<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 05 Jun 2026 01:40:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 05 Jun 2026 01:40:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں بدھ تک طوفانی بارشوں کا امکان ہے، این ڈی ایم اے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276499/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے پیر سے بدھ تک اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں ممکنہ موسلا دھار بارشوں کی وارننگ جاری کی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، چنیوٹ، سرگودھا، بھکر، میانوالی اور فیصل آباد سمیت پہلے سے سیلاب زدہ علاقوں میں مزید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ مری، راولپنڈی، جہلم، اٹک، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، ڈیرہ غازی خان، ساہیوال، ملتان، بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بالائی علاقوں میں ممکنہ شدید بارشوں اور دریاؤں میں پانی کے زیادہ بہاؤ کے باعث مرالہ ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے جو قریبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین سیلابوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے اور تباہ کن سیلاب سے تقریباً 20 لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے اتوار کو ہیڈ بلوکی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دریائے راوی اپنے عروج پر ہے اور اگلے 24 گھنٹوں میں خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اب تک پنجاب میں سیلاب کے باعث 33 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ راوی کا مرکزی سیلابی ریلا ہیڈ بلوکی سے گزر رہا ہے جس کے باعث خانیوال، اوکاڑہ اور گردونواح کے مزید دیہات زیرِ آب آ سکتے ہیں۔ اوکاڑہ، ساہیوال، کمالیہ، خانیوال اور کبیر والا کے دیہات میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کل تک 1,35,000 کیوسک پانی پاکپتن، بہاولنگر اور وہاڑی تک پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نشئیبی علاقوں اور ندی نالوں کے قریب رہنے والے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہوشیار رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں کیونکہ پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ حفاظتی اقدامات کریں اور خطرے سے دوچار علاقوں سے دور رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ پیشگی احتیاطی اقدامات کو یقینی بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ زیادہ پانی کے بہاؤ کی صورت میں ندی نالوں، پلوں اور ڈوبی ہوئی سڑکوں کو عبور کرنے سے گریز کریں۔ مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے نشیبی علاقوں میں فوری نکاسی آب کے لیے ضروری مشینری اور پمپ تیار رکھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر نے پیر سے بدھ تک اسلام آباد اور پنجاب کے مختلف اضلاع میں ممکنہ موسلا دھار بارشوں کی وارننگ جاری کی ہے۔</strong></p>
<p>این ڈی ایم اے کے مطابق لاہور، سیالکوٹ، نارووال، شیخوپورہ، چنیوٹ، سرگودھا، بھکر، میانوالی اور فیصل آباد سمیت پہلے سے سیلاب زدہ علاقوں میں مزید بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال مزید سنگین ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ مری، راولپنڈی، جہلم، اٹک، منڈی بہاؤالدین، گجرات، گوجرانوالہ، حافظ آباد، ڈیرہ غازی خان، ساہیوال، ملتان، بہاولنگر، بہاولپور اور رحیم یار خان میں بھی سیلابی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔</p>
<p>بالائی علاقوں میں ممکنہ شدید بارشوں اور دریاؤں میں پانی کے زیادہ بہاؤ کے باعث مرالہ ہیڈ ورکس پر پانی کی سطح میں نمایاں اضافے کا خدشہ ہے جو قریبی علاقوں میں سیلابی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے۔</p>
<p>پنجاب اس وقت اپنی تاریخ کے بدترین سیلابوں میں سے ایک کا سامنا کر رہا ہے اور تباہ کن سیلاب سے تقریباً 20 لاکھ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔</p>
<p>پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) کے ڈائریکٹر جنرل عرفان علی کاٹھیا نے اتوار کو ہیڈ بلوکی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ دریائے راوی اپنے عروج پر ہے اور اگلے 24 گھنٹوں میں خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے۔ اب تک پنجاب میں سیلاب کے باعث 33 ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ راوی کا مرکزی سیلابی ریلا ہیڈ بلوکی سے گزر رہا ہے جس کے باعث خانیوال، اوکاڑہ اور گردونواح کے مزید دیہات زیرِ آب آ سکتے ہیں۔ اوکاڑہ، ساہیوال، کمالیہ، خانیوال اور کبیر والا کے دیہات میں بھی پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ کل تک 1,35,000 کیوسک پانی پاکپتن، بہاولنگر اور وہاڑی تک پہنچنے کا امکان ہے۔</p>
<p>نشئیبی علاقوں اور ندی نالوں کے قریب رہنے والے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ہوشیار رہیں اور غیر ضروری سفر سے گریز کریں کیونکہ پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافے کا امکان ہے۔</p>
<p>عوام اور متعلقہ اداروں سے اپیل کی گئی ہے کہ حفاظتی اقدامات کریں اور خطرے سے دوچار علاقوں سے دور رہیں۔</p>
<p>این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایت کی ہے کہ پیشگی احتیاطی اقدامات کو یقینی بنائیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ زیادہ پانی کے بہاؤ کی صورت میں ندی نالوں، پلوں اور ڈوبی ہوئی سڑکوں کو عبور کرنے سے گریز کریں۔ مقامی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے نشیبی علاقوں میں فوری نکاسی آب کے لیے ضروری مشینری اور پمپ تیار رکھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276499</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Sep 2025 13:42:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/01133929e891319.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/01133929e891319.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
