<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 00:53:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 00:53:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فلسطین کو تسلیم کرنے کی صورت میں اسرائیل کا مغربی کنارے کے انضمام پر غور</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276493/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسرائیل کے سرکاری حکام کے مطابق وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کے اتوار کے اجلاس میں مقبوضہ مغربی کنارے کے ممکنہ الحاق پر غور کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت اس پس منظر میں ہے کہ فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت کئی مغربی ممالک نے ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرنے کے عزم کا اعلان کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیلی حکام کے مطابق الحاق کا دائرہ کار ابھی واضح نہیں ہے کہ آیا یہ صرف بعض یہودی بستیوں تک محدود ہوگا یا اردن کی وادی سمیت مخصوص علاقوں پر بھی محیط ہوگا۔ ماضی میں نیتن یاہو نے مغربی کنارے کے الحاق کا وعدہ کیا تھا لیکن 2020 میں یہ منصوبہ ابراہیم معاہدوں کے تحت عرب ریاستوں سے تعلقات معمول پر لانے کے بدلے معطل کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فلسطینی قیادت نے اس حوالے سے فوری ردعمل نہیں دیا، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام شدید بین الاقوامی مذمت کا باعث بنے گا۔ امریکہ نے حال ہی میں صدر محمود عباس کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دینے سے بھی انکار کیا ہے۔ واشنگٹن کی خاموشی کے باعث یہ بھی واضح نہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے پر کیا موقف اختیار کریں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>اسرائیل کے سرکاری حکام کے مطابق وزیرِاعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ کے اتوار کے اجلاس میں مقبوضہ مغربی کنارے کے ممکنہ الحاق پر غور کیا جائے گا۔ یہ پیش رفت اس پس منظر میں ہے کہ فرانس، برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت کئی مغربی ممالک نے ستمبر میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران فلسطینی ریاست کو باضابطہ تسلیم کرنے کے عزم کا اعلان کیا ہے۔</strong></p>
<p>اسرائیلی حکام کے مطابق الحاق کا دائرہ کار ابھی واضح نہیں ہے کہ آیا یہ صرف بعض یہودی بستیوں تک محدود ہوگا یا اردن کی وادی سمیت مخصوص علاقوں پر بھی محیط ہوگا۔ ماضی میں نیتن یاہو نے مغربی کنارے کے الحاق کا وعدہ کیا تھا لیکن 2020 میں یہ منصوبہ ابراہیم معاہدوں کے تحت عرب ریاستوں سے تعلقات معمول پر لانے کے بدلے معطل کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>فلسطینی قیادت نے اس حوالے سے فوری ردعمل نہیں دیا، تاہم امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ایسا کوئی بھی اقدام شدید بین الاقوامی مذمت کا باعث بنے گا۔ امریکہ نے حال ہی میں صدر محمود عباس کو نیویارک میں اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دینے سے بھی انکار کیا ہے۔ واشنگٹن کی خاموشی کے باعث یہ بھی واضح نہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس معاملے پر کیا موقف اختیار کریں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276493</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Sep 2025 12:18:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/09/01121643823813a.webp" type="image/webp" medium="image" height="667" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/09/01121643823813a.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
