<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 14 Jun 2026 01:18:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 14 Jun 2026 01:18:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سیلاب سے مہنگائی کے خدشات، اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ برقرار رکھنے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276662/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس 15 ستمبر 2025 کو متوقع ہے، جس میں آئندہ چھ ہفتوں کے لیے پالیسی ریٹ کا تعین کیا جائے گا۔ مالیاتی ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ مرکزی بینک پالیسی ریٹ کو تیسری بار مسلسل برقرار رکھے گا اور اسے مئی 2025 کی سطح یعنی 11 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا۔ اس فیصلے کی ممکنہ وجوہات میں حالیہ سیلاب کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خوراکی مہنگائی اور درآمدی ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا دباؤ شامل ہیں، جیسا کہ ایک مقامی ریسرچ ہاؤس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے کیے گئے حالیہ سروے کے مطابق مالیاتی منڈی کے 72 فیصد شرکاء پالیسی ریٹ میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتے، جب کہ پچھلے سروے میں یہ شرح 37 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن ریسرچ کے تجزیہ کار شنکر تلریجا نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”سروے میں ’اسٹیٹس کو‘ کے حق میں اضافے کی بڑی وجہ حالیہ سیلاب ہیں، جو اگلے مہینوں میں فصلوں کے ممکنہ نقصان اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث خوراکی اور مجموعی مہنگائی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب 28 فیصد شرکاء شرحِ سود میں کمی کی توقع رکھتے ہیں، جن میں 6 فیصد 25 بیسس پوائنٹس کمی، 13 فیصد 50 بیسس پوائنٹس کمی اور 9 فیصد 100 بیسس پوائنٹس کمی کی اُمید رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کار کے مطابق ”ہم (ریسرچ ہاؤس) بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ کو برقرار رکھے گا، کیونکہ حالیہ سیلاب اور درآمدات میں اضافے کے باعث مہنگائی کے خدشات موجود ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقی رپورٹ کے مطابق 2010-11 کے تباہ کن سیلاب کے بعد اہم فصلوں، جیسے کہ گندم، چاول اور کپاس کی زیرِ کاشت رقبے میں 3 سے 18 فیصد تک کمی آئی تھی، جب کہ مالی سال 2011 میں چاول کی پیداوار میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جیسا کہ پاکستان اکنامک سروے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون 2024 میں 22 فیصد کی بلند ترین سطح سے مئی 2025 تک پالیسی ریٹ میں 11 فیصد کی نمایاں کمی کی، جس کے نتیجے میں شرحِ سود نصف ہو کر 11 فیصد تک آ گئی۔ مہنگائی کی رفتار میں نمایاں کمی اور حکومت کی جانب سے اقتصادی سرگرمیوں کو سہارا دینے کی پالیسی نے مرکزی بینک کو اس قدر بڑی کمی کا جواز فراہم کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مرکزی بینک نے جون اور جولائی 2025 میں ہونے والے دو پالیسی اجلاسوں میں 11 فیصد کی شرح کو برقرار رکھا، اور اس سطح کو مناسب قرار دیا تاکہ مالی سال 2026 میں مہنگائی کو 5 تا 7 فیصد کے ہدف میں رکھا جا سکے اور معاشی نمو کو 3.25 سے 4.25 فیصد کی حدود میں سہارا دیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن ریسرچ کے تجزیہ کار شنکر تلریجا کے مطابق ”جولائی 2025 کی پالیسی میٹنگ کے بعد سے سیکنڈری مارکیٹ میں ٹی بلز کی ییلڈ اور کیبور میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی (محض 2 بیسس پوائنٹس کی