<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:21:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 10:21:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان آرمینیا کا باضابطہ سفارتی تعلقات کے امکانات کا جائزہ لینے پر اتفاق</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276424/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان کی کئی دہائیوں پر محیط خارجہ پالیسی میں ایک غیر معمولی تبدیلی کے طور پر نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد آرمینیا کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کی آرمینیا کے وزیرِخارجہ آرارات میرزوئیان سے خوشگوار ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس کے دوران دونوں فریقوں نے باضابطہ سفارتی تعلقات کے امکانات کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آرمینیا کے وزیرِ خارجہ آرارات میرزوئیان سے خوشگوار گفتگو ہوئی اور ہم نے پاکستان اور آرمینیا کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے پر غور کرنے پر اتفاق کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرارات میرزوئیان نے بھی اس گفتگو کی تصدیق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کی اور لکھا کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی سطح پر تعمیری تعاون کے وژن کے تحت سفارتی تعلقات قائم کرنے پر بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرارات میرزوئیان نے ایکس پر لکھا کہ میری پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار سے اہم فون کال ہوئی۔ حالیہ پیش رفت اور دوطرفہ و کثیرالجہتی سطح پر تعمیری تعاون کے وژن کے تحت ہم نے آرمینیا اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام پر بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے کبھی آرمینیا کو تسلیم نہیں کیا اور دہائیوں سے جاری نگورنو-کاراباخ تنازع میں ہمیشہ آذربائیجان کا ساتھ دیا ہے۔ تاہم حال ہی میں اسلام آباد نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا، جس سے پاکستان کے مؤقف میں نرمی کی علامت ظاہر ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حال ہی میں اسلام آباد نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا جسے پاکستان کے مؤقف میں نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے کہا کہ جب آرمینیا اور آذربائیجان نے اختلافات ختم کر کے سفارتی تعلقات قائم کر لیے ہیں تو پاکستان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ اس موقع پر انہوں نے باکو اور انقرہ کے لیے اسلام آباد کی حمایت بھی دہرائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یاد دلایا کہ مئی میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران آذربائیجان اور ترکیہ نے پاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائب وزیرِاعظم نے خارجہ امور پر وسیع گفتگو کرتے ہوئے اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ سمیت مختلف کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو اجاگر کیا اور بتایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں کئی ماہ سے جاری تعطل ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جہاں فلسطین سے متعلق ایک اہم سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری میں سہولت فراہم کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسحاق ڈار نے چین کے وزیرِخارجہ وانگ یی کے حالیہ دورۂ اسلام آباد کی تفصیلات بھی شیئر کیں، جس میں سی پیک کے دوسرے مرحلے میں توسیع اور 647 کلومیٹر طویل ٹرانس-افغان رابطہ منصوبے کی پیش رفت پر بات چیت ہوئی، پاکستان نے دو اہم علاقائی انفرااسٹرکچر منصوبوں کے لیے بھی چین کی حمایت طلب کی: پشاور تا افغانستان شاہراہ اور پاکستان-ازبکستان-افغانستان عبوری ریلوے، جن پر بیجنگ نے اصولی طور پر رضامندی ظاہر کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دوران دونوں طرف سے جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کو دوبارہ فعال کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ سارک بنگلہ دیش کا خواب تھا، لیکن ایک ملک کی بالادستی اور ضد کی وجہ سے یہ غیر فعال رہا۔ اسلام آباد اور ڈھاکہ اس فورم کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے تیار ہیں، چاہے اس کا مطلب رکاوٹ ڈالنے والی پارٹی کو شامل نہ کرنا ہی کیوں نہ ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاقائی سلامتی کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد نے کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے آپریٹوز کے خلاف کارروائی کرے یا انہیں پاکستانی حکام کے حوالے کرے۔ سرحدی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے 700 سے زائد نئے چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے حوالے سے انہوں نے پاکستان کے پانی کے حقوق پر موقف دہرایا اور خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی آبی جارحیت کو جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت بات چیت کرنا چاہے تو خوش آمدید؛ اگر نہیں تو ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ افغان حکومت نے حال ہی میں کابل میں پاکستان کے سفیر کو ایک احتجاجی مراسلہ بھی دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان کی کئی دہائیوں پر محیط خارجہ پالیسی میں ایک غیر معمولی تبدیلی کے طور پر نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار نے اعلان کیا ہے کہ اسلام آباد آرمینیا کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے پر غور کرنے کے لیے تیار ہے۔</strong></p>
