<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 22:05:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 22:05:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کیپٹو پاور پلانٹس پر پیٹرولیم لیوی: حکومت کی آئی ایم ایف سے وضاحت طلب، پاور اور فنانس ڈویژنز آمنے سامنے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276664/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے یہ وضاحت مانگے گی کہ کیپٹو پاور پلانٹس (سی پی پیز) پر عائد پیٹرولیم لیوی (پی ایل) کو پاور ڈویژن کے معمول کے بجٹ کا حصہ سمجھا جائے یا سالانہ بجٹ سے اضافی تصور کیا جائے۔ یہ فیصلہ پاور ڈویژن اور فنانس ڈویژن کے باہمی اختلافِ رائے کے تناظر میں کیا گیا۔ سیکرٹری خزانہ کے قریبی ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے سامنے رکھا گیا جس نے آئی ایم ایف سے ضروری وضاحت لینے کی ہدایت دی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے 26 اگست 2025 کو ای سی سی کو آف دی گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹس) لیوی ایکٹ، 2025 پر بریفنگ دی۔ اس قانون کے تحت قدرتی گیس پر چلنے والے سی پی پیز پر لیوی عائد کی گئی ہے تاکہ انہیں قومی گرڈ پر منتقل ہونے کی ترغیب دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دفعہ 4 کے مطابق رولز آف بزنس 1973 کے تحت متعلقہ ڈویژنز لیوی کی شرح اس فرق کی بنیاد پر مقرر کریں گے جو نیپرا کے نوٹیفائیڈ صنعتی B-3 ٹیرف اور اوگرا کے گیس ٹیرف پر کیپٹو پلانٹ کی خود پیدا کردہ بجلی کی لاگت میں ہو۔ دفعہ 3 ہر سی پی پی کو قدرتی گیس/آر ایل این جی کے استعمال پر اوگرا کی سیل پرائس کے علاوہ طے شدہ لیوی ادا کرنے کا پابند بناتی ہے، جب کہ دفعہ 5(1) واضح کرتی ہے کہ یہ وصولیاں بجلی کے تمام صارفین کے لیے بجلی پیداوار کے ٹیرف میں کمی پر خرچ کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شرح ابتدا میں بجلی ٹیرف پر 5 فیصد اضافی مارجن ہوگی، جو 1 اگست 2025 سے 10 فیصد، یکم فروری 2026 سے 15فیصد اور یکم اگست 2026 سے 20 فیصد ہو کر اسی سطح پر برقرار رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت توانائی کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن ہر ماہ کے اختتام کے بعد دو روز میں جمع شدہ لیوی فنانس ڈویژن کو منتقل کرے گا۔ فنانس ڈویژن کے ڈیٹا اور بجلی فروخت کے اعدادوشمار کی بنیاد پر پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) اہل صارفین کیلئے ریلیف کا حساب لگائے گی۔ پی پی ایم سی یہ معلومات نیپرا کو بھیجے گی؛ نیپرا ضروری جانچ کے بعد ہر ماہ تعین جاری کرے گا، جو سی پی پی اے-جی کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے ساتھ نوٹیفائی ہوگا۔ ایک ماہ میں جمع ہونے والی لیوی کا فائدہ دو ماہ کے وقفے سے منتقل ہوگا—مثلاً جنوری کی وصولیاں مارچ کے بلوں میں جنوری کی کھپت کی بنیاد پر ایڈجسٹ ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمری فنانس، کامرس، پیٹرولیم، قانون و انصاف، صنعت و پیداوار ڈویژنز اور نیپرا کو بھجوائی گئی۔ پیٹرولیم ڈویژن نے تجویز کی حمایت کی۔ وزارتِ تجارت نے فائدہ صرف صنعتی صارفین تک محدود کرنے کی تجویز دی، مگر یہ قانون کی اس شق سے متصادم قرار پائی جس کے تحت فائدہ تمام کیٹیگریز کے صارفین کو منتقل ہونا ہے۔ لاء ڈویژن نے قانونی طور پر کوئی اعتراض ضروری نہ سمجھا، جب کہ نیپرا نے عدمِ اعتراض کے ساتھ طریقہ کار کو ماہانہ ایف سی اے میں شامل کرنے کی سفارش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ای سی سی کے لیے پیش کردہ تجاویز:(i) مجوزہ طریقہ کار کے مطابق جمع شدہ آف دی گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹ) لیوی کا ریلیف XWDISCOS اور کے الیکٹرک کے تمام صارفین لائف لائن کے سوا کو منتقل کیا جائے۔(ii) لیوی پاس آن کرنے کے مجوزہ میکنزم کی منظوری دی جائے۔(iii) نیپرا ایکٹ کی دفعہ 31 کے تحت نیپرا کو ہدایات جاری کرنے کی اجازت دی جائے کہ (a) پی پی ایم سی کے ماہانہ ڈیٹا کی بنیاد پر فی یونٹ ریلیف کا تعین کرے؛ اور (b) یہ تعین ہر ماہ ایف سی اے کے ساتھ جاری و نوٹیفائی کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحث کے دوران پاور ڈویژن نے کہا کہ منتقلی، حساب اور اضافی فائدے کی عملی تفصیلات منظوری کے بعد طے کی جائیں گی۔ فنانس ڈویژن کے مطابق لیوی کی رقم موجودہ مالی سال میں پاور ڈویژن کے مجموعی بجٹ کا حصہ رہے گی اور آئی ایم ایف سے طے شدہ MEFP فریم ورک میں فِٹ بیٹھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ صارفین کو حقیقی ریلیف اسی وقت ممکن ہے جب اسے پاور ڈویژن کے معمول کے بجٹ سے اضافی تصور کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تفصیلی غور کے بعد ای سی سی نے آئی ایم ایف سے ضروری وضاحت لینے کی ہدایت کر دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>حکومت بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے یہ وضاحت مانگے گی کہ کیپٹو پاور پلانٹس (سی پی پیز) پر عائد پیٹرولیم لیوی (پی ایل) کو پاور ڈویژن کے معمول کے بجٹ کا حصہ سمجھا جائے یا سالانہ بجٹ سے اضافی تصور کیا جائے۔ یہ فیصلہ پاور ڈویژن اور فنانس ڈویژن کے باہمی اختلافِ رائے کے تناظر میں کیا گیا۔ سیکرٹری خزانہ کے قریبی ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے سامنے رکھا گیا جس نے آئی ایم ایف سے ضروری وضاحت لینے کی ہدایت دی۔</strong></p>
<p>ذرائع کے مطابق پاور ڈویژن نے 26 اگست 2025 کو ای سی سی کو آف دی گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹس) لیوی ایکٹ، 2025 پر بریفنگ دی۔ اس قانون کے تحت قدرتی گیس پر چلنے والے سی پی پیز پر لیوی عائد کی گئی ہے تاکہ انہیں قومی گرڈ پر منتقل ہونے کی ترغیب دی جا سکے۔</p>
<p>دفعہ 4 کے مطابق رولز آف بزنس 1973 کے تحت متعلقہ ڈویژنز لیوی کی شرح اس فرق کی بنیاد پر مقرر کریں گے جو نیپرا کے نوٹیفائیڈ صنعتی B-3 ٹیرف اور اوگرا کے گیس ٹیرف پر کیپٹو پلانٹ کی خود پیدا کردہ بجلی کی لاگت میں ہو۔ دفعہ 3 ہر سی پی پی کو قدرتی گیس/آر ایل این جی کے استعمال پر اوگرا کی سیل پرائس کے علاوہ طے شدہ لیوی ادا کرنے کا پابند بناتی ہے، جب کہ دفعہ 5(1) واضح کرتی ہے کہ یہ وصولیاں بجلی کے تمام صارفین کے لیے بجلی پیداوار کے ٹیرف میں کمی پر خرچ کی جائیں گی۔</p>
