<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - News</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:53:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشن پر مبنی گورننس</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276410/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;”وفاقی دستاویزات“ ( دی فیڈرالسٹ پیپرز) اُس وقت منظرِ عام پر آئیں جب آئینی کنونشن کا انعقاد عمل میں آ چکا تھا۔ ان تحریروں، بالخصوص الیگزینڈر ہیملٹن کی تحریروں میں، ریاست کو محض ایک ردِعمل دینے والے ادارے کے بجائے ایک فعال اور فیصلہ کن اقتصادی قوت کے طور پر پیش کیا گیا۔ ہیملٹن کا خیال تھا کہ حکومت نہ صرف معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے بلکہ وہ خود اقتصادی عمل کا ایک مرکزی محرک بھی ہو سکتی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیملٹن نے یہ واضح طور پر محسوس کیا کہ اگر نئی امریکی حکومت اتحاد کا مظاہرہ کرے، تو وہ نہ صرف داخلی ترقی کے لیے سازگار حالات پیدا کر سکتی ہے بلکہ عالمی نظامِ ریاست میں بھی اپنا مؤثر مقام بنا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تصور میں حکومت محض نجی شعبے کے اقدامات پر ردِعمل ظاہر کرنے والی قوت نہیں بلکہ ترقی کا ایک ابتدائی اور اہم ذریعہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہیملٹن کی سوچ یہ تھی کہ نئی امریکی ریاست کو بڑی طاقتوں کی شرائط پر خاموشی سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے، جس طرح آج کی کئی نوآبادیاتی تاریخ رکھنے والی معیشتوں کا حال ہے،اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تجارتی نظام میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیگزینڈر ہیملٹن بخوبی سمجھتے تھے کہ معیشت میں ریاست کا موثر کردار کسی قدرتی ارتقائی عمل، جیسا کہ ایڈم اسمتھ کے ”غیر مرئی ہاتھ“ ( ان وزایبل ہینڈ) کے نظریے میں بیان کیا گیا ہے، کے ذریعے ازخود نمودار نہیں ہوگا۔ اُن کے نزدیک اس کے لیے منظم منصوبہ بندی اور ریاست کی جانب سے ایک فعال اور سنجیدہ پیش رفت درکار تھی۔
(ماخوذ از: 2021 میں شائع ہونے والی کتاب Public Purpose: Industrial Policy’s Comeback and Government’s Role in Shared Prosperity کا باب Alexander Hamilton’s State-focused Economy)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے سنگین بحران اور اس سے جڑے ”وبائی عہد“ (پینڈیمیسین) جیسے وجودی خطرات کا سامنا کر رہی ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے نہ صرف ماحولیاتی سطح پر بلکہ معیشت سے متعلق پہلوؤں، جیسا کہ تعلیم، صحت، پانی، وبائی امراض سے نمٹنے کا نظام، اور انتخابی عمل، میں بھی لچک پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ یہی عناصر ماحولیاتی تبدیلی سے مؤثر طور پر ہم آہنگ ہونے اور کرۂ ارض کے درجہ حرارت کو خطرناک حد 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ہدف کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ معیشت کو محض نو لبرل پالیسیوں کے سانچے سے نکال کر ادارہ جاتی، تنظیمی اور منڈی سے متعلقہ اصلاحات کی جائیں، اور سرمایہ دارانہ و اشتراکی نظام کے درمیان ایک توازن قائم کرتے ہوئے سماجی جمہوریت (سوشل ڈیمو کریسی) کی جانب پیش رفت کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، موسمیاتی موافقت اور پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل کی ضرورت ہے، جو کہ موثر کلائمیٹ فنانس اور ترقیاتی سرمایہ کاری سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی گنجائش (فسکل اسپیس) پیدا کرنے اور پالیسی شرح سود ( کوسٹ آف کیپیٹل) کو عقلی سطح پر رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مانیٹری اور مالیاتی کفایت شعاری (آسٹیریٹی) پر مبنی پالیسیوں سے گریز کیا جائے۔ ایسی پالیسیاں افراطِ زر میں کمی کے لیے متوازن طور پر طلب و رسد کی جانب دیکھنے کی راہ ہموار کرتی ہیں، اور ساتھ ہی ایسی ضدِ سائیکل (کاؤئنٹر سائیکل) پالیسیاں ممکن بناتی ہیں جو روایتی اور حالیہ برسوں کی طرح معیشت کو نقصان پہنچانے والی پروسائیکل (پرو سائیکلکل) پالیسیوں کی جگہ لے سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معاشی نمو، روزگار، محصولات، ملکی پیداوار اور برآمدات کو وقتی استحکام کی بھینٹ چڑھانے سے بچانے کے لیے بھی یہی پالیسی رخ اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی گنجائش بڑھانے، زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے، مقامی کرنسی کو تقویت دینے، اور توازنِ ادائیگی کو بہتر بنانے کے لیے بھی قرضوں کی دلدل سے نکلنا ضروری ہے۔ اس کے لیے صرف مقامی سطح پر سختی سے بچنا کافی نہیں بلکہ عالمی سطح پر خودمختار ریاستی قرضوں کی تنظیم نو کے لیے ایک مؤثر اور منصفانہ نظام کی بھی ضرورت ہے۔ یہ صرف اُس وقت ممکن ہے جب اقوامِ عالم میں باہمی تعاون اور کثیرالجہتی (ملٹی لٹریلزم) کا جذبہ موجودہ درجہ سے کہیں زیادہ مضبوط ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ تمام تر صورتحال، جو کہ ایک کثیر رخی اور باہم جُڑی ہوئی عالمی بحرانی کیفیت ہے، اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت ایک ”مشن پر مبنی حکمرانی“ (مشن اورینٹڈ گورننس) کا کردار اپنائے۔ اس کے لیے نہ صرف منتخب نمائندوں کا واضح مقصد ہونا چاہیے بلکہ تعینات شدہ بیوروکریسی کا بھی پالیسی اہداف سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے لیے سول سروس کے موجودہ تنگ دائرے کو وسعت دیتے ہوئے ”ایک عوامی خدمت“ (ون پبلک سروس) کے تصور کو اپنانا ہوگا، جو افقی طور پر دو دھاروں میں تقسیم ہو: ایک ”تکنیکی دھارا“ (ٹیکنیکل اسٹریم اور دوسرا ”انتظامی دھارا“ (ایڈمنسٹریٹو اسٹریم) اور عمودی طور پر کارکردگی کی بنیاد پر ”فاسٹ اسٹریم“ (فاسٹ اسٹریم) اور ”ریگولر اسٹریم“ (ریگولر اسٹریم) میں۔ ان میں تقرریاں اور تبادلے وقتاً فوقتاً ہونے والی کارکردگی جانچ کی بنیاد پر کیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;عوامی نمائندوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اقتصادی اداروں، بالخصوص معاشی وزارتوں کے معیار کو بلند کیا جائے۔ یہ اُس وقت ممکن ہے جب برسرِ اقتدار حکومتیں موجودہ کثیرالجہتی بحرانوں اور تیزی سے ابھرتے وجودی خطرات کے تناظر میں مقصد پر مبنی (مشن اورینٹڈ) ایک ایجنڈا مرتب کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;یہ سب کچھ ایک ایسے غیر نیولبرل نقطۂ نظر کے تحت ممکن ہے، جس میں ریاست کے کردار کو معیشت میں قائدانہ حیثیت دی جائے، جیسا کہ الیگزینڈر ہیملٹن نے تصور کیا تھا—اور جس کے نتیجے میں امریکہ کی معیشت میں اگلی دو صدیوں تک نمایاں بہتری اور ترقی دیکھنے میں آئی۔ تاہم بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں، امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک (بشمول پاکستان) شدید طور پر نو-لبرل ازم کے زیرِ اثر آ گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معیشت میں ریاست کے کردار کو محدود کر دیا گیا، مالیاتی شعبے کی غیر معمولی حد تک توسیع ہوئی، اور سیاسی و اقتصادی ادارہ جاتی ڈھانچے میں استحصالی رجحانات مضبوط ہوئے۔ اس دوران، عوامی پالیسی سازی پر عوامی رائے کے بجائے انتخابی مہمات کی مالی معاونت اور سرمایہ دارانہ مفادات کا غلبہ بڑھتا چلا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید برآں، نیولبرل ازم کی یلغار نے عوامی نمائندوں اور سرکاری افسران کی استعدادِ کار کو بھی متاثر کیا۔ ایک طرف بے جا آؤٹ سورسنگ کا رجحان غالب آ گیا، تو دوسری جانب ریاست نے نہ صرف بازاروں کے قیام بلکہ قیمتوں میں استحکام کے لیے بھی فعال کردار ادا کرنا چھوڑ دیا۔ اس غیرفعالیت کی وجہ سے پیداواری اور وسائل کی مؤثر تقسیم سے متعلق پالیسیوں میں وہ توانائی نہ رہی جو ترقی کا پیش خیمہ بنتی۔ اس کے برعکس، چین جیسے ممالک نے ’دہری قیمتوں کے نظام‘ جیسے اقدامات کے ذریعے قیمتوں پر کنٹرول کے ساتھ قابلِ تقلید ترقی کی راہیں ہموار کیں، جب کہ نو-لبرل ازم سے متاثرہ ’شاک تھیراپی‘ پالیسیاں اکثر معیشت کو مزید عدم استحکام کی طرف لے گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نیو لبرل سوچ پر مبنی پالیسیوں کے باعث ریاستی اداروں کی خدمات کی فراہمی کمزور ہوئی۔ خاص طور پر سرکاری ادارے (یعنی وزارتیں اور محکمے) اس قابل نہ رہے کہ وہ مؤثر قانون سازی کے ذریعے ایسی مقصدی فضا قائم کر سکیں، جو لین دین کی لاگت کم کرے، قیمتوں کا درست تعین ممکن بنائے، اور پیداواری و تقیسمی کارکردگی میں بہتری لا کر عوامی نمائندوں، سرکاری ملازمین اور نجی شعبے کی خدمات کو مؤثر بنا سکے—خواہ وہ ادارے ہوں (جیسے سرکاری ادارے یا نجی صنعتیں) یا بازار۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس تناظر میں، پالیسی کا تسلسل اور عوامی نمائندوں کی اہلیت کے ساتھ ساتھ رائے دہندگان کے انتخاب کا معیار بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ’چار ایز‘ (4 ای ایس)، یعنی معیشت (جس میں تعلیم، صحت اور پانی شامل ہیں)، ماحولیات، وبائی امراض، اور انتخابات—سے متعلقہ پالیسیوں میں لچک اور مقصدیت کو آئینی تحفظ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے اقتصادی اداروں اور حکمرانی کے ڈھانچے کو ایک ایسی بنیاد پر استوار کرنے کی ضرورت ہے جو اداروں اور بازاروں کی مجموعی لچک کو ان وجودی خطرات کے دور میں مؤثر طریقے سے بڑھا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی پس منظر میں مصنف نے اپنی حالیہ تحریری سلسلے میں یہ تجویز دی ہے کہ اس مقصد کے لیے ایک جامع قانون سازی کی جائے، جسے ”قانون برائے معاشی لچک“ ( اکنامک ریزیلئینس ایکٹ- ای آر اے ) کا نام دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جس کے بغیر کسی بھی سطح کی معاشی پالیسی یا حکمرانی کی کوششیں—خواہ وہ مراعاتی نظام ہو، جیسے ٹیکس، ضوابط، یا سبسڈی—نہ تو درست سمت متعین کر سکتی ہیں، اور نہ ہی اتنی گہرائی کے ساتھ اصلاحات لا سکتی ہیں، جو خدمات کی مؤثر فراہمی اور وجودی خطرات کے مقابلے کے لیے درکار لچک (resilience) پیدا کر سکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا، یہ سوال کہ مزید صوبے یا انتظامی اکائیاں قائم کی جائیں، ایک ثانوی حیثیت رکھتا ہے—اگرچہ اس پر بحث اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے کہ زیادہ صوبے معیشت اور مجموعی سیاسی ڈھانچے کے لیے فائدہ مند ہوں گے یا نہیں—مگر اصل ضرورت اس فکری بنیاد کو درست کرنا ہے جو ریاست کے کردار کا تعین کرتی ہے۔ یعنی، ایک ایسی سمت میں پیش رفت جہاں نو-لبرل سوچ، کفایت شعاری پر مبنی پالیسیوں اور معیشت کے فطری اتار چڑھاؤ سے ہم آہنگ ہونے کے بجائے ان کے برعکس ایک فعال، بامقصد اور سماجی انصاف پر مبنی معاشی فلسفہ اپنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی فکری اصلاح عوامی نمائندوں اور تعینات شدہ سرکاری اہلکاروں کے معیار کو بہتر بنانے، ووٹنگ کے عمل کو مؤثر بنانے—یعنی ایک زیادہ باشعور، تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر بااختیار عوامی طبقے (demos) کی تشکیل—سیاسی آواز کے مؤثر اظہار کو ممکن بنانے، اور پالیسی سازی میں مالی مفادات کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح، مقامی خودمختار نظامِ حکومت کو فعال بنانا یقیناً روزمرہ نوعیت کی خدمات کی فراہمی کو فوری، جامع اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم، مقامی حکومتوں کی کارکردگی کا دائرہ بھی تبھی وسعت پا سکتا ہے جب اس سے قبل بیان کردہ وسیع اصلاحاتی ڈھانچہ نافذ کیا جائے—بالخصوص معاشی فلسفے میں بنیادی تبدیلی، چار کلیدی شعبہ جات (4 ای ایس: معیشت، ماحول، وبائی امراض، اور انتخابات) میں اصلاحات، اور معقول سطح پر مالی وسائل کی فراہمی، یہ سب کچھ ایک مشن پر مبنی طرزِ حکمرانی کے تحت ہو، کیونکہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو نہ صرف شدید غربت اور عدم مساوات کا شکار ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے سب سے زیادہ دوچار دس ممالک میں شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>”وفاقی دستاویزات“ ( دی فیڈرالسٹ پیپرز) اُس وقت منظرِ عام پر آئیں جب آئینی کنونشن کا انعقاد عمل میں آ چکا تھا۔ ان تحریروں، بالخصوص الیگزینڈر ہیملٹن کی تحریروں میں، ریاست کو محض ایک ردِعمل دینے والے ادارے کے بجائے ایک فعال اور فیصلہ کن اقتصادی قوت کے طور پر پیش کیا گیا۔ ہیملٹن کا خیال تھا کہ حکومت نہ صرف معیشت پر اثر انداز ہو سکتی ہے بلکہ وہ خود اقتصادی عمل کا ایک مرکزی محرک بھی ہو سکتی ہے۔</strong></p>
<p>ہیملٹن نے یہ واضح طور پر محسوس کیا کہ اگر نئی امریکی حکومت اتحاد کا مظاہرہ کرے، تو وہ نہ صرف داخلی ترقی کے لیے سازگار حالات پیدا کر سکتی ہے بلکہ عالمی نظامِ ریاست میں بھی اپنا مؤثر مقام بنا سکتی ہے۔</p>
<p>اس تصور میں حکومت محض نجی شعبے کے اقدامات پر ردِعمل ظاہر کرنے والی قوت نہیں بلکہ ترقی کا ایک ابتدائی اور اہم ذریعہ ہے۔</p>
<p>ہیملٹن کی سوچ یہ تھی کہ نئی امریکی ریاست کو بڑی طاقتوں کی شرائط پر خاموشی سے سمجھوتہ کرنے کے بجائے، جس طرح آج کی کئی نوآبادیاتی تاریخ رکھنے والی معیشتوں کا حال ہے،اپنے اقتصادی مفادات کے تحفظ کے لیے بین الاقوامی تجارتی نظام میں فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔</p>
<p>الیگزینڈر ہیملٹن بخوبی سمجھتے تھے کہ معیشت میں ریاست کا موثر کردار کسی قدرتی ارتقائی عمل، جیسا کہ ایڈم اسمتھ کے ”غیر مرئی ہاتھ“ ( ان وزایبل ہینڈ) کے نظریے میں بیان کیا گیا ہے، کے ذریعے ازخود نمودار نہیں ہوگا۔ اُن کے نزدیک اس کے لیے منظم منصوبہ بندی اور ریاست کی جانب سے ایک فعال اور سنجیدہ پیش رفت درکار تھی۔
