<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 19:10:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 19:10:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیانجن ایس سی او سربراہی اجلاس اور بیجنگ کی فوجی پریڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276678/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گزشتہ ہفتے چین میں طاقت، عزم اور ارادے کا نہایت منصوبہ بندی سے مظاہرہ کیا گیا۔ تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کا اجلاس ہوا جس کے فوراً بعد بیجنگ میں ”یومِ فتح“ کی فوجی پریڈ منعقد ہوئی۔ یہ دونوں تقاریب،ایک سفارتی اور دوسری عسکری،ایک ہی پیغام دینے کے لیے ترتیب دی گئی تھیں: ”چین ایک نئے یوریشیائی نظام کی قیادت کے لیے تیار ہے، جو معاشی انضمام کو حکمتِ عملی پر مبنی بھرپور دفاعی صلاحیت کے ساتھ جوڑتا ہے۔“&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ دونوں شاندار واقعات یوریشیا کی جیو سیاست میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چین ایک متوازی نظام کی بنیاد رکھ رہا ہے، ایسا نظام جو مالیات کو طاقت کے ساتھ اور سفارت کاری کو بھرپور دفاعی صلاحیت کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیغام بالکل واضح تھا: ایس سی او اس کی یوریشیائی سفارت کاری کا مرکز ہے، ایک ایسا پلیٹ فارم جو مغربی اداروں کی امنگوں اور دائرۂ کار دونوں کا مقابلہ کرتا ہے۔ ان تقاریب نے دنیا کے بڑے دارالحکومتوں کو متوجہ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو پلیٹ فارم دو دہائیاں قبل ایک سکیورٹی فورم کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ اب ایک کثیرالجہتی ڈھانچے میں ڈھل چکا ہے، جس میں ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کے منصوبے، ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام پر مباحثے، اور تجارتی راہداریوں کے ساتھ ساتھ انسدادِ دہشت گردی میں تعاون کے لیے بڑھتا ہوا ایجنڈا شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”یومِ فتح“ کی پریڈ میں چین کے جدید ترین ڈرونز (یو اے ویز)، میزائل سسٹمز، اور خلا و سائبر جنگی صلاحیتوں کی نمائش کی گئی۔ یہ ایک دوٹوک یاد دہانی تھی کہ چین کی معاشی ترقی کی بنیاد اس کی تیزی سے جدید ہوتی ہوئی فوجی قوت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;ایس سی او کے شراکت داروں کے لیے یہ پریڈ اس بات کا یقین دہانی تھی کہ چین کے پاس سکیورٹی اور استحکام کے اپنے وعدوں کو عملی قوت دینے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے یہ ایک انتباہ تھا: چین اب صرف ایک تجارتی طاقت نہیں رہا، بلکہ ایک ایسی اسٹریٹجک قوت ہے جسے نہ تو نظرانداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;ان واقعات کی ترتیب بظاہر سوچ سمجھ کر رکھی گئی تھی۔ چین نے پہلے یوریشیا کو ایس سی او کے ذریعے تعاون کا نقشۂ عمل پیش کیا، اور پھر وہ فوجی قوت دکھائی جو اس تعاون کی ضمانت ہے۔ ترقی اور دفاعی صلاحیت کا یہ دوہرا پیغام آئندہ برسوں میں بیجنگ کی جیو پولیٹیکل حکمتِ عملی کی پہچان بن جائے گا۔ دونوں کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ عالمی نظام میں ایک فیصلہ کن تبدیلی کا عندیہ دیتا ہے، جو سات دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بڑی حد تک جمود کا شکار رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس سی او کا مالیات اور ڈیجیٹل تجارت کی سمت میں پھیلاؤ، چین کے فوجی اعتماد کے ساتھ مل کر، کثیر قطبی دنیا کی جانب پیش قدمی کو تیز کرتا ہے۔ اگر مجوزہ ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ غیر مغربی مالیاتی اداروں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک میں اضافہ ہوگا، جن میں ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) اور برکس کا نیو ڈویلپمنٹ بینک پہلے ہی شامل ہیں۔ واشنگٹن اور برسلز کے لیے یہ ایک منظم چیلنج ہے: ایک متوازی مالیاتی اور سکیورٹی ڈھانچہ جو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک یا نیٹو پر انحصار کو کم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ کا ردعمل دو رُخ اختیار کرسکتا ہے: انڈو پیسفک میں اپنے اتحادوں کو مزید مضبوط کرنا (QUAD اور AUKUS کے ذریعے) اور بھارت کو اپنے دائرۂ اثر میں مزید کھینچنے کی کوششوں کو دوگنا کرنا۔ یہ اسٹریٹجک مقابلہ مزید شدید بنا دیتا ہے، جس کے بیچ پاکستان جیسے ممالک کو اب راستہ نکالنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے یہ پیش رفت غیر معمولی مواقع بھی فراہم کرتی ہے اور سنجیدہ چیلنجز بھی۔ ایس سی او سربراہی اجلاس اور فوجی پریڈ نے چین کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری کی گہرائی کو ایک بار پھر نمایاں کیا۔ ایس سی او کے بانی رکن اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے مرکزی محور کی حیثیت سے، اسلام آباد کے پاس تین طریقوں سے ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اول، پاکستان ایس سی او کے ابھرتے ہوئے مالیاتی اداروں کے ذریعے نئی فنانسنگ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، جو اس کے دیرینہ قرضوں اور زرِمبادلہ کے دباؤ کو کسی حد تک کم کرسکتی ہے۔ سی پیک کو وسیع تر ایس سی او راہداریوں میں ضم کرنا پاکستان کے خطے میں تجارتی مرکز کے کردار کو بھی فروغ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوم، سکیورٹی تعاون کے میدان میں، چین کا زور انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی (آئی ایس آڑ)، ڈرون مخالف نظام (کاؤنٹر یو اے وی) اور سرحدی سلامتی کی ٹیکنالوجیز پر ہے، جو پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی ضروریات، خاص طور پر مغربی سرحدوں پر، سے ہم آہنگ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے ابھرتا ہوا بڑا چیلنج امریکہ کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے یہ اعتماد ظاہر کیا ہے کہ وہ اس توازن کو برقرار رکھنے کی درست راہ پر ہے، مگر اس اعتماد کو ابھی حقیقی آزمائش کا سامنا نہیں ہوا۔ فی الحال سب کچھ معدنی وسائل، کرپٹو کرنسی، اور بھارت کے مقابلے میں پسندیدہ شراکت دار ہونے کے گرد گھوم رہا ہے۔ پاکستان کی اصل آزمائش تب سامنے آئے گی جب اسے کسی ایک جانب جھکنے پر مجبور کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان امریکہ کو ناراض کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ واشنگٹن ایک اہم برآمدی منڈی ہے، آئی ایم ایف فنانسنگ کا دروازہ ہے، اور توانائی کی منتقلی اور ڈیجیٹل تجارت میں ایک ممکنہ شراکت دار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کے لیے امکانات بے پناہ ہیں: سرمایہ تک رسائی، منڈیوں میں جگہ، اور سکیورٹی تعاون۔ لیکن خطرہ بھی اتنا ہی حقیقی ہے: چین پر ضرورت سے زیادہ انحصار اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں دراڑ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گزشتہ ہفتے چین میں طاقت، عزم اور ارادے کا نہایت منصوبہ بندی سے مظاہرہ کیا گیا۔ تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہانِ مملکت کا اجلاس ہوا جس کے فوراً بعد بیجنگ میں ”یومِ فتح“ کی فوجی پریڈ منعقد ہوئی۔ یہ دونوں تقاریب،ایک سفارتی اور دوسری عسکری،ایک ہی پیغام دینے کے لیے ترتیب دی گئی تھیں: ”چین ایک نئے یوریشیائی نظام کی قیادت کے لیے تیار ہے، جو معاشی انضمام کو حکمتِ عملی پر مبنی بھرپور دفاعی صلاحیت کے ساتھ جوڑتا ہے۔“</strong></p>
<p>یہ دونوں شاندار واقعات یوریشیا کی جیو سیاست میں ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چین ایک متوازی نظام کی بنیاد رکھ رہا ہے، ایسا نظام جو مالیات کو طاقت کے ساتھ اور سفارت کاری کو بھرپور دفاعی صلاحیت کے ساتھ ہم آہنگ کرتا ہے۔</p>
<p>پیغام بالکل واضح تھا: ایس سی او اس کی یوریشیائی سفارت کاری کا مرکز ہے، ایک ایسا پلیٹ فارم جو مغربی اداروں کی امنگوں اور دائرۂ کار دونوں کا مقابلہ کرتا ہے۔ ان تقاریب نے دنیا کے بڑے دارالحکومتوں کو متوجہ کر دیا ہے۔</p>
<p>جو پلیٹ فارم دو دہائیاں قبل ایک سکیورٹی فورم کے طور پر شروع ہوا تھا، وہ اب ایک کثیرالجہتی ڈھانچے میں ڈھل چکا ہے، جس میں ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک کے قیام کے منصوبے، ڈیجیٹل ادائیگی کے نظام پر مباحثے، اور تجارتی راہداریوں کے ساتھ ساتھ انسدادِ دہشت گردی میں تعاون کے لیے بڑھتا ہوا ایجنڈا شامل ہے۔</p>
<p>”یومِ فتح“ کی پریڈ میں چین کے جدید ترین ڈرونز (یو اے ویز)، میزائل سسٹمز، اور خلا و سائبر جنگی صلاحیتوں کی نمائش کی گئی۔ یہ ایک دوٹوک یاد دہانی تھی کہ چین کی معاشی ترقی کی بنیاد اس کی تیزی سے جدید ہوتی ہوئی فوجی قوت ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>ایس سی او کے شراکت داروں کے لیے یہ پریڈ اس بات کا یقین دہانی تھی کہ چین کے پاس سکیورٹی اور استحکام کے اپنے وعدوں کو عملی قوت دینے کی بھرپور صلاحیت موجود ہے۔ لیکن امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے یہ ایک انتباہ تھا: چین اب صرف ایک تجارتی طاقت نہیں رہا، بلکہ ایک ایسی اسٹریٹجک قوت ہے جسے نہ تو نظرانداز کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔</p>
</blockquote>
<p>ان واقعات کی ترتیب بظاہر سوچ سمجھ کر رکھی گئی تھی۔ چین نے پہلے یوریشیا کو ایس سی او کے ذریعے تعاون کا نقشۂ عمل پیش کیا، اور پھر وہ فوجی قوت دکھائی جو اس تعاون کی ضمانت ہے۔ ترقی اور دفاعی صلاحیت کا یہ دوہرا پیغام آئندہ برسوں میں بیجنگ کی جیو پولیٹیکل حکمتِ عملی کی پہچان بن جائے گا۔ دونوں کو ملا کر دیکھا جائے تو یہ عالمی نظام میں ایک فیصلہ کن تبدیلی کا عندیہ دیتا ہے، جو سات دہائیوں سے زیادہ عرصے تک بڑی حد تک جمود کا شکار رہا۔</p>
