<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:32:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:32:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پہلی ششماہی میں بینکنگ سیکٹر کو ریکارڈ منافع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276425/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کے بینکنگ سیکٹر نے سال 2025 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اب تک کی بلند ترین ششماہی منافع حاصل کیا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارف حبیب لمیٹڈ کی  جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کے ایس ای-100 انڈیکس میں شامل بینکوں نے پہلی ششماہی 2025 میں بعد از ٹیکس منافع (پی اے ٹی) 326 ارب روپے (1.16 ارب ڈالر) ریکارڈ کیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ مضبوط کارکردگی دوسری سہ ماہی میں بھی جاری رہی جب منافع 160 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو سالانہ بنیادوں پر 23 فیصد اضافہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس کی بنیاد بیلنس شیٹ کی نمو اور متنوع آمدنی کے ذرائع ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیٹ انٹرسٹ انکم (این آئی آئی) نے اس کارکردگی میں سب سے بڑا حصہ ڈالا جو پہلی ششماہی 2025 میں 1 کھرب روپے تک پہنچ گئی، یعنی 22 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی 2025 میں صرف نیٹ انٹرسٹ انکم&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری سہ ماہی میں صرف این آئی آئی 510 ارب روپے رہی جو سالانہ بنیادوں پر 20 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے جس کی بنیاد اثاثوں کے حجم میں توسیع تھی۔ غیر مارک اپ آمدنی پہلی ششماہی میں 255 ارب روپے تک پہنچی (+7 فیصد سالانہ)، جبکہ دوسری سہ ماہی میں 132 ارب روپے رہی (+9 فیصد سالانہ)۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مہنگائی کے دباؤ کے باوجود شعبے نے آپریٹنگ اخراجات میں 18 فیصد اضافہ کے ساتھ 553 ارب روپے تک پہنچنے کے باوجود لاگت کی کفایت شعاری برقرار رکھی، جس کا لاگت سے آمدنی کا تناسب 46 فیصد رہا جو پہلی ششماہی 2024 کے 45.4 فیصد کے مقابلے میں معمولی زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی بینکنگ سیکٹر نمایاں رہا اور سال 2025 کے آغاز سے اب تک 70 فیصد منافع دیا، جو کہ کے ایس ای 100 کے 27 فیصد کے منافع سے کافی آگے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اس ریلی کی بنیاد پہلی نصف سالانہ مدت 2025 میں ریکارڈ منافع، مستحکم اثاثوں کا معیار اور حیران کن ڈیوڈنڈ کے اعلانات تھے، جنہوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل بینک آف پاکستان نے شعبے میں سب سے زیادہ فائدہ حاصل کیا، جس کا اسٹاک پرائس 148 فیصد بڑھا، اس کے بعد یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ 111 فیصد اور عسکری بینک 105 فیصد اضافہ کے ساتھ رہے، جو مضبوط منافع اور سرمایہ کی تقسیم سے مستفید ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈپازٹس بھی تاریخی ریکارڈ تک جا پہنچے جہاں 13 میں سے 11 بینکوں نے ریکارڈ سطح حاصل کی۔ یوبی ایل نے 32 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 4.3 کھرب روپے تک ترقی کی، جبکہ ایچ بی ایل نے سب سے بڑی جمع شدہ رقم برقرار رکھی، جو 5.2 کھرب روپے تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیوڈنڈ کے غیر متوقع اعلانات نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھایا۔ بینک آف پنجاب نے اپنا پہلا عبوری ڈیوڈنڈ 1 روپے فی شیئر کا اعلان کیا، جبکہ عسکری بینک نے 2 روپے فی شیئر ڈیوڈنڈ کا اعلان کیا، جو 2014 کی دوسری سہ ماہی کے بعد پہلا ایسا پے آؤٹ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;اسلامی بینکوں پر منافع میں کمی کا دباؤ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلامی بینکوں کو منافع میں کمی کا سامنا رہا، جو 2025 کی پہلی ششماہی میں 57 ارب روپے تک کم ہو گئی، یعنی سالانہ بنیادوں پر 13 فیصد کمی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ جنوری 2025 سے نافذ ہونے والی ریگولیٹری تبدیلی اور مجموعی شرح سود میں کمی تھی۔ اس کے برعکس روایتی بینکوں نے شرح سود میں کمی کے باوجود پہلی ششماہی 2025 میں منافع میں 29 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بینکنگ سیکٹر نے قومی خزانے میں بھی اہم کردار ادا کیا اور پہلی ششماہی میں 394 ارب روپے ٹیکس ادا کیے جو سالانہ بنیاد پر 44 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے جس کی وجہ زیادہ مؤثر ٹیکس ریٹ تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کے بینکنگ سیکٹر نے سال 2025 کے پہلے چھ ماہ کے دوران اب تک کی بلند ترین ششماہی منافع حاصل کیا ہے۔</strong></p>