(ماخوذ از: 2021 میں شائع ہونے والی کتاب Public Purpose: Industrial Policy’s Comeback and Government’s Role in Shared Prosperity کا باب Alexander Hamilton’s State-focused Economy)</p>
<p>دنیا اس وقت موسمیاتی تبدیلی کے سنگین بحران اور اس سے جڑے ”وبائی عہد“ (پینڈیمیسین) جیسے وجودی خطرات کا سامنا کر رہی ہے۔ اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے نہ صرف ماحولیاتی سطح پر بلکہ معیشت سے متعلق پہلوؤں، جیسا کہ تعلیم، صحت، پانی، وبائی امراض سے نمٹنے کا نظام، اور انتخابی عمل، میں بھی لچک پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ یہی عناصر ماحولیاتی تبدیلی سے مؤثر طور پر ہم آہنگ ہونے اور کرۂ ارض کے درجہ حرارت کو خطرناک حد 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے رکھنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔</p>
<p>اس ہدف کو پانے کے لیے ضروری ہے کہ معیشت کو محض نو لبرل پالیسیوں کے سانچے سے نکال کر ادارہ جاتی، تنظیمی اور منڈی سے متعلقہ اصلاحات کی جائیں، اور سرمایہ دارانہ و اشتراکی نظام کے درمیان ایک توازن قائم کرتے ہوئے سماجی جمہوریت (سوشل ڈیمو کریسی) کی جانب پیش رفت کی جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، موسمیاتی موافقت اور پائیدار ترقیاتی اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول کے لیے خاطر خواہ مالی وسائل کی ضرورت ہے، جو کہ موثر کلائمیٹ فنانس اور ترقیاتی سرمایہ کاری سے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔</p>
<p>مالی گنجائش (فسکل اسپیس) پیدا کرنے اور پالیسی شرح سود ( کوسٹ آف کیپیٹل) کو عقلی سطح پر رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ مانیٹری اور مالیاتی کفایت شعاری (آسٹیریٹی) پر مبنی پالیسیوں سے گریز کیا جائے۔ ایسی پالیسیاں افراطِ زر میں کمی کے لیے متوازن طور پر طلب و رسد کی جانب دیکھنے کی راہ ہموار کرتی ہیں، اور ساتھ ہی ایسی ضدِ سائیکل (کاؤئنٹر سائیکل) پالیسیاں ممکن بناتی ہیں جو روایتی اور حالیہ برسوں کی طرح معیشت کو نقصان پہنچانے والی پروسائیکل (پرو سائیکلکل) پالیسیوں کی جگہ لے سکیں۔</p>
<p>معاشی نمو، روزگار، محصولات، ملکی پیداوار اور برآمدات کو وقتی استحکام کی بھینٹ چڑھانے سے بچانے کے لیے بھی یہی پالیسی رخ اپنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔</p>
<p>مالی گنجائش بڑھانے، زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم کرنے، مقامی کرنسی کو تقویت دینے، اور توازنِ ادائیگی کو بہتر بنانے کے لیے بھی قرضوں کی دلدل سے نکلنا ضروری ہے۔ اس کے لیے صرف مقامی سطح پر سختی سے بچنا کافی نہیں بلکہ عالمی سطح پر خودمختار ریاستی قرضوں کی تنظیم نو کے لیے ایک مؤثر اور منصفانہ نظام کی بھی ضرورت ہے۔ یہ صرف اُس وقت ممکن ہے جب اقوامِ عالم میں باہمی تعاون اور کثیرالجہتی (ملٹی لٹریلزم) کا جذبہ موجودہ درجہ سے کہیں زیادہ مضبوط ہو۔</p>
<p>یہ تمام تر صورتحال، جو کہ ایک کثیر رخی اور باہم جُڑی ہوئی عالمی بحرانی کیفیت ہے، اس بات کی متقاضی ہے کہ حکومت ایک ”مشن پر مبنی حکمرانی“ (مشن اورینٹڈ گورننس) کا کردار اپنائے۔ اس کے لیے نہ صرف منتخب نمائندوں کا واضح مقصد ہونا چاہیے بلکہ تعینات شدہ بیوروکریسی کا بھی پالیسی اہداف سے ہم آہنگ ہونا ضروری ہے۔</p>
