<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 12:14:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 12:14:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>50 ہزار روپے فی ریفرنس عدالتی فیس، ٹیکس دہندگان کو بڑا ریلیف ملنے کا امکان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276634/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے آئین پاکستان کی خلاف ورزی ختم کرنے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے ٹیکس دہندگان کے ساتھ ناانصافی کے خاتمے پر غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ (راولپنڈی بینچ) نے تجویز دی ہے کہ ہائی کورٹس میں ایف بی آر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے پر ٹیکس دہندگان سے وصول کیا جانے والا 50 ہزار روپے عدالت فیس ختم یا کم کی جائے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ایف بی آر کو ٹیکس ریفرنسز پر کوئی عدالت فیس ادا نہیں کرنی پڑتی جبکہ عام شہری کو فی ریفرنس 50 ہزار روپے ادا کرنے پڑتے ہیں، جو آئین کے آرٹیکلز 4، 10-اے اور 37(d) کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ صورت حال ریگولیٹر اور عام شہری کے درمیان عدم مساوات پیدا کرتی ہے اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کو ان کے جائز مقدمات عدالت میں لے جانے سے روکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جسٹس جواد حسن نے اپنے فیصلے میں تجویز دی کہ کم آمدن یا ٹرن اوور رکھنے والے ٹیکس دہندگان کے لیے عدالت فیس معاف یا کم کی جائے، یا پھر ایف بی آر پر بھی معمولی عدالت فیس عائد کی جائے تاکہ دونوں فریقوں کے لیے برابری کا میدان قائم ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ کمشنرز اپیل اور اے ٹی آئی آر اراکین کے فیصلوں میں اکثر قانونی خامیاں، ناکافی دلائل اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزیاں سامنے آتی ہیں۔ اس لیے حکومت کو ایف بی آر اور عدالتی اکیڈمیوں کے تعاون سے ان افسران کے لیے لازمی تربیتی پروگرامز شروع کرنے چاہئیں تاکہ فیصلوں کا معیار بہتر بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کی جانب سے آئین پاکستان کی خلاف ورزی ختم کرنے اور چھوٹے و درمیانے درجے کے ٹیکس دہندگان کے ساتھ ناانصافی کے خاتمے پر غور کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں لاہور ہائی کورٹ (راولپنڈی بینچ) نے تجویز دی ہے کہ ہائی کورٹس میں ایف بی آر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے پر ٹیکس دہندگان سے وصول کیا جانے والا 50 ہزار روپے عدالت فیس ختم یا کم کی جائے۔</strong></p>
<p>عدالت نے اپنے حکم میں کہا کہ ایف بی آر کو ٹیکس ریفرنسز پر کوئی عدالت فیس ادا نہیں کرنی پڑتی جبکہ عام شہری کو فی ریفرنس 50 ہزار روپے ادا کرنے پڑتے ہیں، جو آئین کے آرٹیکلز 4، 10-اے اور 37(d) کے تحت شہریوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ صورت حال ریگولیٹر اور عام شہری کے درمیان عدم مساوات پیدا کرتی ہے اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کو ان کے جائز مقدمات عدالت میں لے جانے سے روکتی ہے۔</p>
<p>جسٹس جواد حسن نے اپنے فیصلے میں تجویز دی کہ کم آمدن یا ٹرن اوور رکھنے والے ٹیکس دہندگان کے لیے عدالت فیس معاف یا کم کی جائے، یا پھر ایف بی آر پر بھی معمولی عدالت فیس عائد کی جائے تاکہ دونوں فریقوں کے لیے برابری کا میدان قائم ہو۔</p>
<p>فیصلے میں یہ بھی کہا گیا کہ کمشنرز اپیل اور اے ٹی آئی آر اراکین کے فیصلوں میں اکثر قانونی خامیاں، ناکافی دلائل اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزیاں سامنے آتی ہیں۔ اس لیے حکومت کو ایف بی آر اور عدالتی اکیڈمیوں کے تعاون سے ان افسران کے لیے لازمی تربیتی پروگرامز شروع کرنے چاہئیں تاکہ فیصلوں کا معیار بہتر بنایا جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276634</guid>
      <pubDate>Fri, 05 Sep 2025 10:18:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/05101604a54a15f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/05101604a54a15f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
