<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ملک کی معاشی صورتحال</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276507/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جاری اور بلاشبہ کڑی شرائط پر مبنی پروگرام کے تحت معیشت کو مستحکم کرنے اور ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانے کی جو پیش رفت کی گئی ہے، اس پر عالمی مالیاتی اداروں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، اور پاکستان کی وفاقی کابینہ، بالخصوص معاشی ٹیم کے قائدین، کی جانب سے حمایت اور اطمینان کے بیانات سامنے آئے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض اہم معاشی اشاریوں میں بہتری واضح طور پر دیکھی گئی ہے، جیسا کہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے 29 اگست 2025 کو جاری کردہ ”اگست اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک“ میں بیان کیا گیا ہے۔ جولائی 2025 میں ترسیلاتِ زر میں 7.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو کہ 3.214 ارب امریکی ڈالر کی سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ جولائی 2024 میں یہ 2.994 ارب ڈالر تھیں۔ اس بہتری کا بڑا سبب بلاشبہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے متعارف کردہ ترغیبات تھیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;رہائشی ترسیلات پر بھیجنے والے اور وصول کنندہ دونوں کے لیے صفر لاگت / مفت ترسیلی ماڈل&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ برس کی نسبت ہر 100 امریکی ڈالر کی اضافی ترسیل پر 20 سعودی ریال کی ادائیگی&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;
&lt;p&gt;اگر ترسیلات میں اضافہ 10 فیصد یا 100 ملین ڈالر سے زائد ہو تو اضافی 10 ریال کی مراعات&lt;/p&gt;
&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ 27 جولائی 2025 کو وزارتِ خزانہ نے وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو ان مراعات میں کمی کی تجویز دی تھی، تاہم اس فیصلے کو درست طور پر اس وقت موخر کر دیا گیا جب تک کہ اس کے اثرات اور حساسیت پر مبنی مکمل تجزیہ سامنے نہ آ جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشویش اس بات پر ہے کہ سال 2025 میں شدید بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہی کے پیش نظر مالیاتی گنجائش، جو پہلے ہی محدود تھی، مزید سکڑ گئی ہے اور اس تناظر میں خزانے کے نقطہ نظر سے ان مراعات میں کمی کی ضرورت بڑھ سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بھی قابلِ غور ہے کہ وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 63,255 افراد کی رجسٹریشن ظاہر کی گئی ہے، جو جون 2025 کے مقابلے میں 23.9 فیصد اضافہ ہے۔ تاہم، اسی بیورو کی ویب سائٹ پر درج معلومات کے مطابق جولائی 2025 میں 399,697 پاکستانی شہری روزگار کے لیے بیرونِ ملک روانہ ہوئے۔ یہ فرق اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ”رجسٹریشن“ کا مطلب صرف ہجرت کا ارادہ ہو سکتا ہے، نہ کہ درحقیقت بیرونِ ملک ملازمت پر جانا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی پالیسی، جس کی منظوری حکومت، پارلیمان اور آئی ایم ایف نے دی، جولائی 2025 میں کفایتی (کنٹرکشنری) رہی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 14.8 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا اور مجموعی محصولات 757.4 ارب روپے تک پہنچ گئیں، جو جولائی 2024 میں 659.8 ارب روپے تھیں۔ یہ اضافہ بلند شرحِ ٹیکس کی بنیاد پر ہوا، تاہم محصولات کا 75 سے 80 فیصد حصہ اب بھی بالواسطہ (ان ڈائرکٹ) ٹیکسوں پر مشتمل ہے، ایسے ٹیکس جو امیر طبقے کی نسبت غریب طبقے پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے چیئرمین نے منتخب میڈیا اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران محصولات کے نفاذ سے متعلق اقدامات خاصے کامیاب رہے، جن کے نتیجے میں 250 سے 300 ارب روپے تک اضافی ٹیکس وصولی ممکن ہوئی۔ اُن کے بقول یہ کامیابی غیر رجسٹرڈ اور ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے شعبے، بالخصوص شوگر اور تمباکو، کے خلاف حکمتِ عملی کے تحت کیے گئے کریک ڈاؤنز کا نتیجہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ ان دونوں شعبوں میں عدم تعمیل کا تعلق سیلز ٹیکس سے ہے، جو ایک بالواسطہ ٹیکس ہونے کے باعث مکمل طور پر صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، ان سخت اقدامات کے نتیجے میں مقامی منڈی میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جسے اُس وقت مزید تقویت ملی جب ڈپٹی وزیرِاعظم کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے چینی کی برآمد کی منظوری دے دی، ایک فیصلہ جو مقامی سطح پر قلت کا باعث بنا، درآمدات کی ضرورت پیدا ہوئی اور ملک میں غربت کی شرح کو بڑھا کر 44.7 فیصد تک لے گیا، جو اب ذیلی صحارا (سب صحارن افریقہ) کے برابر سمجھی جا رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی دوران مالیاتی پالیسی میں سختی برقرار رہی، اگرچہ شرحِ سود جون 2024 میں 21 فیصد سے کم ہو کر آج 11 فیصد ہو چکی ہے۔ لیکن یہ شرح اب بھی خطے کے مقابلے میں بہت بلند ہے جبکہ بھارت میں 5.50 فیصد، بنگلہ دیش میں 10 فیصد اور سری لنکا میں 7.75 فیصد ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جولائی میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد رہی، جو بھارت (4 فیصد) اور سری لنکا (جہاں منفی 0.60 فیصد افراطِ زر یعنی ”ڈی فلیشن“ ریکارڈ کی گئی) سے بھی کم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیرِ خزانہ نے پارلیمانی کمیٹیوں میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں مزید کمی کی گنجائش ہے، جو اُن کے بجٹ میں رکھے گئے تخمینوں، خصوصاً سود کی مد میں موجودہ اخراجات کے تقریباً 50 فیصد حصے، کو حقیقت کا رنگ دے سکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ مالی سال میں حکومت کا داخلی اور خارجی قرضوں پر انحصار کسی بڑی حد تک کم ہونے کی امید نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی اور مالیاتی سختی کی یہی پالیسی غالباً بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں منفی نمو کی بڑی وجہ ہے۔ جون 2025 میں آخری مرتبہ جاری کردہ ایل ایس ایم کے اعداد و شمار کے مطابق نمو منفی 0.74 فیصد رہی، حالانکہ نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں میں منفی رجحان کچھ حد تک کم ہوا، جو جولائی تا وسط اگست 2024 میں منفی 317.3 ارب روپے تھا، وہی اعداد و شمار جولائی تا وسط اگست 2025 میں منفی 232.7 ارب روپے رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکنگ سیکٹر سے حاصل ہونے والا باقی ماندہ قرضہ حکومت خود لے رہی ہے، اور امکان ہے کہ یہ رقم توانائی کے شعبے میں موجود 2.4 کھرب روپے کے گردشی قرضے کو ختم کرنے کے ارادے کے تحت 1.275 کھرب روپے تک جا پہنچے گی۔ تاہم، یہ عمل چین کے آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کی طرف سے مزاحمت کے باعث تعطل کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں نیشنل سیونگز سینٹرز، جو عام عوام کے لیے مخصوص ہیں، کو حکومت نے فوری نقدی کے حصول کا ذریعہ بنا رکھا ہے، اور اُمید کی جا سکتی ہے کہ نجی شعبے کو بھی ان مراکز سے قرض لینے کی اجازت دی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بہت معمولی اضافہ دیکھا گیا، جو جولائی 2024 میں 194.7 ملین ڈالر تھی، وہ جولائی 2025 میں 208.1 ملین ڈالر ہو گئی (محض 6.9 فیصد اضافہ، جو مجموعی حجم کے اعتبار سے اب بھی غیر اہم ہے)۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ دہائیوں سے تعطل کا شکار ریکوڈک منصوبہ آئندہ برس سے عملی صورت اختیار کر لے گا، جس سے سالانہ 2.5 ارب ڈالر کی آمد متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب، پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں واضح کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ سال جولائی میں 168.7 ملین ڈالر تھی، وہ اس سال جولائی میں منفی 44.6 ملین ڈالر کی خالص آؤٹ فلو میں تبدیل ہو گئی۔ یہ کمی ایسے وقت میں دیکھی گئی جب پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( پی ایس ایکس) کا انڈیکس غیر معمولی طور پر 88.89 فیصد بڑھا، جو اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ نجی شعبے کو ملنے والا قرض پیداواری سرگرمیوں کے بجائے اسٹاک مارکیٹ میں لگا دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری ضرور آئی ہے، جو جولائی 2024 میں 9.3 ارب ڈالر تھے، وہ اس سال جولائی میں بڑھ کر 14.3 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم، یہ بہتری 16 ارب ڈالر کے قرضوں کی رول اوور پر مبنی ہے، یعنی یہ اضافہ بھی قرض پر مبنی ہے، خود کفالت پر نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف پروگرام کے ڈھانچے میں موجود خامیوں کا ازالہ اب ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے، جس کے لیے داخلی سطح پر روایتی انداز سے ہٹ کر سوچنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے کم از کم 2  کھرب روپے کے جاری اخراجات میں کمی ناگزیر ہوگی، جس کے لیے اشرافیہ کو قربانیاں دینا ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پنشن اصلاحات متعارف کرانا بھی لازم ہے، جو مالی گنجائش پیدا کرے گی اور حکومت کو یہ موقع فراہم کرے گی کہ بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی کر سکے، وہی ٹیکس جو بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنا لازم ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کو ترک کرنا پاکستان کے لیے کوئی قابلِ عمل آپشن نہیں، چاہے اس میں کتنی ہی سخت اورمعاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی شرائط  شامل کیوں نہ ہوں۔ اس پروگرام کی معطلی نہ صرف دوست ممالک کو اپنے قرضوں کی رول اوور پالیسی منجمد کرنے کا جواز فراہم کرے گی، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر ایک ہفتے کی درآمدات سے بھی کم رہ جائیں گے، بلکہ یہ اقدام قرض کی ادائیگی میں ناکامی (ڈیفالٹ) کے امکانات کو بھی بڑھا دے گا، کیونکہ عالمی ریٹنگ ایجنسیاں ہماری درجہ بندی کو گھٹا کر “ دیوالیہ پن سے قریب درجہ “ میں لے جا سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے جاری اور بلاشبہ کڑی شرائط پر مبنی پروگرام کے تحت معیشت کو مستحکم کرنے اور ساختی اصلاحات کو آگے بڑھانے کی جو پیش رفت کی گئی ہے، اس پر عالمی مالیاتی اداروں، کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں، اور پاکستان کی وفاقی کابینہ، بالخصوص معاشی ٹیم کے قائدین، کی جانب سے حمایت اور اطمینان کے بیانات سامنے آئے ہیں۔</strong></p>
<p>اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ بعض اہم معاشی اشاریوں میں بہتری واضح طور پر دیکھی گئی ہے، جیسا کہ وزارتِ خزانہ کی جانب سے 29 اگست 2025 کو جاری کردہ ”اگست اکنامک اپ ڈیٹ اینڈ آؤٹ لک“ میں بیان کیا گیا ہے۔ جولائی 2025 میں ترسیلاتِ زر میں 7.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو کہ 3.214 ارب امریکی ڈالر کی سطح پر پہنچ گئیں، جبکہ جولائی 2024 میں یہ 2.994 ارب ڈالر تھیں۔ اس بہتری کا بڑا سبب بلاشبہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے متعارف کردہ ترغیبات تھیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:</p>
<ul>
<li>
<p>رہائشی ترسیلات پر بھیجنے والے اور وصول کنندہ دونوں کے لیے صفر لاگت / مفت ترسیلی ماڈل</p>
</li>
<li>
<p>گزشتہ برس کی نسبت ہر 100 امریکی ڈالر کی اضافی ترسیل پر 20 سعودی ریال کی ادائیگی</p>
</li>
<li>
<p>اگر ترسیلات میں اضافہ 10 فیصد یا 100 ملین ڈالر سے زائد ہو تو اضافی 10 ریال کی مراعات</p>
</li>
</ul>
<p>تاہم یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ 27 جولائی 2025 کو وزارتِ خزانہ نے وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کو ان مراعات میں کمی کی تجویز دی تھی، تاہم اس فیصلے کو درست طور پر اس وقت موخر کر دیا گیا جب تک کہ اس کے اثرات اور حساسیت پر مبنی مکمل تجزیہ سامنے نہ آ جائے۔</p>
