<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 09:58:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 09:58:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پپری ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کی تعمیر کیلئے غیر ملکی سرمایہ کاری کی آمد</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276467/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پپری ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کے تعمیراتی کام کا آغاز فوری طور پر 20 ملین امریکی ڈالر کی فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (ایف ڈی آءی) کے ساتھ ہوگا، بعد میں جس کی لاگت مشترکہ منصوبے کے تحت ڈی پی ورلڈ / نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) اور پاکستان ریلوے کے اشتراک سے 400 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی سیکرٹری ریلوے سید مظہر علی شاہ نے جنوری میں بتایا کہ دبئی میں مقیم عالمی لاجسٹکس کمپنی ڈی پی ورلڈ، این ایل سی کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے اس منصوبے کو مکمل کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سید مظہر علی شاہ نے کہا: “ڈی پی ورلڈ اور  این ایل سی کی شراکت میں یہ منصوبہ سرمایہ کاری کے موڈ پر عمل میں لایا جائے گا۔ آج ایک اہم سنگ میل حاصل ہوا ہے! پائیدار ٹرانسپورٹ کے ذریعے کنیکٹوٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ منصوبہ حال ہی میں کیبنٹ کمیٹی برائے انٹر گورنمنٹل کامرشیل ٹرانزیکشنز  کے اجلاس میں منظوری پا چکا ہے، جس کی صدارت نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینئر محمد اسحاق ڈار نے کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری 2025 میں اس منصوبے کا ٹرم شیٹ ڈی پی ورلڈ، این ایل سی اور پاکستان ریلوے کے درمیان دستخط کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منصوبے کے فعال ہونے پر پورٹ کی بھیڑ کم ہوگی، تجارتی سہولت میں تیزی آئے گی اور پاکستان کا لاجسٹک انفراسٹرکچر جدید ہوگا، جو درآمدات، برآمدات اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ کراچی پورٹ پر آنے والا سمندری فریٹ زیادہ تر خراب ریلوے کنیکٹوٹی کی وجہ سے سڑک کے ذریعے اندرون ملک منتقل کیا جاتا تھا، تاہم گزشتہ چند سالوں میں وزارت ریلوے نے بوٹ  موڈ کے تحت کراچی پورٹ سے پپری مارشلنگ یارڈ تک نئی ریلوے لائن کے قیام کی حوصلہ افزائی کی، جو نہ صرف سڑک کی بھیڑ کم کرے گی بلکہ جہازوں سے فریٹ کی تیز تر لوڈنگ اور پورٹ ایریا سے فوری روانگی بھی ممکن بنائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ فریٹ پپری یارڈ منتقل کیا جائے گا اور پھر ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے اندرون ملک بھیجی جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنوری 2024 میں دبئی اور پاکستان کی حکومتوں نے پورٹ قاسم میں اقتصادی زون کے قیام اور نیویگیشن چینل کی ڈریجنگ کے لیے فریم ورک معاہدے کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان معاہدوں میں کراچی پورٹ سے پپری مارشلنگ یارڈ (45 کلومیٹر) تک مخصوص فریٹ کوریڈور کی تخلیق، پورٹ قاسم کے نیویگیشن چینل کی کیپٹل ڈریجنگ اور ممکنہ اقتصادی زون کی ترقی شامل ہے، تاکہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کو راغب کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس منصوبے کے نفاذ میں ڈی پی ورلڈ دبئی حکومت کی جانب سے اور پاکستان کی جانب سے پاکستان ریلوے اور پورٹ قاسم اتھارٹی عمل کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی پی ورلڈ اور این ایل سی  پہلے سے عالمی