<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 05:32:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 05:32:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صوبائی معیشتوں کی کارکردگی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276532/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;صدرِ مملکت نے حال ہی میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان وفاقی ٹیکس آمدنی کی تقسیم کے لیے ایک نیا ایوارڈ جاری کرنے کی غرض سے گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا قیام عمل میں لایا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ایک موزوں موقع ہے کہ 2009-10 کے بعد ہر صوبے میں ہونے والی معاشی ترقیات کا جائزہ لیا جائے، جب ساتواں این ایف سی ایوارڈ جاری کیا گیا تھا۔ یہ ایوارڈ ابتدائی طور پر پانچ سال کے لیے نافذ کیا گیا تھا، تاہم آٹھویں، نویں اور دسویں این ایف سی ایوارڈز پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے یہ ایوارڈ تاحال نافذ العمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبوں کے درمیان آمدنی کے فرق اور معاشی فاصلے کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہر صوبے کی سالانہ مجموعی علاقائی پیداوار (گروس ریجنل پروڈکٹ (جی آر پی) کی ایک مکمل سیریز موجود ہو، جو مختلف شعبوں اور ذیلی شعبوں پر مشتمل ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/09/68b660dad8404.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، صوبائی منصوبہ بندی میں سہولت کے لیے اس ڈیٹا بیس کی اشد ضرورت کے باوجود، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس اور صوبائی ادارہ شماریات تاحال ہر صوبے کی مجموعی علاقائی پیداوار (جی آر پی) کی ٹائم سیریز تیار نہیں کر سکے۔ اس کے برعکس، بھارت کی ہر ریاست کے لیے کئی سالوں سے یہ سیریز باقاعدگی سے تیار کی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں ہر صوبے کے شعبہ جاتی جی آر پی کی سرکاری سیریز کی عدم موجودگی نے این ایف سی ایوارڈز کے معاشی اثرات کا تعین مشکل بنا دیا ہے۔ افقی وسائل کی تقسیم کے لیے مالی مساوات ( فسکل ایکویلائزیشن) کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا صوبوں کی فی کس آمدنی میں عدم مساوات کے خاتمے کا کوئی عمل شروع ہوا ہے یا نہیں؟ دیگر اہم اشاریے یہ ہیں کہ ہر صوبائی حکومت کی اپنی مالی کوشش ( اون فسکل ایفرٹ) کس حد تک ہے؛ ترقیاتی اخراجات کی سطح کیا ہے جو معیشت میں نمو پیدا کر سکتی ہے اور یہ سب عوامل علاقائی معیشتوں کے حجم کے ساتھ کیسے جُڑے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوش قسمتی سے بعض ماہرینِ اقتصادیات نے ہر صوبے کی جی آر پی کا تخمینہ لگانے اور شرحِ نمو معلوم کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ اس سلسلے میں پہلا اہم کام ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کیا، جو جامعہ کراچی کے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر سے منسلک تھے۔ ان کا پی ایچ ڈی تھیسس ہر صوبے کی جی آر پی کی ٹائم سیریز کے تخمینے سے متعلق تھا۔ ان کی استعمال کردہ تحقیقاتی طریقہ کار کو دوسرے ماہرینِ معیشت نے استعمال کرتے ہوئے اس سیریز کو اپ ڈیٹ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مضمون کا مقصد مصنف کی جانب سے پاکستان کے چاروں صوبوں کی مجموعی علاقائی پیداوار (جی آر پی) کے تخمینے پیش کرنا ہے، جو 2024-25 تک کی مدت پر محیط ہیں۔ یہ تخمینے مختلف سرکاری اعداد و شمار، مردم شماریوں، سالانہ سرویز اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کی خصوصی اشاعتوں کی مدد سے حاصل کیے گئے ہیں، جن کی بنیاد پر مستقبل کے رجحانات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تجزیاتی کوششوں کا حاصل، 2009-10 سے شروع ہونے والی ایک مسلسل جی آر پی ٹائم سیریز ہے، جو 2015-16 کی مستقل قیمتوں پر مبنی ہے، جیسا کہ ملکی سطح پر جی ڈی پی کے تخمینے کیے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی، حالیہ برسوں میں ہر صوبے کی جی آر پی کے موجودہ قیمتوں پر بھی تخمینے لگائے گئے ہیں، تاکہ صوبائی مالی کارکردگی، اخراجات کی سطح اور ترجیحات کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیق کا پہلا اہم نتیجہ یہ ہے کہ ہر صوبے کے ایسے ذیلی شعبے شناخت کیے گئے ہیں جن میں اسے تقابلی برتری (کمپیریٹیو ایڈوانٹیج) حاصل ہے۔ یعنی وہ شعبے جن میں کسی صوبے کا قومی قدرِ افزائش میں حصہ، اس کے مجموعی جی ڈی پی میں حصے سے زیادہ ہے۔ ان کی شناخت سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آیا کسی صوبے کی معیشت کی رفتار تیز ہے یا سست، اور اس کی سمت کیا ہو سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فہرست میں صرف اُن ذیلی شعبوں کو شامل کیا گیا ہے جن کا قومی جی ڈی پی میں حصہ 2 فیصد سے زائد ہے تاکہ چھوٹے شعبے نتائج پر اثر انداز نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب کو 7 اہم شعبوں میں برتری حاصل ہے، جن میں اہم فصلیں، مویشی، بڑی صنعتیں وغیرہ شامل ہیں۔ سندھ کو بھی 7 شعبوں میں، خیبرپختونخوا کو 6، اور بلوچستان کو 5 شعبوں میں تقابلی برتری حاصل ہے۔ یہ شناخت اس لیے بھی اہم ہے کہ صوبے اپنی ترقیاتی حکمت عملی انہی شعبوں پر مرکوز رکھ سکتے ہیں جہاں انہیں برتری حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1999-2000 کے بعد سے جو شعبے نسبتاً تیز ترقی کر رہے ہیں ان میں شامل ہیں: مویشی پالنا، بڑی صنعتیں، تعمیرات، تھوک و پرچون تجارت،
نقل و حمل، کمیونٹی خدمات، نجی خدمات جبکہ سست ترقی کے حامل شعبے یہ رہے، اہم اور معمولی فصلیں،کان کنی و کھدائی، بجلی و گیس کی ترسیل اور سرکاری انتظامیہ&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تجزیہ صوبوں کی اقتصادی ساخت کو شعبہ وار حصے کے لحاظ سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ 2015-16 (قومی آمدنی کے کھاتے کا بنیاد سال) میں ہر صوبے کی معیشت کی ساخت ٹیبل 1 میں دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/09/68b660aea6576.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جدول کے مطابق پنجاب اور بلوچستان میں زراعت کا حصہ نمایاں ہے۔ سندھ میں صنعت کا کردار بڑا ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں خدمات کا شعبہ زیادہ سرگرم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیبل 2 کی روشنی میں، 2009-10 تا 2024-25 کی مدت میں مختلف صوبوں کی معیشت کی ترقی کی شرح کا موازنہ کیا گیا۔ سب سے زیادہ شرح نمو خیبرپختونخوا میں دیکھی گئی جو اوسطاً 4 فیصد سالانہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/09/68b660bd3ab52.jpg'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کی وجہ وہ شعبے ہیں جن میں صوبے کو تقابلی برتری حاصل تھی، جیسے مویشی اور ٹرانسپورٹ۔ ساتھ ہی، خیبرپختونخوا کو قومی ترسیلاتِ زر کا 27 فیصد حصہ ملا، جس نے معیشت کو سہارا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس بلوچستان کی شرح نمو محض 2 فیصد رہی، جو واضح طور پر پیچھے رہ جانے کا اشارہ ہے۔ خاص طور پر، کان کنی کے شعبے میں نمایاں کمی صوبے کی معاشی سست روی کی بڑی وجہ رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صوبوں کی فی کس  جی آر پی کی بنیاد پر جینی کوایفیشنٹ کے ذریعے تفاوت کی پیمائش سے معلوم ہوتا ہے کہ آمدنی کے فرق میں کچھ کمی آئی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں افقی تقسیم ( وفاقی حکومت سے حاصل ہونے والے ٹیکس محصولات کو مختلف صوبوں کے درمیان تقسیم کرنا) کے تحت وسائل کی مساوی منتقلی نے اس میں کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبرپختونخوا کو فی کس منتقلی قومی اوسط سے 16 فیصد زائد ملی، جس سے معاشی کارکردگی میں بہتری آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم بلوچستان کو اگرچہ فی کس 78 فیصد زائد منتقلی ملی، لیکن اس کی معاشی نمو محدود رہی، خاص طور پر 2015-16 سے 2024-25 تک۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، صوبائی معیشتوں سے متعلق اس تحقیق کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ ساتواں این ایف سی ایوارڈ صوبوں کے درمیان آمدنی کے فرق میں کمی کا باعث بنا ہے۔ تاہم، دو نسبتاً چھوٹے اور کم ترقی یافتہ صوبوں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان، کی کارکردگی میں نمایاں تضاد دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;پہلا صوبہ ، یعنی خیبرپختونخوا ، نسبتاً بہتر معاشی کارکردگی اور بہتری کی جانب گامزن رہا جبکہ دوسرا صوبہ، بلوچستان، مزید پیچھے رہ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، گیارھویں این ایف سی ایوارڈ کے لیے ضروری ہے کہ وہ صوبوں کے درمیان وسائل کی مساوی تقسیم ( ایکویلائزیشن) کے عمل پر بھرپور توجہ برقرار رکھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>صدرِ مملکت نے حال ہی میں وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے درمیان وفاقی ٹیکس آمدنی کی تقسیم کے لیے ایک نیا ایوارڈ جاری کرنے کی غرض سے گیارہویں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) کا قیام عمل میں لایا ہے۔</strong></p>
<p>یہ ایک موزوں موقع ہے کہ 2009-10 کے بعد ہر صوبے میں ہونے والی معاشی ترقیات کا جائزہ لیا جائے، جب ساتواں این ایف سی ایوارڈ جاری کیا گیا تھا۔ یہ ایوارڈ ابتدائی طور پر پانچ سال کے لیے نافذ کیا گیا تھا، تاہم آٹھویں، نویں اور دسویں این ایف سی ایوارڈز پر اتفاقِ رائے نہ ہونے کی وجہ سے یہ ایوارڈ تاحال نافذ العمل ہے۔</p>
<p>صوبوں کے درمیان آمدنی کے فرق اور معاشی فاصلے کا تجزیہ کرنے کے لیے ایک بنیادی تقاضا یہ ہے کہ ہر صوبے کی سالانہ مجموعی علاقائی پیداوار (گروس ریجنل پروڈکٹ (جی آر پی) کی ایک مکمل سیریز موجود ہو، جو مختلف شعبوں اور ذیلی شعبوں پر مشتمل ہو۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/09/68b660dad8404.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>تاہم، صوبائی منصوبہ بندی میں سہولت کے لیے اس ڈیٹا بیس کی اشد ضرورت کے باوجود، پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس اور صوبائی ادارہ شماریات تاحال ہر صوبے کی مجموعی علاقائی پیداوار (جی آر پی) کی ٹائم سیریز تیار نہیں کر سکے۔ اس کے برعکس، بھارت کی ہر ریاست کے لیے کئی سالوں سے یہ سیریز باقاعدگی سے تیار کی جا رہی ہے۔</p>
