<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسمگل شدہ گاڑیوں کو قانونی حیثیت دینے کا اسکینڈل، ایف آئی اے نے ایف بی آر کے متعدد افسران گرفتار کرلیے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276575/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اسمگل شدہ گاڑیوں کو مبینہ طور پر قانونی حیثیت دینے کے الزام میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے متعدد افسران کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایف بی آر نے اس انکشاف کو ایک وسیع مجرمانہ نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا ہے جس کی تحقیقات جاری ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے مطابق جولائی 2025 میں آکشن ماڈیول کے غلط استعمال سے متعلق رپورٹس سامنے آئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے مطابق جولائی 2025 میں اس کے آکشن ماڈیول کے غلط استعمال کی رپورٹس موصول ہوئیں  جس پر فوری تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ ماڈیول کے آغاز سے اب تک 1,909 گاڑیوں کی تفصیلات سسٹم میں اپ لوڈ کی گئیں، تاہم جانچ پڑتال کے دوران پتہ چلا کہ ان میں سے 103 گاڑیاں جعلی یوزر آئی ڈیز کے ذریعے شامل کی گئی تھیں ۔ ان میں سے 43 گاڑیوں کو موٹر رجسٹریشن اتھارٹیز (ایم آر ایز) پہلے ہی رجسٹر کر چکی تھیں جس سے انہیں بظاہر قانونی حیثیت مل گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل آڈٹ اور اندرونی تحقیقات میں ان یوزر آئی ڈیز کی نشاندہی ہوئی جن کے ذریعے یہ دھوکا دہی کی گئی تھی۔ اسی بنیاد پر ایف بی آر نے 9 جولائی 2025 کو ایک ڈپٹی کلکٹر اور ایک اسسٹنٹ کلکٹر کو معطل کیا، جن کے کریڈینشلز اس فراڈ میں استعمال کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ اس گھپلے میں ایم آر ایز کے اہلکار اور کار ڈیلرز بھی ملوث ہیں۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر ایف بی آر نے 9 جولائی کو باضابطہ طور پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) بنانے کی درخواست دی، جس میں ایف آئی اے، کسٹمز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سینئر افسران کو شامل کیا گیا۔ جے آئی ٹی کو اس پورے اسکینڈل کی جامع تحقیقات کا ٹاسک سونپا گیا، جس میں کسٹمز کے ڈیجیٹل سسٹم میں کی گئی ہیر پھیر بھی شامل تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کی باضابطہ شکایت کے بعد 10 جولائی 2025 کو جے آئی ٹی نے تحقیقات شروع کیں اور 28 اگست کو ایف آئی اے نے ملوث افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ آج ان افراد کو باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا۔ ایف بی آر کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ کسٹمز انفورسمنٹ اب تک اس بڑے اسکینڈل میں 7 ایف آئی آر درج کر چکی ہے اور 13 افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ اگست 2021 میں ایف بی آر نے وی بوک (WeBOC) سسٹم میں آکشن ماڈیول متعارف کرایا تھا تاکہ کسٹمز کی جانب سے ضبط شدہ گاڑیوں کی نیلامی کے بعد ایک ہی دستاویز پر متعدد گاڑیوں کی رجسٹریشن کو روکا جا سکے۔ اس ماڈیول کے ذریعے موٹر رجسٹریشن اتھارٹیز کو آن لائن تصدیق کی سہولت فراہم کی گئی تھی، جس سے کاغذی تصدیق پر انحصار کم ہو اور ادارہ جاتی کنٹرولز مضبوط بنانے کے ساتھ جائز خریداروں کو سہولت دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اسمگل شدہ گاڑیوں کو مبینہ طور پر قانونی حیثیت دینے کے الزام میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے متعدد افسران کو گرفتار کر لیا ہے۔ ایف بی آر نے اس انکشاف کو ایک وسیع مجرمانہ نیٹ ورک کا حصہ قرار دیا ہے جس کی تحقیقات جاری ہیں۔</strong></p>
<p>ایف بی آر کے مطابق جولائی 2025 میں آکشن ماڈیول کے غلط استعمال سے متعلق رپورٹس سامنے آئی تھیں۔</p>
<p>ایف بی آر کے مطابق جولائی 2025 میں اس کے آکشن ماڈیول کے غلط استعمال کی رپورٹس موصول ہوئیں  جس پر فوری تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ ماڈیول کے آغاز سے اب تک 1,909 گاڑیوں کی تفصیلات سسٹم میں اپ لوڈ کی گئیں، تاہم جانچ پڑتال کے دوران پتہ چلا کہ ان میں سے 103 گاڑیاں جعلی یوزر آئی ڈیز کے ذریعے شامل کی گئی تھیں ۔ ان میں سے 43 گاڑیوں کو موٹر رجسٹریشن اتھارٹیز (ایم آر ایز) پہلے ہی رجسٹر کر چکی تھیں جس سے انہیں بظاہر قانونی حیثیت مل گئی۔</p>
<p>ڈیجیٹل آڈٹ اور اندرونی تحقیقات میں ان یوزر آئی ڈیز کی نشاندہی ہوئی جن کے ذریعے یہ دھوکا دہی کی گئی تھی۔ اسی بنیاد پر ایف بی آر نے 9 جولائی 2025 کو ایک ڈپٹی کلکٹر اور ایک اسسٹنٹ کلکٹر کو معطل کیا، جن کے کریڈینشلز اس فراڈ میں استعمال کیے گئے تھے۔</p>
<p>تحقیقات سے یہ بھی سامنے آیا کہ اس گھپلے میں ایم آر ایز کے اہلکار اور کار ڈیلرز بھی ملوث ہیں۔ معاملے کی سنگینی کے پیش نظر ایف بی آر نے 9 جولائی کو باضابطہ طور پر مشترکہ تحقیقاتی کمیٹی (جے آئی ٹی) بنانے کی درخواست دی، جس میں ایف آئی اے، کسٹمز اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے سینئر افسران کو شامل کیا گیا۔ جے آئی ٹی کو اس پورے اسکینڈل کی جامع تحقیقات کا ٹاسک سونپا گیا، جس میں کسٹمز کے ڈیجیٹل سسٹم میں کی گئی ہیر پھیر بھی شامل تھی۔</p>
<p>ایف بی آر کی باضابطہ شکایت کے بعد 10 جولائی 2025 کو جے آئی ٹی نے تحقیقات شروع کیں اور 28 اگست کو ایف آئی اے نے ملوث افسران کے خلاف ایف آئی آر درج کی۔ آج ان افراد کو باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا۔ ایف بی آر کے بیان میں مزید بتایا گیا کہ کسٹمز انفورسمنٹ اب تک اس بڑے اسکینڈل میں 7 ایف آئی آر درج کر چکی ہے اور 13 افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ اگست 2021 میں ایف بی آر نے وی بوک (WeBOC) سسٹم میں آکشن ماڈیول متعارف کرایا تھا تاکہ کسٹمز کی جانب سے ضبط شدہ گاڑیوں کی نیلامی کے بعد ایک ہی دستاویز پر متعدد گاڑیوں کی رجسٹریشن کو روکا جا سکے۔ اس ماڈیول کے ذریعے موٹر رجسٹریشن اتھارٹیز کو آن لائن تصدیق کی سہولت فراہم کی گئی تھی، جس سے کاغذی تصدیق پر انحصار کم ہو اور ادارہ جاتی کنٹرولز مضبوط بنانے کے ساتھ جائز خریداروں کو سہولت دی جا سکے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276575</guid>
      <pubDate>Thu, 04 Sep 2025 00:30:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/040019562bb3f92.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/040019562bb3f92.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
