<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Markets</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:04 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:07:04 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بیجنگ میں شی، پوتن اور کم کی ملاقات: ایشیا میں عسکری توازن پر اثرات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276524/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یورپ کی 80 سال کی بدترین جنگ میں جارحیت پسندوں کے ساتھ  یکجہتی کے اظہار کے طور پر چین کے صدر شی جن پنگ پہلی بار اپنے روسی اور شمالی کوریا کے ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر مغربی رہنما اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق بیجنگ میں ولادیمیر پوتن اور کم جونگ ان کی ملاقات چین کے صدر کے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتی ہے جو وہ ایسے خودمختار ممالک پر رکھتے ہیں جو مغربی قیادت والے عالمی نظام کو نئے سرے سے تشکیل دینے کے خواہشمند ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی دارالحکومت میں رہنماؤں کی یہ اہم ملاقات اس امکان کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان جون 2024 میں طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے اور بیجنگ و پیانگ یانگ کے درمیان اتحاد کی بنیاد پر ایک نیا تین فریقی محور قائم ہو سکتا ہے جس سے ایشیا-پیسیفک میں عسکری توازن بدل سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شی جن پنگ نے پیر کو کہا کہ ہمیں طاقت کی سیاست کے خلاف واضح موقف اپنانا ہوگا اور حقیقی کثیر الجہتی کو فروغ دینا ہوگا، جو ایک لطیف انداز میں مغربی حریف کی طرف اشارہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شی اور پوتن نے پیر کو تیانجن میں 20 سے زائد غیر مغربی ممالک کے رہنماؤں کے سامنے عالمی سیکیورٹی اور اقتصادی نظام کے لیے اپنا وژن پیش کیا، جبکہ کم کے ساتھ ملاقات 3 ستمبر کو دوسری عالمی جنگ کے اختتام کی یاد میں ہونے والی بڑے فوجی پریڈ سے پہلے اگلا اہم مرحلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمالی کوریا کے رہنما نے یورپ کے دہلیز پر پوتن کی مدد کے لیے 15,000 فوجی بھیجے اور 2024 میں روسی رہنما کی پیانگ یانگ میں میزبانی کی جو شمالی کوریا کی چین پر انحصار کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی گئی۔ کوریا کی جنوبی خفیہ ایجنسی کے مطابق، کورسک میں لڑائی کے دوران تقریباً 600 فوجی ہلاک ہوئے اور ایک اور تعیناتی کی منصوبہ بندی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پوتن نے ایس سی او اجلاس میں نیٹو اور یورپی سیکیورٹی کے حوالے سے سیکورٹی میں منصفانہ توازن کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا بیجنگ دورہ اور شی و کم کے ساتھ ملاقات مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق اکس آف اپ ہیول یعنی انقلاب کے محور کی جانب اشارہ کرتی ہے جس میں ایران کے صدر کی پریڈ میں شرکت بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>یورپ کی 80 سال کی بدترین جنگ میں جارحیت پسندوں کے ساتھ  یکجہتی کے اظہار کے طور پر چین کے صدر شی جن پنگ پہلی بار اپنے روسی اور شمالی کوریا کے ہم منصبوں سے ملاقات کریں گے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور دیگر مغربی رہنما اس منظر کو دیکھ رہے ہیں۔</strong></p>
<p>ماہرین کے مطابق بیجنگ میں ولادیمیر پوتن اور کم جونگ ان کی ملاقات چین کے صدر کے اثر و رسوخ کو ظاہر کرتی ہے جو وہ ایسے خودمختار ممالک پر رکھتے ہیں جو مغربی قیادت والے عالمی نظام کو نئے سرے سے تشکیل دینے کے خواہشمند ہیں۔</p>
<p>چینی دارالحکومت میں رہنماؤں کی یہ اہم ملاقات اس امکان کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ روس اور شمالی کوریا کے درمیان جون 2024 میں طے پانے والے باہمی دفاعی معاہدے اور بیجنگ و پیانگ یانگ کے درمیان اتحاد کی بنیاد پر ایک نیا تین فریقی محور قائم ہو سکتا ہے جس سے ایشیا-پیسیفک میں عسکری توازن بدل سکتا ہے۔</p>
<p>شی جن پنگ نے پیر کو کہا کہ ہمیں طاقت کی سیاست کے خلاف واضح موقف اپنانا ہوگا اور حقیقی کثیر الجہتی کو فروغ دینا ہوگا، جو ایک لطیف انداز میں مغربی حریف کی طرف اشارہ تھا۔</p>
<p>شی اور پوتن نے پیر کو تیانجن میں 20 سے زائد غیر مغربی ممالک کے رہنماؤں کے سامنے عالمی سیکیورٹی اور اقتصادی نظام کے لیے اپنا وژن پیش کیا، جبکہ کم کے ساتھ ملاقات 3 ستمبر کو دوسری عالمی جنگ کے اختتام کی یاد میں ہونے والی بڑے فوجی پریڈ سے پہلے اگلا اہم مرحلہ ہے۔</p>
<p>شمالی کوریا کے رہنما نے یورپ کے دہلیز پر پوتن کی مدد کے لیے 15,000 فوجی بھیجے اور 2024 میں روسی رہنما کی پیانگ یانگ میں میزبانی کی جو شمالی کوریا کی چین پر انحصار کم کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھی گئی۔ کوریا کی جنوبی خفیہ ایجنسی کے مطابق، کورسک میں لڑائی کے دوران تقریباً 600 فوجی ہلاک ہوئے اور ایک اور تعیناتی کی منصوبہ بندی ہے۔</p>
<p>پوتن نے ایس سی او اجلاس میں نیٹو اور یورپی سیکیورٹی کے حوالے سے سیکورٹی میں منصفانہ توازن کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا بیجنگ دورہ اور شی و کم کے ساتھ ملاقات مغربی تجزیہ کاروں کے مطابق اکس آف اپ ہیول یعنی انقلاب کے محور کی جانب اشارہ کرتی ہے جس میں ایران کے صدر کی پریڈ میں شرکت بھی شامل ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Markets</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276524</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Sep 2025 13:10:33 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/021258287eba51b.webp" type="image/webp" medium="image" height="676" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/021258287eba51b.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
