<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:18 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:18 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کے لیے سیلابی امداد: ایشیائی ترقیاتی بینک کا 30 لاکھ ڈالر ہنگامی گرانٹ کا اعلان</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276416/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان میں حالیہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ایمرجنسی ریلیف سرگرمیوں کے لیے ایشیا پیسفک ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ سے 3 ملین ڈالر کی گرانٹ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان جمعے کو اے ڈی بی کے جاری کردہ ایک بیان میں کیا گیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق رواں مون سون سیزن میں اب تک 800 سے زائد افراد بارشوں اور سیلاب سے متعلق واقعات کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کے صدر ماساتو کانڈا نے پاکستان میں شدید مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ایشیائی ترقیاتی بینک، پاکستان کی حکومت کی درخواست پر، ہنگامی امدادی سرگرمیوں میں مدد کے لیے 3 ملین ڈالر کی گرانٹ فراہم کرے گا۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماساتو کانڈا نے مزید کہا کہ ”پاکستان اس وقت شدید نوعیت کے سیلابی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جس نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ اے ڈی بی اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس امداد کو پاکستان کے عوام کے ساتھ طویل مدتی ترقیاتی شراکت اور فوری انسانی ضروریات دونوں کے حوالے سے بینک کے پائیدار عزم کا مظہر قرار دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستانی حکام نے جمعے کو بتایا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے، دریا کا پانی مشترکہ طور پر استعمال کرنے کے معاہدے کی معطلی اور ایک بھارتی بیراج کے گیٹ ٹوٹنے کے باعث پاکستان میں سیلاب کی شدت میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہفتے بھارت اور پاکستان دونوں ممالک شدید مون سون بارشوں کی زد میں رہے ہیں، جب کہ آئندہ دنوں میں مزید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعے کے روز سیلابی پانی لاہور کے نواحی علاقوں تک پہنچ گیا اور جھنگ شہر کے ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہو گیا، جو کہ اس خطے میں تقریباً چالیس برسوں میں بدترین سیلاب کی شکل اختیار کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریائے راوی، چناب اور ستلج کی طغیانی سے آس پاس کے دیہات زیرِ آب آگئے ہیں جب کہ کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/291927453cde479.webp'  alt=' ۔ ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;۔&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر ماساتو کانڈا ان دنوں تین روزہ دورے پر پاکستان میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے جمعے کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ملاقات میں پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، نجی شعبے کی شمولیت میں اضافے اور پاکستان کو عالمی سطح پر صاف توانائی کی منتقلی کے لیے درکار اہم معدنیات کے ایک اسٹریٹیجک سپلائر کے طور پر پیش کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ”گفتگو میں ٹرانسپورٹ، توانائی، اور شہری انفراسٹرکچر میں اے ڈی بی کی اہم سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے ذریعے انسانی سرمائے کی ترقی جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماساتو کانڈا نے ملکی اصلاحاتی عمل میں پاکستان کی پیش رفت کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ حالیہ عرصے میں عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری، مقامی وسائل کی بہتر تنظیم اور وصولی کی مظہر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اے ڈی بی کے مستقل عزم کا اعادہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں ملاقات میں 21 اگست کو ریکوڈک مائننگ پراجیکٹ کے لیے منظور کیے گئے 410 ملین ڈالر کے فنانسنگ پیکیج پر بھی گفتگو ہوئی، جو گزشتہ 40 برس کے بعد کان کنی کے شعبے میں اے ڈی بی کی واپسی کی علامت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریکوڈک کو دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبا-سونے کے ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے، اور یہ منصوبہ پاکستان کو عالمی سطح پر اہم معدنیات کے سپلائر کے طور پر متعارف کرانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کے مطابق پاکستان 1966 سے بینک کا بانی رکن ہے، اور اب تک اے ڈی بی پاکستان میں 43 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکا ہے، جس کا مقصد جامع ترقی، توانائی، ٹرانسپورٹ، انفرااسٹرکچر، اور سماجی خدمات کی بہتری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ڈی بی کی موجودہ سوفریئن پورٹ فولیو میں تقریباً 9 ارب ڈالر مالیت کے 44 منصوبے شامل ہیں، جو مختلف شعبوں میں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستان میں حالیہ سیلابی صورتحال کے پیشِ نظر ایمرجنسی ریلیف سرگرمیوں کے لیے ایشیا پیسفک ڈیزاسٹر ریسپانس فنڈ سے 3 ملین ڈالر کی گرانٹ فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان جمعے کو اے ڈی بی کے جاری کردہ ایک بیان میں کیا گیا۔</strong></p>
