<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 11 Aug 2026 12:03:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 11 Aug 2026 12:03:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹاک مارکیٹ: خریداری کا سلسلہ جاری،100 انڈیکس نئی بلند ترین سطح پر بند</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276587/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تیزی کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری رہا،مضبوط شعبہ جاتی کارکردگی اور بہتر ہوئے معاشی رجحانات کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس نے 400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 152,665.72 پوائنٹس پر بند ہوا، جو کہ 463.85 پوائنٹس یا 0.30 فیصد کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 اندیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 153,411.05 پوائنٹس جاپہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایگزیکٹو ڈائریکٹر لیکسن انویسٹمنٹس مصطفیٰ پاشا نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ چند ماہ  کے دوران ہم نے مارکیٹ میں ایک بہت مضبوط تیزی دیکھی ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں میوچوئل فنڈز اسٹاک مارکیٹ میں بڑے خریدار کے طور پر سامنے آئے ہیں، کیونکہ ”انہیں اپنے ایکویٹی پر مبنی پروڈکٹس میں نئے انویسٹمنٹ (فریش انفلووز) موصول ہو رہے ہیں، جو مارکیٹ میں ویلیوایشنز کو اوپر لے جا رہے ہیں۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاشا کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں میں ایک امید پیدا ہو رہی ہے کہ آئندہ کے مہینوں میں پاکستانی معیشت بتدریج بحال ہوگی، جو ممکنہ طور پر کمپنیوں کی آمدنی (ارننگز) میں اضافے کا باعث بنے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، او ایم سیز، پاور جنریشن اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے بڑے شیئرز جیسے اے آر ایل، ماری، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایس جی این پی ایل، ایچ بی ایل، ایم سی بی، میزان بینک اور نیشنل بینک  مثبت زون میں ٹریڈ ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کو بھی پی ایس ایکس نے ریکارڈ توڑ سلسلے کو جاری رکھا تھا جب کے ایس ای 100 انڈیکس 1,226.39 پوائنٹس یا 0.81 فیصد اضافے کے بعد 152,201.88 پوائنٹس پر بند ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی سطح پر، جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں اضافہ دیکھا گیا کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کے عہدیداروں کے نرم بیانات نے سرمایہ کاروں کے خدشات کو کم کیا، ایسے وقت میں جب عالمی ترقی اور بانڈ مارکیٹس میں فروخت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلوی مارکیٹ میں 0.8 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ نکی 225 انڈیکس 1.2 فیصد بڑھا۔ تاہم ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک شیئرز انڈیکس (جاپان کے علاوہ) ابتدائی اضافہ کھو بیٹھا اور 0.2 فیصد نیچے آگیا، جس کی بڑی وجہ چین میں کمی تھی۔ شنگھائی کمپوزٹ 1.6 فیصد گر گیا اور لگاتار تیسرے دن مندی کی طرف بڑھا، بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق چینی مالیاتی ریگولیٹرز مارکیٹ کو ٹھنڈا کرنے کے اقدامات کی تیاری کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی منڈیوں نے ستمبر کا آغاز مایوسی کے ساتھ کیا ہے کیونکہ طویل مدتی بانڈز میں فروخت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے، خاص طور پر امریکی نان فارم پے رولز کی رپورٹ جمعہ کو متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بانڈ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ کچھ کم ضرور ہوا، لیکن جاپان سے برطانیہ اور امریکہ تک بڑی معیشتوں کی مالی حالت پر تشویش کے باعث طویل مدتی قرض لاگت کئی سالہ بلند ترین سطحوں کے قریب