<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:36 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 02:10:36 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>صدر کے حکم کے خلاف پٹیشنز، ایف بی آر نے سینیٹ کمیٹی کے سامنے تحریری بیان جمع کرا دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276448/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کابینہ ڈویژن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو صرف ان معاملات میں ہائی کورٹس میں صدرِ مملکت کے حکم کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کرنے سے روک رکھا ہے جہاں وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کے حکم کو صدرِ مملکت نے برقرار رکھا ہو۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات ایف بی آر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے سامنے جمع کرائے گئے تحریری بیان میں کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایف بی آر کے چیئرمین کے مطابق، ایف بی آر نے کابینہ ڈویژن کی جانب سے 2016 میں جاری کردہ آفس میمورنڈم کی حدود سے تجاوز نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;موجودہ معاملے میں، کسٹمز اپریزمنٹ کلیکٹریٹ (پی ایم بی کیو)، کراچی نے سندھ ہائی کورٹ میں صدرِ پاکستان کے اس حکم کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کی جو صدر سیکرٹریٹ (پبلک)، ایوان صدر، اسلام آباد کے کنسلٹنٹ (لیگل افیئرز) کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔ یہ حکم ایم/ایس ایم ایچ ٹریڈرز کی جانب سے 22 اپریل 2025 کو دائر کردہ نمائندگی کے نتیجے میں سامنے آیا، جس میں 31 مارچ 2025 کے ایف ٹی او کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ کابینہ ڈویژن کا مذکورہ آفس میمورنڈم واضح طور پر محکموں کو صرف ان صورتوں میں صدرِ پاکستان کے حکم کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کرنے سے روکتا ہے جب ایف ٹی او کے فیصلے کو صدر نے برقرار رکھا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میمورنڈم کے پیرا 2 کے آپریٹو حصے میں درج ہے:
“چونکہ وفاق کا انتظامی اختیار صدرِ پاکستان کے پاس ہے اور ادارے یا تو وفاق نے قائم کیے ہیں یا وہ وفاق کے زیرِ انتظام ہیں، لہٰذا ایف ٹی او کی جانب سے دیے گئے فیصلے/احکامات کو صدرِ پاکستان کی توثیق کے بعد چیلنج کرنا اداروں کے لیے درست نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، موجودہ کیس میں صورتحال مختلف تھی۔ ایف ٹی او نے درآمد کنندہ کی شکایات مسترد کر دی تھیں۔ بعد ازاں ایم/ایس ایم ایچ ٹریڈرز نے صدرِ پاکستان کو نمائندگی دائر کی، جسے صدر نے قبول کر لیا۔ یوں ایف ٹی او کے فیصلے اور صدرِ پاکستان کے فیصلے میں واضح تضاد موجود تھا۔ چونکہ کابینہ ڈویژن کا آفس میمورنڈم صرف ان فیصلوں پر لاگو ہوتا ہے جو صدر کی جانب سے ایف ٹی او کے فیصلے کی توثیق کے بعد دیے جائیں، لہٰذا یہ معاملہ اس پابندی کے دائرے میں نہیں آتا تھا۔ اس لیے کلیکٹریٹ کو سندھ ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرنے کی اجازت دی گئی جو کابینہ ڈویژن کی ہدایات کے عین مطابق ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، کیس کے میرٹ بھی پٹیشن دائر کرنے کے متقاضی تھے کیونکہ اسی درآمد کنندہ سے متعلق دو اسی نوعیت کی رٹ پٹیشنز پہلے ہی سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھیں۔