<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:37:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:37:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیلی فوج نے غزہ کے شہریوں کو فوری انخلا کا حکم دے دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276684/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ غزہ شہر کے فلسطینی باشندے جنوب کی طرف نکل جائیں کیونکہ اس کی افواج غزہ کی سب سے بڑی شہری بستی میں مزید اندر تک بڑھ رہی ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی افواج کئی ہفتوں سے شمالی شہر کے مضافات پر حملہ آور ہیں، کیونکہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ اس پر قبضہ کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ شہر حماس کا گڑھ ہے اور اس پر قبضہ کرنا لازمی ہے تاکہ فلسطینی گروپ حماس کو شکست دی جا سکے، جس کے اکتوبر 2023 کے اسرائیل پر حملے نے اس جنگ کو بھڑکایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کارروائی ان لاکھوں فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا خطرہ رکھتی ہے جو قریب دو سالہ لڑائی سے بچنے کے لیے وہاں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ جنگ سے قبل، تقریباً دس لاکھ لوگ، یعنی غزہ کی نصف آبادی، اس شہر میں رہتی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا ہے کہ غزہ کے رہائشیوں کو چاہیے کہ وہ شہر چھوڑ کر جنوبی غزہ میں خان یونس کے ساحلی علاقے کی طرف چلے جائیں، اور یقین دلایا ہے کہ وہاں جانے والوں کو خوراک، طبی امداد اور پناہ گاہ فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادرعی نے کہا ہے کہ یہ نامزد علاقہ ایک ”انسانی ہمدردی کا زون“ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اسے شہر کے تقریباً نصف حصے پر کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ پورے غزہ کے تقریباً 75 فیصد حصے پر قابض ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ شہر میں موجود کئی افراد پہلے ہی جنگ کے دوران بے گھر ہو چکے تھے لیکن بعد میں واپس آ گئے۔ کچھ رہائشیوں نے کہا ہے کہ وہ دوبارہ بے گھر ہونا نہیں چاہتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کئی ہفتوں سے شہر پر بھاری فضائی اور زمینی حملے کر رہی ہے، مضافات سے آگے بڑھتے ہوئے اور اس ہفتے افواج شہر کے مرکز سے محض چند کلومیٹر دور علاقے تک  پہنچ چکی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی عہدیداروں کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے دائیں بازو کے اتحادیوں کی حمایت سے، فوجی قیادت کے مشورے کے برعکس، غزہ شہر پر قبضے کا حکم دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اسرائیلی فوج ہچکچاہٹ کا شکار تھی، لیکن اس نے اس آپریشن کے لیے دسیوں ہزار ریزرو فوجی طلب کر لیے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ میں جاری جنگ نے اسرائیل کو بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی میں دھکیل دیا ہے، حتیٰ کہ اس کے قریبی اتحادیوں نے بھی اس مہم کی مذمت کی ہے جس نے اس چھوٹے سے علاقے کو تباہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;سب کچھ یا کچھ بھی نہیں کا معاہدہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی جنگجوؤں نے 7 اکتوبر 2023 کو سرحد پار حملے میں اسرائیل کے جنوبی علاقوں سے 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے تھے، جبکہ اس کارروائی میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی صحت حکام کے مطابق اب تک غزہ میں 64,000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جبکہ اس علاقے کا بیشتر حصہ کھنڈر میں بدل چکا ہے اور شہری شدید انسانی بحران سے دوچار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل کے