<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترقی کی شرح میں گراوٹ کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276526/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مشہور ماہر اقتصادیات حفیظ اے پاشا نے گزشتہ اتوار کو آج ٹی وی پر کہا تھا کہ رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی ترقی کی شرح صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے جو بجٹ میں متعین 4.2 فیصد اور آئی ایم ایف کے ہدف 3.5 فیصد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے 2022 میں شدید سیلاب کی وجہ سے منفی گروتھ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2025 کے سیلابی نقصان کی مجموعی شدت سال 2022 سے زیادہ ہے۔ بھارت کی جانب سے پنجاب میں پانی چھوڑنے سے قبل خیبر پختونخوا کی جانب سے نقصان کا تخمینہ 35 ارب روپے اور کراچی کا 15 ارب روپے لگایا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 میں کل نقصان تقریباً 40 ارب ڈالر تھا، جس کے بعد اس وقت کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے بین الاقوامی سطح پر فوری امداد طلب کی۔ بین الاقوامی برادری نے 10 ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا، زیادہ تر قرضوں کی صورت میں، مگر 2024 تک صرف 2.8 ارب ڈالر موصول ہوئے اور اس میں قرضہ اور گرانٹ کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان 2022 میں آئی ایم ایف کے پروگرام پر تھا مگر اس سال اکتوبر کے بعد یہ پروگرام معطل ہوگیا کیونکہ وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے طے شدہ شرائط پر عمل کرنے سے انکار کردیا، خاص طور پر مارکیٹ کی بنیاد پر ایکسچینج ریٹ نافذ کرنا اور مخصوص صنعتوں کو کم بجلی کی قیمتوں کے ذریعے 100 ارب روپے سے زائد غیر بجٹ شدہ سبسڈیز فراہم کرنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِاعظم کو ذاتی طور پر آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر سے یقین دہانی کرانی پڑی کہ تمام شرائط پر عمل کیا جائے گا،جس کے نتیجے میں جولائی 2023 میں نو ماہ کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ قائم ہوا اور بعد میں 36 ماہ پر محیط ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام شروع ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ اقتصادی ٹیم کے سربراہان نے اپنے سابقین کی طرح آئی ایم ایف کی شرائط قبول کرلیں مگر کوئی نیا داخلی حل پیش نہیں کیا جیسا کہ اکتوبر 2024 کے قرض کی منظوری کی دستاویزات اور مئی 2025 کے پہلے جائزے کے دستاویزات میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے، جہاں سخت مالیاتی پالیسیاں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹر کو منفی اثرات سے دوچار کررہی ہیں جس کے اثرات صرف ترقی تک محدود نہیں بلکہ روزگار کے مواقع پر بھی پڑتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کا دوسرا جائزہ رواں ماہ متوقع ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ 2022 کے سبق کو مدنظر رکھتے ہوئے کابینہ کے اراکین صرف غیر ملکی دارالحکومتوں میں گرانٹ کی مدد تلاش کرنے کے بجائے ایسے متبادل پالیسیز پیش کریں جو اقتصادی طور پر قابل عمل ہوں تاکہ اس ملک کے بے بس عوام قدرتی آفات کا مقابلہ کچھ بہتر طریقے سے کرسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تحقیقی مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدرتی آفات غریب طبقات کو امیر کے مقابلے میں کہیں زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ اسی حوالے سے پاکستان کے لیے 2023 کی اقوام متحدہ ہبیٹیٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر منظم شہری منصوبہ بندی، دیہی سے شہری علاقوں کی تیز رفتار ہجرت اور ہاؤسنگ کی کمی کی وجہ سے پھیلتی ہوئی کچی بستیاں ایک سنجیدہ مسئلہ ہیں، جو طویل المدتی حکومتی ناکامیوں اور ناقص پالیسی فیصلوں سے مزید پیچیدہ ہو چکی ہیں۔ یہ مسائل چند سالوں میں حل کرنا ممکن نہیں، مگر ایک عملی اور موثر حل میں اشرافیہ کے شعبوں (جو بجٹ کی سب سے بڑی وصولی کرنے والی اکائی ہیں) سے رضاکارانہ قربانی، عوامی شعبے کے لیے پنشن اصلاحات جن میں ملازمین کی شراکت شامل ہو، اور ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ملکی و غیر ملکی قرضوں میں کمی شامل ہونی چاہیے۔ اس اقدام سے موجودہ بالواسطہ ٹیکسز پر دباؤ کم ہوگا، جو زیادہ تر غریب طبقے پر پڑتا ہے، اور ملکی پیداوار پر مثبت اثر مرتب ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان 2019 سے (کووڈ-19 کے سالوں کو چھوڑ کر) آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ سخت مالیاتی و مالی پالیسیوں کا سامنا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں بیروزگاری کی شرح 22 فیصد اور غربت 44.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال غیر مستحکم ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ بہتر تدبیر اور اقتصادی فہم کے ذریعے بہتری ممکن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>مشہور ماہر اقتصادیات حفیظ اے پاشا نے گزشتہ اتوار کو آج ٹی وی پر کہا تھا کہ رواں مالی سال کے لیے پاکستان کی ترقی کی شرح صفر سے ایک فیصد کے درمیان رہنے کا امکان ہے جو بجٹ میں متعین 4.2 فیصد اور آئی ایم ایف کے ہدف 3.5 فیصد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔</strong></p>
