<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 21:31:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسٹیٹ بینک نے ڈیجیٹل کرنسی کو قانونی حیثیت دینے پر اصولی اتفاق کر لیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276582/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اصولی طور پر ڈیجیٹل کرنسیز کو قانونی حیثیت دینے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے لیے باضابطہ ریگولیٹری فریم ورک ابھی تشکیل دیا جانا باقی ہے۔ یہ انکشاف قائم مقام ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے بدھ کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت کمیٹی کا اجلاس ورچوئل ایسٹس بل، 2025 پر غور کے لیے منعقد ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی چیئرمین نے پوچھا کیا پاکستانی عوام اب ورچوئل ایسٹس خرید سکتے ہیں؟ اس پر اسٹیٹ بینک کے عہدیدار نے جواب دیا جی ہاں، کیونکہ اسٹیٹ بینک نے اصولی طور پر ڈیجیٹل کرنسیز کو قانونی حیثیت دینے پر اتفاق کیا ہے، جس کے لیے قانونی فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ ریگولیٹری فریم ورک قائم کر لیا جائے گا اور اسٹیٹ بینک وہ موجودہ احکامات واپس لے گا جو کرپٹو کرنسی کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے ورچوئل ایسٹس بل، 2025 پر غور کیا، جس کا مقصد بین الاقوامی معیار کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنا ہے۔ بتایا گیا کہ مجوزہ ورچوئل ایسٹس اتھارٹی منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خزانہ نے تحریری بریفنگ میں کہا کہ ورچوئل اثاثے جدید مالیاتی نظام کا تیزی سے ابھرتا ہوا جزو ہیں جو جدت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے نئے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، ان میں سرمایہ کاروں کے تحفظ، مارکیٹ کی شفافیت اور مالیاتی نظام کی سالمیت جیسے بڑے ریگولیٹری چیلنجز بھی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز  کے لائسنسنگ اور نگرانی کے لیے ایک علیحدہ ریگولیٹری ادارے کی ضرورت ہے۔ یہی مقصد مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے 8 جولائی 2025 کو ورچوئل ایسٹس آرڈیننس نافذ کیا اور پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرڈیننس ایک مضبوط قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے جس کے تحت اتھارٹی کو لائسنس جاری کرنے، نگرانی کرنے، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام، مالی شمولیت کو فروغ دینے اور شریعت کے مطابق ورچوئل اثاثوں کی خدمات متعارف کرانے کے اختیارات ملیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی نے بل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد سفارش کی کہ ورچوئل ایسٹس اتھارٹی کو کابینہ ڈویژن کے بجائے وزارت خزانہ کے ماتحت ہونا چاہیے۔ مزید یہ کہ اتھارٹی کے چیئرمین کی عمر کی بالائی حد 55 سال اور ڈیجیٹل فنانس و ٹیکنالوجی میں 5 سال کا تجربہ مقرر کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوران اجلاس سینیٹر افنان اللہ خان اور سیکریٹری لا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ افنان اللہ خان نے الزام لگایا کہ حکومت نے ان کے نجی بل ورچوئل ایسٹس بل 2025 کو کاپی کیا ہے۔ انہوں نے اسے غیر اخلاقی اور کرپٹ عمل قرار دیا۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مستقبل میں ایسے معاملات سے بچنے کے لیے سینیٹ کے قواعد میں ترامیم کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اصولی طور پر ڈیجیٹل کرنسیز کو قانونی حیثیت دینے پر اتفاق کر لیا ہے، جس کے لیے باضابطہ ریگولیٹری فریم ورک ابھی تشکیل دیا جانا باقی ہے۔ یہ انکشاف قائم مقام ڈپٹی گورنر ڈاکٹر عنایت حسین نے بدھ کے روز سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔</strong></p>
<p>سلیم مانڈوی والا کی زیر صدارت کمیٹی کا اجلاس ورچوئل ایسٹس بل، 2025 پر غور کے لیے منعقد ہوا۔</p>
<p>کمیٹی چیئرمین نے پوچھا کیا پاکستانی عوام اب ورچوئل ایسٹس خرید سکتے ہیں؟ اس پر اسٹیٹ بینک کے عہدیدار نے جواب دیا جی ہاں، کیونکہ اسٹیٹ بینک نے اصولی طور پر ڈیجیٹل کرنسیز کو قانونی حیثیت دینے پر اتفاق کیا ہے، جس کے لیے قانونی فریم ورک تیار کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ ریگولیٹری فریم ورک قائم کر لیا جائے گا اور اسٹیٹ بینک وہ موجودہ احکامات واپس لے گا جو کرپٹو کرنسی کے استعمال پر پابندی عائد کرتے ہیں۔</p>
<p>کمیٹی نے ورچوئل ایسٹس بل، 2025 پر غور کیا، جس کا مقصد بین الاقوامی معیار کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو ریگولیٹ کرنا ہے۔ بتایا گیا کہ مجوزہ ورچوئل ایسٹس اتھارٹی منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں کو روکنے میں کلیدی کردار ادا کرے گی۔</p>
<p>وزارت خزانہ نے تحریری بریفنگ میں کہا کہ ورچوئل اثاثے جدید مالیاتی نظام کا تیزی سے ابھرتا ہوا جزو ہیں جو جدت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کے نئے مواقع فراہم کرتے ہیں۔ تاہم، ان میں سرمایہ کاروں کے تحفظ، مارکیٹ کی شفافیت اور مالیاتی نظام کی سالمیت جیسے بڑے ریگولیٹری چیلنجز بھی ہیں۔</p>
<p>ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ورچوئل ایسٹ سروس پرووائیڈرز  کے لائسنسنگ اور نگرانی کے لیے ایک علیحدہ ریگولیٹری ادارے کی ضرورت ہے۔ یہی مقصد مدنظر رکھتے ہوئے حکومت پاکستان نے 8 جولائی 2025 کو ورچوئل ایسٹس آرڈیننس نافذ کیا اور پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی قائم کی۔</p>
<p>آرڈیننس ایک مضبوط قانونی فریم ورک فراہم کرتا ہے جس کے تحت اتھارٹی کو لائسنس جاری کرنے، نگرانی کرنے، غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام، مالی شمولیت کو فروغ دینے اور شریعت کے مطابق ورچوئل اثاثوں کی خدمات متعارف کرانے کے اختیارات ملیں گے۔</p>
<p>کمیٹی نے بل کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد سفارش کی کہ ورچوئل ایسٹس اتھارٹی کو کابینہ ڈویژن کے بجائے وزارت خزانہ کے ماتحت ہونا چاہیے۔ مزید یہ کہ اتھارٹی کے چیئرمین کی عمر کی بالائی حد 55 سال اور ڈیجیٹل فنانس و ٹیکنالوجی میں 5 سال کا تجربہ مقرر کیا جائے۔</p>
<p>دوران اجلاس سینیٹر افنان اللہ خان اور سیکریٹری لا کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔ افنان اللہ خان نے الزام لگایا کہ حکومت نے ان کے نجی بل ورچوئل ایسٹس بل 2025 کو کاپی کیا ہے۔ انہوں نے اسے غیر اخلاقی اور کرپٹ عمل قرار دیا۔ کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ مستقبل میں ایسے معاملات سے بچنے کے لیے سینیٹ کے قواعد میں ترامیم کی جائیں گی۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276582</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Sep 2025 09:35:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/04093446e692fb0.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/04093446e692fb0.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
