<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 03:41:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 03:41:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٌپاکستان اور بھارت میں شدید بارشوں اور دریاؤں کی طغیانی سے سیلابی صورتحال سنگین</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276643/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شدید مون سون بارشوں نے شمالی بھارت اور پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں دریاؤں میں طغیانی کے باعث گھروں اور شاہراہوں میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ جمعرات کو بھی ہمالیہ کے دامن میں موسلا دھار بارش جاری رہی، جبکہ بھارتی محکمۂ موسمیات نے دن کے اختتام تک بارشوں میں کمی کی پیش گوئی کی ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے 9 ستمبر تک بارشوں کے تسلسل کی وارننگ دی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اور پاکستان دونوں میں دریاؤں کے پانی کی سطح بلند ہونے سے حکام نے ڈیموں کے دروازے کھول دیے ہیں جس سے دونوں جانب مزید علاقے زیرِ آب آ گئے۔ بھارتی حکام نے پاکستان کو گزشتہ 24 گھنٹوں میں تین اور مجموعی طور پر سات بار پانی چھوڑنے کی اطلاع دی ہے۔ پاکستان کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑنے کے بعد پاکستان کے تین دریا متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے پنجاب میں اگست کے آغاز سے اب تک 37 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں ہیکٹر پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ ریاستی حکومت نے متاثرین کے لیے 710 ملین روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے پنجاب میں 39 سو دیہات زیرِ آب آنے کے بعد 18 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ حکام نے تاریخی شہر ملتان کو بچانے کے لیے دریائے چناب کے کنارے کو کاٹنے پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ پانی نواحی علاقوں میں پھیل کر دباؤ کم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے دارالحکومت دہلی میں دریائے جمنا خطرناک حد تک بلند ہو گیا ہے جس کے باعث پرانا لوہا پل بند کر دیا گیا۔ سری نگر میں دریائے جہلم کے بند ٹوٹنے سے متعدد علاقے ڈوب گئے اور 9 ہزار افراد کو نکالا گیا۔ جموں و کشمیر کے وزیرِاعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ پانی کی سطح خطرے کے باوجود قابو میں ہے مگر انتظامیہ پوری طرح چوکس ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب دریائے چناب پر رتل ہائیڈرو پاور منصوبے کے قریب بھاری لینڈ سلائیڈنگ سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ محکمۂ موسمیات نے جموں و کشمیر اور اتراکھنڈ میں معتدل بارش کی پیش گوئی کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شدید مون سون بارشوں نے شمالی بھارت اور پاکستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، جہاں دریاؤں میں طغیانی کے باعث گھروں اور شاہراہوں میں سیلابی صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔ جمعرات کو بھی ہمالیہ کے دامن میں موسلا دھار بارش جاری رہی، جبکہ بھارتی محکمۂ موسمیات نے دن کے اختتام تک بارشوں میں کمی کی پیش گوئی کی ہے۔ دوسری جانب پاکستان نے 9 ستمبر تک بارشوں کے تسلسل کی وارننگ دی ہے۔</strong></p>
<p>بھارت اور پاکستان دونوں میں دریاؤں کے پانی کی سطح بلند ہونے سے حکام نے ڈیموں کے دروازے کھول دیے ہیں جس سے دونوں جانب مزید علاقے زیرِ آب آ گئے۔ بھارتی حکام نے پاکستان کو گزشتہ 24 گھنٹوں میں تین اور مجموعی طور پر سات بار پانی چھوڑنے کی اطلاع دی ہے۔ پاکستان کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے بتایا کہ بھارت کی جانب سے مزید پانی چھوڑنے کے بعد پاکستان کے تین دریا متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p>بھارت کے پنجاب میں اگست کے آغاز سے اب تک 37 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ ہزاروں ہیکٹر پر کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں۔ ریاستی حکومت نے متاثرین کے لیے 710 ملین روپے کے ریلیف پیکیج کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان کے پنجاب میں 39 سو دیہات زیرِ آب آنے کے بعد 18 لاکھ سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔ حکام نے تاریخی شہر ملتان کو بچانے کے لیے دریائے چناب کے کنارے کو کاٹنے پر غور شروع کر دیا ہے تاکہ پانی نواحی علاقوں میں پھیل کر دباؤ کم کرے۔</p>
<p>بھارت کے دارالحکومت دہلی میں دریائے جمنا خطرناک حد تک بلند ہو گیا ہے جس کے باعث پرانا لوہا پل بند کر دیا گیا۔ سری نگر میں دریائے جہلم کے بند ٹوٹنے سے متعدد علاقے ڈوب گئے اور 9 ہزار افراد کو نکالا گیا۔ جموں و کشمیر کے وزیرِاعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا ہے کہ پانی کی سطح خطرے کے باوجود قابو میں ہے مگر انتظامیہ پوری طرح چوکس ہے۔</p>
<p>دوسری جانب دریائے چناب پر رتل ہائیڈرو پاور منصوبے کے قریب بھاری لینڈ سلائیڈنگ سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ محکمۂ موسمیات نے جموں و کشمیر اور اتراکھنڈ میں معتدل بارش کی پیش گوئی کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276643</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Sep 2025 11:47:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/05114505e17565c.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/05114505e17565c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