اندر بھی یرغمالیوں کے اہلِ خانہ اور ان کے حامیوں کی قیادت میں جنگ کے خاتمے اور بقیہ 48 قیدیوں کی رہائی کے لیے سفارتی معاہدے پر زور بڑھ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حکام کو یقین ہے کہ ان میں سے تقریباً 20 یرغمالی زندہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیتن یاہو ایک ایسے معاہدے پر زور دے رہے ہیں جس میں سب یرغمالیوں کی رہائی ایک ساتھ ہو اور حماس ہتھیار ڈال دے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے کئی اہم رہنماؤں اور ہزاروں جنگجوؤں کو ہلاک کر چکے ہیں، اور اب یہ گروپ ایک گوریلا فورس کی شکل اختیار کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس نے عارضی جنگ بندی کے بدلے کچھ یرغمالیوں کو رہا کرنے کی پیشکش کی ہے، وہی شرائط جو جولائی میں زیرِ غور تھیں لیکن امریکی اور عرب ثالثوں کی کوششوں کے باوجود مذاکرات ناکام ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا کہ واشنگٹن فلسطینیوں کے ساتھ جامع اور تفصیلی مذاکرات میں مصروف ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حماس، جو تقریباً دو دہائیوں سے غزہ پر حکمرانی کر رہی ہے لیکن آج صرف اس علاقے کے کچھ حصوں پر قابض ہے، طویل عرصے سے کہتی آئی ہے کہ اگر اسرائیل جنگ ختم کرنے اور اپنی تمام افواج کو غزہ سے واپس بلانے پر رضامند ہو جائے تو وہ تمام یرغمالیوں کو رہا کر دے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک زیادہ تر یرغمالی سفارتی مذاکرات کے ذریعے رہا ہوئے ہیں، جو امریکہ اور عرب ریاستوں کی ثالثی میں طے پائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں ہونے والے آخری مذاکرات کی ناکامی کے بعد سے اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر بد نیتی سے بات چیت کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹس نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ غزہ میں فوجی کارروائیاں اس وقت تک تیز کی جائیں گی جب تک حماس جنگ ختم کرنے کے لیے اسرائیل کی شرائط قبول نہیں کر لیتی: یرغمالیوں کی رہائی اور ہتھیار ڈالنا۔ بصورت دیگر، انہوں نے کہا، یہ گروپ تباہ کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیلی فوج نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ غزہ شہر کے فلسطینی باشندے جنوب کی طرف نکل جائیں کیونکہ اس کی افواج غزہ کی سب سے بڑی شہری بستی میں مزید اندر تک بڑھ رہی ہیں۔</strong></p>
<p>اسرائیلی افواج کئی ہفتوں سے شمالی شہر کے مضافات پر حملہ آور ہیں، کیونکہ اسرائیلی وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو نے فوج کو حکم دیا ہے کہ وہ اس پر قبضہ کرے۔</p>
<p>نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ غزہ شہر حماس کا گڑھ ہے اور اس پر قبضہ کرنا لازمی ہے تاکہ فلسطینی گروپ حماس کو شکست دی جا سکے، جس کے اکتوبر 2023 کے اسرائیل پر حملے نے اس جنگ کو بھڑکایا تھا۔</p>
<p>یہ کارروائی ان لاکھوں فلسطینیوں کو بے گھر کرنے کا خطرہ رکھتی ہے جو قریب دو سالہ لڑائی سے بچنے کے لیے وہاں پناہ لیے ہوئے ہیں۔ جنگ سے قبل، تقریباً دس لاکھ لوگ، یعنی غزہ کی نصف آبادی، اس شہر میں رہتی تھی۔</p>
<p>اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائے ادرعی نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر لکھا ہے کہ غزہ کے رہائشیوں کو چاہیے کہ وہ شہر چھوڑ کر جنوبی غزہ میں خان یونس کے ساحلی علاقے کی طرف چلے جائیں، اور یقین دلایا ہے کہ وہاں جانے والوں کو خوراک، طبی امداد اور پناہ گاہ فراہم کی جائے گی۔</p>
<p>ادرعی نے کہا ہے کہ یہ نامزد علاقہ ایک ”انسانی ہمدردی کا زون“ ہے۔</p>
<p>جمعرات کو اسرائیلی فوج نے کہا تھا کہ اسے شہر کے تقریباً نصف حصے پر کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ وہ پورے غزہ کے تقریباً 75 فیصد حصے پر قابض ہے۔</p>
