے بتایا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے نئے ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد امریکا جانے والی ڈاک کی ترسیل میں 80 فیصد سے زائد کمی آئی ہے، جبکہ دنیا بھر کے 88 پوسٹل آپریٹرز نے اپنی سروسز مکمل یا جزوی طور پر معطل کر دی ہیں۔</strong></p>
<p>یو پی یو، جو اقوامِ متحدہ کا ڈاک کے شعبے میں تعاون کا ادارہ ہے، نے ایک بیان میں کہا کہ وہ ایک نئی تکنیکی حل کی تیز رفتار تیاری پر کام کر رہا ہے تاکہ امریکا کو ڈاک کی ترسیل دوبارہ شروع ہو سکے۔ ادارے کے ڈائریکٹر جنرل مساہیکو میتوکی کے مطابق، یہ اقدام فوری ضرورت ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جولائی کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ وہ 29 اگست سے امریکا آنے والے چھوٹے پیکجز پر ٹیکس استثنیٰ ختم کر رہی ہے۔</p>
<p>اس فیصلے کے بعد آسٹریلیا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، بھارت، اٹلی اور جاپان سمیت کئی ممالک کی پوسٹل سروسز نے اعلان کیا کہ اب امریکا جانے والے زیادہ تر پیکجز قبول نہیں کیے جائیں گے۔</p>
<p>یو پی یو نے بتایا کہ اس کے الیکٹرانک نیٹ ورک کے ذریعے پوسٹل آپریٹرز کے درمیان شیئر کیے گئے ڈیٹا کے مطابق 29 اگست کو امریکا جانے والی ڈاک کی ترسیل ایک ہفتہ پہلے کے مقابلے میں 81 فیصد کم ہو گئی۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ 88 پوسٹل آپریٹرز نے یو پی یو کو اطلاع دی ہے کہ انہوں نے امریکا کے لیے کچھ یا تمام ڈاک خدمات معطل کر دی ہیں، جب تک کہ کوئی حل نافذ نہ ہو جائے۔ ان میں جرمنی کی ڈوئچے پوسٹ، برطانیہ کی رائل میل اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے دو آپریٹرز بھی شامل ہیں۔</p>
<p>یو پی یو، جس کا ہیڈکوارٹر سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن میں واقع ہے، 1874 میں قائم ہوا اور اس کے رکن ممالک کی تعداد 192 ہے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی ڈاک کے تبادلے کے اصول وضع کرتا ہے اور خدمات میں بہتری کے لیے سفارشات فراہم کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276691</guid>
      <pubDate>Sun, 07 Sep 2025 10:03:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/0710012953d2746.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/0710012953d2746.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
