<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 16 Jul 2026 00:17:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 16 Jul 2026 00:17:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انڈونیشین طلبہ کا جکارتہ میں پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276601/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;انڈونیشیا میں طلبہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات کو دارالحکومت جکارتہ میں پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر احتجاج کریں گے، کیونکہ حکومت کے ساتھ ملاقات تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ یہ مظاہرے گزشتہ ہفتے پولیس تشدد اور ریاستی اخراجات کی ترجیحات کے خلاف شروع ہوئے تھے جن میں اب تک 10 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کی تنظیموں نے سکیورٹی فورسز کے طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ احتجاج مختلف طلبہ، مزدور اور انسانی حقوق کے گروپوں کی قیادت میں کیا جا رہا ہے۔ طلبہ تنظیم بی ای ایم ایس آئی  نے کہا ہے کہ عوام کی بے چینی سڑکوں پر احتجاج سے نہیں بلکہ کرپشن اور قانون کے سیاسی استعمال سے ہے۔ بدھ کو 10 طلبہ یونینز نے ارکانِ پارلیمنٹ سے ملاقات کی اور پولیس تشدد کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مزدور تنظیم گبراک نے بھی جمعرات کو احتجاج کا اعلان کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق حکام نے ملک بھر میں 3,000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر پرابوو سبانتو نے کہا ہے کہ فوج اور پولیس تشدد کرنے والے ہجوم کے خلاف سختی سے کھڑی رہیں گی، جبکہ بعض واقعات میں دہشت گردی اور غداری کے اشارے ملے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>انڈونیشیا میں طلبہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ جمعرات کو دارالحکومت جکارتہ میں پارلیمنٹ کی عمارت کے باہر احتجاج کریں گے، کیونکہ حکومت کے ساتھ ملاقات تاحال ممکن نہیں ہو سکی۔ یہ مظاہرے گزشتہ ہفتے پولیس تشدد اور ریاستی اخراجات کی ترجیحات کے خلاف شروع ہوئے تھے جن میں اب تک 10 افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔</strong></p>
<p>انسانی حقوق کی تنظیموں نے سکیورٹی فورسز کے طاقت کے استعمال کی مذمت کی ہے۔</p>
<p>یہ احتجاج مختلف طلبہ، مزدور اور انسانی حقوق کے گروپوں کی قیادت میں کیا جا رہا ہے۔ طلبہ تنظیم بی ای ایم ایس آئی  نے کہا ہے کہ عوام کی بے چینی سڑکوں پر احتجاج سے نہیں بلکہ کرپشن اور قانون کے سیاسی استعمال سے ہے۔ بدھ کو 10 طلبہ یونینز نے ارکانِ پارلیمنٹ سے ملاقات کی اور پولیس تشدد کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>دوسری جانب مزدور تنظیم گبراک نے بھی جمعرات کو احتجاج کا اعلان کیا ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔ ہیومن رائٹس واچ کے مطابق حکام نے ملک بھر میں 3,000 سے زائد افراد کو حراست میں لیا ہے۔</p>
<p>صدر پرابوو سبانتو نے کہا ہے کہ فوج اور پولیس تشدد کرنے والے ہجوم کے خلاف سختی سے کھڑی رہیں گی، جبکہ بعض واقعات میں دہشت گردی اور غداری کے اشارے ملے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276601</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Sep 2025 11:54:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/04115307cde23c4.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/04115307cde23c4.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