<p>تشویش اس بات پر ہے کہ سال 2025 میں شدید بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہی کے پیش نظر مالیاتی گنجائش، جو پہلے ہی محدود تھی، مزید سکڑ گئی ہے اور اس تناظر میں خزانے کے نقطہ نظر سے ان مراعات میں کمی کی ضرورت بڑھ سکتی ہے۔</p>
<p>یہ بھی قابلِ غور ہے کہ وزارتِ خزانہ کی رپورٹ میں بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 63,255 افراد کی رجسٹریشن ظاہر کی گئی ہے، جو جون 2025 کے مقابلے میں 23.9 فیصد اضافہ ہے۔ تاہم، اسی بیورو کی ویب سائٹ پر درج معلومات کے مطابق جولائی 2025 میں 399,697 پاکستانی شہری روزگار کے لیے بیرونِ ملک روانہ ہوئے۔ یہ فرق اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ ”رجسٹریشن“ کا مطلب صرف ہجرت کا ارادہ ہو سکتا ہے، نہ کہ درحقیقت بیرونِ ملک ملازمت پر جانا۔</p>
<p>مالیاتی پالیسی، جس کی منظوری حکومت، پارلیمان اور آئی ایم ایف نے دی، جولائی 2025 میں کفایتی (کنٹرکشنری) رہی۔ فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے 14.8 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا اور مجموعی محصولات 757.4 ارب روپے تک پہنچ گئیں، جو جولائی 2024 میں 659.8 ارب روپے تھیں۔ یہ اضافہ بلند شرحِ ٹیکس کی بنیاد پر ہوا، تاہم محصولات کا 75 سے 80 فیصد حصہ اب بھی بالواسطہ (ان ڈائرکٹ) ٹیکسوں پر مشتمل ہے، ایسے ٹیکس جو امیر طبقے کی نسبت غریب طبقے پر زیادہ بوجھ ڈالتے ہیں۔</p>
<p>ایف بی آر کے چیئرمین نے منتخب میڈیا اداروں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ سال 2025 کے دوران محصولات کے نفاذ سے متعلق اقدامات خاصے کامیاب رہے، جن کے نتیجے میں 250 سے 300 ارب روپے تک اضافی ٹیکس وصولی ممکن ہوئی۔ اُن کے بقول یہ کامیابی غیر رجسٹرڈ اور ٹیکس قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے شعبے، بالخصوص شوگر اور تمباکو، کے خلاف حکمتِ عملی کے تحت کیے گئے کریک ڈاؤنز کا نتیجہ ہے۔</p>
<p>تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ ان دونوں شعبوں میں عدم تعمیل کا تعلق سیلز ٹیکس سے ہے، جو ایک بالواسطہ ٹیکس ہونے کے باعث مکمل طور پر صارفین پر منتقل ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، ان سخت اقدامات کے نتیجے میں مقامی منڈی میں چینی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، جسے اُس وقت مزید تقویت ملی جب ڈپٹی وزیرِاعظم کی سربراہی میں قائم کمیٹی نے چینی کی برآمد کی منظوری دے دی، ایک فیصلہ جو مقامی سطح پر قلت کا باعث بنا، درآمدات کی ضرورت پیدا ہوئی اور ملک میں غربت کی شرح کو بڑھا کر 44.7 فیصد تک لے گیا، جو اب ذیلی صحارا (سب صحارن افریقہ) کے برابر سمجھی جا رہی ہے۔</p>
<p>اسی دوران مالیاتی پالیسی میں سختی برقرار رہی، اگرچہ شرحِ سود جون 2024 میں 21 فیصد سے کم ہو کر آج 11 فیصد ہو چکی ہے۔ لیکن یہ شرح اب بھی خطے کے مقابلے میں بہت بلند ہے جبکہ بھارت میں 5.50 فیصد، بنگلہ دیش میں 10 فیصد اور سری لنکا میں 7.75 فیصد ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جولائی میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق مہنگائی کی شرح 4.1 فیصد رہی، جو بھارت (4 فیصد) اور سری لنکا (جہاں منفی 0.60 فیصد افراطِ زر یعنی ”ڈی فلیشن“ ریکارڈ کی گئی) سے بھی کم ہے۔</p>
<p>وزیرِ خزانہ نے پارلیمانی کمیٹیوں میں اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ ڈسکاؤنٹ ریٹ میں مزید کمی کی گنجائش ہے، جو اُن کے بجٹ میں رکھے گئے تخمینوں، خصوصاً سود کی مد میں موجودہ اخراجات کے تقریباً 50 فیصد حصے، کو حقیقت کا رنگ دے سکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ مالی سال میں حکومت کا داخلی اور خارجی قرضوں پر انحصار کسی بڑی حد تک کم ہونے کی امید نہیں۔</p>
<p>مالی اور مالیاتی سختی کی یہی پالیسی غالباً بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) میں منفی نمو کی بڑی وجہ ہے۔ جون 2025 میں آخری مرتبہ جاری کردہ ایل ایس ایم کے اعداد و شمار کے مطابق نمو منفی 0.74 فیصد رہی، حالانکہ نجی شعبے کو دیے جانے والے قرضوں میں منفی رجحان کچھ حد تک کم ہوا، جو جولائی تا وسط اگست 2024 میں منفی 317.3 ارب روپے تھا، وہی اعداد و شمار جولائی تا وسط اگست 2025 میں منفی 232.7 ارب روپے رہے۔</p>