<p>اس کے لیے سول سروس کے موجودہ تنگ دائرے کو وسعت دیتے ہوئے ”ایک عوامی خدمت“ (ون پبلک سروس) کے تصور کو اپنانا ہوگا، جو افقی طور پر دو دھاروں میں تقسیم ہو: ایک ”تکنیکی دھارا“ (ٹیکنیکل اسٹریم اور دوسرا ”انتظامی دھارا“ (ایڈمنسٹریٹو اسٹریم) اور عمودی طور پر کارکردگی کی بنیاد پر ”فاسٹ اسٹریم“ (فاسٹ اسٹریم) اور ”ریگولر اسٹریم“ (ریگولر اسٹریم) میں۔ ان میں تقرریاں اور تبادلے وقتاً فوقتاً ہونے والی کارکردگی جانچ کی بنیاد پر کیے جائیں۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>عوامی نمائندوں کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ اقتصادی اداروں، بالخصوص معاشی وزارتوں کے معیار کو بلند کیا جائے۔ یہ اُس وقت ممکن ہے جب برسرِ اقتدار حکومتیں موجودہ کثیرالجہتی بحرانوں اور تیزی سے ابھرتے وجودی خطرات کے تناظر میں مقصد پر مبنی (مشن اورینٹڈ) ایک ایجنڈا مرتب کریں۔</p>
</blockquote>
<p>یہ سب کچھ ایک ایسے غیر نیولبرل نقطۂ نظر کے تحت ممکن ہے، جس میں ریاست کے کردار کو معیشت میں قائدانہ حیثیت دی جائے، جیسا کہ الیگزینڈر ہیملٹن نے تصور کیا تھا—اور جس کے نتیجے میں امریکہ کی معیشت میں اگلی دو صدیوں تک نمایاں بہتری اور ترقی دیکھنے میں آئی۔ تاہم بیسویں صدی کے دوسرے نصف میں، امریکہ سمیت دنیا کے بیشتر ممالک (بشمول پاکستان) شدید طور پر نو-لبرل ازم کے زیرِ اثر آ گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ معیشت میں ریاست کے کردار کو محدود کر دیا گیا، مالیاتی شعبے کی غیر معمولی حد تک توسیع ہوئی، اور سیاسی و اقتصادی ادارہ جاتی ڈھانچے میں استحصالی رجحانات مضبوط ہوئے۔ اس دوران، عوامی پالیسی سازی پر عوامی رائے کے بجائے انتخابی مہمات کی مالی معاونت اور سرمایہ دارانہ مفادات کا غلبہ بڑھتا چلا گیا۔</p>
<p>مزید برآں، نیولبرل ازم کی یلغار نے عوامی نمائندوں اور سرکاری افسران کی استعدادِ کار کو بھی متاثر کیا۔ ایک طرف بے جا آؤٹ سورسنگ کا رجحان غالب آ گیا، تو دوسری جانب ریاست نے نہ صرف بازاروں کے قیام بلکہ قیمتوں میں استحکام کے لیے بھی فعال کردار ادا کرنا چھوڑ دیا۔ اس غیرفعالیت کی وجہ سے پیداواری اور وسائل کی مؤثر تقسیم سے متعلق پالیسیوں میں وہ توانائی نہ رہی جو ترقی کا پیش خیمہ بنتی۔ اس کے برعکس، چین جیسے ممالک نے ’دہری قیمتوں کے نظام‘ جیسے اقدامات کے ذریعے قیمتوں پر کنٹرول کے ساتھ قابلِ تقلید ترقی کی راہیں ہموار کیں، جب کہ نو-لبرل ازم سے متاثرہ ’شاک تھیراپی‘ پالیسیاں اکثر معیشت کو مزید عدم استحکام کی طرف لے گئیں۔</p>
<p>نیو لبرل سوچ پر مبنی پالیسیوں کے باعث ریاستی اداروں کی خدمات کی فراہمی کمزور ہوئی۔ خاص طور پر سرکاری ادارے (یعنی وزارتیں اور محکمے) اس قابل نہ رہے کہ وہ مؤثر قانون سازی کے ذریعے ایسی مقصدی فضا قائم کر سکیں، جو لین دین کی لاگت کم کرے، قیمتوں کا درست تعین ممکن بنائے، اور پیداواری و تقیسمی کارکردگی میں بہتری لا کر عوامی نمائندوں، سرکاری ملازمین اور نجی شعبے کی خدمات کو مؤثر بنا سکے—خواہ وہ ادارے ہوں (جیسے سرکاری ادارے یا نجی صنعتیں) یا بازار۔</p>