<p>انہوں نے 2022 میں شدید سیلاب کی وجہ سے منفی گروتھ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ 2025 کے سیلابی نقصان کی مجموعی شدت سال 2022 سے زیادہ ہے۔ بھارت کی جانب سے پنجاب میں پانی چھوڑنے سے قبل خیبر پختونخوا کی جانب سے نقصان کا تخمینہ 35 ارب روپے اور کراچی کا 15 ارب روپے لگایا گیا ہے۔</p>
<p>2022 میں کل نقصان تقریباً 40 ارب ڈالر تھا، جس کے بعد اس وقت کے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور وزیر برائے ماحولیاتی تبدیلی شیری رحمان نے بین الاقوامی سطح پر فوری امداد طلب کی۔ بین الاقوامی برادری نے 10 ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا، زیادہ تر قرضوں کی صورت میں، مگر 2024 تک صرف 2.8 ارب ڈالر موصول ہوئے اور اس میں قرضہ اور گرانٹ کی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔</p>
<p>پاکستان 2022 میں آئی ایم ایف کے پروگرام پر تھا مگر اس سال اکتوبر کے بعد یہ پروگرام معطل ہوگیا کیونکہ وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار نے طے شدہ شرائط پر عمل کرنے سے انکار کردیا، خاص طور پر مارکیٹ کی بنیاد پر ایکسچینج ریٹ نافذ کرنا اور مخصوص صنعتوں کو کم بجلی کی قیمتوں کے ذریعے 100 ارب روپے سے زائد غیر بجٹ شدہ سبسڈیز فراہم کرنا۔</p>
<p>وزیرِاعظم کو ذاتی طور پر آئی ایم ایف کے منیجنگ ڈائریکٹر سے یقین دہانی کرانی پڑی کہ تمام شرائط پر عمل کیا جائے گا،جس کے نتیجے میں جولائی 2023 میں نو ماہ کا اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ قائم ہوا اور بعد میں 36 ماہ پر محیط ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی پروگرام شروع ہوا۔</p>
<p>موجودہ اقتصادی ٹیم کے سربراہان نے اپنے سابقین کی طرح آئی ایم ایف کی شرائط قبول کرلیں مگر کوئی نیا داخلی حل پیش نہیں کیا جیسا کہ اکتوبر 2024 کے قرض کی منظوری کی دستاویزات اور مئی 2025 کے پہلے جائزے کے دستاویزات میں واضح طور پر دکھایا گیا ہے، جہاں سخت مالیاتی پالیسیاں بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ سیکٹر کو منفی اثرات سے دوچار کررہی ہیں جس کے اثرات صرف ترقی تک محدود نہیں بلکہ روزگار کے مواقع پر بھی پڑتے ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف کا دوسرا جائزہ رواں ماہ متوقع ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ 2022 کے سبق کو مدنظر رکھتے ہوئے کابینہ کے اراکین صرف غیر ملکی دارالحکومتوں میں گرانٹ کی مدد تلاش کرنے کے بجائے ایسے متبادل پالیسیز پیش کریں جو اقتصادی طور پر قابل عمل ہوں تاکہ اس ملک کے بے بس عوام قدرتی آفات کا مقابلہ کچھ بہتر طریقے سے کرسکیں۔</p>
<p>تحقیقی مطالعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ قدرتی آفات غریب طبقات کو امیر کے مقابلے میں کہیں زیادہ متاثر کرتی ہیں۔ اسی حوالے سے پاکستان کے لیے 2023 کی اقوام متحدہ ہبیٹیٹ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر منظم شہری منصوبہ بندی، دیہی سے شہری علاقوں کی تیز رفتار ہجرت اور ہاؤسنگ کی کمی کی وجہ سے پھیلتی ہوئی کچی بستیاں ایک سنجیدہ مسئلہ ہیں، جو طویل المدتی حکومتی ناکامیوں اور ناقص پالیسی فیصلوں سے مزید پیچیدہ ہو چکی ہیں۔ یہ مسائل چند سالوں میں حل کرنا ممکن نہیں، مگر ایک عملی اور موثر حل میں اشرافیہ کے شعبوں (جو بجٹ کی سب سے بڑی وصولی کرنے والی اکائی ہیں) سے رضاکارانہ قربانی، عوامی شعبے کے لیے پنشن اصلاحات جن میں ملازمین کی شراکت شامل ہو، اور ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے ملکی و غیر ملکی قرضوں میں کمی شامل ہونی چاہیے۔ اس اقدام سے موجودہ بالواسطہ ٹیکسز پر دباؤ کم ہوگا، جو زیادہ تر غریب طبقے پر پڑتا ہے، اور ملکی پیداوار پر مثبت اثر مرتب ہوگا۔</p>
<p>یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان 2019 سے (کووڈ-19 کے سالوں کو چھوڑ کر) آئی ایم ایف کی حمایت یافتہ سخت مالیاتی و مالی پالیسیوں کا سامنا کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں بیروزگاری کی شرح 22 فیصد اور غربت 44.7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ یہ صورتحال غیر مستحکم ہے اور امید کی جا سکتی ہے کہ بہتر تدبیر اور اقتصادی فہم کے ذریعے بہتری ممکن ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276526</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Sep 2025 14:18:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/02140727946728a.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/02140727946728a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