<p>پاکستان میں ہر صوبے کے شعبہ جاتی جی آر پی کی سرکاری سیریز کی عدم موجودگی نے این ایف سی ایوارڈز کے معاشی اثرات کا تعین مشکل بنا دیا ہے۔ افقی وسائل کی تقسیم کے لیے مالی مساوات ( فسکل ایکویلائزیشن) کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی سوال یہ ہے کہ کیا صوبوں کی فی کس آمدنی میں عدم مساوات کے خاتمے کا کوئی عمل شروع ہوا ہے یا نہیں؟ دیگر اہم اشاریے یہ ہیں کہ ہر صوبائی حکومت کی اپنی مالی کوشش ( اون فسکل ایفرٹ) کس حد تک ہے؛ ترقیاتی اخراجات کی سطح کیا ہے جو معیشت میں نمو پیدا کر سکتی ہے اور یہ سب عوامل علاقائی معیشتوں کے حجم کے ساتھ کیسے جُڑے ہوئے ہیں۔</p>
<p>خوش قسمتی سے بعض ماہرینِ اقتصادیات نے ہر صوبے کی جی آر پی کا تخمینہ لگانے اور شرحِ نمو معلوم کرنے کی کوششیں کی ہیں۔ اس سلسلے میں پہلا اہم کام ڈاکٹر قیصر بنگالی نے کیا، جو جامعہ کراچی کے اپلائیڈ اکنامکس ریسرچ سینٹر سے منسلک تھے۔ ان کا پی ایچ ڈی تھیسس ہر صوبے کی جی آر پی کی ٹائم سیریز کے تخمینے سے متعلق تھا۔ ان کی استعمال کردہ تحقیقاتی طریقہ کار کو دوسرے ماہرینِ معیشت نے استعمال کرتے ہوئے اس سیریز کو اپ ڈیٹ کیا ہے۔</p>
<p>اس مضمون کا مقصد مصنف کی جانب سے پاکستان کے چاروں صوبوں کی مجموعی علاقائی پیداوار (جی آر پی) کے تخمینے پیش کرنا ہے، جو 2024-25 تک کی مدت پر محیط ہیں۔ یہ تخمینے مختلف سرکاری اعداد و شمار، مردم شماریوں، سالانہ سرویز اور متعلقہ وزارتوں و اداروں کی خصوصی اشاعتوں کی مدد سے حاصل کیے گئے ہیں، جن کی بنیاد پر مستقبل کے رجحانات کا اندازہ لگایا گیا ہے۔</p>
<p>ان تجزیاتی کوششوں کا حاصل، 2009-10 سے شروع ہونے والی ایک مسلسل جی آر پی ٹائم سیریز ہے، جو 2015-16 کی مستقل قیمتوں پر مبنی ہے، جیسا کہ ملکی سطح پر جی ڈی پی کے تخمینے کیے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی، حالیہ برسوں میں ہر صوبے کی جی آر پی کے موجودہ قیمتوں پر بھی تخمینے لگائے گئے ہیں، تاکہ صوبائی مالی کارکردگی، اخراجات کی سطح اور ترجیحات کا تقابلی جائزہ لیا جا سکے۔</p>
<p>تحقیق کا پہلا اہم نتیجہ یہ ہے کہ ہر صوبے کے ایسے ذیلی شعبے شناخت کیے گئے ہیں جن میں اسے تقابلی برتری (کمپیریٹیو ایڈوانٹیج) حاصل ہے۔ یعنی وہ شعبے جن میں کسی صوبے کا قومی قدرِ افزائش میں حصہ، اس کے مجموعی جی ڈی پی میں حصے سے زیادہ ہے۔ ان کی شناخت سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آیا کسی صوبے کی معیشت کی رفتار تیز ہے یا سست، اور اس کی سمت کیا ہو سکتی ہے۔</p>
<p>فہرست میں صرف اُن ذیلی شعبوں کو شامل کیا گیا ہے جن کا قومی جی ڈی پی میں حصہ 2 فیصد سے زائد ہے تاکہ چھوٹے شعبے نتائج پر اثر انداز نہ ہوں۔</p>
<p>پنجاب کو 7 اہم شعبوں میں برتری حاصل ہے، جن میں اہم فصلیں، مویشی، بڑی صنعتیں وغیرہ شامل ہیں۔ سندھ کو بھی 7 شعبوں میں، خیبرپختونخوا کو 6، اور بلوچستان کو 5 شعبوں میں تقابلی برتری حاصل ہے۔ یہ شناخت اس لیے بھی اہم ہے کہ صوبے اپنی ترقیاتی حکمت عملی انہی شعبوں پر مرکوز رکھ سکتے ہیں جہاں انہیں برتری حاصل ہے۔</p>
<p>1999-2000 کے بعد سے جو شعبے نسبتاً تیز ترقی کر رہے ہیں ان میں شامل ہیں: مویشی پالنا، بڑی صنعتیں، تعمیرات، تھوک و پرچون تجارت،