<p>اس تناظر میں، پالیسی کا تسلسل اور عوامی نمائندوں کی اہلیت کے ساتھ ساتھ رائے دہندگان کے انتخاب کا معیار بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ’چار ایز‘ (4 ای ایس)، یعنی معیشت (جس میں تعلیم، صحت اور پانی شامل ہیں)، ماحولیات، وبائی امراض، اور انتخابات—سے متعلقہ پالیسیوں میں لچک اور مقصدیت کو آئینی تحفظ دیا جائے۔ اس مقصد کے لیے اقتصادی اداروں اور حکمرانی کے ڈھانچے کو ایک ایسی بنیاد پر استوار کرنے کی ضرورت ہے جو اداروں اور بازاروں کی مجموعی لچک کو ان وجودی خطرات کے دور میں مؤثر طریقے سے بڑھا سکے۔</p>
<p>اسی پس منظر میں مصنف نے اپنی حالیہ تحریری سلسلے میں یہ تجویز دی ہے کہ اس مقصد کے لیے ایک جامع قانون سازی کی جائے، جسے ”قانون برائے معاشی لچک“ ( اکنامک ریزیلئینس ایکٹ- ای آر اے ) کا نام دیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ وہ بنیادی نکتہ ہے جس کے بغیر کسی بھی سطح کی معاشی پالیسی یا حکمرانی کی کوششیں—خواہ وہ مراعاتی نظام ہو، جیسے ٹیکس، ضوابط، یا سبسڈی—نہ تو درست سمت متعین کر سکتی ہیں، اور نہ ہی اتنی گہرائی کے ساتھ اصلاحات لا سکتی ہیں، جو خدمات کی مؤثر فراہمی اور وجودی خطرات کے مقابلے کے لیے درکار لچک (resilience) پیدا کر سکیں۔</p>
<p>لہٰذا، یہ سوال کہ مزید صوبے یا انتظامی اکائیاں قائم کی جائیں، ایک ثانوی حیثیت رکھتا ہے—اگرچہ اس پر بحث اپنی جگہ اہمیت رکھتی ہے کہ زیادہ صوبے معیشت اور مجموعی سیاسی ڈھانچے کے لیے فائدہ مند ہوں گے یا نہیں—مگر اصل ضرورت اس فکری بنیاد کو درست کرنا ہے جو ریاست کے کردار کا تعین کرتی ہے۔ یعنی، ایک ایسی سمت میں پیش رفت جہاں نو-لبرل سوچ، کفایت شعاری پر مبنی پالیسیوں اور معیشت کے فطری اتار چڑھاؤ سے ہم آہنگ ہونے کے بجائے ان کے برعکس ایک فعال، بامقصد اور سماجی انصاف پر مبنی معاشی فلسفہ اپنایا جائے۔</p>
<p>یہی فکری اصلاح عوامی نمائندوں اور تعینات شدہ سرکاری اہلکاروں کے معیار کو بہتر بنانے، ووٹنگ کے عمل کو مؤثر بنانے—یعنی ایک زیادہ باشعور، تعلیم یافتہ اور معاشی طور پر بااختیار عوامی طبقے (demos) کی تشکیل—سیاسی آواز کے مؤثر اظہار کو ممکن بنانے، اور پالیسی سازی میں مالی مفادات کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی راہ ہموار کرے گی۔</p>
<p>اسی طرح، مقامی خودمختار نظامِ حکومت کو فعال بنانا یقیناً روزمرہ نوعیت کی خدمات کی فراہمی کو فوری، جامع اور مؤثر بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ تاہم، مقامی حکومتوں کی کارکردگی کا دائرہ بھی تبھی وسعت پا سکتا ہے جب اس سے قبل بیان کردہ وسیع اصلاحاتی ڈھانچہ نافذ کیا جائے—بالخصوص معاشی فلسفے میں بنیادی تبدیلی، چار کلیدی شعبہ جات (4 ای ایس: معیشت، ماحول، وبائی امراض، اور انتخابات) میں اصلاحات، اور معقول سطح پر مالی وسائل کی فراہمی، یہ سب کچھ ایک مشن پر مبنی طرزِ حکمرانی کے تحت ہو، کیونکہ پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو نہ صرف شدید غربت اور عدم مساوات کا شکار ہے بلکہ موسمیاتی تبدیلی کے خطرات سے سب سے زیادہ دوچار دس ممالک میں شامل ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category/>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276410</guid>
      <pubDate>Fri, 29 Aug 2025 16:47:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر عمر جاوید)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/29160716d702e2e.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/29160716d702e2e.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