<p>ایس سی او کا مالیات اور ڈیجیٹل تجارت کی سمت میں پھیلاؤ، چین کے فوجی اعتماد کے ساتھ مل کر، کثیر قطبی دنیا کی جانب پیش قدمی کو تیز کرتا ہے۔ اگر مجوزہ ایس سی او ڈویلپمنٹ بینک عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ غیر مغربی مالیاتی اداروں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک میں اضافہ ہوگا، جن میں ایشین انفرااسٹرکچر انویسٹمنٹ بینک (اے آئی آئی بی) اور برکس کا نیو ڈویلپمنٹ بینک پہلے ہی شامل ہیں۔ واشنگٹن اور برسلز کے لیے یہ ایک منظم چیلنج ہے: ایک متوازی مالیاتی اور سکیورٹی ڈھانچہ جو آئی ایم ایف، ورلڈ بینک یا نیٹو پر انحصار کو کم کرتا ہے۔</p>
<p>امریکہ کا ردعمل دو رُخ اختیار کرسکتا ہے: انڈو پیسفک میں اپنے اتحادوں کو مزید مضبوط کرنا (QUAD اور AUKUS کے ذریعے) اور بھارت کو اپنے دائرۂ اثر میں مزید کھینچنے کی کوششوں کو دوگنا کرنا۔ یہ اسٹریٹجک مقابلہ مزید شدید بنا دیتا ہے، جس کے بیچ پاکستان جیسے ممالک کو اب راستہ نکالنا ہوگا۔</p>
<p>پاکستان کے لیے یہ پیش رفت غیر معمولی مواقع بھی فراہم کرتی ہے اور سنجیدہ چیلنجز بھی۔ ایس سی او سربراہی اجلاس اور فوجی پریڈ نے چین کے ساتھ پاکستان کی شراکت داری کی گہرائی کو ایک بار پھر نمایاں کیا۔ ایس سی او کے بانی رکن اور چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے مرکزی محور کی حیثیت سے، اسلام آباد کے پاس تین طریقوں سے ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کا موقع ہے۔</p>
<p>اول، پاکستان ایس سی او کے ابھرتے ہوئے مالیاتی اداروں کے ذریعے نئی فنانسنگ تک رسائی حاصل کرسکتا ہے، جو اس کے دیرینہ قرضوں اور زرِمبادلہ کے دباؤ کو کسی حد تک کم کرسکتی ہے۔ سی پیک کو وسیع تر ایس سی او راہداریوں میں ضم کرنا پاکستان کے خطے میں تجارتی مرکز کے کردار کو بھی فروغ دے گا۔</p>
<p>دوم، سکیورٹی تعاون کے میدان میں، چین کا زور انٹیلی جنس، نگرانی اور جاسوسی (آئی ایس آڑ)، ڈرون مخالف نظام (کاؤنٹر یو اے وی) اور سرحدی سلامتی کی ٹیکنالوجیز پر ہے، جو پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کی ضروریات، خاص طور پر مغربی سرحدوں پر، سے ہم آہنگ ہیں۔</p>
<p>پاکستان کے لیے ابھرتا ہوا بڑا چیلنج امریکہ کے ساتھ تعلقات میں توازن قائم رکھنا ہے۔ اگرچہ پاکستان نے یہ اعتماد ظاہر کیا ہے کہ وہ اس توازن کو برقرار رکھنے کی درست راہ پر ہے، مگر اس اعتماد کو ابھی حقیقی آزمائش کا سامنا نہیں ہوا۔ فی الحال سب کچھ معدنی وسائل، کرپٹو کرنسی، اور بھارت کے مقابلے میں پسندیدہ شراکت دار ہونے کے گرد گھوم رہا ہے۔ پاکستان کی اصل آزمائش تب سامنے آئے گی جب اسے کسی ایک جانب جھکنے پر مجبور کیا جائے گا۔</p>
<p>پاکستان امریکہ کو ناراض کرنے کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ واشنگٹن ایک اہم برآمدی منڈی ہے، آئی ایم ایف فنانسنگ کا دروازہ ہے، اور توانائی کی منتقلی اور ڈیجیٹل تجارت میں ایک ممکنہ شراکت دار ہے۔</p>
<p>پاکستان کے لیے امکانات بے پناہ ہیں: سرمایہ تک رسائی، منڈیوں میں جگہ، اور سکیورٹی تعاون۔ لیکن خطرہ بھی اتنا ہی حقیقی ہے: چین پر ضرورت سے زیادہ انحصار اور واشنگٹن کے ساتھ تعلقات میں دراڑ۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276678</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Sep 2025 15:37:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/061515579a9613b.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/061515579a9613b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