ہی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا اس وقت ملا جب فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر سمیت دیگر عہدیداروں نے آنے والے مہینوں میں شرح سود میں کٹوتیوں کی حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کے روز پاکستانی روپیہ نے اپنی مثبت پیش رفت جاری رکھتے ہوئے امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.01 فیصد بہتری حاصل کی۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 281.67 روپے پر بند ہوا، جو کہ 4 پیسے کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ یہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قدر میں مسلسل 20 ویں بہتری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم کم ہو کر 954.33 ملین شیئرز رہ گیا، جو کہ گزشتہ سیشن میں 1,043.23 ملین تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شیئرز کی مالیت بھی گھٹ کر 46.05 ارب روپے ہو گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 51.31 ارب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرِفہرست کمپنیز (کاروباری حجم کے اعتبار سے) بینک آف پنجاب 99.49 ملین شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہا، کےالیکٹرک لمیٹڈ 45.31 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے جبکہ پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل 38.56 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوئسٹ پاکستان لمیٹڈ کے شیئرز میں 101.89 روپے کا اضافہ ہوا، کاروبار کے اختتام پر قیمت 4,101.27 روپے رہی۔ ستارہ کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کے شیئرز میں 72.52 روپے کا اضافہ ہوا، اور قیمت 797.70 روپے پر بند ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ بی کے شیئرز 475.13 روپے کمی کے بعد 26,340.67 روپے پر آ گئے۔ سیمنز (پاکستان) انجینئرنگ کے شیئرز میں 122.00 روپے کی کمی ہوئی، اختتامی قیمت 1,553.00 روپے رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کے روز مجموعی طور پر 480 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں 208 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ ہوا، 240 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں کمی ہوئی جبکہ 32 کمپنیوں کے شیئرز بغیر کسی تبدیلی کے بند ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) میں تیزی کا سلسلہ جمعرات کو بھی جاری رہا،مضبوط شعبہ جاتی کارکردگی اور بہتر ہوئے معاشی رجحانات کے باعث کے ایس ای 100 انڈیکس نے 400 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا۔</strong></p>
<p>کاروبار کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس 152,665.72 پوائنٹس پر بند ہوا، جو کہ 463.85 پوائنٹس یا 0.30 فیصد کے اضافے کو ظاہر کرتا ہے۔</p>
<p>ٹریڈنگ کے دوران ایک موقع پر 100 اندیکس انٹرا ڈے کی بلند ترین سطح 153,411.05 پوائنٹس جاپہنچا تھا۔</p>
<p>ایگزیکٹو ڈائریکٹر لیکسن انویسٹمنٹس مصطفیٰ پاشا نے بزنس ریکارڈر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ چند ماہ  کے دوران ہم نے مارکیٹ میں ایک بہت مضبوط تیزی دیکھی ہے۔“</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں میوچوئل فنڈز اسٹاک مارکیٹ میں بڑے خریدار کے طور پر سامنے آئے ہیں، کیونکہ ”انہیں اپنے ایکویٹی پر مبنی پروڈکٹس میں نئے انویسٹمنٹ (فریش انفلووز) موصول ہو رہے ہیں، جو مارکیٹ میں ویلیوایشنز کو اوپر لے جا رہے ہیں۔“</p>
<p>پاشا کا کہنا تھا کہ سرمایہ کاروں میں ایک امید پیدا ہو رہی ہے کہ آئندہ کے مہینوں میں پاکستانی معیشت بتدریج بحال ہوگی، جو ممکنہ طور پر کمپنیوں کی آمدنی (ارننگز) میں اضافے کا باعث بنے گی۔</p>
<p>سیمنٹ، کمرشل بینکوں، آئل اینڈ گیس ایکسپلوریشن کمپنیوں، او ایم سیز، پاور جنریشن اور ریفائنری سمیت اہم شعبوں میں خریداری دیکھی گئی۔ انڈیکس پر اثرانداز ہونے والے بڑے شیئرز جیسے اے آر ایل، ماری، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایس جی این پی ایل، ایچ بی ایل، ایم سی بی، میزان بینک اور نیشنل بینک  مثبت زون میں ٹریڈ ہوئے۔</p>
