<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 00:38:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پی ایس ڈی پی منصوبے: وزارت منصوبہ بندی نے آئی ایم ایف کو فنڈز کی حد 2 فیصد مقرر کرنے سے آگاہ کر دیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276420/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایک پارلیمانی کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارتِ منصوبہ بندی نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو آگاہ کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز پر دو فیصد کی حد مقرر کی گئی ہے، جو فنڈ کی تجویز کردہ 10 فیصد سے نمایاں طور پر کم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کے اجلاس کی صدارت سینیٹر قرۃ العین مری نے کی۔ اجلاس میں وفاقی سیکرٹری منصوبہ بندی و رکن کوآرڈینیشن اویس منظور سمرہ نے پی ایس ڈی پی سے متعلق آئی ایم ایف کی سفارشات پر بریفنگ دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ فنڈ نے ایک تفصیلی سوالنامہ جمع کرایا ہے جس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس  اور پبلک انویسٹمنٹ مینجمنٹ  جیسے شعبے شامل ہیں، جو منصوبہ بندی کمیشن کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اویس منظور سمرہ نے وضاحت کی کہ وسائل کی کمی کے باعث پی ایس ڈی پی 2025-26 زیادہ تر قومی اہمیت کے جاری منصوبوں پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 فیصد حد ہمارے لیے ممکن نہیں، اس لیے دو فیصد کی حد نافذ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ پی ایس ڈی پی 2024-25 کے جائزے کے نتیجے میں 2.52 کھرب روپے مالیت کے 344 منصوبے مکمل یا بند کر دیے گئے ہیں، جس سے آئندہ اخراجات تقریباً 2.16 کھرب روپے کم ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ نئے منصوبوں پر 10 فیصد کی سخت حد نافذ ہے، لیکن موجودہ مالی بوجھ نمایاں طور پر کم ہو کر صرف دو فیصد رہ گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کی اسکیمیں کابینہ ڈویژن کے دائرہ کار میں آتی ہیں جبکہ حکومت پی ایس ڈی پی 2025-26 میں تیز رفتار اور اعلیٰ اثرات والے میگا منصوبوں کو ترجیح دینے کی حکمت عملی جاری رکھے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمرہ نے بتایا کہ پی ایس ڈی پی کے عمل کو جدید بنانے کے لیے آٹومیشن ٹولز اپنائے جا رہے ہیں جبکہ سست روی کا شکار منصوبوں سے فنڈز کو تقریباً مکمل ہونے والے اور غیر ملکی امداد یافتہ منصوبوں کی طرف منتقل کرنے کے لیے ری اپروپریشنز اور ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس (ٹی ایس جیز) بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی ایم ایف کی ڈائیگنوسٹک رپورٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فنڈ نے منصوبوں کی ترجیحات میں خامیاں، تاخیر، لاگت میں اضافہ اور فنڈز کے غیر مؤثر تحفظ جیسے مسائل کی نشاندہی کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر قرۃ العین مری نے زور دیا کہ کمیٹی کی سابقہ سفارشات کے مطابق نئے منصوبے شروع کرنے سے پہلے جاری منصوبے مکمل کرنا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے کمیٹی کو انٹیلیجنٹ پروجیکٹ آٹومیشن سسٹم  سے بھی آگاہ کیا جو منصوبوں کے عمل کو مربوط اور خودکار بنا کر زیادہ درست بجٹ سازی اور بروقت فنڈز کے اجرا کو ممکن بنائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے کمیٹی کو سکھر-حیدرآباد-کراچی موٹروے (M-6) اور کراچی-کوئٹہ-چمن روڈ (N-25) پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایم-6 میں حیدرآباد سے سکھر تک پانچ حصے شامل ہیں، جن میں نوشہروفیروز-رانی پور اور رانی پور-سکھر کے حصے پہلے مرحلے میں ترجیح دیے جائیں گے، اور بورڈ کی منظوری ستمبر 2025 میں متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹر قرۃ العین مری نے ایم-6 منصوبے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے این ایچ اے کی کارکردگی پر تنقید کی اور خبردار کیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید چار ماہ کی توسیع ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے این ایچ اے کو ہدایت دی کہ اکتوبر 2025 تک منصوبے پر کام شروع کیا جائے، ورنہ معاملہ ایوانِ بالا کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ مزید برآں، انہوں نے اقتصادی امور ڈویژن اور متعلقہ محکموں کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کی ہدایت دی تاکہ منصوبے پر عمل درآمد تیز کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر جامع بریفنگ دی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایک پارلیمانی کمیٹی کو بتایا گیا کہ وزارتِ منصوبہ بندی نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کو آگاہ کیا ہے کہ مالی سال 2025-26 کے لیے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص فنڈز پر دو فیصد کی حد مقرر کی گئی ہے، جو فنڈ کی تجویز کردہ 10 فیصد سے نمایاں طور پر کم ہے۔</strong></p>
