<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:14:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:14:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جولائی میں 4,400 سے زائد استعمال شدہ گاڑیاں کلیئر</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276516/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کسٹمز نے جولائی میں پرسنل بیگیج اور متعلقہ اسکیموں کے تحت 4,400 سے زائد استعمال شدہ گاڑیاں کلیئر کیں جس پر ممکنہ منی لانڈرنگ اور ملکی آٹو موٹو صنعت پر تباہ کن اثرات کے حوالے سے شدید خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جولائی میں درآمد ہونے والی گاڑیوں کی اس غیر معمولی تعداد میں 600 سے زائد قیمتی گاڑیاں بھی شامل تھیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 50 ارب روپے بنتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسکیمیں، جو بنیادی طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لیے بنائی گئی تھیں، منظم انداز میں غلط استعمال ہو رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درآمدی اعدادوشمار کے مطابق 3,996 گاڑیاں پرسنل بیگیج اسکیم کے تحت، 331 گاڑیاں گفٹ اسکیم کے ذریعے اور 96 گاڑیاں رہائش کی منتقلی اسکیم کے تحت کلیئر کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتی لگژری گاڑیوں کے زیادہ تر درآمد کنندگان خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقوں سے ہیں، جہاں سے اربوں روپے مالیت کی گاڑیاں درآمد کی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان گاڑیوں کی مالیت محض 10,000 سے 250,000 جاپانی ین ظاہر کی گئی، جو پاکستانی روپے میں تقریباً 19,000 سے 47 لاکھ بنتی ہے، یعنی تقریباً 99 فیصد تک انڈرانوائسنگ کی گئی۔ ایک کیس میں 2020 ماڈل ٹویوٹا لینڈ کروزر کی قیمت صرف 19,000 روپے ظاہر کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ 2020 ماڈل لینڈ کروزر کی قیمت صرف 19 ہزار روپے ہو، اور غالباً درآمد کنندگان گاڑی کی اصل قیمت غیر قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک منتقل کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، کئی درآمد کنندگان جو ذاتی اسکیموں کے تحت گاڑیاں کلیم کرتے ہیں، متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں اور ان کا جاپان کا کوئی سفری ریکارڈ موجود نہیں۔ آن لائن آکشن ریکارڈز سے یہ بھی تصدیق ہوئی کہ گاڑیاں جاپان میں فروخت ہوئیں لیکن ان درآمد کنندگان کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہوئیں۔ ان درآمدات کے برآمدی سرٹیفیکیٹس اور شپنگ دستاویزات تجارتی نوعیت کے تھے، نہ کہ حقیقی ذاتی سامان، تحائف یا رہائش کی منتقلی کے مطابق۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق آٹوموٹو شعبہ جو براہِ راست 3 لاکھ 30 ہزار افراد کو روزگار دیتا ہے اور ذیلی صنعتوں میں 15 لاکھ ملازمتوں کی معاونت کرتا ہے، موجودہ صورتحال سے وجودی خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔ صرف جولائی کی درآمدات نے مقامی وینڈرز کو تقریباً 6.5 ارب روپے کے نقصان سے دوچار کیا، اس بنیاد پر کہ ہر مقامی تیار شدہ گاڑی میں تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کے پرزہ جات استعمال ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسسریز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاپام) کے سینئر وائس چیئرمین شہریار قادر نے کہا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی مسلسل درآمد ملکی معیشت کے لیے طویل المدتی نقصان ہے، جس میں زرمبادلہ کا اخراج، مقامی روزگار کا خاتمہ اور ملکی مینوفیکچرنگ سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن میں کمی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ مارکیٹ کی کل طلب محدود ہے، ہر درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑی مقامی اسمبلرز اور پرزہ ساز اداروں کے لیے براہِ راست نقصان کا باعث بنتی ہے۔ اس سے ٹائر، سیٹس، وائرنگ ہارنس، لائٹس اور سیکڑوں دیگر مقامی پرزہ جات کی مانگ ختم ہو جاتی ہے جو وینڈر ایکو سسٹم میں 3 لاکھ براہِ راست ملازمتیں فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان میں اوسطاً سالانہ 34 ہزار استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی گئی ہیں جو مارکیٹ میں دوسرا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی ہیں اور اکثر اوقات بڑے اوریجنل ایکوئپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایمز) کے حجم سے بھی تجاوز کرجاتی ہیں۔ 2024-25 میں تقریباً 40 ہزار گاڑیاں درآمد ہوئیں جنہوں نے مارکیٹ کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ حاصل کرلیا اور مقامی پرزہ ساز صنعت کو اندازاً 60 ارب روپے کے نقصان سے دوچار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ صورتحال پاکستان کو آٹوموٹو مینوفیکچرنگ ممالک میں ایک غیر معمولی مثال بناتی ہے کیونکہ بھارت، تھائی لینڈ اور ویتنام نے اپنی مقامی صنعت کے تحفظ کے لیے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد تقریباً ختم کر دی ہے۔ شہریار قادر نے کہا کہ کوئی بھی سنجیدہ آٹوموٹو مینوفیکچرنگ ملک بڑے پیمانے پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد برداشت نہیں کرتا۔ تھائی لینڈ سے ویتنام اور بھارت تک، ہر کامیاب آٹو معیشت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی آمد کو مقامی صنعتی ترقی کے لیے وجودی خطرہ سمجھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدید تنقید کے باوجود پاکستان کسٹمز کا موقف ہے کہ کوئی غیر قانونی سرگرمی نہیں ہوئی اور وہ موجودہ قواعد کے مطابق کلیئرنس جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اسکیموں میں کوئی حجم کی حد مقرر نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کسٹمز نے جولائی میں پرسنل بیگیج اور متعلقہ اسکیموں کے تحت 4,400 سے زائد استعمال شدہ گاڑیاں کلیئر کیں جس پر ممکنہ منی لانڈرنگ اور ملکی آٹو موٹو صنعت پر تباہ کن اثرات کے حوالے سے شدید خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔</strong></p>
<p>جولائی میں درآمد ہونے والی گاڑیوں کی اس غیر معمولی تعداد میں 600 سے زائد قیمتی گاڑیاں بھی شامل تھیں جن کی مجموعی مالیت تقریباً 50 ارب روپے بنتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ اسکیمیں، جو بنیادی طور پر بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی سہولت کے لیے بنائی گئی تھیں، منظم انداز میں غلط استعمال ہو رہی ہیں۔</p>
<p>درآمدی اعدادوشمار کے مطابق 3,996 گاڑیاں پرسنل بیگیج اسکیم کے تحت، 331 گاڑیاں گفٹ اسکیم کے ذریعے اور 96 گاڑیاں رہائش کی منتقلی اسکیم کے تحت کلیئر کی گئیں۔</p>
<p>اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ قیمتی لگژری گاڑیوں کے زیادہ تر درآمد کنندگان خیبر پختونخوا کے پسماندہ علاقوں سے ہیں، جہاں سے اربوں روپے مالیت کی گاڑیاں درآمد کی گئیں۔</p>
<p>مزید تحقیق سے معلوم ہوا کہ ان گاڑیوں کی مالیت محض 10,000 سے 250,000 جاپانی ین ظاہر کی گئی، جو پاکستانی روپے میں تقریباً 19,000 سے 47 لاکھ بنتی ہے، یعنی تقریباً 99 فیصد تک انڈرانوائسنگ کی گئی۔ ایک کیس میں 2020 ماڈل ٹویوٹا لینڈ کروزر کی قیمت صرف 19,000 روپے ظاہر کی گئی۔</p>
