<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کپاس کی آمد میں بہتری، سندھ اور پنجاب میں اضافہ ریکارڈ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276562/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان میں کپاس کی آمد میں 31 اگست 2025 تک پچھلے سال کے مقابلے میں 9 فیصد بہتری دیکھی گئی۔ یہ معلومات بدھ کو پاکستان کپاس جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) نے جاری کیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر کپاس کی آمد 1.336 ملین بیلز تک پہنچ گئی جب کہ 31 اگست 2024 کو یہ تعداد 1.226 ملین بیلز تھی، عنی 0.11 ملین بیلز کا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب کے باعث زرخیز اراضی خاص طور پر پنجاب میں زیر آب آ گئی ہیں، جس سے چاول، گنا، مکئی، سبزیاں اور کپاس جیسی اہم فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاص طور پر کپاس کے نقصان سے پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو خطرہ لاحق ہے جو ملک کی برآمدات کا نصف سے زیادہ حصہ فراہم کرتی ہے اور یہ وقت اس لحاظ سے بھی حساس ہے کہ پاکستان کو اپنے سب سے بڑے مارکیٹ میں 19 فیصد امریکی محصولات کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;زرعی مارکیٹ پلیٹ فارم زرعی منڈی کے شریک بانی غشرِب شوکت نے خبردار کیا کہ گندم، سبزیوں اور کپاس کی قلت سپلائی چینز میں اثر ڈالے گی جس سے نہ صرف برآمدات متاثر ہوں گی بلکہ گھریلو بجٹ بھی دباؤ میں آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صوبہ وار صورتحال:&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پی سی جی اے کے اعداد و شمار کے مطابق کپاس کی آمد میں پنجاب اور سندھ دونوں میں بہتری دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;31 اگست تک پنجاب میں کپاس کی آمد 0.466 ملین بیلز رہی جو پچھلے سال کی اسی مدت میں 0.453 ملین بیلز تھی، یعنی 3 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، سندھ میں کپاس کی آمد 0.870 ملین بیلز رہی، جو پچھلے سال اسی مدت میں 0.773 ملین بیلز تھی، یعنی 13 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعداد و شمار کپاس کی پیداوار میں بہتری اور صوبہ وار فرق کو ظاہر کرتے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلاب کے اثرات آنے والے موسم میں پیداوار اور سپلائی پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان میں کپاس کی آمد میں 31 اگست 2025 تک پچھلے سال کے مقابلے میں 9 فیصد بہتری دیکھی گئی۔ یہ معلومات بدھ کو پاکستان کپاس جنرز ایسوسی ایشن (پی سی جی اے) نے جاری کیں۔</strong></p>
<p>رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر کپاس کی آمد 1.336 ملین بیلز تک پہنچ گئی جب کہ 31 اگست 2024 کو یہ تعداد 1.226 ملین بیلز تھی، عنی 0.11 ملین بیلز کا اضافہ ہوا۔</p>
<p>ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ سیلاب کے باعث زرخیز اراضی خاص طور پر پنجاب میں زیر آب آ گئی ہیں، جس سے چاول، گنا، مکئی، سبزیاں اور کپاس جیسی اہم فصلوں کو نقصان پہنچا ہے۔</p>
<p>خاص طور پر کپاس کے نقصان سے پاکستان کی ٹیکسٹائل صنعت کو خطرہ لاحق ہے جو ملک کی برآمدات کا نصف سے زیادہ حصہ فراہم کرتی ہے اور یہ وقت اس لحاظ سے بھی حساس ہے کہ پاکستان کو اپنے سب سے بڑے مارکیٹ میں 19 فیصد امریکی محصولات کا سامنا ہے۔</p>
<p>زرعی مارکیٹ پلیٹ فارم زرعی منڈی کے شریک بانی غشرِب شوکت نے خبردار کیا کہ گندم، سبزیوں اور کپاس کی قلت سپلائی چینز میں اثر ڈالے گی جس سے نہ صرف برآمدات متاثر ہوں گی بلکہ گھریلو بجٹ بھی دباؤ میں آئے گا۔</p>
<p><strong>صوبہ وار صورتحال:</strong></p>
<p>پی سی جی اے کے اعداد و شمار کے مطابق کپاس کی آمد میں پنجاب اور سندھ دونوں میں بہتری دیکھی گئی۔</p>
<p>31 اگست تک پنجاب میں کپاس کی آمد 0.466 ملین بیلز رہی جو پچھلے سال کی اسی مدت میں 0.453 ملین بیلز تھی، یعنی 3 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
<p>اسی طرح، سندھ میں کپاس کی آمد 0.870 ملین بیلز رہی، جو پچھلے سال اسی مدت میں 0.773 ملین بیلز تھی، یعنی 13 فیصد اضافہ ریکارڈ ہوا۔</p>
<p>یہ اعداد و شمار کپاس کی پیداوار میں بہتری اور صوبہ وار فرق کو ظاہر کرتے ہیں تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ سیلاب کے اثرات آنے والے موسم میں پیداوار اور سپلائی پر منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276562</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Sep 2025 13:28:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/03132825cf76896.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/03132825cf76896.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