کمی)، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مالیاتی منڈی آئندہ اجلاس میں اسٹیٹس کو کی توقع رکھتی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹاپ لائن ریسرچ کا خیال ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پاس مزید 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کمی کی گنجائش موجود ہے، کیونکہ وہ مالی سال 2026 میں مہنگائی کی اوسط 6 تا 7 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ حقیقی شرحِ سود (رئیل انٹرسٹ ریٹ) موجودہ 11 فیصد پالیسی ریٹ کے ساتھ 500 تا 600 بیسس پوائنٹس بنتی ہے، جو کہ تاریخی اوسط 200 تا 300 بیسس پوائنٹس سے کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;”ہم اپنا ہدف برقرار رکھتے ہیں کہ جون 2026 تک پالیسی ریٹ کو 10 فیصد تک لایا جائے گا، یعنی مزید 100 بیسس پوائنٹس کی کمی ممکن ہے، بشرطیکہ سیلاب سے متعلقہ خدشات ختم ہو جائیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسرچ ہاؤس نے مالی سال 2026 کے لیے دسمبر 2025 اور جون 2026 کی مدت پر مہنگائی کی اوسط اور روپے-ڈالر شرح مبادلہ سے متعلق مارکیٹ شرکاء سے ایک سروے بھی کیا:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی (انفلیشن)، 41 فیصد شرکاء کے خیال میں مہنگائی 7 فیصد سے زیادہ رہے گی جبکہ 34 فیصد نے 6 سے 7 فیصد کی حدود میں رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسرچ ہاؤس کی بھی یہی توقع ہے کہ مہنگائی 6 تا 7 فیصد کے درمیان رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرنسی (روپیہ ڈالر برابری) 50 فیصد شرکاء نے دسمبر 2025 تک شرح مبادلہ 285 تا 290 روپے فی ڈالر کی توقع ظاہر کی ہے۔ 34 فیصد نے اسے 282 تا 285 روپے فی ڈالر کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریسرچ ہاؤس کا اپنا تخمینہ ہے کہ دسمبر 2025 تک ڈالر 285 تا 290 روپے میں دستیاب ہوگا جبکہ جون 2026 تک شرح بڑھ کر 295 تا 300 روپے فی ڈالر ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) کا اجلاس 15 ستمبر 2025 کو متوقع ہے، جس میں آئندہ چھ ہفتوں کے لیے پالیسی ریٹ کا تعین کیا جائے گا۔ مالیاتی ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ مرکزی بینک پالیسی ریٹ کو تیسری بار مسلسل برقرار رکھے گا اور اسے مئی 2025 کی سطح یعنی 11 فیصد پر برقرار رکھا جائے گا۔ اس فیصلے کی ممکنہ وجوہات میں حالیہ سیلاب کے نتیجے میں پیدا ہونے والی خوراکی مہنگائی اور درآمدی ادائیگیوں کا بڑھتا ہوا دباؤ شامل ہیں، جیسا کہ ایک مقامی ریسرچ ہاؤس کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے۔</strong></p>
<p>ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی جانب سے کیے گئے حالیہ سروے کے مطابق مالیاتی منڈی کے 72 فیصد شرکاء پالیسی ریٹ میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتے، جب کہ پچھلے سروے میں یہ شرح 37 فیصد تھی۔</p>
<p>ٹاپ لائن ریسرچ کے تجزیہ کار شنکر تلریجا نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ”سروے میں ’اسٹیٹس کو‘ کے حق میں اضافے کی بڑی وجہ حالیہ سیلاب ہیں، جو اگلے مہینوں میں فصلوں کے ممکنہ نقصان اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث خوراکی اور مجموعی مہنگائی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔“</p>
<p>دوسری جانب 28 فیصد شرکاء شرحِ سود میں کمی کی توقع رکھتے ہیں، جن میں 6 فیصد 25 بیسس پوائنٹس کمی، 13 فیصد 50 بیسس پوائنٹس کمی اور 9 فیصد 100 بیسس پوائنٹس کمی کی اُمید رکھتے ہیں۔</p>
<p>تجزیہ کار کے مطابق ”ہم (ریسرچ ہاؤس) بھی یہی توقع رکھتے ہیں کہ اسٹیٹ بینک پالیسی ریٹ کو برقرار رکھے گا، کیونکہ حالیہ سیلاب اور درآمدات میں اضافے کے باعث مہنگائی کے خدشات موجود ہیں۔“</p>