<p>صنعتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ ممکن نہیں کہ 2020 ماڈل لینڈ کروزر کی قیمت صرف 19 ہزار روپے ہو، اور غالباً درآمد کنندگان گاڑی کی اصل قیمت غیر قانونی ذرائع سے بیرونِ ملک منتقل کر رہے ہیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں، کئی درآمد کنندگان جو ذاتی اسکیموں کے تحت گاڑیاں کلیم کرتے ہیں، متحدہ عرب امارات میں مقیم ہیں اور ان کا جاپان کا کوئی سفری ریکارڈ موجود نہیں۔ آن لائن آکشن ریکارڈز سے یہ بھی تصدیق ہوئی کہ گاڑیاں جاپان میں فروخت ہوئیں لیکن ان درآمد کنندگان کے نام پر رجسٹرڈ نہیں ہوئیں۔ ان درآمدات کے برآمدی سرٹیفیکیٹس اور شپنگ دستاویزات تجارتی نوعیت کے تھے، نہ کہ حقیقی ذاتی سامان، تحائف یا رہائش کی منتقلی کے مطابق۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق آٹوموٹو شعبہ جو براہِ راست 3 لاکھ 30 ہزار افراد کو روزگار دیتا ہے اور ذیلی صنعتوں میں 15 لاکھ ملازمتوں کی معاونت کرتا ہے، موجودہ صورتحال سے وجودی خطرے کا سامنا کر رہا ہے۔ صرف جولائی کی درآمدات نے مقامی وینڈرز کو تقریباً 6.5 ارب روپے کے نقصان سے دوچار کیا، اس بنیاد پر کہ ہر مقامی تیار شدہ گاڑی میں تقریباً 15 لاکھ روپے مالیت کے پرزہ جات استعمال ہوتے ہیں۔</p>
<p>پاکستان آٹو موٹیو پارٹس اینڈ ایکسسریز مینوفیکچررز ایسوسی ایشن (پاپام) کے سینئر وائس چیئرمین شہریار قادر نے کہا کہ استعمال شدہ گاڑیوں کی مسلسل درآمد ملکی معیشت کے لیے طویل المدتی نقصان ہے، جس میں زرمبادلہ کا اخراج، مقامی روزگار کا خاتمہ اور ملکی مینوفیکچرنگ سے حاصل ہونے والی ٹیکس آمدن میں کمی شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ چونکہ مارکیٹ کی کل طلب محدود ہے، ہر درآمد شدہ استعمال شدہ گاڑی مقامی اسمبلرز اور پرزہ ساز اداروں کے لیے براہِ راست نقصان کا باعث بنتی ہے۔ اس سے ٹائر، سیٹس، وائرنگ ہارنس، لائٹس اور سیکڑوں دیگر مقامی پرزہ جات کی مانگ ختم ہو جاتی ہے جو وینڈر ایکو سسٹم میں 3 لاکھ براہِ راست ملازمتیں فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ دہائی کے دوران پاکستان میں اوسطاً سالانہ 34 ہزار استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کی گئی ہیں جو مارکیٹ میں دوسرا سب سے بڑا ذریعہ بن گئی ہیں اور اکثر اوقات بڑے اوریجنل ایکوئپمنٹ مینوفیکچررز (او ای ایمز) کے حجم سے بھی تجاوز کرجاتی ہیں۔ 2024-25 میں تقریباً 40 ہزار گاڑیاں درآمد ہوئیں جنہوں نے مارکیٹ کا تقریباً ایک چوتھائی حصہ حاصل کرلیا اور مقامی پرزہ ساز صنعت کو اندازاً 60 ارب روپے کے نقصان سے دوچار کیا۔</p>
<p>یہ صورتحال پاکستان کو آٹوموٹو مینوفیکچرنگ ممالک میں ایک غیر معمولی مثال بناتی ہے کیونکہ بھارت، تھائی لینڈ اور ویتنام نے اپنی مقامی صنعت کے تحفظ کے لیے استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد تقریباً ختم کر دی ہے۔ شہریار قادر نے کہا کہ کوئی بھی سنجیدہ آٹوموٹو مینوفیکچرنگ ملک بڑے پیمانے پر استعمال شدہ گاڑیوں کی درآمد برداشت نہیں کرتا۔ تھائی لینڈ سے ویتنام اور بھارت تک، ہر کامیاب آٹو معیشت نے استعمال شدہ گاڑیوں کی آمد کو مقامی صنعتی ترقی کے لیے وجودی خطرہ سمجھا ہے۔</p>
<p>شدید تنقید کے باوجود پاکستان کسٹمز کا موقف ہے کہ کوئی غیر قانونی سرگرمی نہیں ہوئی اور وہ موجودہ قواعد کے مطابق کلیئرنس جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے اسکیموں میں کوئی حجم کی حد مقرر نہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276516</guid>
      <pubDate>Tue, 02 Sep 2025 10:33:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (محمد علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/0210184132ca745.webp" type="image/webp" medium="image" height="666" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/0210184132ca745.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
