<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Opinion</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 14:37:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 14:37:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ریلوے اصلاحات، جو پاور سیکٹر کیلئے بھی مددگار ہوسکتی ہیں</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276392/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ورلڈ اکنامک فورم میں پاکستان کے وزیرِاعظم نے ملک کے بگڑتے ہوئے توانائی کے منظرنامے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افسوس کیا کہ بجلی کے شعبے نے پاکستان کو ایک کشکول میں بدل دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بڑھتے ہوئے ماحولیاتی تغیر کے خطرے کے ساتھ مل کر یہ صورتحال پاکستان کو عالمی برادری میں ایک قابلِ رحم مقام پر لے آئی ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم، اس ہنگامی صورتحال کے باوجود یہ کڑی وارننگز کلیدی وزرا کی ترجیحات سے منقطع دکھائی دیتی ہیں۔ حکومت کے بیان کردہ وژن اور عملی اقدامات کے درمیان فرق واضح ہے—خصوصاً وزارتِ ریلوے میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس بے ربطی کی ایک نمایاں مثال لاہور ریلوے اسٹیشن کی حالیہ تزئین و آرائش ہے جسے چمکتے ہوئے فرشوں، نئی پینٹ کی ہوئی دیواروں اور دوبارہ بنائے گئے ویٹنگ رومز کی پالش شدہ تصاویر کے ساتھ مشتہر کیا گیا۔ بظاہر خوشنما یہ تبدیلیاں ان بنیادی عملیاتی مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہیں جو پاکستان ریلوے کو جکڑ کر رکھے ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریلوے نیٹ ورک کا بڑا حصہ—خصوصاً مین لائن ون (ایم ایل- ون) کاریڈور (پشاور تا کراچی)—150 برسوں سے کسی بامعنی اپ گریڈ کا منتظر ہے۔ یہ کاریڈور پاکستان کے ریلوے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر اس کی حالت حفاظت اور کارکردگی دونوں حوالوں سے خطرات پیدا کر رہی ہے۔ اس خطرے کی سنگینی اس وقت المناک طور پر سامنے آئی جب اسٹیشن کی تزئین کے محض چند روز بعد اسلام آباد ایکسپریس کالا شاہ کاکو کے قریب بوسیدہ پٹریوں کے باعث الٹ گئی اور 30 سے زائد مسافر شدید زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا بیشتر ریلوے انفراسٹرکچر تاحال ان پٹریوں پر مشتمل ہے جو انیسویں صدی کے اواخر میں برطانوی دورِ حکومت میں بچھائی گئی تھیں اور انہیں ہلکی ٹرینوں اور کم رفتار کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ پاکستان ریلوے کے موجودہ عملیاتی اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر مین لائن حصوں پر محفوظ ترین رفتار 90 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، جو چین، ترکی اور حتیٰ کہ بھارت کے کچھ حصوں میں حاصل کردہ 160 تا 300 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار سے کہیں کم ہے۔ پرانی جوڑدار پٹریوں، فرسودہ اسگنلنگ سسٹمز اور ناکافی مرمت پر انحصار نہ صرف رفتار کو محدود کرتا ہے بلکہ پٹری سے اترنے کے خطرات بڑھاتا اور آپریشنل اخراجات میں بھی اضافہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حقیقی جدیدیت کا آغاز ان فرسودہ پٹریوں کی تبدیلی سے ہونا چاہیے—خصوصاً پشاور تا کراچی کاریڈور پر—جنہیں مسلسل ویلڈیڈ ریل اور جدید اسگنلنگ سے بدلنا ہوگا۔ ایسے اقدامات سے 200 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار ممکن ہو سکتی ہے، جس سے کراچی تا لاہور مسافرانہ سفر کا وقت 18 گھنٹے سے گھٹ کر 8 گھنٹوں سے بھی کم رہ جائے گا۔ یہ تبدیلی مال بردار ریل کو بھی سڑک کے مقابلے میں کہیں زیادہ مسابقتی بنا دے گی، جو فی الحال ریلوے کی سست رفتاری اور ناقابلِ بھروسہ کارکردگی کے باعث غلبہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم مسئلہ صرف رفتار تک محدود نہیں بلکہ اس توانائی تک پھیلا ہوا ہے جو اس نیٹ ورک کو چلاتی ہے۔ پاکستان ریلوے اس وقت بڑی حد تک ڈیزل انجنوں پر انحصار کرتا ہے، جو سالانہ 200 ملین لیٹر سے زائد ڈیزل کھا جاتے ہیں۔ یہ کھپت پاکستان کے پیٹرولیم درآمدی بل میں نمایاں اضافہ کرتی ہے، جو مالی سال 2023 میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق 17.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، اور جس میں ٹرانسپورٹ—بشمول ریلوے—کا بڑا حصہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان کبھی برقی خدمات چلاتا تھا: 1966 میں شروع ہونے والی 290 کلومیٹر لاہور–خانیوال لائن کو 25 کے وی اے سی سسٹم کے ساتھ برقی بنایا گیا تھا، جس کے لیے 3,000 ہارس پاور کی 30 سے زائد انجن دستیاب تھے۔ بدقسمتی سے یہ سروس تقریباً 2011 میں شدید بجلی کی قلت کے باعث بند کر دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بجلی کی بحالی اور توسیع محض ایک تکنیکی امکان نہیں بلکہ معاشی ضرورت ہے۔ لاہور–خانیوال برقی لائن کو دوبارہ فعال کرنا ڈیزل کی کھپت کم کرے گا، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرے گا اور ملکی پیدا کردہ بجلی کے استعمال کو یقینی بنائے گا—جو توانائی کے شعبے میں گردشی قرض کو کم کرنے میں مددگار ہوگا۔ پشاور تا کراچی کے پورے ایم ایل- ون کاریڈور کی برق کاری ریلوے کی ڈیزل کی طلب کو 80 فیصد تک گھٹا سکتی ہے، جس سے سالانہ کروڑوں ڈالر کی بچت ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی داؤ پر بہت کچھ لگا ہوا ہے۔ مارچ 2025 تک وزارتِ توانائی نے پاکستان کے گردشی قرضے کو 2.64 ٹریلین روپے بتایا۔ اگر ریلوے ٹرانسپورٹ کو درآمدی ڈیزل سے مقامی طور پر پیدا کی گئی بجلی پر منتقل کیا جائے—خصوصاً پن بجلی، ہوا اور شمسی جیسے قابلِ تجدید ذرائع سے—تو قومی توانائی نظام پر دباؤ کم ہوگا۔ ماحولیاتی طور پر بجلی کا استعمال ڈیزل پر مبنی آپریشنز کے مقابلے میں سالانہ 600,000 ٹن سے زائد CO₂ کے اخراج میں کمی لا سکتی ہے، جو براہِ راست پاکستان کے پیرس معاہدے کے وعدوں میں معاون ثابت ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یقیناً، مکمل برقی نظام اور پٹریوں کی تبدیلی کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ چین-پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) کے تحت ایم ایل-ون کی جدید کاری کا منصوبہ تقریباً 6.8 ارب امریکی ڈالر کے تخمینے پر مشتمل ہے۔ لیکن اسے قوم کی اقتصادی ریڑھ کی ہڈی میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جو رفتار، اعتبار اور مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی کی صورت میں پائیدار فوائد کا وعدہ کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;blockquote class="blockquote-level-1"&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس، لاہور اسٹیشن کی تزئین و آرائش پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے لیکن کسی قسم کی عملی بہتری حاصل نہیں ہوئی—ٹرینیں اب بھی پرانی پٹریوں پر رینگ رہی ہیں، اب بھی درآمد شدہ ڈیزل جلا رہی ہیں، اور اب بھی ایسے ڈھانچے پر چل رہی ہیں جسے دہائیوں پہلے تبدیل کر دینا چاہیے تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;/blockquote&gt;
&lt;p&gt;یہ سیاسی فیصلوں میں ایک بار بار سامنے آنے والی خامی کو ظاہر کرتا ہے: ان منصوبوں کو ترجیح دینا جو ایک ہی سیاسی مدت میں دکھائی دے سکیں، ان منصوبوں پر نہیں جو دیرپا ڈھانچاتی فوائد فراہم کرتے ہیں۔ ریلوے کے وزیر کا اسٹیشن کی ظاہری شکل پر توجہ مرکوز کرنا بجائے نیٹ ورک کی کارکردگی پر توجہ دینے کے، محض دکھاوے کے لیے اخراجات کرنے کی ایک مثال ہے، نہ کہ کارکردگی کے لیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بین الاقوامی مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ درست طریقہ بنیادی ڈھانچے پر سب سے پہلے توجہ دینا ہے۔ چین دنیا میں تیز رفتار ریل کا رہنما صرف اسی وقت بنا جب اس نے منظم طریقے سے پٹریاں بدلیں، مرکزی لائنوں کو برقی نظام سے لیس کیا اور جدید اسگنلنگ نصب کی۔ ترکی نے اسٹیشن کی تزئین سے پہلے اپنی بین الاضلاعی لائنوں کو جدید بنایا، اور اسپین کا اے وی ای  ہائی اسپیڈ نیٹ ورک صرف اسی وقت تیار ہوا جب بنیادی ڈھانچہ تیار ہو چکا تھا۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ اسٹیشن کی تزئین و آرائش پٹریوں اور برقی نظام کی اپ گریڈیشن کے بعد ہونی چاہیے، نہ کہ اس سے پہلے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر پاکستان اس آزمودہ تسلسل کو اپنائے تو آئندہ کا راستہ بالکل واضح ہوگا۔ پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ پشاور تا کراچی ایک صدی پرانی پٹریوں کو تبدیل کیا جائے تاکہ ٹرینوں کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد سپورٹ کر سکے۔ ایک بار یہ ریڑھ کی ہڈی محفوظ ہو جائے، تو لاہور تا خانیوال سیکشن کو بطور پائلٹ منصوبہ برقی بنایا جانا چاہیے، تاکہ مقامی طور پر پیدا ہونے والی بجلی پر انحصار کرتے ہوئے ڈیزل کی درآمد اور اخراجات میں نمایاں کمی کی جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کامیاب نفاذ کے بعد، برقی نظام کو ایم ایل- ون کاریڈور بھر میں بڑھایا جانا چاہیے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لاگت میں بچت، ماحولیاتی فوائد اور گردشی قرض میں کمی حاصل ہو۔ صرف ان ڈھانچاتی بہتریوں کی تکمیل کے بعد ہی بڑے پیمانے پر اسٹیشنوں کی تزئین و آرائش ہونی چاہیے، تاکہ جدید سہولتیں انہی ٹرینوں اور پٹریوں کی کارکردگی سے میل کھا سکیں جن کی وہ خدمت کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسی حکمتِ عملی کے لیے معاشی بنیاد مضبوط ہے۔ جدید پشاور تا کراچی کاریڈور سڑک کے ذریعے سامان ڈھونے کے کاروبار کو بڑی حد تک اپنی جانب کھینچ لے گا، جس سے ہائی ویز پر بھیڑ کم ہوگی اور سڑکوں کی مرمت کے اخراجات گھٹیں گے۔ تیز تر اور زیادہ قابل اعتماد مسافر خدمات شہروں کے درمیان روابط میں اضافہ کریں گی، جس سے سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ برقی نظام نہ صرف پاکستان کو عالمی تیل منڈیوں کی غیر یقینی کیفیت سے محفوظ رکھے گا بلکہ موسمیاتی اور توانائی تحفظ کے اپنے وعدوں کو بھی مضبوط کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس طرح کی حکمتِ عملی—یعنی قلیل مدتی نمائش کے بجائے طویل مدتی پائیداری—اختیار نہ کی گئی، تو پاکستان کا ریلوے نظام بدستور نااہلی کا شکار رہے گا۔ مسافر نئی تزئین شدہ پلیٹ فارموں پر قدم رکھیں گے لیکن پرانی پٹریوں پر آہستہ، فرسودہ اور مہنگے سفر کا سامنا کرتے رہیں گے۔ حکومت کا اصل انتخاب پٹریوں اور اسٹیشنوں کے درمیان نہیں ہے—بلکہ ایک ایسے جدید ریلوے نظام کی تعمیر کے درمیان ہے جو قوم کو حقیقی فوائد پہنچائے، اور ایک ایسے نظام کو برقرار رکھنے کے درمیان ہے جو صرف دکھاوے کے لیے عوامی وسائل ضائع کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لہٰذا پشاور تا کراچی ریلوے کو برقی نظام سے لیس کرنا کوئی اختیاری معاملہ نہیں بلکہ قومی ہنگامی ضرورت ہے۔ یہ راست طور پر گردشی قرض میں کمی، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، ڈیزل کی درآمد میں کمی اور پاکستان کے ٹرانسپورٹ شعبے کو زیادہ پائیدار، محفوظ اور مسابقتی مستقبل کی طرف لے جانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ورلڈ اکنامک فورم میں پاکستان کے وزیرِاعظم نے ملک کے بگڑتے ہوئے توانائی کے منظرنامے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے افسوس کیا کہ بجلی کے شعبے نے پاکستان کو ایک کشکول میں بدل دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بڑھتے ہوئے ماحولیاتی تغیر کے خطرے کے ساتھ مل کر یہ صورتحال پاکستان کو عالمی برادری میں ایک قابلِ رحم مقام پر لے آئی ہے۔</strong></p>
<p>تاہم، اس ہنگامی صورتحال کے باوجود یہ کڑی وارننگز کلیدی وزرا کی ترجیحات سے منقطع دکھائی دیتی ہیں۔ حکومت کے بیان کردہ وژن اور عملی اقدامات کے درمیان فرق واضح ہے—خصوصاً وزارتِ ریلوے میں۔</p>
<p>اس بے ربطی کی ایک نمایاں مثال لاہور ریلوے اسٹیشن کی حالیہ تزئین و آرائش ہے جسے چمکتے ہوئے فرشوں، نئی پینٹ کی ہوئی دیواروں اور دوبارہ بنائے گئے ویٹنگ رومز کی پالش شدہ تصاویر کے ساتھ مشتہر کیا گیا۔ بظاہر خوشنما یہ تبدیلیاں ان بنیادی عملیاتی مسائل کو حل کرنے میں ناکام ہیں جو پاکستان ریلوے کو جکڑ کر رکھے ہوئے ہیں۔</p>