<p>نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے مطابق رواں مون سون سیزن میں اب تک 800 سے زائد افراد بارشوں اور سیلاب سے متعلق واقعات کے باعث جان کی بازی ہار چکے ہیں۔</p>
<p>اے ڈی بی کے صدر ماساتو کانڈا نے پاکستان میں شدید مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ”ایشیائی ترقیاتی بینک، پاکستان کی حکومت کی درخواست پر، ہنگامی امدادی سرگرمیوں میں مدد کے لیے 3 ملین ڈالر کی گرانٹ فراہم کرے گا۔“</p>
<p>ماساتو کانڈا نے مزید کہا کہ ”پاکستان اس وقت شدید نوعیت کے سیلابی بحران کا سامنا کر رہا ہے، جس نے ہزاروں خاندانوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ اے ڈی بی اس مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔“</p>
<p>انہوں نے اس امداد کو پاکستان کے عوام کے ساتھ طویل مدتی ترقیاتی شراکت اور فوری انسانی ضروریات دونوں کے حوالے سے بینک کے پائیدار عزم کا مظہر قرار دیا۔</p>
<p>دوسری جانب پاکستانی حکام نے جمعے کو بتایا ہے کہ بھارت کی جانب سے دریاؤں میں پانی چھوڑنے، دریا کا پانی مشترکہ طور پر استعمال کرنے کے معاہدے کی معطلی اور ایک بھارتی بیراج کے گیٹ ٹوٹنے کے باعث پاکستان میں سیلاب کی شدت میں اضافہ ہوا۔</p>
<p>اس ہفتے بھارت اور پاکستان دونوں ممالک شدید مون سون بارشوں کی زد میں رہے ہیں، جب کہ آئندہ دنوں میں مزید طوفانی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔</p>
<p>جمعے کے روز سیلابی پانی لاہور کے نواحی علاقوں تک پہنچ گیا اور جھنگ شہر کے ڈوبنے کا خطرہ لاحق ہو گیا، جو کہ اس خطے میں تقریباً چالیس برسوں میں بدترین سیلاب کی شکل اختیار کر چکا ہے۔</p>
<p>دریائے راوی، چناب اور ستلج کی طغیانی سے آس پاس کے دیہات زیرِ آب آگئے ہیں جب کہ کھڑی فصلیں بھی تباہ ہو چکی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.brecorder.com/primary/2025/08/291927453cde479.webp'  alt=' ۔ ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>۔</figcaption>
    </figure></p>
<p>ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) کے صدر ماساتو کانڈا ان دنوں تین روزہ دورے پر پاکستان میں موجود ہیں، جہاں انہوں نے جمعے کے روز وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔</p>
<p>اے ڈی بی کے جاری کردہ بیان کے مطابق، ملاقات میں پاکستان میں بنیادی ڈھانچے کی ترقی، نجی شعبے کی شمولیت میں اضافے اور پاکستان کو عالمی سطح پر صاف توانائی کی منتقلی کے لیے درکار اہم معدنیات کے ایک اسٹریٹیجک سپلائر کے طور پر پیش کرنے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔</p>
<p>بیان میں کہا گیا کہ ”گفتگو میں ٹرانسپورٹ، توانائی، اور شہری انفراسٹرکچر میں اے ڈی بی کی اہم سرمایہ کاری کے ساتھ ساتھ تعلیم اور صحت کے شعبوں کے ذریعے انسانی سرمائے کی ترقی جیسے موضوعات زیرِ بحث آئے۔“</p>
<p>ماساتو کانڈا نے ملکی اصلاحاتی عمل میں پاکستان کی پیش رفت کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ حالیہ عرصے میں عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسیوں کی جانب سے پاکستان کی ریٹنگ میں بہتری، مقامی وسائل کی بہتر تنظیم اور وصولی کی مظہر ہے۔</p>
<p>انہوں نے پاکستان کے ساتھ شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے اے ڈی بی کے مستقل عزم کا اعادہ کیا۔</p>
<p>مزید برآں ملاقات میں 21 اگست کو ریکوڈک مائننگ پراجیکٹ کے لیے منظور کیے گئے 410 ملین ڈالر کے فنانسنگ پیکیج پر بھی گفتگو ہوئی، جو گزشتہ 40 برس کے بعد کان کنی کے شعبے میں اے ڈی بی کی واپسی کی علامت ہے۔</p>
<p>ریکوڈک کو دنیا کے سب سے بڑے غیر ترقی یافتہ تانبا-سونے کے ذخائر میں شمار کیا جاتا ہے، اور یہ منصوبہ پاکستان کو عالمی سطح پر اہم معدنیات کے سپلائر کے طور پر متعارف کرانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>اے ڈی بی کے مطابق پاکستان 1966 سے بینک کا بانی رکن ہے، اور اب تک اے ڈی بی پاکستان میں 43 ارب ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری کر چکا ہے، جس کا مقصد جامع ترقی، توانائی، ٹرانسپورٹ، انفرااسٹرکچر، اور سماجی خدمات کی بہتری ہے۔</p>
<p>اے ڈی بی کی موجودہ سوفریئن پورٹ فولیو میں تقریباً 9 ارب ڈالر مالیت کے 44 منصوبے شامل ہیں، جو مختلف شعبوں میں جاری ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276416</guid>
      <pubDate>Fri, 29 Aug 2025 20:36:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ریحان ایوب)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/2920155009dbc56.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/2920155009dbc56.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