نقل و حمل، کمیونٹی خدمات، نجی خدمات جبکہ سست ترقی کے حامل شعبے یہ رہے، اہم اور معمولی فصلیں،کان کنی و کھدائی، بجلی و گیس کی ترسیل اور سرکاری انتظامیہ</p>
<p>یہ تجزیہ صوبوں کی اقتصادی ساخت کو شعبہ وار حصے کے لحاظ سے سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ 2015-16 (قومی آمدنی کے کھاتے کا بنیاد سال) میں ہر صوبے کی معیشت کی ساخت ٹیبل 1 میں دی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/09/68b660aea6576.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس جدول کے مطابق پنجاب اور بلوچستان میں زراعت کا حصہ نمایاں ہے۔ سندھ میں صنعت کا کردار بڑا ہے۔ خیبرپختونخوا اور پنجاب میں خدمات کا شعبہ زیادہ سرگرم ہے۔</p>
<p>ٹیبل 2 کی روشنی میں، 2009-10 تا 2024-25 کی مدت میں مختلف صوبوں کی معیشت کی ترقی کی شرح کا موازنہ کیا گیا۔ سب سے زیادہ شرح نمو خیبرپختونخوا میں دیکھی گئی جو اوسطاً 4 فیصد سالانہ رہی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/09/68b660bd3ab52.jpg'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس کی وجہ وہ شعبے ہیں جن میں صوبے کو تقابلی برتری حاصل تھی، جیسے مویشی اور ٹرانسپورٹ۔ ساتھ ہی، خیبرپختونخوا کو قومی ترسیلاتِ زر کا 27 فیصد حصہ ملا، جس نے معیشت کو سہارا دیا۔</p>
<p>اس کے برعکس بلوچستان کی شرح نمو محض 2 فیصد رہی، جو واضح طور پر پیچھے رہ جانے کا اشارہ ہے۔ خاص طور پر، کان کنی کے شعبے میں نمایاں کمی صوبے کی معاشی سست روی کی بڑی وجہ رہی۔</p>
<p>صوبوں کی فی کس  جی آر پی کی بنیاد پر جینی کوایفیشنٹ کے ذریعے تفاوت کی پیمائش سے معلوم ہوتا ہے کہ آمدنی کے فرق میں کچھ کمی آئی ہے۔ این ایف سی ایوارڈ میں افقی تقسیم ( وفاقی حکومت سے حاصل ہونے والے ٹیکس محصولات کو مختلف صوبوں کے درمیان تقسیم کرنا) کے تحت وسائل کی مساوی منتقلی نے اس میں کردار ادا کیا۔</p>
<p>خیبرپختونخوا کو فی کس منتقلی قومی اوسط سے 16 فیصد زائد ملی، جس سے معاشی کارکردگی میں بہتری آئی۔</p>
<p>تاہم بلوچستان کو اگرچہ فی کس 78 فیصد زائد منتقلی ملی، لیکن اس کی معاشی نمو محدود رہی، خاص طور پر 2015-16 سے 2024-25 تک۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>لہٰذا، صوبائی معیشتوں سے متعلق اس تحقیق کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ ساتواں این ایف سی ایوارڈ صوبوں کے درمیان آمدنی کے فرق میں کمی کا باعث بنا ہے۔ تاہم، دو نسبتاً چھوٹے اور کم ترقی یافتہ صوبوں، خیبرپختونخوا اور بلوچستان، کی کارکردگی میں نمایاں تضاد دیکھنے میں آیا۔</p>
</blockquote>
<p>پہلا صوبہ ، یعنی خیبرپختونخوا ، نسبتاً بہتر معاشی کارکردگی اور بہتری کی جانب گامزن رہا جبکہ دوسرا صوبہ، بلوچستان، مزید پیچھے رہ گیا ہے۔</p>
<p>لہٰذا، گیارھویں این ایف سی ایوارڈ کے لیے ضروری ہے کہ وہ صوبوں کے درمیان وسائل کی مساوی تقسیم ( ایکویلائزیشن) کے عمل پر بھرپور توجہ برقرار رکھے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276532</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Sep 2025 16:37:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر حفیظ اے پاشا)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/02154514241bd7c.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/02154514241bd7c.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
