<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکی ٹیرف کے خلاف عالمی ردعمل، 88 ڈاک اداروں نے امریکا کیلئے خدمات معطل کردیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276687/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;واشنگٹن کی جانب سے نئے ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد امریکا جانے والی ڈاک کی ترسیل میں 80 فیصد سے زائد کمی آ گئی ہے جبکہ دنیا کے 88 ڈاک اداروں نے اپنی خدمات جزوی یا مکمل طور پر معطل کر دی ہیں۔ یہ انکشاف یونیورسل پوسٹل یونین (یو پی یو) نے ہفتے کے روز کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو پی یو کے ڈائریکٹر جنرل ماساہیکو میتوکی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ”امریکا کو ڈاک کی ترسیل بحال کرنے کے لیے ایک نئی تکنیکی حکمت عملی تیزی سے تیار کی جا رہی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جولائی کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ 29 اگست سے امریکا میں داخل ہونے والے چھوٹے پارسلز پر ٹیکس استثنیٰ ختم کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اقدام کے بعد آسٹریلیا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، بھارت، اٹلی اور جاپان سمیت متعدد ممالک کی ڈاک اداروں نے اعلان کیا کہ اب امریکا بھیجے جانے والے زیادہ تر پارسل وصول نہیں کیے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیورسل پوسٹل یونین ( یو پی یو) کے مطابق اس کے الیکٹرانک نیٹ ورک کے ذریعے تبادلہ کیے گئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 29 اگست کو امریکا جانے والی ڈاک میں ایک ہفتہ قبل کے مقابلے میں 81 فیصد کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادارے نے بتایا ہے کہ 88 ڈاک اداروں نے یو پی یو کو مطلع کیا ہے کہ انہوں نے امریکا کے لیے کچھ یا تمام خدمات اس وقت تک معطل کر دی ہیں جب تک کوئی حل نافذ نہیں کیا جاتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں جرمنی کا ڈوئچے پوسٹ، برطانیہ کا رائل میل اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے دو ادارے شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن میں قائم یو پی یو 1874 میں بنایا گیا تھا، جس کے رکن ممالک کی تعداد 192 ہے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی ڈاک کے تبادلے کے اصول وضع کرتا ہے اور خدمات میں بہتری کے لیے سفارشات جاری کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>واشنگٹن کی جانب سے نئے ٹیرف عائد کیے جانے کے بعد امریکا جانے والی ڈاک کی ترسیل میں 80 فیصد سے زائد کمی آ گئی ہے جبکہ دنیا کے 88 ڈاک اداروں نے اپنی خدمات جزوی یا مکمل طور پر معطل کر دی ہیں۔ یہ انکشاف یونیورسل پوسٹل یونین (یو پی یو) نے ہفتے کے روز کیا ہے۔</strong></p>
<p>اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو پی یو کے ڈائریکٹر جنرل ماساہیکو میتوکی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ”امریکا کو ڈاک کی ترسیل بحال کرنے کے لیے ایک نئی تکنیکی حکمت عملی تیزی سے تیار کی جا رہی ہے۔“</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے جولائی کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ 29 اگست سے امریکا میں داخل ہونے والے چھوٹے پارسلز پر ٹیکس استثنیٰ ختم کر دیا جائے گا۔</p>
<p>اس اقدام کے بعد آسٹریلیا، برطانیہ، فرانس، جرمنی، بھارت، اٹلی اور جاپان سمیت متعدد ممالک کی ڈاک اداروں نے اعلان کیا کہ اب امریکا بھیجے جانے والے زیادہ تر پارسل وصول نہیں کیے جائیں گے۔</p>
<p>یونیورسل پوسٹل یونین ( یو پی یو) کے مطابق اس کے الیکٹرانک نیٹ ورک کے ذریعے تبادلہ کیے گئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ 29 اگست کو امریکا جانے والی ڈاک میں ایک ہفتہ قبل کے مقابلے میں 81 فیصد کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>ادارے نے بتایا ہے کہ 88 ڈاک اداروں نے یو پی یو کو مطلع کیا ہے کہ انہوں نے امریکا کے لیے کچھ یا تمام خدمات اس وقت تک معطل کر دی ہیں جب تک کوئی حل نافذ نہیں کیا جاتا۔</p>
<p>ان میں جرمنی کا ڈوئچے پوسٹ، برطانیہ کا رائل میل اور بوسنیا و ہرزیگووینا کے دو ادارے شامل ہیں۔</p>
<p>سوئٹزرلینڈ کے دارالحکومت برن میں قائم یو پی یو 1874 میں بنایا گیا تھا، جس کے رکن ممالک کی تعداد 192 ہے۔ یہ ادارہ بین الاقوامی ڈاک کے تبادلے کے اصول وضع کرتا ہے اور خدمات میں بہتری کے لیے سفارشات جاری کرتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276687</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Sep 2025 22:14:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/0622055653d2746.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/0622055653d2746.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