<p>اصل مسئلہ یہ ہے کہ ریلوے نیٹ ورک کا بڑا حصہ—خصوصاً مین لائن ون (ایم ایل- ون) کاریڈور (پشاور تا کراچی)—150 برسوں سے کسی بامعنی اپ گریڈ کا منتظر ہے۔ یہ کاریڈور پاکستان کے ریلوے نظام کی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر اس کی حالت حفاظت اور کارکردگی دونوں حوالوں سے خطرات پیدا کر رہی ہے۔ اس خطرے کی سنگینی اس وقت المناک طور پر سامنے آئی جب اسٹیشن کی تزئین کے محض چند روز بعد اسلام آباد ایکسپریس کالا شاہ کاکو کے قریب بوسیدہ پٹریوں کے باعث الٹ گئی اور 30 سے زائد مسافر شدید زخمی ہوئے۔</p>
<p>پاکستان کا بیشتر ریلوے انفراسٹرکچر تاحال ان پٹریوں پر مشتمل ہے جو انیسویں صدی کے اواخر میں برطانوی دورِ حکومت میں بچھائی گئی تھیں اور انہیں ہلکی ٹرینوں اور کم رفتار کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ پاکستان ریلوے کے موجودہ عملیاتی اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر مین لائن حصوں پر محفوظ ترین رفتار 90 سے 120 کلومیٹر فی گھنٹہ ہے، جو چین، ترکی اور حتیٰ کہ بھارت کے کچھ حصوں میں حاصل کردہ 160 تا 300 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار سے کہیں کم ہے۔ پرانی جوڑدار پٹریوں، فرسودہ اسگنلنگ سسٹمز اور ناکافی مرمت پر انحصار نہ صرف رفتار کو محدود کرتا ہے بلکہ پٹری سے اترنے کے خطرات بڑھاتا اور آپریشنل اخراجات میں بھی اضافہ کرتا ہے۔</p>
<p>حقیقی جدیدیت کا آغاز ان فرسودہ پٹریوں کی تبدیلی سے ہونا چاہیے—خصوصاً پشاور تا کراچی کاریڈور پر—جنہیں مسلسل ویلڈیڈ ریل اور جدید اسگنلنگ سے بدلنا ہوگا۔ ایسے اقدامات سے 200 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد رفتار ممکن ہو سکتی ہے، جس سے کراچی تا لاہور مسافرانہ سفر کا وقت 18 گھنٹے سے گھٹ کر 8 گھنٹوں سے بھی کم رہ جائے گا۔ یہ تبدیلی مال بردار ریل کو بھی سڑک کے مقابلے میں کہیں زیادہ مسابقتی بنا دے گی، جو فی الحال ریلوے کی سست رفتاری اور ناقابلِ بھروسہ کارکردگی کے باعث غلبہ رکھتی ہے۔</p>
<p>تاہم مسئلہ صرف رفتار تک محدود نہیں بلکہ اس توانائی تک پھیلا ہوا ہے جو اس نیٹ ورک کو چلاتی ہے۔ پاکستان ریلوے اس وقت بڑی حد تک ڈیزل انجنوں پر انحصار کرتا ہے، جو سالانہ 200 ملین لیٹر سے زائد ڈیزل کھا جاتے ہیں۔ یہ کھپت پاکستان کے پیٹرولیم درآمدی بل میں نمایاں اضافہ کرتی ہے، جو مالی سال 2023 میں پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس کے مطابق 17.6 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا، اور جس میں ٹرانسپورٹ—بشمول ریلوے—کا بڑا حصہ ہے۔</p>
<p>یہ یاد رکھنا ضروری ہے کہ پاکستان کبھی برقی خدمات چلاتا تھا: 1966 میں شروع ہونے والی 290 کلومیٹر لاہور–خانیوال لائن کو 25 کے وی اے سی سسٹم کے ساتھ برقی بنایا گیا تھا، جس کے لیے 3,000 ہارس پاور کی 30 سے زائد انجن دستیاب تھے۔ بدقسمتی سے یہ سروس تقریباً 2011 میں شدید بجلی کی قلت کے باعث بند کر دی گئی۔</p>
