<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:08:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان میں سیلاب کی تباہی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276437/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;2025 کے سیلاب صرف پاکستان کی طویل ماحولیاتی آفات کی تاریخ کا ایک اور باب نہیں ہیں؛ بلکہ یہ واضح انتباہ ہیں کہ اگر ہم نے فوری طور پر اقدامات نہ کئے تو مستقبل میں ہمیں کیا درپیش ہو سکتا ہے۔ ہر سال، انسانوں کی زندگیاں اور روزگار کے ذرائع  بہہ کر ختم ہو رہے ہیں، نقصانات کا تخمینہ لگایا جاتا ہے، آنسو بہائے جاتے ہیں، نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کی جاتی ہے، لوگوں کی قوتِ برداشت کا امتحان لیا جاتا ہے، مگر کوئی سبق نہیں سیکھا جاتا۔ ہر بار حکومتیں غیر منظم انداز میں امداد فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن ان کے پاس کوئی واضح معیاری طریقہ کار نہیں ہوتا۔ یہ ردعمل کا چکر اب ختم ہونا چاہیے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ایک مثالی تبدیلی کی ضرورت ہے: ریلیف سے لچک کی طرف، ردعمل سے روک تھام تک اور بکھرے ہوئے ردعمل سے مربوط منصوبہ بندی تک۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بار مون سون کے موسم میں پاکستان کو جن سیلابوں کا سامنا ہے، انہوں نے ایک بار پھر اس ملک کی ماحولیاتی آفات کے لیے عدم تیاری اور کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ شمالی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں تباہ کن موسلا دھار بارشوں سے شروع ہونے والی یہ تباہی پنجاب تک پہنچ چکی ہے، جس کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور اب یہ سیلاب سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ پنجاب کا بیشتر حصہ پہلے ہی زیرِ آب آ چکا ہے اور بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کی وجہ سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;یہ بحران صرف ایک انسانی المیہ نہیں ہے بلکہ یہ ہماری ادارہ جاتی کوتاہیوں، منصوبہ بندی کی ناکامیوں اور بار بار متنبہ کئے جانے کے باوجود بحالی کے اقدامات کیلئے فوری ردعمل کی کمی کا بھی ایک الزام ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;یہ بحران صرف انسانی المیہ نہیں رہا بلکہ اس کا اثر ہولناک رہا ہے۔ جون سے اب تک پورے ملک میں 800 سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں 270 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے، جب کہ کئی لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ پنجاب میں 120 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، اور سندھ میں صورت حال ابتر ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ مجموعی طور پر پنجاب میں 1.2 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے 250,000 کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا۔ دیہی علاقوں میں معاشی ستون سمجھی جانے والی مویشی ہزاروں کی تعداد میں مر چکے ہیں، جس سے تکالیف میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوفناک پیمانے پر بے دخلی ہو چکی ہے۔ پنجاب بھر میں تقریباً 700 ریلیف کیمپ اور 265 طبی سہولتیں قائم کی گئی ہیں، مگر یہ ان افراد کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں جنہوں نے سب کچھ کھو دیا ہے۔ خاندان عارضی پناہ گاہوں میں جمع ہو چکے ہیں، جہاں خوراک کی کمی اور صحت کے خطرات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ آلودہ پانی کے جمع ہونے کے بعد بیماریوں جیسے کہ دست، ہیضہ اور ڈینگی کا سامنا بڑھ جاتا ہے، جس سے پہلے سے ہی کمزور صحت کا نظام مزید دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی نقصانات کا فوری طور پر تخمینہ لگانا مشکل ہے، لیکن ابتدائی جائزے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ گھروں، فصلوں، سڑکوں اور پلوں کی شدید تباہی ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ہی 45 پل اور 200 کلومیٹر سڑکیں بہہ گئیں، جس سے پوری وادیاں کٹ گئیں۔ قومی سطح پر ہزاروں گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ 2022 کے سیلاب کی تباہی کے پیشِ نظر، جس سے تقریباً 40 ارب امریکی ڈالر کا نقصان ہوا، یہ بات واضح ہے کہ 2025 کے سیلاب، جو ابھی مکمل طور پر جانچے نہیں گئے، ایک بار پھر جی ڈی پی کی شرح نمو میں کمی لائیں گے اور مالی مشکلات کو بڑھائیں گے۔ ایک معیشت جو پہلے ہی قرضوں کی ادائیگی، مہنگائی اور کمزور اقتصادی نمو کے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، یہ ایک اور تباہی ہے جو موجودہ بحرانوں میں اضافہ کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ سانحہ کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے، جن میں شامل ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1۔ یہ آفات ہر سال کیوں وقوع پذیر ہوتی ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2۔  ایسی آفات میں ریاست اور این ڈی ایم اے کا کردار کتنے مؤثر ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;3۔ کیا ہم نے پچھلے تجربات سے سبق سیکھا ہے اور مستقبل کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;4۔ کیا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور ڈیموں کا طوفانی پانی روکنے کا انتظام کافی ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;5۔ شہری طوفانی پانی کی نکاسی کے نظام کی مؤثریت کیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;6۔ زمین کے استعمال کے ضوابط کا نفاذ کس حد تک مؤثر ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7۔ جنگلات اور آبی ذخائر کی حفاظت کی حالت کیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;8۔ سرحد پار تعاون کی مؤثریت کیا ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;9۔ عالمی معاونت کے پروگرام کا کیا کردار ہے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو ہر چند سال بعد سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہوتا ہے جو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سبب بنتی ہیں۔ یہ قدرتی آفات دراصل بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں اور ماحولیاتی جھٹکوں کا نتیجہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پہلا نکتہ یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی نے صورتحال کو تبدیل کر دیا ہے۔ گرم ہوا زیادہ نمی رکھتی ہے، جس کے نتیجے میں موسمی بارشوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ ہمالیہ اور قراقرم  کی پہاڑی سلسلے تیز برف پگھلاؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جو نہ صرف دریاؤں کی سطح کو بلند کر رہا ہے بلکہ غیر مستحکم برفانی جھیلوں کی صورت میں خطرات پیدا کر رہا ہے جو پھٹنے کی صورت میں مزید تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ مون سون کی بارشوں کے دوران اچانک ہونے والی بارشیں (کلاؤڈ برسٹ) پہاڑی علاقوں میں فلیش فلڈز پیدا کرتی ہیں، جو انخلا کے لیے کم وقت فراہم کرتی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق نے تصدیق کی ہے کہ عالمی حدت کی وجہ سے پاکستان میں مون سون کی بارشیں 10 سے 15 فیصد زیادہ ہو گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسرا نکتہ ماحولیاتی بدانتظامی ہے جو قدرتی آفات کو بڑھا دیتی ہے۔ (ملک کے) بالائی علاقوں میں بے تحاشا جنگلات کی کٹائی مٹی کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کم کرتی ہے، جبکہ آبی گزرگاہوں پر غیر منظم تعمیرات دریاؤں کے قدرتی راستوں کو روکتی ہیں۔ غیر قانونی بستیاں یا کچی آبادیاں اکثر دشوار گزار علاقوں میں بستی ہیں جہاں نہ تو نکاسی آب کا مناسب نظام ہے اور نہ ہی رہائشی ڈھانچے سیلابوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے غریب افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیسرا نکتہ یہ ہے کہ کمزور انفرااسٹرکچر اور ناقص منصوبہ بندی پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ ملک میں اپنی آبادی اور پانی کی ضروریات کے لحاظ سے بڑے ڈیموں کی کمی ہے، جس سے سیلاب کے دوران پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت محدود رہتی ہے۔ برسوں پرانے اور کم دیکھ بھال والے بیراجز اور بند بار بار ٹوٹ جاتے ہیں۔ شہری علاقوں میں نکاسی آب کے نظام میں خاص طور پر کراچی اور لاہور میں گندگیاں پھنس جانے یا ان کے پرانے ہونے کی وجہ سے شدید بارشوں کے بعد سیلاب آ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوتھا نکتہ سرحدی مسائل ہیں۔ اس موسم میں بھارت کی طرف سے راوی، ستلج اور چناب دریاؤں میں اضافی پانی کے اچانک چھوڑ دینے کی وجہ سے پنجاب کے نشیبی علاقے میں سیلابی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ اگرچہ انڈس واٹرز معاہدہ پانی کی تقسیم کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے، مگر سیلابی موسم میں آپریشنل ہم آہنگی کمزور ہو گئی ہے جس سے پاکستان سیلاب کی لہر سے متاثر ہو رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے انتظام کی رسمی ذمہ دارینیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے پاس ہے، جو 2010 میں قائم ہوا۔ اصولاً یہ صوبائی آفات کے انتظامی اداروں (پی ڈی ایم ایز) اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی، تیاری اور ردعمل کی کارروائی کرتا ہے۔ لیکن حقیقت میں، این ڈی ایم اے کا ادارہ کمزور، ردعمل دینے والا اور اس سطح کے بحرانوں کے دوران حد سے زیادہ پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے نے اس موسم میں ابتدائی انتباہات جاری کیے اور ریلیف و طبی کیمپ قائم کیے، جس سے پنجاب کے کچھ حصوں میں لوگوں کی جانیں بچ گئیں۔ تاہم انخلا کی صورتحال نے کئی سنگین خامیاں اجاگر کیں: پناہ گاہیں ناکافی تھیں، ہم آہنگی کمزور تھی اور مقامی حکومتیں غیرموثر تھیں۔ مسئلہ نیت کا نہیں بلکہ اداروں کی صلاحیت کا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سطح کے سیلاب سے صرف عارضی امدادی اقدامات سے نہیں نمٹا جا سکتا۔ ان کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی، زمین کے استعمال کے ضوابط کی سخت نگرانی، مضبوط انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور کمیونٹی کی سطح پر تیاری کی ضرورت ہے۔ یہ سب ماضی میں غائب رہے ہیں، کیونکہ حکومتیں بحران سے بحران میں مبتلا رہی ہیں اور بنیادی ڈھانچے میں لچک یا پھر سے معمول پر آنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سال کے سیلاب کو ایک الگ سانحہ نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ ایک اور یاد دہانی ہے کہ پاکستان ماحولیاتی طوفان کے مرکز میں واقع ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، پھر بھی یہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اب متعدد محاذوں پر فوری اقدامات کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیموں جیسے کہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کو تیز رفتاری سے مکمل کرنا چاہیے۔ بغیر ذخیرے کے، سیلابی پانی کمیونٹیز کو تباہ کرتا ہے، جب کہ اس پانی کا استعمال زراعت اور توانائی کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح، دریا کے بند، بیراج اور سیلابی چینلز کو فوری طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پانی کے بہاؤ کا بہتر انتظام کیا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہروں میں جدید نکاسی آب کے نظام اور سبز انفرااسٹرکچر، جیسے کہ پرمیبل پیوومنٹس (برساتی پانی جذب کرنے والی سڑکیں)، رین گارڈنز(خصوصی باغات ہوتے ہیں جو بارش کے پانی کو جذب کرنے کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں) اور ریٹینشن پونڈز(برساتی پانی کی مصنوعی جھیلیں)، کی ضرورت ہے تاکہ شدید بارشوں کے دوران پانی جذب ہو سکے۔ نالوں اور برساتی نالوں پر تجاوزات کو مستقل طور پر صاف کیا جانا چاہیے، نہ کہ صرف عارضی طور پر آفات کے بعد۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریاست کو آبی گزرگاہوں پر تعمیرات پر پابندی لگانی چاہیے اور بلڈنگ کوڈز کو نافذ کرنا چاہیے تاکہ عمارتیں شدید بارشوں کا مقابلہ کر سکیں۔ اس کے لیے سیاسی حوصلہ درکار ہے، کیونکہ مفاد پرستوں کو غیر قانونی ترقی سے فائدہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگلات کے پروگرام کو دوبارہ تیز کرنا چاہیے تاکہ پانی کے بہاؤ کو سست کیا جا سکے، ڈھلوانوں کو مستحکم کیا جا سکے اورزمین کے سرکنے یا مٹی کے تودے گرنے کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔ جنگلات قدرتی اسپنج کی طرح کام کرتے ہیں، اور ان کی کمی فلیش فلڈز کو بڑھا دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;این ڈی ایم اے کو مزید وسائل اور تربیت یافتہ عملہ فراہم کیا جانا چاہیے۔ ضلعی سطح پر آفات سے نمٹنے کے یونٹس کو باقاعدہ مشقیں کرنی چاہیے، کھانے پینے سمیت دیگر ضرورت کی اشیاٰء( سپلائیز) ذخیرہ کرنی چاہیے اورممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں کا نقشہ تیار کرنا چاہیے۔ کمیونٹی پر مبنی آفات سے نمٹنے والے گروپوں کو فوری انخلا
میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ کے تحت سیلابی موسم کے پروٹوکولز کی سختی سے عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔ بھارت کے پانی کے اخراج کا پیشگی نوٹس ہزاروں جانیں بچا سکتا ہے۔ بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے سفارتی مداخلت، اگر ضرورت ہو، ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چونکہ ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے، پاکستان کو عالمی سطح پر ”نقصان در نقصان“ کی مالی امداد کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔ 2023 کے جینیوا میں کیے گئے وعدے، جن میں 2022 کے سیلاب کے بعد 9 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی امداد شامل ہے، اس بات کا اشارہ ہیں کہ دنیا پاکستان کی مصیبت کو سمجھتی ہے، لیکن ایسی امداد کو