<p>تحقیقی رپورٹ کے مطابق 2010-11 کے تباہ کن سیلاب کے بعد اہم فصلوں، جیسے کہ گندم، چاول اور کپاس کی زیرِ کاشت رقبے میں 3 سے 18 فیصد تک کمی آئی تھی، جب کہ مالی سال 2011 میں چاول کی پیداوار میں 30 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی تھی، جیسا کہ پاکستان اکنامک سروے کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے جون 2024 میں 22 فیصد کی بلند ترین سطح سے مئی 2025 تک پالیسی ریٹ میں 11 فیصد کی نمایاں کمی کی، جس کے نتیجے میں شرحِ سود نصف ہو کر 11 فیصد تک آ گئی۔ مہنگائی کی رفتار میں نمایاں کمی اور حکومت کی جانب سے اقتصادی سرگرمیوں کو سہارا دینے کی پالیسی نے مرکزی بینک کو اس قدر بڑی کمی کا جواز فراہم کیا۔</p>
<p>مرکزی بینک نے جون اور جولائی 2025 میں ہونے والے دو پالیسی اجلاسوں میں 11 فیصد کی شرح کو برقرار رکھا، اور اس سطح کو مناسب قرار دیا تاکہ مالی سال 2026 میں مہنگائی کو 5 تا 7 فیصد کے ہدف میں رکھا جا سکے اور معاشی نمو کو 3.25 سے 4.25 فیصد کی حدود میں سہارا دیا جا سکے۔</p>
<p>ٹاپ لائن ریسرچ کے تجزیہ کار شنکر تلریجا کے مطابق ”جولائی 2025 کی پالیسی میٹنگ کے بعد سے سیکنڈری مارکیٹ میں ٹی بلز کی ییلڈ اور کیبور میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی (محض 2 بیسس پوائنٹس کی کمی)، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مالیاتی منڈی آئندہ اجلاس میں اسٹیٹس کو کی توقع رکھتی ہے۔“</p>
<p>ٹاپ لائن ریسرچ کا خیال ہے کہ اسٹیٹ بینک کے پاس مزید 50 سے 100 بیسس پوائنٹس کمی کی گنجائش موجود ہے، کیونکہ وہ مالی سال 2026 میں مہنگائی کی اوسط 6 تا 7 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع رکھتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ حقیقی شرحِ سود (رئیل انٹرسٹ ریٹ) موجودہ 11 فیصد پالیسی ریٹ کے ساتھ 500 تا 600 بیسس پوائنٹس بنتی ہے، جو کہ تاریخی اوسط 200 تا 300 بیسس پوائنٹس سے کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>”ہم اپنا ہدف برقرار رکھتے ہیں کہ جون 2026 تک پالیسی ریٹ کو 10 فیصد تک لایا جائے گا، یعنی مزید 100 بیسس پوائنٹس کی کمی ممکن ہے، بشرطیکہ سیلاب سے متعلقہ خدشات ختم ہو جائیں۔“</p>
<p>ریسرچ ہاؤس نے مالی سال 2026 کے لیے دسمبر 2025 اور جون 2026 کی مدت پر مہنگائی کی اوسط اور روپے-ڈالر شرح مبادلہ سے متعلق مارکیٹ شرکاء سے ایک سروے بھی کیا:</p>
<p>مہنگائی (انفلیشن)، 41 فیصد شرکاء کے خیال میں مہنگائی 7 فیصد سے زیادہ رہے گی جبکہ 34 فیصد نے 6 سے 7 فیصد کی حدود میں رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔</p>
<p>ریسرچ ہاؤس کی بھی یہی توقع ہے کہ مہنگائی 6 تا 7 فیصد کے درمیان رہے گی۔</p>
<p>کرنسی (روپیہ ڈالر برابری) 50 فیصد شرکاء نے دسمبر 2025 تک شرح مبادلہ 285 تا 290 روپے فی ڈالر کی توقع ظاہر کی ہے۔ 34 فیصد نے اسے 282 تا 285 روپے فی ڈالر کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔</p>
<p>ریسرچ ہاؤس کا اپنا تخمینہ ہے کہ دسمبر 2025 تک ڈالر 285 تا 290 روپے میں دستیاب ہوگا جبکہ جون 2026 تک شرح بڑھ کر 295 تا 300 روپے فی ڈالر ہو سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276662</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Sep 2025 22:54:35 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سلمان صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/052242244da4a8c.webp" type="image/webp" medium="image" height="288" width="480">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/052242244da4a8c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