<p>بجلی کی بحالی اور توسیع محض ایک تکنیکی امکان نہیں بلکہ معاشی ضرورت ہے۔ لاہور–خانیوال برقی لائن کو دوبارہ فعال کرنا ڈیزل کی کھپت کم کرے گا، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کو کم کرے گا اور ملکی پیدا کردہ بجلی کے استعمال کو یقینی بنائے گا—جو توانائی کے شعبے میں گردشی قرض کو کم کرنے میں مددگار ہوگا۔ پشاور تا کراچی کے پورے ایم ایل- ون کاریڈور کی برق کاری ریلوے کی ڈیزل کی طلب کو 80 فیصد تک گھٹا سکتی ہے، جس سے سالانہ کروڑوں ڈالر کی بچت ہوگی۔</p>
<p>مالی داؤ پر بہت کچھ لگا ہوا ہے۔ مارچ 2025 تک وزارتِ توانائی نے پاکستان کے گردشی قرضے کو 2.64 ٹریلین روپے بتایا۔ اگر ریلوے ٹرانسپورٹ کو درآمدی ڈیزل سے مقامی طور پر پیدا کی گئی بجلی پر منتقل کیا جائے—خصوصاً پن بجلی، ہوا اور شمسی جیسے قابلِ تجدید ذرائع سے—تو قومی توانائی نظام پر دباؤ کم ہوگا۔ ماحولیاتی طور پر بجلی کا استعمال ڈیزل پر مبنی آپریشنز کے مقابلے میں سالانہ 600,000 ٹن سے زائد CO₂ کے اخراج میں کمی لا سکتی ہے، جو براہِ راست پاکستان کے پیرس معاہدے کے وعدوں میں معاون ثابت ہوگا۔</p>
<p>یقیناً، مکمل برقی نظام اور پٹریوں کی تبدیلی کے اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ چین-پاکستان اکنامک کاریڈور (سی پیک) کے تحت ایم ایل-ون کی جدید کاری کا منصوبہ تقریباً 6.8 ارب امریکی ڈالر کے تخمینے پر مشتمل ہے۔ لیکن اسے قوم کی اقتصادی ریڑھ کی ہڈی میں طویل مدتی سرمایہ کاری کے طور پر دیکھا جانا چاہیے، جو رفتار، اعتبار اور مہنگے درآمدی ایندھن پر انحصار میں کمی کی صورت میں پائیدار فوائد کا وعدہ کرتا ہے۔</p>
<blockquote class="blockquote-level-1">
<p>اس کے برعکس، لاہور اسٹیشن کی تزئین و آرائش پر کروڑوں روپے خرچ ہوئے لیکن کسی قسم کی عملی بہتری حاصل نہیں ہوئی—ٹرینیں اب بھی پرانی پٹریوں پر رینگ رہی ہیں، اب بھی درآمد شدہ ڈیزل جلا رہی ہیں، اور اب بھی ایسے ڈھانچے پر چل رہی ہیں جسے دہائیوں پہلے تبدیل کر دینا چاہیے تھا۔</p>
</blockquote>
<p>یہ سیاسی فیصلوں میں ایک بار بار سامنے آنے والی خامی کو ظاہر کرتا ہے: ان منصوبوں کو ترجیح دینا جو ایک ہی سیاسی مدت میں دکھائی دے سکیں، ان منصوبوں پر نہیں جو دیرپا ڈھانچاتی فوائد فراہم کرتے ہیں۔ ریلوے کے وزیر کا اسٹیشن کی ظاہری شکل پر توجہ مرکوز کرنا بجائے نیٹ ورک کی کارکردگی پر توجہ دینے کے، محض دکھاوے کے لیے اخراجات کرنے کی ایک مثال ہے، نہ کہ کارکردگی کے لیے۔</p>
<p>بین الاقوامی مثالیں ثابت کرتی ہیں کہ درست طریقہ بنیادی ڈھانچے پر سب سے پہلے توجہ دینا ہے۔ چین دنیا میں تیز رفتار ریل کا رہنما صرف اسی وقت بنا جب اس نے منظم طریقے سے پٹریاں بدلیں، مرکزی لائنوں کو برقی نظام سے لیس کیا اور جدید اسگنلنگ نصب کی۔ ترکی نے اسٹیشن کی تزئین سے پہلے اپنی بین الاضلاعی لائنوں کو جدید بنایا، اور اسپین کا اے وی ای  ہائی اسپیڈ نیٹ ورک صرف اسی وقت تیار ہوا جب بنیادی ڈھانچہ تیار ہو چکا تھا۔ یہ مثالیں واضح کرتی ہیں کہ اسٹیشن کی تزئین و آرائش پٹریوں اور برقی نظام کی اپ گریڈیشن کے بعد ہونی چاہیے، نہ کہ اس سے پہلے۔</p>