طویل المدتی لچک یا بحالی پروگرام میں تبدیل ہونا چاہیے، نہ کہ صرف عارضی امداد تک محدود رہنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخرکار یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سیلاب کی تباہی کاری روکی نہیں جا سکتی، لیکن اس سے ہونے والے نقصان  پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اب عذر تراشنے یا بہانے بنانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس وقت پاکستان کو جو فوری طور پر درکار ہے وہ ہے دور اندیشی، سیاسی عزم اور مشترکہ عمل ہے تاکہ 2025 کی تباہی 2026 اور اس کے بعد نہ دہرائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>2025 کے سیلاب صرف پاکستان کی طویل ماحولیاتی آفات کی تاریخ کا ایک اور باب نہیں ہیں؛ بلکہ یہ واضح انتباہ ہیں کہ اگر ہم نے فوری طور پر اقدامات نہ کئے تو مستقبل میں ہمیں کیا درپیش ہو سکتا ہے۔ ہر سال، انسانوں کی زندگیاں اور روزگار کے ذرائع  بہہ کر ختم ہو رہے ہیں، نقصانات کا تخمینہ لگایا جاتا ہے، آنسو بہائے جاتے ہیں، نظام کی کمزوریوں کی نشاندہی کی جاتی ہے، لوگوں کی قوتِ برداشت کا امتحان لیا جاتا ہے، مگر کوئی سبق نہیں سیکھا جاتا۔ ہر بار حکومتیں غیر منظم انداز میں امداد فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیں، لیکن ان کے پاس کوئی واضح معیاری طریقہ کار نہیں ہوتا۔ یہ ردعمل کا چکر اب ختم ہونا چاہیے۔</strong></p>
<p>پاکستان کو ایک مثالی تبدیلی کی ضرورت ہے: ریلیف سے لچک کی طرف، ردعمل سے روک تھام تک اور بکھرے ہوئے ردعمل سے مربوط منصوبہ بندی تک۔</p>
<p>اس بار مون سون کے موسم میں پاکستان کو جن سیلابوں کا سامنا ہے، انہوں نے ایک بار پھر اس ملک کی ماحولیاتی آفات کے لیے عدم تیاری اور کمزوری کو بے نقاب کر دیا ہے۔ شمالی علاقوں اور خیبر پختونخوا میں تباہ کن موسلا دھار بارشوں سے شروع ہونے والی یہ تباہی پنجاب تک پہنچ چکی ہے، جس کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں اور اب یہ سیلاب سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ پنجاب کا بیشتر حصہ پہلے ہی زیرِ آب آ چکا ہے اور بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے کی وجہ سے صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>یہ بحران صرف ایک انسانی المیہ نہیں ہے بلکہ یہ ہماری ادارہ جاتی کوتاہیوں، منصوبہ بندی کی ناکامیوں اور بار بار متنبہ کئے جانے کے باوجود بحالی کے اقدامات کیلئے فوری ردعمل کی کمی کا بھی ایک الزام ہے۔</p>
</blockquote>
<p>یہ بحران صرف انسانی المیہ نہیں رہا بلکہ اس کا اثر ہولناک رہا ہے۔ جون سے اب تک پورے ملک میں 800 سے زائد جانیں ضائع ہو چکی ہیں۔ خیبر پختونخوا کے ضلع بونیر میں 270 سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے، جب کہ کئی لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ پنجاب میں 120 سے زائد افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، اور سندھ میں صورت حال ابتر ہونے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ مجموعی طور پر پنجاب میں 1.2 ملین سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں، جن میں سے 250,000 کو اپنے گھروں سے بے دخل ہونا پڑا۔ دیہی علاقوں میں معاشی ستون سمجھی جانے والی مویشی ہزاروں کی تعداد میں مر چکے ہیں، جس سے تکالیف میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔</p>