<p>بدھ کو بھی پی ایس ایکس نے ریکارڈ توڑ سلسلے کو جاری رکھا تھا جب کے ایس ای 100 انڈیکس 1,226.39 پوائنٹس یا 0.81 فیصد اضافے کے بعد 152,201.88 پوائنٹس پر بند ہوا۔</p>
<p>بین الاقوامی سطح پر، جمعرات کو ایشیائی اسٹاکس میں اضافہ دیکھا گیا کیونکہ امریکی فیڈرل ریزرو کے عہدیداروں کے نرم بیانات نے سرمایہ کاروں کے خدشات کو کم کیا، ایسے وقت میں جب عالمی ترقی اور بانڈ مارکیٹس میں فروخت کے حوالے سے تشویش پائی جاتی ہے۔</p>
<p>آسٹریلوی مارکیٹ میں 0.8 فیصد کا اضافہ ہوا جبکہ نکی 225 انڈیکس 1.2 فیصد بڑھا۔ تاہم ایم ایس سی آئی کا ایشیا پیسیفک شیئرز انڈیکس (جاپان کے علاوہ) ابتدائی اضافہ کھو بیٹھا اور 0.2 فیصد نیچے آگیا، جس کی بڑی وجہ چین میں کمی تھی۔ شنگھائی کمپوزٹ 1.6 فیصد گر گیا اور لگاتار تیسرے دن مندی کی طرف بڑھا، بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق چینی مالیاتی ریگولیٹرز مارکیٹ کو ٹھنڈا کرنے کے اقدامات کی تیاری کر رہے ہیں۔</p>
<p>مالیاتی منڈیوں نے ستمبر کا آغاز مایوسی کے ساتھ کیا ہے کیونکہ طویل مدتی بانڈز میں فروخت نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متاثر کیا ہے، خاص طور پر امریکی نان فارم پے رولز کی رپورٹ جمعہ کو متوقع ہے۔</p>
<p>بانڈ مارکیٹ میں فروخت کا دباؤ کچھ کم ضرور ہوا، لیکن جاپان سے برطانیہ اور امریکہ تک بڑی معیشتوں کی مالی حالت پر تشویش کے باعث طویل مدتی قرض لاگت کئی سالہ بلند ترین سطحوں کے قریب ہی رہی۔</p>
<p>سرمایہ کاروں کے اعتماد کو سہارا اس وقت ملا جب فیڈرل ریزرو کے گورنر کرسٹوفر والر سمیت دیگر عہدیداروں نے آنے والے مہینوں میں شرح سود میں کٹوتیوں کی حمایت کی۔</p>
<p>انٹربینک مارکیٹ میں جمعرات کے روز پاکستانی روپیہ نے اپنی مثبت پیش رفت جاری رکھتے ہوئے امریکی ڈالر کے مقابلے میں 0.01 فیصد بہتری حاصل کی۔ کاروبار کے اختتام پر ڈالر کے مقابلے روپیہ 281.67 روپے پر بند ہوا، جو کہ 4 پیسے کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ یہ ڈالر کے مقابلے میں روپیہ کی قدر میں مسلسل 20 ویں بہتری ہے۔</p>
<p>آل شیئر انڈیکس پر کاروباری حجم کم ہو کر 954.33 ملین شیئرز رہ گیا، جو کہ گزشتہ سیشن میں 1,043.23 ملین تھا۔</p>
<p>شیئرز کی مالیت بھی گھٹ کر 46.05 ارب روپے ہو گئی، جبکہ گزشتہ سیشن میں یہ 51.31 ارب روپے تھی۔</p>
<p>سرِفہرست کمپنیز (کاروباری حجم کے اعتبار سے) بینک آف پنجاب 99.49 ملین شیئرز کے ساتھ سرفہرست رہا، کےالیکٹرک لمیٹڈ 45.31 ملین شیئرز کے ساتھ دوسرے جبکہ پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل 38.56 ملین شیئرز کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہا۔</p>
<p>ہوئسٹ پاکستان لمیٹڈ کے شیئرز میں 101.89 روپے کا اضافہ ہوا، کاروبار کے اختتام پر قیمت 4,101.27 روپے رہی۔ ستارہ کیمیکل انڈسٹریز لمیٹڈ کے شیئرز میں 72.52 روپے کا اضافہ ہوا، اور قیمت 797.70 روپے پر بند ہوئی۔</p>
<p>دوسری جانب پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی لمیٹڈ بی کے شیئرز 475.13 روپے کمی کے بعد 26,340.67 روپے پر آ گئے۔ سیمنز (پاکستان) انجینئرنگ کے شیئرز میں 122.00 روپے کی کمی ہوئی، اختتامی قیمت 1,553.00 روپے رہی۔</p>
<p>جمعرات کے روز مجموعی طور پر 480 کمپنیوں کے شیئرز کا کاروبار ہوا، جن میں 208 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں اضافہ ہوا، 240 کمپنیوں کے شیئرز کی قیمت میں کمی ہوئی جبکہ 32 کمپنیوں کے شیئرز بغیر کسی تبدیلی کے بند ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276587</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Sep 2025 18:14:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/04101901fab8479.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/04101901fab8479.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