<p>عارف حبیب لمیٹڈ کی  جاری کردہ رپورٹ کے مطابق کے ایس ای-100 انڈیکس میں شامل بینکوں نے پہلی ششماہی 2025 میں بعد از ٹیکس منافع (پی اے ٹی) 326 ارب روپے (1.16 ارب ڈالر) ریکارڈ کیا جو گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 19 فیصد زیادہ ہے۔</p>
<p>یہ مضبوط کارکردگی دوسری سہ ماہی میں بھی جاری رہی جب منافع 160 ارب روپے تک پہنچ گیا، جو سالانہ بنیادوں پر 23 فیصد اضافہ ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس کی بنیاد بیلنس شیٹ کی نمو اور متنوع آمدنی کے ذرائع ہیں۔</p>
<p>نیٹ انٹرسٹ انکم (این آئی آئی) نے اس کارکردگی میں سب سے بڑا حصہ ڈالا جو پہلی ششماہی 2025 میں 1 کھرب روپے تک پہنچ گئی، یعنی 22 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق دوسری سہ ماہی 2025 میں صرف نیٹ انٹرسٹ انکم</p>
<p>دوسری سہ ماہی میں صرف این آئی آئی 510 ارب روپے رہی جو سالانہ بنیادوں پر 20 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہے جس کی بنیاد اثاثوں کے حجم میں توسیع تھی۔ غیر مارک اپ آمدنی پہلی ششماہی میں 255 ارب روپے تک پہنچی (+7 فیصد سالانہ)، جبکہ دوسری سہ ماہی میں 132 ارب روپے رہی (+9 فیصد سالانہ)۔</p>
<p>مہنگائی کے دباؤ کے باوجود شعبے نے آپریٹنگ اخراجات میں 18 فیصد اضافہ کے ساتھ 553 ارب روپے تک پہنچنے کے باوجود لاگت کی کفایت شعاری برقرار رکھی، جس کا لاگت سے آمدنی کا تناسب 46 فیصد رہا جو پہلی ششماہی 2024 کے 45.4 فیصد کے مقابلے میں معمولی زیادہ ہے۔</p>
<p>سرمایہ کاری کے شعبے میں بھی بینکنگ سیکٹر نمایاں رہا اور سال 2025 کے آغاز سے اب تک 70 فیصد منافع دیا، جو کہ کے ایس ای 100 کے 27 فیصد کے منافع سے کافی آگے ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اس ریلی کی بنیاد پہلی نصف سالانہ مدت 2025 میں ریکارڈ منافع، مستحکم اثاثوں کا معیار اور حیران کن ڈیوڈنڈ کے اعلانات تھے، جنہوں نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھایا۔</p>
<p>نیشنل بینک آف پاکستان نے شعبے میں سب سے زیادہ فائدہ حاصل کیا، جس کا اسٹاک پرائس 148 فیصد بڑھا، اس کے بعد یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ 111 فیصد اور عسکری بینک 105 فیصد اضافہ کے ساتھ رہے، جو مضبوط منافع اور سرمایہ کی تقسیم سے مستفید ہوئے۔</p>
<p>ڈپازٹس بھی تاریخی ریکارڈ تک جا پہنچے جہاں 13 میں سے 11 بینکوں نے ریکارڈ سطح حاصل کی۔ یوبی ایل نے 32 فیصد سالانہ اضافے کے ساتھ 4.3 کھرب روپے تک ترقی کی، جبکہ ایچ بی ایل نے سب سے بڑی جمع شدہ رقم برقرار رکھی، جو 5.2 کھرب روپے تھی۔</p>
<p>ڈیوڈنڈ کے غیر متوقع اعلانات نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بڑھایا۔ بینک آف پنجاب نے اپنا پہلا عبوری ڈیوڈنڈ 1 روپے فی شیئر کا اعلان کیا، جبکہ عسکری بینک نے 2 روپے فی شیئر ڈیوڈنڈ کا اعلان کیا، جو 2014 کی دوسری سہ ماہی کے بعد پہلا ایسا پے آؤٹ تھا۔</p>
<p><strong>اسلامی بینکوں پر منافع میں کمی کا دباؤ</strong></p>
<p>اسلامی بینکوں کو منافع میں کمی کا سامنا رہا، جو 2025 کی پہلی ششماہی میں 57 ارب روپے تک کم ہو گئی، یعنی سالانہ بنیادوں پر 13 فیصد کمی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اس کی وجہ جنوری 2025 سے نافذ ہونے والی ریگولیٹری تبدیلی اور مجموعی شرح سود میں کمی تھی۔ اس کے برعکس روایتی بینکوں نے شرح سود میں کمی کے باوجود پہلی ششماہی 2025 میں منافع میں 29 فیصد سالانہ اضافہ ریکارڈ کیا۔</p>
<p>بینکنگ سیکٹر نے قومی خزانے میں بھی اہم کردار ادا کیا اور پہلی ششماہی میں 394 ارب روپے ٹیکس ادا کیے جو سالانہ بنیاد پر 44 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے جس کی وجہ زیادہ مؤثر ٹیکس ریٹ تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276425</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Aug 2025 12:51:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (بی آر ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/30122322a23b162.webp" type="image/webp" medium="image" height="611" width="1001">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/30122322a23b162.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