<p>خوفناک پیمانے پر بے دخلی ہو چکی ہے۔ پنجاب بھر میں تقریباً 700 ریلیف کیمپ اور 265 طبی سہولتیں قائم کی گئی ہیں، مگر یہ ان افراد کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناکافی ہیں جنہوں نے سب کچھ کھو دیا ہے۔ خاندان عارضی پناہ گاہوں میں جمع ہو چکے ہیں، جہاں خوراک کی کمی اور صحت کے خطرات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔ آلودہ پانی کے جمع ہونے کے بعد بیماریوں جیسے کہ دست، ہیضہ اور ڈینگی کا سامنا بڑھ جاتا ہے، جس سے پہلے سے ہی کمزور صحت کا نظام مزید دباؤ کا شکار ہو رہا ہے۔</p>
<p>معاشی نقصانات کا فوری طور پر تخمینہ لگانا مشکل ہے، لیکن ابتدائی جائزے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ گھروں، فصلوں، سڑکوں اور پلوں کی شدید تباہی ہوئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں ہی 45 پل اور 200 کلومیٹر سڑکیں بہہ گئیں، جس سے پوری وادیاں کٹ گئیں۔ قومی سطح پر ہزاروں گھر تباہ ہو چکے ہیں۔ 2022 کے سیلاب کی تباہی کے پیشِ نظر، جس سے تقریباً 40 ارب امریکی ڈالر کا نقصان ہوا، یہ بات واضح ہے کہ 2025 کے سیلاب، جو ابھی مکمل طور پر جانچے نہیں گئے، ایک بار پھر جی ڈی پی کی شرح نمو میں کمی لائیں گے اور مالی مشکلات کو بڑھائیں گے۔ ایک معیشت جو پہلے ہی قرضوں کی ادائیگی، مہنگائی اور کمزور اقتصادی نمو کے چیلنجز کا سامنا کر رہی ہے، یہ ایک اور تباہی ہے جو موجودہ بحرانوں میں اضافہ کرتی ہے۔</p>
<p>یہ سانحہ کئی اہم سوالات کو جنم دیتا ہے، جن میں شامل ہیں:</p>
<p>1۔ یہ آفات ہر سال کیوں وقوع پذیر ہوتی ہیں؟</p>
<p>2۔  ایسی آفات میں ریاست اور این ڈی ایم اے کا کردار کتنے مؤثر ہیں؟</p>
<p>3۔ کیا ہم نے پچھلے تجربات سے سبق سیکھا ہے اور مستقبل کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں؟</p>
<p>4۔ کیا پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اور ڈیموں کا طوفانی پانی روکنے کا انتظام کافی ہے؟</p>
<p>5۔ شہری طوفانی پانی کی نکاسی کے نظام کی مؤثریت کیا ہے؟</p>
<p>6۔ زمین کے استعمال کے ضوابط کا نفاذ کس حد تک مؤثر ہے؟</p>
<p>7۔ جنگلات اور آبی ذخائر کی حفاظت کی حالت کیا ہے؟</p>
<p>8۔ سرحد پار تعاون کی مؤثریت کیا ہے؟</p>
<p>9۔ عالمی معاونت کے پروگرام کا کیا کردار ہے؟</p>
<p>پاکستان کو ہر چند سال بعد سیلاب کی تباہ کاریوں کا سامنا ہوتا ہے جو بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا سبب بنتی ہیں۔ یہ قدرتی آفات دراصل بنیادی ڈھانچے کی کمزوریوں اور ماحولیاتی جھٹکوں کا نتیجہ ہیں۔</p>
<p>پہلا نکتہ یہ ہے کہ ماحولیاتی تبدیلی نے صورتحال کو تبدیل کر دیا ہے۔ گرم ہوا زیادہ نمی رکھتی ہے، جس کے نتیجے میں موسمی بارشوں کی شدت میں اضافہ ہوا ہے۔ ہمالیہ اور قراقرم  کی پہاڑی سلسلے تیز برف پگھلاؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جو نہ صرف دریاؤں کی سطح کو بلند کر رہا ہے بلکہ غیر مستحکم برفانی جھیلوں کی صورت میں خطرات پیدا کر رہا ہے جو پھٹنے کی صورت میں مزید تباہی کا باعث بنتی ہیں۔ مون سون کی بارشوں کے دوران اچانک ہونے والی بارشیں (کلاؤڈ برسٹ) پہاڑی علاقوں میں فلیش فلڈز پیدا کرتی ہیں، جو انخلا کے لیے کم وقت فراہم کرتی ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق نے تصدیق کی ہے کہ عالمی حدت کی وجہ سے پاکستان میں مون سون کی بارشیں 10 سے 15 فیصد زیادہ ہو گئی ہیں۔</p>