<p>غزہ شہر میں موجود کئی افراد پہلے ہی جنگ کے دوران بے گھر ہو چکے تھے لیکن بعد میں واپس آ گئے۔ کچھ رہائشیوں نے کہا ہے کہ وہ دوبارہ بے گھر ہونا نہیں چاہتے۔</p>
<p>اسرائیلی فوج کئی ہفتوں سے شہر پر بھاری فضائی اور زمینی حملے کر رہی ہے، مضافات سے آگے بڑھتے ہوئے اور اس ہفتے افواج شہر کے مرکز سے محض چند کلومیٹر دور علاقے تک  پہنچ چکی تھی۔</p>
<p>اسرائیلی عہدیداروں کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے دائیں بازو کے اتحادیوں کی حمایت سے، فوجی قیادت کے مشورے کے برعکس، غزہ شہر پر قبضے کا حکم دیا ہے۔</p>
<p>اگرچہ اسرائیلی فوج ہچکچاہٹ کا شکار تھی، لیکن اس نے اس آپریشن کے لیے دسیوں ہزار ریزرو فوجی طلب کر لیے ہیں۔</p>
<p>غزہ میں جاری جنگ نے اسرائیل کو بڑھتی ہوئی سفارتی تنہائی میں دھکیل دیا ہے، حتیٰ کہ اس کے قریبی اتحادیوں نے بھی اس مہم کی مذمت کی ہے جس نے اس چھوٹے سے علاقے کو تباہ کر دیا ہے۔</p>
<p><strong>سب کچھ یا کچھ بھی نہیں کا معاہدہ</strong></p>
<p>فلسطینی جنگجوؤں نے 7 اکتوبر 2023 کو سرحد پار حملے میں اسرائیل کے جنوبی علاقوں سے 251 افراد کو یرغمال بنا کر غزہ لے گئے تھے، جبکہ اس کارروائی میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے۔</p>
<p>مقامی صحت حکام کے مطابق اب تک غزہ میں 64,000 سے زیادہ فلسطینی شہید ہوچکے ہیں، جبکہ اس علاقے کا بیشتر حصہ کھنڈر میں بدل چکا ہے اور شہری شدید انسانی بحران سے دوچار ہیں۔</p>
<p>اسرائیل کے اندر بھی یرغمالیوں کے اہلِ خانہ اور ان کے حامیوں کی قیادت میں جنگ کے خاتمے اور بقیہ 48 قیدیوں کی رہائی کے لیے سفارتی معاہدے پر زور بڑھ رہا ہے۔</p>
<p>اسرائیلی حکام کو یقین ہے کہ ان میں سے تقریباً 20 یرغمالی زندہ ہیں۔</p>
<p>نیتن یاہو ایک ایسے معاہدے پر زور دے رہے ہیں جس میں سب یرغمالیوں کی رہائی ایک ساتھ ہو اور حماس ہتھیار ڈال دے۔</p>
<p>اسرائیلی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ وہ حماس کے کئی اہم رہنماؤں اور ہزاروں جنگجوؤں کو ہلاک کر چکے ہیں، اور اب یہ گروپ ایک گوریلا فورس کی شکل اختیار کر چکا ہے۔</p>
<p>حماس نے عارضی جنگ بندی کے بدلے کچھ یرغمالیوں کو رہا کرنے کی پیشکش کی ہے، وہی شرائط جو جولائی میں زیرِ غور تھیں لیکن امریکی اور عرب ثالثوں کی کوششوں کے باوجود مذاکرات ناکام ہوگئے۔</p>
<p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کے روز کہا کہ واشنگٹن فلسطینیوں کے ساتھ جامع اور تفصیلی مذاکرات میں مصروف ہے۔</p>
<p>حماس، جو تقریباً دو دہائیوں سے غزہ پر حکمرانی کر رہی ہے لیکن آج صرف اس علاقے کے کچھ حصوں پر قابض ہے، طویل عرصے سے کہتی آئی ہے کہ اگر اسرائیل جنگ ختم کرنے اور اپنی تمام افواج کو غزہ سے واپس بلانے پر رضامند ہو جائے تو وہ تمام یرغمالیوں کو رہا کر دے گی۔</p>
<p>اب تک زیادہ تر یرغمالی سفارتی مذاکرات کے ذریعے رہا ہوئے ہیں، جو امریکہ اور عرب ریاستوں کی ثالثی میں طے پائے۔</p>
<p>جولائی میں ہونے والے آخری مذاکرات کی ناکامی کے بعد سے اسرائیل اور حماس ایک دوسرے پر بد نیتی سے بات چیت کرنے کے الزامات لگا رہے ہیں۔</p>
<p>اسرائیلی وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹس نے جمعہ کے روز کہا ہے کہ غزہ میں فوجی کارروائیاں اس وقت تک تیز کی جائیں گی جب تک حماس جنگ ختم کرنے کے لیے اسرائیل کی شرائط قبول نہیں کر لیتی: یرغمالیوں کی رہائی اور ہتھیار ڈالنا۔ بصورت دیگر، انہوں نے کہا، یہ گروپ تباہ کر دیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276684</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Sep 2025 17:15:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/0616542699c8d0a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/0616542699c8d0a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