لاجسٹک سرگرمیوں میں مصروف ہیں  اور حال ہی میں دونوں کمپنیوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پہلی براہ راست شپنگ روٹ کے آغاز کے بعد 1,000 سے زائد کنٹینرز کی ترسیل کی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پپری ڈیڈیکیٹڈ فریٹ کوریڈور کے تعمیراتی کام کا آغاز فوری طور پر 20 ملین امریکی ڈالر کی فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ (ایف ڈی آءی) کے ساتھ ہوگا، بعد میں جس کی لاگت مشترکہ منصوبے کے تحت ڈی پی ورلڈ / نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن (این ایل سی) اور پاکستان ریلوے کے اشتراک سے 400 ملین امریکی ڈالر تک پہنچ جائے گی۔</strong></p>
<p>وفاقی سیکرٹری ریلوے سید مظہر علی شاہ نے جنوری میں بتایا کہ دبئی میں مقیم عالمی لاجسٹکس کمپنی ڈی پی ورلڈ، این ایل سی کے ساتھ شراکت داری کے ذریعے اس منصوبے کو مکمل کرے گی۔</p>
<p>سید مظہر علی شاہ نے کہا: “ڈی پی ورلڈ اور  این ایل سی کی شراکت میں یہ منصوبہ سرمایہ کاری کے موڈ پر عمل میں لایا جائے گا۔ آج ایک اہم سنگ میل حاصل ہوا ہے! پائیدار ٹرانسپورٹ کے ذریعے کنیکٹوٹی کو یقینی بنایا جائے گا۔</p>
<p>یہ منصوبہ حال ہی میں کیبنٹ کمیٹی برائے انٹر گورنمنٹل کامرشیل ٹرانزیکشنز  کے اجلاس میں منظوری پا چکا ہے، جس کی صدارت نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ سینئر محمد اسحاق ڈار نے کی۔</p>
<p>جنوری 2025 میں اس منصوبے کا ٹرم شیٹ ڈی پی ورلڈ، این ایل سی اور پاکستان ریلوے کے درمیان دستخط کیا گیا تھا۔</p>
<p>منصوبے کے فعال ہونے پر پورٹ کی بھیڑ کم ہوگی، تجارتی سہولت میں تیزی آئے گی اور پاکستان کا لاجسٹک انفراسٹرکچر جدید ہوگا، جو درآمدات، برآمدات اور مجموعی اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دے گا۔</p>
<p>سیکرٹری ریلوے نے بتایا کہ کراچی پورٹ پر آنے والا سمندری فریٹ زیادہ تر خراب ریلوے کنیکٹوٹی کی وجہ سے سڑک کے ذریعے اندرون ملک منتقل کیا جاتا تھا، تاہم گزشتہ چند سالوں میں وزارت ریلوے نے بوٹ  موڈ کے تحت کراچی پورٹ سے پپری مارشلنگ یارڈ تک نئی ریلوے لائن کے قیام کی حوصلہ افزائی کی، جو نہ صرف سڑک کی بھیڑ کم کرے گی بلکہ جہازوں سے فریٹ کی تیز تر لوڈنگ اور پورٹ ایریا سے فوری روانگی بھی ممکن بنائے گی۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ فریٹ پپری یارڈ منتقل کیا جائے گا اور پھر ریلوے نیٹ ورک کے ذریعے اندرون ملک بھیجی جائے گا۔</p>
<p>جنوری 2024 میں دبئی اور پاکستان کی حکومتوں نے پورٹ قاسم میں اقتصادی زون کے قیام اور نیویگیشن چینل کی ڈریجنگ کے لیے فریم ورک معاہدے کیے۔</p>
<p>ان معاہدوں میں کراچی پورٹ سے پپری مارشلنگ یارڈ (45 کلومیٹر) تک مخصوص فریٹ کوریڈور کی تخلیق، پورٹ قاسم کے نیویگیشن چینل کی کیپٹل ڈریجنگ اور ممکنہ اقتصادی زون کی ترقی شامل ہے، تاکہ فارن ڈائریکٹ انویسٹمنٹ کو راغب کیا جا سکے۔</p>
<p>اس منصوبے کے نفاذ میں ڈی پی ورلڈ دبئی حکومت کی جانب سے اور پاکستان کی جانب سے پاکستان ریلوے اور پورٹ قاسم اتھارٹی عمل کریں گے۔</p>
<p>ڈی پی ورلڈ اور این ایل سی  پہلے سے عالمی لاجسٹک سرگرمیوں میں مصروف ہیں  اور حال ہی میں دونوں کمپنیوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پہلی براہ راست شپنگ روٹ کے آغاز کے بعد 1,000 سے زائد کنٹینرز کی ترسیل کی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276467</guid>
      <pubDate>Sun, 31 Aug 2025 16:16:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/31161723c1d6005.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/31161723c1d6005.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