<p>سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی کے اجلاس کی صدارت سینیٹر قرۃ العین مری نے کی۔ اجلاس میں وفاقی سیکرٹری منصوبہ بندی و رکن کوآرڈینیشن اویس منظور سمرہ نے پی ایس ڈی پی سے متعلق آئی ایم ایف کی سفارشات پر بریفنگ دی۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ فنڈ نے ایک تفصیلی سوالنامہ جمع کرایا ہے جس میں پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپس  اور پبلک انویسٹمنٹ مینجمنٹ  جیسے شعبے شامل ہیں، جو منصوبہ بندی کمیشن کے دائرہ کار میں آتے ہیں۔</p>
<p>اویس منظور سمرہ نے وضاحت کی کہ وسائل کی کمی کے باعث پی ایس ڈی پی 2025-26 زیادہ تر قومی اہمیت کے جاری منصوبوں پر مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 فیصد حد ہمارے لیے ممکن نہیں، اس لیے دو فیصد کی حد نافذ کی گئی ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ پی ایس ڈی پی 2024-25 کے جائزے کے نتیجے میں 2.52 کھرب روپے مالیت کے 344 منصوبے مکمل یا بند کر دیے گئے ہیں، جس سے آئندہ اخراجات تقریباً 2.16 کھرب روپے کم ہوئے۔</p>
<p>اگرچہ نئے منصوبوں پر 10 فیصد کی سخت حد نافذ ہے، لیکن موجودہ مالی بوجھ نمایاں طور پر کم ہو کر صرف دو فیصد رہ گیا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ اراکین پارلیمنٹ کی اسکیمیں کابینہ ڈویژن کے دائرہ کار میں آتی ہیں جبکہ حکومت پی ایس ڈی پی 2025-26 میں تیز رفتار اور اعلیٰ اثرات والے میگا منصوبوں کو ترجیح دینے کی حکمت عملی جاری رکھے گی۔</p>
<p>سمرہ نے بتایا کہ پی ایس ڈی پی کے عمل کو جدید بنانے کے لیے آٹومیشن ٹولز اپنائے جا رہے ہیں جبکہ سست روی کا شکار منصوبوں سے فنڈز کو تقریباً مکمل ہونے والے اور غیر ملکی امداد یافتہ منصوبوں کی طرف منتقل کرنے کے لیے ری اپروپریشنز اور ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس (ٹی ایس جیز) بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔</p>
<p>آئی ایم ایف کی ڈائیگنوسٹک رپورٹ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فنڈ نے منصوبوں کی ترجیحات میں خامیاں، تاخیر، لاگت میں اضافہ اور فنڈز کے غیر مؤثر تحفظ جیسے مسائل کی نشاندہی کی ہے۔</p>
<p>سینیٹر قرۃ العین مری نے زور دیا کہ کمیٹی کی سابقہ سفارشات کے مطابق نئے منصوبے شروع کرنے سے پہلے جاری منصوبے مکمل کرنا ضروری ہے۔</p>
<p>وزارت نے کمیٹی کو انٹیلیجنٹ پروجیکٹ آٹومیشن سسٹم  سے بھی آگاہ کیا جو منصوبوں کے عمل کو مربوط اور خودکار بنا کر زیادہ درست بجٹ سازی اور بروقت فنڈز کے اجرا کو ممکن بنائے گا۔</p>
<p>علاوہ ازیں، نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے کمیٹی کو سکھر-حیدرآباد-کراچی موٹروے (M-6) اور کراچی-کوئٹہ-چمن روڈ (N-25) پر پیش رفت سے آگاہ کیا۔</p>
<p>کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایم-6 میں حیدرآباد سے سکھر تک پانچ حصے شامل ہیں، جن میں نوشہروفیروز-رانی پور اور رانی پور-سکھر کے حصے پہلے مرحلے میں ترجیح دیے جائیں گے، اور بورڈ کی منظوری ستمبر 2025 میں متوقع ہے۔</p>
<p>سینیٹر قرۃ العین مری نے ایم-6 منصوبے میں تاخیر پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے این ایچ اے کی کارکردگی پر تنقید کی اور خبردار کیا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید چار ماہ کی توسیع ہرگز قبول نہیں کی جائے گی۔</p>
<p>انہوں نے این ایچ اے کو ہدایت دی کہ اکتوبر 2025 تک منصوبے پر کام شروع کیا جائے، ورنہ معاملہ ایوانِ بالا کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ مزید برآں، انہوں نے اقتصادی امور ڈویژن اور متعلقہ محکموں کو آئندہ اجلاس میں طلب کرنے کی ہدایت دی تاکہ منصوبے پر عمل درآمد تیز کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات پر جامع بریفنگ دی جا سکے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276420</guid>
      <pubDate>Sat, 30 Aug 2025 10:57:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (نوید بٹ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/30105137fd66391.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/30105137fd66391.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
