<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>غزہ شہر کا 40 فیصد حصہ کنٹرول میں ہے، اسرائیلی فوج کا دعویٰ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276647/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے غزہ شہر کا 40 فیصد حصہ اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے، جبکہ شدید بمباری کے باعث مزید فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے۔ تاہم ہزاروں شہری اسرائیلی انخلا کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے کھنڈرات میں ہی موجود رہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کی وزارت صحت کے مطابق صرف جمعرات کو اسرائیلی حملوں میں کم از کم 53 افراد شہید ہوئے، جن میں اکثریت غزہ شہر کے باشندوں کی تھی۔ اسرائیلی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے بتایا کہ زیتون اور شیخ رضوان علاقوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور آپریشن آئندہ دنوں میں مزید تیز ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج نے شہر کے زیتون، صبرہ، تفاح اور شجاعیہ علاقوں کو زمین اور فضائی بمباری سے نشانہ بنایا۔ تفاح محلے میں پانچ گھروں پر حملوں میں آٹھ افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ غزہ کی ہنگامی سروس کے ترجمان محمود بصل نے کہا کہ چار عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ اور فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی۔ غذائی قلت کے باعث اب تک 370 افراد، جن میں 131 بچے شامل ہیں، بھوک اور بیماری سے جان گنوا چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک غزہ میں 63 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہیں۔ امریکی سینیٹرز کرس وین ہولن اور جیف مرکلی نے دورے کے بعد کہا کہ اسرائیلی حکومت غزہ اور مغربی کنارے میں نسل کشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیل نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ اس کی افواج نے غزہ شہر کا 40 فیصد حصہ اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے، جبکہ شدید بمباری کے باعث مزید فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل ہوئے۔ تاہم ہزاروں شہری اسرائیلی انخلا کے احکامات کو نظرانداز کرتے ہوئے کھنڈرات میں ہی موجود رہے۔</strong></p>
<p>غزہ کی وزارت صحت کے مطابق صرف جمعرات کو اسرائیلی حملوں میں کم از کم 53 افراد شہید ہوئے، جن میں اکثریت غزہ شہر کے باشندوں کی تھی۔ اسرائیلی فوجی ترجمان بریگیڈیئر جنرل ایفی ڈیفرین نے بتایا کہ زیتون اور شیخ رضوان علاقوں پر قبضہ کر لیا گیا ہے اور آپریشن آئندہ دنوں میں مزید تیز ہوگا۔</p>
<p>مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج نے شہر کے زیتون، صبرہ، تفاح اور شجاعیہ علاقوں کو زمین اور فضائی بمباری سے نشانہ بنایا۔ تفاح محلے میں پانچ گھروں پر حملوں میں آٹھ افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوئے۔ غزہ کی ہنگامی سروس کے ترجمان محمود بصل نے کہا کہ چار عمارتیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ اور فلسطینی حکام کا کہنا ہے کہ غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی۔ غذائی قلت کے باعث اب تک 370 افراد، جن میں 131 بچے شامل ہیں، بھوک اور بیماری سے جان گنوا چکے ہیں۔</p>
<p>اکتوبر 2023 میں شروع ہونے والی جنگ کے بعد سے اب تک غزہ میں 63 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ لاکھوں افراد بے گھر ہیں۔ امریکی سینیٹرز کرس وین ہولن اور جیف مرکلی نے دورے کے بعد کہا کہ اسرائیلی حکومت غزہ اور مغربی کنارے میں نسل کشی کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276647</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Sep 2025 12:06:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/0512050694fde9a.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/0512050694fde9a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