<p>دوسرا نکتہ ماحولیاتی بدانتظامی ہے جو قدرتی آفات کو بڑھا دیتی ہے۔ (ملک کے) بالائی علاقوں میں بے تحاشا جنگلات کی کٹائی مٹی کی پانی جذب کرنے کی صلاحیت کم کرتی ہے، جبکہ آبی گزرگاہوں پر غیر منظم تعمیرات دریاؤں کے قدرتی راستوں کو روکتی ہیں۔ غیر قانونی بستیاں یا کچی آبادیاں اکثر دشوار گزار علاقوں میں بستی ہیں جہاں نہ تو نکاسی آب کا مناسب نظام ہے اور نہ ہی رہائشی ڈھانچے سیلابوں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، جس سے غریب افراد سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔</p>
<p>تیسرا نکتہ یہ ہے کہ کمزور انفرااسٹرکچر اور ناقص منصوبہ بندی پاکستان کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کر دیتی ہے۔ ملک میں اپنی آبادی اور پانی کی ضروریات کے لحاظ سے بڑے ڈیموں کی کمی ہے، جس سے سیلاب کے دوران پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت محدود رہتی ہے۔ برسوں پرانے اور کم دیکھ بھال والے بیراجز اور بند بار بار ٹوٹ جاتے ہیں۔ شہری علاقوں میں نکاسی آب کے نظام میں خاص طور پر کراچی اور لاہور میں گندگیاں پھنس جانے یا ان کے پرانے ہونے کی وجہ سے شدید بارشوں کے بعد سیلاب آ جاتے ہیں۔</p>
<p>چوتھا نکتہ سرحدی مسائل ہیں۔ اس موسم میں بھارت کی طرف سے راوی، ستلج اور چناب دریاؤں میں اضافی پانی کے اچانک چھوڑ دینے کی وجہ سے پنجاب کے نشیبی علاقے میں سیلابی صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ اگرچہ انڈس واٹرز معاہدہ پانی کی تقسیم کے لیے ایک فریم ورک فراہم کرتا ہے، مگر سیلابی موسم میں آپریشنل ہم آہنگی کمزور ہو گئی ہے جس سے پاکستان سیلاب کی لہر سے متاثر ہو رہا ہے۔</p>
<p>پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے انتظام کی رسمی ذمہ دارینیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے پاس ہے، جو 2010 میں قائم ہوا۔ اصولاً یہ صوبائی آفات کے انتظامی اداروں (پی ڈی ایم ایز) اور ضلعی انتظامیہ کے ساتھ مل کر منصوبہ بندی، تیاری اور ردعمل کی کارروائی کرتا ہے۔ لیکن حقیقت میں، این ڈی ایم اے کا ادارہ کمزور، ردعمل دینے والا اور اس سطح کے بحرانوں کے دوران حد سے زیادہ پھیلا ہوا نظر آتا ہے۔</p>
<p>این ڈی ایم اے نے اس موسم میں ابتدائی انتباہات جاری کیے اور ریلیف و طبی کیمپ قائم کیے، جس سے پنجاب کے کچھ حصوں میں لوگوں کی جانیں بچ گئیں۔ تاہم انخلا کی صورتحال نے کئی سنگین خامیاں اجاگر کیں: پناہ گاہیں ناکافی تھیں، ہم آہنگی کمزور تھی اور مقامی حکومتیں غیرموثر تھیں۔ مسئلہ نیت کا نہیں بلکہ اداروں کی صلاحیت کا ہے۔</p>
<p>اس سطح کے سیلاب سے صرف عارضی امدادی اقدامات سے نہیں نمٹا جا سکتا۔ ان کے لیے طویل المدتی منصوبہ بندی، زمین کے استعمال کے ضوابط کی سخت نگرانی، مضبوط انفرااسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور کمیونٹی کی سطح پر تیاری کی ضرورت ہے۔ یہ سب ماضی میں غائب رہے ہیں، کیونکہ حکومتیں بحران سے بحران میں مبتلا رہی ہیں اور بنیادی ڈھانچے میں لچک یا پھر سے معمول پر آنے کی صلاحیت پیدا کرنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔</p>
<p>اس سال کے سیلاب کو ایک الگ سانحہ نہ سمجھا جائے، بلکہ یہ ایک اور یاد دہانی ہے کہ پاکستان ماحولیاتی طوفان کے مرکز میں واقع ہے۔ پاکستان عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں ایک فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے، پھر بھی یہ موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں شامل ہے۔ اب متعدد محاذوں پر فوری اقدامات کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>ڈیموں جیسے کہ دیامر بھاشا اور مہمند ڈیم کو تیز رفتاری سے مکمل کرنا چاہیے۔ بغیر ذخیرے کے، سیلابی پانی کمیونٹیز کو تباہ کرتا ہے، جب کہ اس پانی کا استعمال زراعت اور توانائی کے لیے کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح، دریا کے بند، بیراج اور سیلابی چینلز کو فوری طور پر مضبوط کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پانی کے بہاؤ کا بہتر انتظام کیا جا سکے۔</p>
