<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترقی کی شرح 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے ،گورنر اسٹیٹ بینک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276528/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) جمیل احمد نے منگل کو کہا ہے کہ ملکی معیشت مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے اور مالی سال 2026 میں ترقی کی شرح 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کراچی میں پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے پاکستان کی مجموعی معاشی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ اجلاس میں کونسل کے ارکان نے برآمدات کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے فوری اور مؤثر پالیسی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان نے 2022 کے بعد بے مثال اقتصادی چیلنجز پر قابو پا لیا ہے۔ غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر جو 2023 کے آغاز میں صرف 2.8 ارب ڈالر تھے، اب بڑھ کر 14.3 ارب ڈالر ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جاری کھاتے کا خسارہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے جبکہ ترسیلات زر مالی سال 2025 میں 38 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہیں جو زیادہ تر غیر رسمی ذرائع سے رسمی چینلز کی طرف منتقل ہوگئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی بڑھنے کی شرح جون 2025 تک تاریخی طور پر کم ترین سطح 3.2 فیصد تک گرگئی ہے جس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کردیا۔ مالیاتی استحکام، ایکسچینج کمپنیوں میں اصلاحات اور بیرونی قرضوں کی مستحکم سطح نے مارکیٹوں میں اعتماد پیدا کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب زیادہ مستحکم بنیادوں پر قائم ہے اور مالی سال 2026 میں ترقی کی شرح 3.25 فیصد سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ استحکام برقرار رکھا جائے، زرمبادلہ ذخائر مضبوط کیے جائیں اور مہنگائی کو 5 تا 7 فیصد کے ہدف کے دائرے میں رکھا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیئرمین فواد انور نے گورنر کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو برآمد کنندگان کے سامنے موجود ساختی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فواد انور نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام کے باوجود پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت غیر مسابقتی ہے اور ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) سے ضروری خام مال کی غیر شمولیت نے برآمد کنندگان پر اضافی بوجھ ڈالا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے درآمدی محصولات ختم کرنے، سیلز ٹیکس 3–5 فیصد تک محدود اور مکمل طور پر قابل واپسی رکھنے، یکساں 1 فیصد ڈیوٹی بیک اسکیم متعارف کروانے اور سبسڈی یافتہ مالی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کی ویلیو ایڈیڈ برآمدات کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فواد انور نے زور دیا کہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور اب وقت ہے کہ جرات مندانہ پالیسی اقدامات کیے جائیں تاکہ صنعت طویل مدتی عالمی مارکیٹ میں حصہ حاصل کر سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹنگ کا اختتام اس اتفاق رائے کے ساتھ ہوا کہ ٹیکسٹائل برآمدات پاکستان کی اقتصادی بحالی کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت رکھیں گی۔ پی ٹی سی اور اسٹیٹ بینک نے پالیسی مکالمے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا، خاص طور پر تجدید پذیر توانائی کے لیے مالی اسکیمز اور رعایتی برآمدی کریڈٹ کے حوالے سے، تاکہ پاکستان کے برآمد کنندگان عالمی مارکیٹ میں مسابقتی رہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>گورنر اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) جمیل احمد نے منگل کو کہا ہے کہ ملکی معیشت مستحکم بنیادوں پر کھڑی ہے اور مالی سال 2026 میں ترقی کی شرح 3.25 سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کی توقع ہے۔</strong></p>
<p>کراچی میں پاکستان ٹیکسٹائل کونسل (پی ٹی سی) کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے گورنر نے پاکستان کی مجموعی معاشی پیش رفت کا تفصیلی جائزہ پیش کیا۔ اجلاس میں کونسل کے ارکان نے برآمدات کی مسابقت کو بڑھانے کے لیے فوری اور مؤثر پالیسی اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔</p>
<p>جمیل احمد نے کہا کہ پاکستان نے 2022 کے بعد بے مثال اقتصادی چیلنجز پر قابو پا لیا ہے۔ غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر جو 2023 کے آغاز میں صرف 2.8 ارب ڈالر تھے، اب بڑھ کر 14.3 ارب ڈالر ہوچکے ہیں۔</p>
<p>جاری کھاتے کا خسارہ نمایاں طور پر کم ہوا ہے جبکہ ترسیلات زر مالی سال 2025 میں 38 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہیں جو زیادہ تر غیر رسمی ذرائع سے رسمی چینلز کی طرف منتقل ہوگئی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ مہنگائی بڑھنے کی شرح جون 2025 تک تاریخی طور پر کم ترین سطح 3.2 فیصد تک گرگئی ہے جس کے نتیجے میں اسٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ کو 22 فیصد سے کم کر کے 11 فیصد کردیا۔ مالیاتی استحکام، ایکسچینج کمپنیوں میں اصلاحات اور بیرونی قرضوں کی مستحکم سطح نے مارکیٹوں میں اعتماد پیدا کیا ہے۔</p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب زیادہ مستحکم بنیادوں پر قائم ہے اور مالی سال 2026 میں ترقی کی شرح 3.25 فیصد سے 4.25 فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے۔ ہمارا عزم ہے کہ استحکام برقرار رکھا جائے، زرمبادلہ ذخائر مضبوط کیے جائیں اور مہنگائی کو 5 تا 7 فیصد کے ہدف کے دائرے میں رکھا جائے۔</p>
<p>پاکستان ٹیکسٹائل کونسل کے چیئرمین فواد انور نے گورنر کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو برآمد کنندگان کے سامنے موجود ساختی رکاوٹوں کو فوری طور پر دور کرنا ہوگا۔</p>
<p>فواد انور نے کہا کہ میکرو اکنامک استحکام کے باوجود پاکستان میں کاروبار کرنے کی لاگت غیر مسابقتی ہے اور ایکسپورٹ فیسلیٹیشن اسکیم (ای ایف ایس) سے ضروری خام مال کی غیر شمولیت نے برآمد کنندگان پر اضافی بوجھ ڈالا ہے۔</p>
<p>انہوں نے درآمدی محصولات ختم کرنے، سیلز ٹیکس 3–5 فیصد تک محدود اور مکمل طور پر قابل واپسی رکھنے، یکساں 1 فیصد ڈیوٹی بیک اسکیم متعارف کروانے اور سبسڈی یافتہ مالی سہولیات فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کی ویلیو ایڈیڈ برآمدات کو مضبوط بنانے کی فوری ضرورت پر بھی زور دیا۔</p>
<p>فواد انور نے زور دیا کہ ٹیکسٹائل اور ملبوسات پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں اور اب وقت ہے کہ جرات مندانہ پالیسی اقدامات کیے جائیں تاکہ صنعت طویل مدتی عالمی مارکیٹ میں حصہ حاصل کر سکے۔</p>
<p>میٹنگ کا اختتام اس اتفاق رائے کے ساتھ ہوا کہ ٹیکسٹائل برآمدات پاکستان کی اقتصادی بحالی کی حکمت عملی میں مرکزی حیثیت رکھیں گی۔ پی ٹی سی اور اسٹیٹ بینک نے پالیسی مکالمے کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا، خاص طور پر تجدید پذیر توانائی کے لیے مالی اسکیمز اور رعایتی برآمدی کریڈٹ کے حوالے سے، تاکہ پاکستان کے برآمد کنندگان عالمی مارکیٹ میں مسابقتی رہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276528</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Sep 2025 14:50:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/021420006602be8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/021420006602be8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