<p>ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ان کی آرمینیا کے وزیرِخارجہ آرارات میرزوئیان سے خوشگوار ٹیلیفونک گفتگو ہوئی جس کے دوران دونوں فریقوں نے باضابطہ سفارتی تعلقات کے امکانات کا جائزہ لینے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آرمینیا کے وزیرِ خارجہ آرارات میرزوئیان سے خوشگوار گفتگو ہوئی اور ہم نے پاکستان اور آرمینیا کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے پر غور کرنے پر اتفاق کیا۔</p>
<p>آرارات میرزوئیان نے بھی اس گفتگو کی تصدیق سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر کی اور لکھا کہ دونوں ممالک نے دوطرفہ اور کثیرالجہتی سطح پر تعمیری تعاون کے وژن کے تحت سفارتی تعلقات قائم کرنے پر بات چیت کی۔</p>
<p>آرارات میرزوئیان نے ایکس پر لکھا کہ میری پاکستان کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ اسحاق ڈار سے اہم فون کال ہوئی۔ حالیہ پیش رفت اور دوطرفہ و کثیرالجہتی سطح پر تعمیری تعاون کے وژن کے تحت ہم نے آرمینیا اور پاکستان کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام پر بات چیت کی۔</p>
<p>پاکستان نے کبھی آرمینیا کو تسلیم نہیں کیا اور دہائیوں سے جاری نگورنو-کاراباخ تنازع میں ہمیشہ آذربائیجان کا ساتھ دیا ہے۔ تاہم حال ہی میں اسلام آباد نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا، جس سے پاکستان کے مؤقف میں نرمی کی علامت ظاہر ہوئی۔</p>
<p>تاہم حال ہی میں اسلام آباد نے آرمینیا اور آذربائیجان کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی سے طے پانے والے امن معاہدے کا خیرمقدم کیا جسے پاکستان کے مؤقف میں نرمی کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے کہا کہ جب آرمینیا اور آذربائیجان نے اختلافات ختم کر کے سفارتی تعلقات قائم کر لیے ہیں تو پاکستان کے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔ اس موقع پر انہوں نے باکو اور انقرہ کے لیے اسلام آباد کی حمایت بھی دہرائی۔</p>
<p>انہوں نے یاد دلایا کہ مئی میں بھارت کے ساتھ کشیدگی کے دوران آذربائیجان اور ترکیہ نے پاکستان کے موقف کی بھرپور حمایت کی۔</p>
<p>نائب وزیرِاعظم نے خارجہ امور پر وسیع گفتگو کرتے ہوئے اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ سمیت مختلف کثیرالجہتی فورمز پر پاکستان کی سفارتی کاوشوں کو اجاگر کیا اور بتایا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں کئی ماہ سے جاری تعطل ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا، جہاں فلسطین سے متعلق ایک اہم سلامتی کونسل کی قرارداد کی منظوری میں سہولت فراہم کی گئی۔</p>
<p>اسحاق ڈار نے چین کے وزیرِخارجہ وانگ یی کے حالیہ دورۂ اسلام آباد کی تفصیلات بھی شیئر کیں، جس میں سی پیک کے دوسرے مرحلے میں توسیع اور 647 کلومیٹر طویل ٹرانس-افغان رابطہ منصوبے کی پیش رفت پر بات چیت ہوئی، پاکستان نے دو اہم علاقائی انفرااسٹرکچر منصوبوں کے لیے بھی چین کی حمایت طلب کی: پشاور تا افغانستان شاہراہ اور پاکستان-ازبکستان-افغانستان عبوری ریلوے، جن پر بیجنگ نے اصولی طور پر رضامندی ظاہر کی۔</p>
<p>اس دوران دونوں طرف سے جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون کی تنظیم (سارک) کو دوبارہ فعال کرنے کی ضرورت پر اتفاق کیا گیا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ سارک بنگلہ دیش کا خواب تھا، لیکن ایک ملک کی بالادستی اور ضد کی وجہ سے یہ غیر فعال رہا۔ اسلام آباد اور ڈھاکہ اس فورم کو دوبارہ فعال کرنے کے لیے تیار ہیں، چاہے اس کا مطلب رکاوٹ ڈالنے والی پارٹی کو شامل نہ کرنا ہی کیوں نہ ہو۔</p>
<p>علاقائی سلامتی کے حوالے سے اسحاق ڈار نے کہا کہ اسلام آباد نے کابل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے آپریٹوز کے خلاف کارروائی کرے یا انہیں پاکستانی حکام کے حوالے کرے۔ سرحدی تحفظ کو مضبوط بنانے کے لیے 700 سے زائد نئے چیک پوسٹیں قائم کی گئی ہیں۔</p>
<p>بھارت کے حوالے سے انہوں نے پاکستان کے پانی کے حقوق پر موقف دہرایا اور خبردار کیا کہ کسی بھی قسم کی آبی جارحیت کو جنگ کے مترادف سمجھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت بات چیت کرنا چاہے تو خوش آمدید؛ اگر نہیں تو ہمارے لیے کوئی مسئلہ نہیں۔</p>
<p>انہوں نے یہ بھی تصدیق کی کہ افغان حکومت نے حال ہی میں کابل میں پاکستان کے سفیر کو ایک احتجاجی مراسلہ بھی دیا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276424</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Aug 2025 12:09:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید صدیقی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/3012032700237a2.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/3012032700237a2.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
