<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 15:11:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت امریکی محصولات کے باوجود کمزور نہیں پڑے گا، وزیرِ تجارت پیوش گوئل</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276427/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ بھارت واشنگٹن کے محصولات کے دباؤ کے باوجود گھٹنے نہیں ٹکے گا بلکہ نئی مارکیٹوں پر توجہ مرکوز کرے گا۔ یہ گوئل کا پہلا عوامی بیان ہے جب امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے ہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی اقدامات کے تحت بھارت کی متعدد درآمدات پر 50 فیصد محصولات اس ہفتے سے نافذ ہوگئے ہیں جو نئی دہلی کی روسی تیل کی بھاری خریداریوں کے جواب میں امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔ یہ اقدام امریکی کوششوں کا حصہ ہے تاکہ ماسکو پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ یوکرین میں جنگ ختم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محصولات کو عالمی تجارت میں وسیع پالیسی ٹول کے طور پر استعمال کیا ہے، جس سے عالمی تجارتی تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعہ کو نئی دہلی میں تعمیراتی صنعت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  پیوش گوئل نے کہا کہ بھارت ہمیشہ تیار ہے، اگر کوئی ہمارے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کرنا چاہے لیکن بھارت نہ کبھی جھکے گا اور نہ کمزور نظر آئے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہم آگے بڑھیں گے اور نئی مارکیٹیں حاصل کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر ٹرمپ کی جانب سے محصولات نے امریکہ-بھارت تعلقات پر دباؤ بڑھایا ہے جبکہ نئی دہلی نے ان محصولات کو ناانصافی، غیر جواز اور غیر معقول قرار دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی مذاکرات زراعت اور ڈیری شعبے میں رکے ہوئے ہیں، جہاں امریکہ کو زیادہ رسائی چاہیے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنے کسانوں کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکہ بھارت کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ تھا، جہاں 2024 میں برآمدات کی مالیت 87.3 ارب ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 50 فیصد محصولات دراصل تجارتی پابندی کے مترادف ہیں اور چھوٹے کاروبار کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل، سمندری خوراک اور زیورات کے برآمد کنندگان نے پہلے ہی امریکہ کے آرڈرز کی منسوخی کی اطلاع دی ہے، جس سے بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے حریفوں کو فائدہ پہنچا اور نوکریوں میں کمی کا خدشہ بڑھ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیوش گویل نے کہا کہ حکومت آئندہ دنوں میں ہر شعبے کی حمایت اور برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات کرے گی اور اعتماد کے ساتھ کہا کہ بھارت کی اس سال کی برآمدات 2024-25 کے اعداد و شمار سے تجاوز کر جائیں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی وزیرِ تجارت پیوش گوئل نے کہا ہے کہ بھارت واشنگٹن کے محصولات کے دباؤ کے باوجود گھٹنے نہیں ٹکے گا بلکہ نئی مارکیٹوں پر توجہ مرکوز کرے گا۔ یہ گوئل کا پہلا عوامی بیان ہے جب امریکہ نے بھارتی مصنوعات پر بھاری محصولات عائد کیے ہیں۔</strong></p>
<p>امریکی اقدامات کے تحت بھارت کی متعدد درآمدات پر 50 فیصد محصولات اس ہفتے سے نافذ ہوگئے ہیں جو نئی دہلی کی روسی تیل کی بھاری خریداریوں کے جواب میں امریکہ کی جانب سے عائد کیے گئے ہیں۔ یہ اقدام امریکی کوششوں کا حصہ ہے تاکہ ماسکو پر دباؤ ڈالا جا سکے کہ وہ یوکرین میں جنگ ختم کرے۔</p>
<p>صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محصولات کو عالمی تجارت میں وسیع پالیسی ٹول کے طور پر استعمال کیا ہے، جس سے عالمی تجارتی تعلقات متاثر ہوئے ہیں۔</p>
<p>جمعہ کو نئی دہلی میں تعمیراتی صنعت کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے  پیوش گوئل نے کہا کہ بھارت ہمیشہ تیار ہے، اگر کوئی ہمارے ساتھ آزاد تجارتی معاہدہ کرنا چاہے لیکن بھارت نہ کبھی جھکے گا اور نہ کمزور نظر آئے گا۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہم آگے بڑھیں گے اور نئی مارکیٹیں حاصل کریں گے۔</p>
<p>صدر ٹرمپ کی جانب سے محصولات نے امریکہ-بھارت تعلقات پر دباؤ بڑھایا ہے جبکہ نئی دہلی نے ان محصولات کو ناانصافی، غیر جواز اور غیر معقول قرار دیا ہے۔</p>
<p>تجارتی مذاکرات زراعت اور ڈیری شعبے میں رکے ہوئے ہیں، جہاں امریکہ کو زیادہ رسائی چاہیے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنے کسانوں کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہیں۔</p>
<p>امریکہ بھارت کی سب سے بڑی برآمدی مارکیٹ تھا، جہاں 2024 میں برآمدات کی مالیت 87.3 ارب ڈالر تھی۔</p>
<p>تاہم ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ 50 فیصد محصولات دراصل تجارتی پابندی کے مترادف ہیں اور چھوٹے کاروبار کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔</p>
<p>ٹیکسٹائل، سمندری خوراک اور زیورات کے برآمد کنندگان نے پہلے ہی امریکہ کے آرڈرز کی منسوخی کی اطلاع دی ہے، جس سے بنگلہ دیش اور ویتنام جیسے حریفوں کو فائدہ پہنچا اور نوکریوں میں کمی کا خدشہ بڑھ گیا۔</p>
<p>پیوش گویل نے کہا کہ حکومت آئندہ دنوں میں ہر شعبے کی حمایت اور برآمدات بڑھانے کے لیے اقدامات کرے گی اور اعتماد کے ساتھ کہا کہ بھارت کی اس سال کی برآمدات 2024-25 کے اعداد و شمار سے تجاوز کر جائیں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276427</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Aug 2025 13:17:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/30130755b50b178.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/30130755b50b178.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
