<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حکومت نے ٹی بلز کے ذریعے 491 ارب روپے جمع کرلئے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276581/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی حکومت نے بدھ کے روز قلیل مدتی حکومتی سیکیورٹیز کی نیلامی کے ذریعے 491 ارب روپے اکٹھے کر لیے، جو مقررہ ہدف سے 91 ارب روپے زیادہ ہیں، تاکہ فوری مالی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدھ کو حکومتِ پاکستان کے 1 ماہ، 3 ماہ، 6 ماہ اور 12 ماہ کے مارکیٹ ٹریژری بلز (ایم ٹی بیز) کی فروخت کے لیے پرائمری ڈیلرز کے ذریعے نیلامی منعقد کی، جن کی سیٹلمنٹ 4 ستمبر 2025 کو ہو گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیلامی میں مجموعی طور پر 1.414 کھرب روپے (ریالائزڈ ویلیو) کی بولیاں موصول ہوئیں۔ سب سے زیادہ بولیاں 1 ماہ کے ٹی بلز کے لیے آئیں، جن کی مالیت 574.864 ارب روپے تھی۔ شرح سود میں بتدریج کمی اور آئندہ مہینوں میں مزید کمی کی توقع کے باعث بینک ایک سال کے لیے زیادہ منافع پر لیکویڈیٹی لاک کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں 12 ماہ کے ایم ٹی بیز کے لیے 368.207 ارب روپے کی بولیاں لگیں۔ اسی طرح 3 ماہ اور 6 ماہ کے ایم ٹی بیز کے لیے بالترتیب 310.111 ارب اور 161.126 ارب روپے کی بولیاں موصول ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کل موصول ہونے والی بولیوں میں سے اسٹیٹ بینک نے وفاقی حکومت کی جانب سے 491 ارب روپے کی بولیاں قبول کیں، جن میں 382.99 ارب روپے مسابقتی بولیاں اور 108.117 ارب روپے غیر مسابقتی بولیاں شامل تھیں۔ یہ رقم مقررہ ہدف 400 ارب روپے سے تقریباً 91 ارب روپے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے 1 ماہ کے ایم ٹی بیز سے 125.632 ارب روپے، 3 ماہ کے ٹی بلز سے 171.66 ارب روپے، 6 ماہ کے ایم ٹی بیز سے 43.58 ارب روپے اور 12 ماہ کے ایم ٹی بیز سے 150.22 ارب روپے حاصل کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، اسٹیٹ بینک نے بدھ کو طویل مدتی سرمایہ کاری بانڈز کی نیلامی بھی کی، جس کے ذریعے 36.774 ارب روپے اکٹھے کیے گئے۔ 10 سالہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بی) فلوٹنگ ریٹ (سیمسٹرلی) کے لیے مجموعی طور پر 444 ارب روپے کی بولیاں لگیں، جن میں سے 36.774 ارب روپے کی منظوری دی گئی، جن میں 28 ارب روپے مسابقتی اور 8.744 ارب روپے غیر مسابقتی بولیاں تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے حالیہ مانیٹری پالیسی بیان میں، اسٹیٹ بینک نے کہا کہ وفاقی حکومت کے نظرثانی شدہ تخمینے مالی سال 25 کے لیے بہتر مالی پوزیشن ظاہر کرتے ہیں، جس میں پرائمری اور مجموعی مالی توازن (جی ڈی پی کے تناسب سے) اپنے اہداف سے زیادہ رہے۔ مالی سال 26 کے لیے وفاقی حکومت مزید مالی استحکام کی کوشش کر رہی ہے اور پرائمری سرپلس کا ہدف جی ڈی پی کا 2.4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی حکومت نے بدھ کے روز قلیل مدتی حکومتی سیکیورٹیز کی نیلامی کے ذریعے 491 ارب روپے اکٹھے کر لیے، جو مقررہ ہدف سے 91 ارب روپے زیادہ ہیں، تاکہ فوری مالی ضروریات کو پورا کیا جا سکے۔</strong></p>
<p>اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بدھ کو حکومتِ پاکستان کے 1 ماہ، 3 ماہ، 6 ماہ اور 12 ماہ کے مارکیٹ ٹریژری بلز (ایم ٹی بیز) کی فروخت کے لیے پرائمری ڈیلرز کے ذریعے نیلامی منعقد کی، جن کی سیٹلمنٹ 4 ستمبر 2025 کو ہو گی۔</p>
<p>نیلامی میں مجموعی طور پر 1.414 کھرب روپے (ریالائزڈ ویلیو) کی بولیاں موصول ہوئیں۔ سب سے زیادہ بولیاں 1 ماہ کے ٹی بلز کے لیے آئیں، جن کی مالیت 574.864 ارب روپے تھی۔ شرح سود میں بتدریج کمی اور آئندہ مہینوں میں مزید کمی کی توقع کے باعث بینک ایک سال کے لیے زیادہ منافع پر لیکویڈیٹی لاک کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں 12 ماہ کے ایم ٹی بیز کے لیے 368.207 ارب روپے کی بولیاں لگیں۔ اسی طرح 3 ماہ اور 6 ماہ کے ایم ٹی بیز کے لیے بالترتیب 310.111 ارب اور 161.126 ارب روپے کی بولیاں موصول ہوئیں۔</p>
<p>کل موصول ہونے والی بولیوں میں سے اسٹیٹ بینک نے وفاقی حکومت کی جانب سے 491 ارب روپے کی بولیاں قبول کیں، جن میں 382.99 ارب روپے مسابقتی بولیاں اور 108.117 ارب روپے غیر مسابقتی بولیاں شامل تھیں۔ یہ رقم مقررہ ہدف 400 ارب روپے سے تقریباً 91 ارب روپے زیادہ ہے۔</p>
<p>حکومت نے 1 ماہ کے ایم ٹی بیز سے 125.632 ارب روپے، 3 ماہ کے ٹی بلز سے 171.66 ارب روپے، 6 ماہ کے ایم ٹی بیز سے 43.58 ارب روپے اور 12 ماہ کے ایم ٹی بیز سے 150.22 ارب روپے حاصل کیے۔</p>
<p>مزید برآں، اسٹیٹ بینک نے بدھ کو طویل مدتی سرمایہ کاری بانڈز کی نیلامی بھی کی، جس کے ذریعے 36.774 ارب روپے اکٹھے کیے گئے۔ 10 سالہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز (پی آئی بی) فلوٹنگ ریٹ (سیمسٹرلی) کے لیے مجموعی طور پر 444 ارب روپے کی بولیاں لگیں، جن میں سے 36.774 ارب روپے کی منظوری دی گئی، جن میں 28 ارب روپے مسابقتی اور 8.744 ارب روپے غیر مسابقتی بولیاں تھیں۔</p>
<p>اپنے حالیہ مانیٹری پالیسی بیان میں، اسٹیٹ بینک نے کہا کہ وفاقی حکومت کے نظرثانی شدہ تخمینے مالی سال 25 کے لیے بہتر مالی پوزیشن ظاہر کرتے ہیں، جس میں پرائمری اور مجموعی مالی توازن (جی ڈی پی کے تناسب سے) اپنے اہداف سے زیادہ رہے۔ مالی سال 26 کے لیے وفاقی حکومت مزید مالی استحکام کی کوشش کر رہی ہے اور پرائمری سرپلس کا ہدف جی ڈی پی کا 2.4 فیصد مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276581</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Sep 2025 09:28:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رضوان بھٹی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/0409254896ac723.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/0409254896ac723.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