چیئرمین ایف بی آر نے مزید کہا کہ موجودہ کیس (سی پی نمبر 4088/2025) میں عدالت نے محکمہ کے حق میں حکم امتناع بھی جاری کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>کابینہ ڈویژن نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو صرف ان معاملات میں ہائی کورٹس میں صدرِ مملکت کے حکم کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کرنے سے روک رکھا ہے جہاں وفاقی ٹیکس محتسب (ایف ٹی او) کے حکم کو صدرِ مملکت نے برقرار رکھا ہو۔</strong></p>
<p>یہ بات ایف بی آر نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کے سامنے جمع کرائے گئے تحریری بیان میں کہی۔</p>
<p>ایف بی آر کے چیئرمین کے مطابق، ایف بی آر نے کابینہ ڈویژن کی جانب سے 2016 میں جاری کردہ آفس میمورنڈم کی حدود سے تجاوز نہیں کیا۔</p>
<p>موجودہ معاملے میں، کسٹمز اپریزمنٹ کلیکٹریٹ (پی ایم بی کیو)، کراچی نے سندھ ہائی کورٹ میں صدرِ پاکستان کے اس حکم کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کی جو صدر سیکرٹریٹ (پبلک)، ایوان صدر، اسلام آباد کے کنسلٹنٹ (لیگل افیئرز) کی جانب سے جاری کیا گیا تھا۔ یہ حکم ایم/ایس ایم ایچ ٹریڈرز کی جانب سے 22 اپریل 2025 کو دائر کردہ نمائندگی کے نتیجے میں سامنے آیا، جس میں 31 مارچ 2025 کے ایف ٹی او کے حکم کو چیلنج کیا گیا تھا۔ کابینہ ڈویژن کا مذکورہ آفس میمورنڈم واضح طور پر محکموں کو صرف ان صورتوں میں صدرِ پاکستان کے حکم کے خلاف رٹ پٹیشن دائر کرنے سے روکتا ہے جب ایف ٹی او کے فیصلے کو صدر نے برقرار رکھا ہو۔</p>
<p>میمورنڈم کے پیرا 2 کے آپریٹو حصے میں درج ہے:
“چونکہ وفاق کا انتظامی اختیار صدرِ پاکستان کے پاس ہے اور ادارے یا تو وفاق نے قائم کیے ہیں یا وہ وفاق کے زیرِ انتظام ہیں، لہٰذا ایف ٹی او کی جانب سے دیے گئے فیصلے/احکامات کو صدرِ پاکستان کی توثیق کے بعد چیلنج کرنا اداروں کے لیے درست نہیں ہے۔</p>
<p>تاہم، موجودہ کیس میں صورتحال مختلف تھی۔ ایف ٹی او نے درآمد کنندہ کی شکایات مسترد کر دی تھیں۔ بعد ازاں ایم/ایس ایم ایچ ٹریڈرز نے صدرِ پاکستان کو نمائندگی دائر کی، جسے صدر نے قبول کر لیا۔ یوں ایف ٹی او کے فیصلے اور صدرِ پاکستان کے فیصلے میں واضح تضاد موجود تھا۔ چونکہ کابینہ ڈویژن کا آفس میمورنڈم صرف ان فیصلوں پر لاگو ہوتا ہے جو صدر کی جانب سے ایف ٹی او کے فیصلے کی توثیق کے بعد دیے جائیں، لہٰذا یہ معاملہ اس پابندی کے دائرے میں نہیں آتا تھا۔ اس لیے کلیکٹریٹ کو سندھ ہائی کورٹ میں رٹ پٹیشن دائر کرنے کی اجازت دی گئی جو کابینہ ڈویژن کی ہدایات کے عین مطابق ہے۔</p>
<p>مزید برآں، کیس کے میرٹ بھی پٹیشن دائر کرنے کے متقاضی تھے کیونکہ اسی درآمد کنندہ سے متعلق دو اسی نوعیت کی رٹ پٹیشنز پہلے ہی سندھ ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت تھیں۔چیئرمین ایف بی آر نے مزید کہا کہ موجودہ کیس (سی پی نمبر 4088/2025) میں عدالت نے محکمہ کے حق میں حکم امتناع بھی جاری کیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276448</guid>
      <pubDate>Sun, 31 Aug 2025 09:20:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (سہیل سرفراز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/3109193510d8c57.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/3109193510d8c57.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
