<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 15:16:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 15:16:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سمندری خوراک کی برآمدات میں نمایاں اضافے کا ہدف مقرر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276677/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان نے سمندری خوراک کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے جس کے تحت مالی سال 2024–25 میں 465 ملین ڈالر سے بڑھا کر 2025–26 میں 600 ملین ڈالر تک پہنچنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ حکومت متعلقہ شعبوں کو تمام سہولیات فراہم کرے گی تاکہ برآمدات کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعلان وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے پاکستانی سمندری خوراک کے برآمد کنندگان سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد نے وفاقی وزیر کو چین کے شراکت داروں کے ساتھ جاری بات چیت سے آگاہ کیا، جو پاکستان کی مچھلی اور سمندری خوراک کی برآمدات کو بڑھانے کی کوششوں کے ضمن میں کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کے سمندری خوراک کے برآمدی شعبے، بشمول زندہ مڈ کریب اور لوبسٹرز، مثبت نمو کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مالی سال 2024–25 میں کل برآمدات 465 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہدف آئندہ مالی سال میں برآمدات 600 ملین ڈالر تک پہنچانا ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ پاکستان دنیا میں مڈ کریب کا تیسرے نمبر کا برآمد کنندہ ہے اور چین، جو سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، کو 3,000 ٹن سے زائد زندہ مڈ کریب برآمد کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے زور دیا کہ مفاہمتی یادداشتوں  پر دستخط اور کاروباری سطح پر معاہدات کو فروغ دینا سمندری خوراک کی برآمدات میں اضافے، ایکوی کلچر میں تعاون مضبوط کرنے اور پاکستان کو خطے میں اہم سمندری خوراک کے مرکز کے طور پر اُبھارنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان میں عربین سی پروڈکٹس کے انٹرنیشنل سیلز منیجر طارق میمن نے بتایا کہ ان کی کمپنی جدید ایکوی کلچر اور ہولڈنگ سسٹم تیار کررہی ہے تاکہ زندہ مڈ کریب اور لوبسٹرز کی پرورش اور برآمد کے لیے محفوظ کیا جا سکے۔ یہ منصوبہ چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت میں عمل میں لایا جا رہا ہے اور زندہ سمندری خوراک کی بقاء کا وقت دو سے تین ہفتے تک بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، تاکہ دور دراز کے بازاروں تک رسائی ممکن ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیجنڈ انٹرنیشنل (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے سی ای او سعید احمد فرید نے چینی کمپنی کے ساتھ مشترکہ منصوبے کی تجویز دی جو منجمد سمندری خوراک اور پولٹری مصنوعات پر مرکوز ہو۔ کراچی میں واقع کمپنی کی سہولت 65,000 مربع فٹ پر محیط ہے، روزانہ 40 ٹن کی پروسیسنگ کی گنجائش رکھتی ہے اور اسے چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (GACC) کی منظوری حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان نے سمندری خوراک کی برآمدات میں نمایاں اضافہ کرنے کا ہدف مقرر کر رکھا ہے جس کے تحت مالی سال 2024–25 میں 465 ملین ڈالر سے بڑھا کر 2025–26 میں 600 ملین ڈالر تک پہنچنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ حکومت متعلقہ شعبوں کو تمام سہولیات فراہم کرے گی تاکہ برآمدات کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔</strong></p>
<p>یہ اعلان وفاقی وزیر برائے بحری امور جنید انور چوہدری نے پاکستانی سمندری خوراک کے برآمد کنندگان سے ملاقات کے دوران کیا۔ وفد نے وفاقی وزیر کو چین کے شراکت داروں کے ساتھ جاری بات چیت سے آگاہ کیا، جو پاکستان کی مچھلی اور سمندری خوراک کی برآمدات کو بڑھانے کی کوششوں کے ضمن میں کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>وفاقی وزیر نے بتایا کہ پاکستان کے سمندری خوراک کے برآمدی شعبے، بشمول زندہ مڈ کریب اور لوبسٹرز، مثبت نمو کا مظاہرہ کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مالی سال 2024–25 میں کل برآمدات 465 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان کا ہدف آئندہ مالی سال میں برآمدات 600 ملین ڈالر تک پہنچانا ہے۔ وفاقی وزیر نے مزید بتایا کہ پاکستان دنیا میں مڈ کریب کا تیسرے نمبر کا برآمد کنندہ ہے اور چین، جو سب سے بڑا درآمد کنندہ ہے، کو 3,000 ٹن سے زائد زندہ مڈ کریب برآمد کرتا ہے۔</p>
<p>ملاقات کے دوران وفاقی وزیر نے زور دیا کہ مفاہمتی یادداشتوں  پر دستخط اور کاروباری سطح پر معاہدات کو فروغ دینا سمندری خوراک کی برآمدات میں اضافے، ایکوی کلچر میں تعاون مضبوط کرنے اور پاکستان کو خطے میں اہم سمندری خوراک کے مرکز کے طور پر اُبھارنے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>برآمد کنندگان میں عربین سی پروڈکٹس کے انٹرنیشنل سیلز منیجر طارق میمن نے بتایا کہ ان کی کمپنی جدید ایکوی کلچر اور ہولڈنگ سسٹم تیار کررہی ہے تاکہ زندہ مڈ کریب اور لوبسٹرز کی پرورش اور برآمد کے لیے محفوظ کیا جا سکے۔ یہ منصوبہ چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت میں عمل میں لایا جا رہا ہے اور زندہ سمندری خوراک کی بقاء کا وقت دو سے تین ہفتے تک بڑھانے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے، تاکہ دور دراز کے بازاروں تک رسائی ممکن ہو۔</p>
<p>لیجنڈ انٹرنیشنل (پرائیویٹ) لمیٹڈ کے سی ای او سعید احمد فرید نے چینی کمپنی کے ساتھ مشترکہ منصوبے کی تجویز دی جو منجمد سمندری خوراک اور پولٹری مصنوعات پر مرکوز ہو۔ کراچی میں واقع کمپنی کی سہولت 65,000 مربع فٹ پر محیط ہے، روزانہ 40 ٹن کی پروسیسنگ کی گنجائش رکھتی ہے اور اسے چین کے جنرل ایڈمنسٹریشن آف کسٹمز (GACC) کی منظوری حاصل ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276677</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Sep 2025 15:07:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عبدالرشید آزاد)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/06150415a8869ac.webp" type="image/webp" medium="image" height="400" width="600">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/06150415a8869ac.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