<p>بینکنگ سیکٹر سے حاصل ہونے والا باقی ماندہ قرضہ حکومت خود لے رہی ہے، اور امکان ہے کہ یہ رقم توانائی کے شعبے میں موجود 2.4 کھرب روپے کے گردشی قرضے کو ختم کرنے کے ارادے کے تحت 1.275 کھرب روپے تک جا پہنچے گی۔ تاہم، یہ عمل چین کے آزاد بجلی پیدا کرنے والے اداروں (آئی پی پیز) کی طرف سے مزاحمت کے باعث تعطل کا شکار ہے۔</p>
<p>مزید برآں نیشنل سیونگز سینٹرز، جو عام عوام کے لیے مخصوص ہیں، کو حکومت نے فوری نقدی کے حصول کا ذریعہ بنا رکھا ہے، اور اُمید کی جا سکتی ہے کہ نجی شعبے کو بھی ان مراکز سے قرض لینے کی اجازت دی جائے گی۔</p>
<p>براہِ راست غیر ملکی سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی) میں بہت معمولی اضافہ دیکھا گیا، جو جولائی 2024 میں 194.7 ملین ڈالر تھی، وہ جولائی 2025 میں 208.1 ملین ڈالر ہو گئی (محض 6.9 فیصد اضافہ، جو مجموعی حجم کے اعتبار سے اب بھی غیر اہم ہے)۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ دہائیوں سے تعطل کا شکار ریکوڈک منصوبہ آئندہ برس سے عملی صورت اختیار کر لے گا، جس سے سالانہ 2.5 ارب ڈالر کی آمد متوقع ہے۔</p>
<p>دوسری جانب، پورٹ فولیو سرمایہ کاری میں واضح کمی دیکھی گئی، جو گزشتہ سال جولائی میں 168.7 ملین ڈالر تھی، وہ اس سال جولائی میں منفی 44.6 ملین ڈالر کی خالص آؤٹ فلو میں تبدیل ہو گئی۔ یہ کمی ایسے وقت میں دیکھی گئی جب پاکستان اسٹاک ایکسچینج ( پی ایس ایکس) کا انڈیکس غیر معمولی طور پر 88.89 فیصد بڑھا، جو اس تاثر کو تقویت دیتا ہے کہ نجی شعبے کو ملنے والا قرض پیداواری سرگرمیوں کے بجائے اسٹاک مارکیٹ میں لگا دیا گیا۔</p>
<p>آخر میں زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری ضرور آئی ہے، جو جولائی 2024 میں 9.3 ارب ڈالر تھے، وہ اس سال جولائی میں بڑھ کر 14.3 ارب ڈالر ہو گئے، تاہم، یہ بہتری 16 ارب ڈالر کے قرضوں کی رول اوور پر مبنی ہے، یعنی یہ اضافہ بھی قرض پر مبنی ہے، خود کفالت پر نہیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>آئی ایم ایف پروگرام کے ڈھانچے میں موجود خامیوں کا ازالہ اب ایک ناگزیر ضرورت بن چکا ہے، جس کے لیے داخلی سطح پر روایتی انداز سے ہٹ کر سوچنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے کم از کم 2  کھرب روپے کے جاری اخراجات میں کمی ناگزیر ہوگی، جس کے لیے اشرافیہ کو قربانیاں دینا ہوں گی۔ اس کے ساتھ ساتھ پنشن اصلاحات متعارف کرانا بھی لازم ہے، جو مالی گنجائش پیدا کرے گی اور حکومت کو یہ موقع فراہم کرے گی کہ بالواسطہ ٹیکسوں میں کمی کر سکے، وہی ٹیکس جو بڑے پیمانے کی صنعت (ایل ایس ایم) پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔</p>
</blockquote>
<p>آخر میں یہ حقیقت تسلیم کرنا لازم ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کو ترک کرنا پاکستان کے لیے کوئی قابلِ عمل آپشن نہیں، چاہے اس میں کتنی ہی سخت اورمعاشی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بننے والی شرائط  شامل کیوں نہ ہوں۔ اس پروگرام کی معطلی نہ صرف دوست ممالک کو اپنے قرضوں کی رول اوور پالیسی منجمد کرنے کا جواز فراہم کرے گی، جس سے زرمبادلہ کے ذخائر ایک ہفتے کی درآمدات سے بھی کم رہ جائیں گے، بلکہ یہ اقدام قرض کی ادائیگی میں ناکامی (ڈیفالٹ) کے امکانات کو بھی بڑھا دے گا، کیونکہ عالمی ریٹنگ ایجنسیاں ہماری درجہ بندی کو گھٹا کر “ دیوالیہ پن سے قریب درجہ “ میں لے جا سکتی ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276507</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Sep 2025 16:48:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انجم ابراہیم)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/01160909309abc5.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/01160909309abc5.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