<p>شہروں میں جدید نکاسی آب کے نظام اور سبز انفرااسٹرکچر، جیسے کہ پرمیبل پیوومنٹس (برساتی پانی جذب کرنے والی سڑکیں)، رین گارڈنز(خصوصی باغات ہوتے ہیں جو بارش کے پانی کو جذب کرنے کے لیے ڈیزائن کیے جاتے ہیں) اور ریٹینشن پونڈز(برساتی پانی کی مصنوعی جھیلیں)، کی ضرورت ہے تاکہ شدید بارشوں کے دوران پانی جذب ہو سکے۔ نالوں اور برساتی نالوں پر تجاوزات کو مستقل طور پر صاف کیا جانا چاہیے، نہ کہ صرف عارضی طور پر آفات کے بعد۔</p>
<p>ریاست کو آبی گزرگاہوں پر تعمیرات پر پابندی لگانی چاہیے اور بلڈنگ کوڈز کو نافذ کرنا چاہیے تاکہ عمارتیں شدید بارشوں کا مقابلہ کر سکیں۔ اس کے لیے سیاسی حوصلہ درکار ہے، کیونکہ مفاد پرستوں کو غیر قانونی ترقی سے فائدہ ہوتا ہے۔</p>
<p>جنگلات کے پروگرام کو دوبارہ تیز کرنا چاہیے تاکہ پانی کے بہاؤ کو سست کیا جا سکے، ڈھلوانوں کو مستحکم کیا جا سکے اورزمین کے سرکنے یا مٹی کے تودے گرنے کے خطرات کو کم کیا جا سکے۔ جنگلات قدرتی اسپنج کی طرح کام کرتے ہیں، اور ان کی کمی فلیش فلڈز کو بڑھا دیتی ہے۔</p>
<p>این ڈی ایم اے کو مزید وسائل اور تربیت یافتہ عملہ فراہم کیا جانا چاہیے۔ ضلعی سطح پر آفات سے نمٹنے کے یونٹس کو باقاعدہ مشقیں کرنی چاہیے، کھانے پینے سمیت دیگر ضرورت کی اشیاٰء( سپلائیز) ذخیرہ کرنی چاہیے اورممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں کا نقشہ تیار کرنا چاہیے۔ کمیونٹی پر مبنی آفات سے نمٹنے والے گروپوں کو فوری انخلا
میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔</p>
<p>پاکستان کو سندھ طاس معاہدہ کے تحت سیلابی موسم کے پروٹوکولز کی سختی سے عمل درآمد کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔ بھارت کے پانی کے اخراج کا پیشگی نوٹس ہزاروں جانیں بچا سکتا ہے۔ بین الاقوامی ثالثی کے ذریعے سفارتی مداخلت، اگر ضرورت ہو، ضروری ہے۔</p>
<p>چونکہ ماحولیاتی تبدیلی ایک عالمی مسئلہ ہے، پاکستان کو عالمی سطح پر ”نقصان در نقصان“ کی مالی امداد کے لیے دباؤ ڈالنا چاہیے۔ 2023 کے جینیوا میں کیے گئے وعدے، جن میں 2022 کے سیلاب کے بعد 9 ارب امریکی ڈالر سے زائد کی امداد شامل ہے، اس بات کا اشارہ ہیں کہ دنیا پاکستان کی مصیبت کو سمجھتی ہے، لیکن ایسی امداد کو طویل المدتی لچک یا بحالی پروگرام میں تبدیل ہونا چاہیے، نہ کہ صرف عارضی امداد تک محدود رہنا چاہیے۔</p>
<p>آخرکار یہ سمجھنا ضروری ہے کہ سیلاب کی تباہی کاری روکی نہیں جا سکتی، لیکن اس سے ہونے والے نقصان  پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اب عذر تراشنے یا بہانے بنانے کا وقت گزر چکا ہے۔ اس وقت پاکستان کو جو فوری طور پر درکار ہے وہ ہے دور اندیشی، سیاسی عزم اور مشترکہ عمل ہے تاکہ 2025 کی تباہی 2026 اور اس کے بعد نہ دہرائی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276437</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Aug 2025 17:23:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (فرحت علی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/30155906d1617fd.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/30155906d1617fd.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