<p>شرح ابتدا میں بجلی ٹیرف پر 5 فیصد اضافی مارجن ہوگی، جو 1 اگست 2025 سے 10 فیصد، یکم فروری 2026 سے 15فیصد اور یکم اگست 2026 سے 20 فیصد ہو کر اسی سطح پر برقرار رہے گی۔</p>
<p>وزارت توانائی کے مطابق پیٹرولیم ڈویژن ہر ماہ کے اختتام کے بعد دو روز میں جمع شدہ لیوی فنانس ڈویژن کو منتقل کرے گا۔ فنانس ڈویژن کے ڈیٹا اور بجلی فروخت کے اعدادوشمار کی بنیاد پر پاور پلاننگ اینڈ مانیٹرنگ کمپنی (پی پی ایم سی) اہل صارفین کیلئے ریلیف کا حساب لگائے گی۔ پی پی ایم سی یہ معلومات نیپرا کو بھیجے گی؛ نیپرا ضروری جانچ کے بعد ہر ماہ تعین جاری کرے گا، جو سی پی پی اے-جی کے ماہانہ فیول چارجز ایڈجسٹمنٹ (ایف سی اے) کے ساتھ نوٹیفائی ہوگا۔ ایک ماہ میں جمع ہونے والی لیوی کا فائدہ دو ماہ کے وقفے سے منتقل ہوگا—مثلاً جنوری کی وصولیاں مارچ کے بلوں میں جنوری کی کھپت کی بنیاد پر ایڈجسٹ ہوں گی۔</p>
<p>سمری فنانس، کامرس، پیٹرولیم، قانون و انصاف، صنعت و پیداوار ڈویژنز اور نیپرا کو بھجوائی گئی۔ پیٹرولیم ڈویژن نے تجویز کی حمایت کی۔ وزارتِ تجارت نے فائدہ صرف صنعتی صارفین تک محدود کرنے کی تجویز دی، مگر یہ قانون کی اس شق سے متصادم قرار پائی جس کے تحت فائدہ تمام کیٹیگریز کے صارفین کو منتقل ہونا ہے۔ لاء ڈویژن نے قانونی طور پر کوئی اعتراض ضروری نہ سمجھا، جب کہ نیپرا نے عدمِ اعتراض کے ساتھ طریقہ کار کو ماہانہ ایف سی اے میں شامل کرنے کی سفارش کی۔</p>
<p>ای سی سی کے لیے پیش کردہ تجاویز:(i) مجوزہ طریقہ کار کے مطابق جمع شدہ آف دی گرڈ (کیپٹو پاور پلانٹ) لیوی کا ریلیف XWDISCOS اور کے الیکٹرک کے تمام صارفین لائف لائن کے سوا کو منتقل کیا جائے۔(ii) لیوی پاس آن کرنے کے مجوزہ میکنزم کی منظوری دی جائے۔(iii) نیپرا ایکٹ کی دفعہ 31 کے تحت نیپرا کو ہدایات جاری کرنے کی اجازت دی جائے کہ (a) پی پی ایم سی کے ماہانہ ڈیٹا کی بنیاد پر فی یونٹ ریلیف کا تعین کرے؛ اور (b) یہ تعین ہر ماہ ایف سی اے کے ساتھ جاری و نوٹیفائی کرے۔</p>
<p>بحث کے دوران پاور ڈویژن نے کہا کہ منتقلی، حساب اور اضافی فائدے کی عملی تفصیلات منظوری کے بعد طے کی جائیں گی۔ فنانس ڈویژن کے مطابق لیوی کی رقم موجودہ مالی سال میں پاور ڈویژن کے مجموعی بجٹ کا حصہ رہے گی اور آئی ایم ایف سے طے شدہ MEFP فریم ورک میں فِٹ بیٹھے گی۔</p>
<p>پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ صارفین کو حقیقی ریلیف اسی وقت ممکن ہے جب اسے پاور ڈویژن کے معمول کے بجٹ سے اضافی تصور کیا جائے۔</p>
<p>تفصیلی غور کے بعد ای سی سی نے آئی ایم ایف سے ضروری وضاحت لینے کی ہدایت کر دی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276664</guid>
      <pubDate>Sat, 06 Sep 2025 11:16:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/061056569225a78.webp" type="image/webp" medium="image" height="300" width="620">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/061056569225a78.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