<p>اگر پاکستان اس آزمودہ تسلسل کو اپنائے تو آئندہ کا راستہ بالکل واضح ہوگا۔ پہلا قدم یہ ہونا چاہیے کہ پشاور تا کراچی ایک صدی پرانی پٹریوں کو تبدیل کیا جائے تاکہ ٹرینوں کی رفتار 200 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زائد سپورٹ کر سکے۔ ایک بار یہ ریڑھ کی ہڈی محفوظ ہو جائے، تو لاہور تا خانیوال سیکشن کو بطور پائلٹ منصوبہ برقی بنایا جانا چاہیے، تاکہ مقامی طور پر پیدا ہونے والی بجلی پر انحصار کرتے ہوئے ڈیزل کی درآمد اور اخراجات میں نمایاں کمی کی جا سکے۔</p>
<p>کامیاب نفاذ کے بعد، برقی نظام کو ایم ایل- ون کاریڈور بھر میں بڑھایا جانا چاہیے، تاکہ زیادہ سے زیادہ لاگت میں بچت، ماحولیاتی فوائد اور گردشی قرض میں کمی حاصل ہو۔ صرف ان ڈھانچاتی بہتریوں کی تکمیل کے بعد ہی بڑے پیمانے پر اسٹیشنوں کی تزئین و آرائش ہونی چاہیے، تاکہ جدید سہولتیں انہی ٹرینوں اور پٹریوں کی کارکردگی سے میل کھا سکیں جن کی وہ خدمت کرتی ہیں۔</p>
<p>ایسی حکمتِ عملی کے لیے معاشی بنیاد مضبوط ہے۔ جدید پشاور تا کراچی کاریڈور سڑک کے ذریعے سامان ڈھونے کے کاروبار کو بڑی حد تک اپنی جانب کھینچ لے گا، جس سے ہائی ویز پر بھیڑ کم ہوگی اور سڑکوں کی مرمت کے اخراجات گھٹیں گے۔ تیز تر اور زیادہ قابل اعتماد مسافر خدمات شہروں کے درمیان روابط میں اضافہ کریں گی، جس سے سیاحت، تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا۔ برقی نظام نہ صرف پاکستان کو عالمی تیل منڈیوں کی غیر یقینی کیفیت سے محفوظ رکھے گا بلکہ موسمیاتی اور توانائی تحفظ کے اپنے وعدوں کو بھی مضبوط کرے گا۔</p>
<p>اگر اس طرح کی حکمتِ عملی—یعنی قلیل مدتی نمائش کے بجائے طویل مدتی پائیداری—اختیار نہ کی گئی، تو پاکستان کا ریلوے نظام بدستور نااہلی کا شکار رہے گا۔ مسافر نئی تزئین شدہ پلیٹ فارموں پر قدم رکھیں گے لیکن پرانی پٹریوں پر آہستہ، فرسودہ اور مہنگے سفر کا سامنا کرتے رہیں گے۔ حکومت کا اصل انتخاب پٹریوں اور اسٹیشنوں کے درمیان نہیں ہے—بلکہ ایک ایسے جدید ریلوے نظام کی تعمیر کے درمیان ہے جو قوم کو حقیقی فوائد پہنچائے، اور ایک ایسے نظام کو برقرار رکھنے کے درمیان ہے جو صرف دکھاوے کے لیے عوامی وسائل ضائع کرتا ہے۔</p>
<p>لہٰذا پشاور تا کراچی ریلوے کو برقی نظام سے لیس کرنا کوئی اختیاری معاملہ نہیں بلکہ قومی ہنگامی ضرورت ہے۔ یہ راست طور پر گردشی قرض میں کمی، گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی، ڈیزل کی درآمد میں کمی اور پاکستان کے ٹرانسپورٹ شعبے کو زیادہ پائیدار، محفوظ اور مسابقتی مستقبل کی طرف لے جانے کا موقع فراہم کرتا ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinion</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276392</guid>
      <pubDate>Fri, 29 Aug 2025 11:40:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹراکرام الحقانجینئر ارشد ایچ عباسی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/29113611a643189.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/29113611a643189.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
