<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:18:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیلی ڈرونز کا لبنان میں اقوام متحدہ کے امن اہلکاروں کے قریب گرینیڈ سے حملہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276591/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اقوام متحدہ کی عارضی فورس برائے لبنان (یونیفل) نے انکشاف کیا ہے کہ منگل کی صبح اسرائیلی ڈرونز نے چار گرینیڈ اس وقت گرائے جب امن مشن کے اہلکار ایک شاہراہ پر رکاوٹیں ہٹانے کا کام کر رہے تھے۔ ان رکاوٹوں کی وجہ سے یونیفل کے ایک ٹھکانے تک رسائی میں دشواری پیش آ رہی تھی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیفل کے مطابق ایک گرینیڈ 20 میٹر اور تین گرینیڈ تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر اہلکاروں اور گاڑیوں کے قریب گرے۔ بیان میں کہا گیا کہ نومبر گزشتہ برس کی جنگ بندی کے بعد یہ یونیفل کے اہلکاروں اور اثاثوں پر سب سے سنگین حملوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونیفل نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج کو پیشگی اطلاع دی گئی تھی کہ اہلکار جنوبی لبنان کے گاؤں مروحين کے قریب سڑک کی صفائی کا کام انجام دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل نداف شوشانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ جنوبی لبنان میں ایک چوکی پر تعینات فوجیوں نے مشکوک سرگرمی دیکھ کر علاقے میں اسٹن گرینیڈز استعمال کیے تاکہ مبینہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد فوج نے جائزہ لینے کے بعد وضاحت جاری کی اور اس بات پر زور دیا کہ امن اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امن اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ امن اہلکاروں اور اقوام متحدہ کی تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر یونیفل کے مشن میں 2026 کے اختتام تک توسیع کی تھی جس کے بعد ایک سالہ مرحلہ وار انخلا شروع ہوگا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اقوام متحدہ کی عارضی فورس برائے لبنان (یونیفل) نے انکشاف کیا ہے کہ منگل کی صبح اسرائیلی ڈرونز نے چار گرینیڈ اس وقت گرائے جب امن مشن کے اہلکار ایک شاہراہ پر رکاوٹیں ہٹانے کا کام کر رہے تھے۔ ان رکاوٹوں کی وجہ سے یونیفل کے ایک ٹھکانے تک رسائی میں دشواری پیش آ رہی تھی۔</strong></p>
<p>یونیفل کے مطابق ایک گرینیڈ 20 میٹر اور تین گرینیڈ تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر اہلکاروں اور گاڑیوں کے قریب گرے۔ بیان میں کہا گیا کہ نومبر گزشتہ برس کی جنگ بندی کے بعد یہ یونیفل کے اہلکاروں اور اثاثوں پر سب سے سنگین حملوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>یونیفل نے واضح کیا کہ اسرائیلی فوج کو پیشگی اطلاع دی گئی تھی کہ اہلکار جنوبی لبنان کے گاؤں مروحين کے قریب سڑک کی صفائی کا کام انجام دیں گے۔</p>
<p>اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل نداف شوشانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ جنوبی لبنان میں ایک چوکی پر تعینات فوجیوں نے مشکوک سرگرمی دیکھ کر علاقے میں اسٹن گرینیڈز استعمال کیے تاکہ مبینہ خطرے کو ختم کیا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ واقعے کے بعد فوج نے جائزہ لینے کے بعد وضاحت جاری کی اور اس بات پر زور دیا کہ امن اہلکاروں کو نشانہ بنانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے واقعے پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امن اہلکاروں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنے والے اقدامات مکمل طور پر ناقابل قبول ہیں۔ انہوں نے فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ امن اہلکاروں اور اقوام متحدہ کی تنصیبات کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر یونیفل کے مشن میں 2026 کے اختتام تک توسیع کی تھی جس کے بعد ایک سالہ مرحلہ وار انخلا شروع ہوگا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276591</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Sep 2025 10:52:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/04105121e18b7c0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/04105121e18b7c0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
