<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:52:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کرپٹو: ایک چیلنج یا موقع</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276391/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے بورڈ میں ڈیجیٹل کرنسیوں کی تجارت اور لین دین کو جلد قانونی حیثیت دینے کا ہنگامی احساس پایا جاتا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلدبازی میں ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنے سے گریزاں ہے، کیونکہ وہ اس بات سے آگاہ ہے کہ اس کے اثرات اُس ملک کے لیے سنگین ہوسکتے ہیں جس کے بیرونی کھاتے مسلسل دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم وفاقی وزیرِ خزانہ فوری طور پر ڈیجیٹل کرنسی ٹریڈنگ کا آغاز کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ بڑی تعداد میں لین دین پہلے ہی غیر قانونی طور پر ہو رہا ہے، جس کے باعث پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ میں ڈالے جانے کا خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2018 میں اسٹیٹ بینک نے ایک سرکلر کے ذریعے تمام مالیاتی اداروں کو کرپٹو کرنسی اور ٹوکنز کے لین دین سے روک دیا تھا جس کے نتیجے میں یہ تجارت مؤثر طور پر غیر قانونی ہوگئی تھی اور بینکوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ ایسے لین دین کو مشکوک قرار دے کر فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو رپورٹ کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب پی وی اے آر اے کا بورڈ اس پابندی کو ختم کرنا چاہتا ہے، حال ہی میں وفاقی وزیر خزانہ نے یہاں تک خبردار کیا کہ پاکستان کو دوبارہ فیٹف کی گرے لسٹ میں ڈالا جا سکتا ہے کیونکہ تقریباً 15 فیصد آبادی کرپٹو ٹریڈنگ میں ملوث ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسے جلد قانونی حیثیت دینا زیادہ بہتر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر خزانہ کے مؤقف کی تائید ممکن نہیں۔ بغیر کسی جامع اور مضبوط فریم ورک کے ایسے اقدامات نہایت خطرناک نتائج پیدا کرسکتے ہیں، جو ملک کے فیٹف کی گرے لسٹ میں جانے سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ رویہ اُن مطالبات سے مختلف نہیں جن میں ٹیکسٹائل صنعت کے بڑے سرمایہ کار سبسڈی لے کر بیرونی کھاتوں کا استحکام چاہتے ہیں، رئیل اسٹیٹ سیکٹر جائیداد کو غیر دستاویزی رکھنے پر زور دیتا ہے، یا تاجر معاشی بحالی کے نام پر شرحِ سود کو محض دو فیصد تک کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایسے مفاداتی رویے کو اکثر ”قومی مفاد“ کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ یاد رہے، وزیر خزانہ پی وی اے آر اے کے مستقل رکن بھی نہیں ہیں بلکہ خصوصی دعوت پر اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گورنر اسٹیٹ بینک کا محتاط مؤقف بالکل درست ہے۔ اسٹیٹ بینک نے ہمیشہ اپنی ریگولیٹری ذمہ داری کو بخوبی نبھایا ہے، اسی لیے پاکستان کا بینکاری نظام آج بھی مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں اسٹیٹ بینک نے شرحِ سود میں کمی کے دباؤ کو مسترد کر کے پالیسی استحکام برقرار رکھا، جب کرنسی دباؤ میں تھی۔ ادارے کو چاہیے کہ ڈیجیٹل کرنسی اور کرپٹو اثاثوں کے لیے سنجیدگی سے مضبوط اور جامع ضابطے تیار کرے اور اس شعبے کو غیر محفوظ طریقے سے کھولنے کے دباؤ کی سخت مزاحمت کرے، تاکہ دستاویزی اور غیر دستاویزی سرمائے کے غیر قابو بہاؤ کو روکا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات ہیں کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے بعض حکام نہ صرف ڈیجیٹل کرنسی فریم ورک کے فوری نفاذ کے حامی ہیں بلکہ کرپٹو مائننگ کے لیے ممکنہ مراعات پر بھی غور کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے موازنہ نہیں کرنا چاہیے، جو کم ٹیکس اور بہتر معیارِ زندگی کے باعث عالمی سرمایہ کھینچتا ہے۔ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں لوگ اپنی بچت کو بیرون ملک منتقل کرنے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے غیر ملکی کرنسی کی خریداری پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جبکہ حکومت غیر قانونی رقوم کی منتقلی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کے کچھ حلقے مناسب فریم ورک کے بغیر ہی ڈیجیٹل کرنسی کو قانونی حیثیت دینے کی وکالت کر رہے ہیں۔ یہ منطق بالکل میل نہیں کھاتی۔ دباؤ یا مجبوری خواہ کچھ بھی ہو، اسٹیٹ بینک کو اپنے مؤقف پر ڈٹے رہتے ہوئے نہایت احتیاط سے فریم ورک تیار کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیجیٹل کرنسیاں، کرپٹو اور ٹوکنائزیشن عالمی مالیاتی نظام کا حصہ بن چکی ہیں اور پاکستان کو بھی انہیں سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ اسٹیٹ بینک اپنی ڈیجیٹل کرنسی پر پہلے ہی کام کر رہا ہے اور اسے اسی وقت متعارف کرایا جانا چاہیے جب کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کے ضوابط پر مشتمل جامع فریم ورک مکمل تیاری کے ساتھ نافذ کرنے کے لیے تیار ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کرپٹو سے متعلق اسٹیٹ بینک کا محتاط رویہ وجوہات کی بنا پر پیچیدہ ہے۔ یہ ایک طرف اس ٹیکنالوجی کی بے پناہ صلاحیت کو تسلیم کرتا ہے، خاص طور پر اُن ترقی پذیر ممالک کے لیے جہاں کرنسی کی قدر میں کمی ایک تلخ حقیقت ہے، لیکن دوسری طرف دنیا کے کئی حصوں میں اس صنعت کی تیز رفتار ترقی سے جڑے جرائم اور مفادات کے ٹکراؤ پر اس کے تحفظات بھی بالکل جائز ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>پاکستان ورچوئل ایسٹس ریگولیٹری اتھارٹی (پی وی اے آر اے) کے بورڈ میں ڈیجیٹل کرنسیوں کی تجارت اور لین دین کو جلد قانونی حیثیت دینے کا ہنگامی احساس پایا جاتا ہے۔</strong></p>
<p>تاہم اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جلدبازی میں ریگولیٹری فریم ورک تیار کرنے سے گریزاں ہے، کیونکہ وہ اس بات سے آگاہ ہے کہ اس کے اثرات اُس ملک کے لیے سنگین ہوسکتے ہیں جس کے بیرونی کھاتے مسلسل دباؤ کا شکار رہتے ہیں۔</p>
<p>تاہم وفاقی وزیرِ خزانہ فوری طور پر ڈیجیٹل کرنسی ٹریڈنگ کا آغاز کرنے کے خواہاں ہیں۔ ان کا مؤقف ہے کہ بڑی تعداد میں لین دین پہلے ہی غیر قانونی طور پر ہو رہا ہے، جس کے باعث پاکستان کو فیٹف کی گرے لسٹ میں ڈالے جانے کا خطرہ ہے۔</p>
<p>2018 میں اسٹیٹ بینک نے ایک سرکلر کے ذریعے تمام مالیاتی اداروں کو کرپٹو کرنسی اور ٹوکنز کے لین دین سے روک دیا تھا جس کے نتیجے میں یہ تجارت مؤثر طور پر غیر قانونی ہوگئی تھی اور بینکوں کو ہدایت دی گئی تھی کہ ایسے لین دین کو مشکوک قرار دے کر فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کو رپورٹ کریں۔</p>
<p>اب پی وی اے آر اے کا بورڈ اس پابندی کو ختم کرنا چاہتا ہے، حال ہی میں وفاقی وزیر خزانہ نے یہاں تک خبردار کیا کہ پاکستان کو دوبارہ فیٹف کی گرے لسٹ میں ڈالا جا سکتا ہے کیونکہ تقریباً 15 فیصد آبادی کرپٹو ٹریڈنگ میں ملوث ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اسے جلد قانونی حیثیت دینا زیادہ بہتر ہے۔</p>
<p>وزیر خزانہ کے مؤقف کی تائید ممکن نہیں۔ بغیر کسی جامع اور مضبوط فریم ورک کے ایسے اقدامات نہایت خطرناک نتائج پیدا کرسکتے ہیں، جو ملک کے فیٹف کی گرے لسٹ میں جانے سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہوں گے۔</p>
<p>یہ رویہ اُن مطالبات سے مختلف نہیں جن میں ٹیکسٹائل صنعت کے بڑے سرمایہ کار سبسڈی لے کر بیرونی کھاتوں کا استحکام چاہتے ہیں، رئیل اسٹیٹ سیکٹر جائیداد کو غیر دستاویزی رکھنے پر زور دیتا ہے، یا تاجر معاشی بحالی کے نام پر شرحِ سود کو محض دو فیصد تک کم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>ایسے مفاداتی رویے کو اکثر ”قومی مفاد“ کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔ یاد رہے، وزیر خزانہ پی وی اے آر اے کے مستقل رکن بھی نہیں ہیں بلکہ خصوصی دعوت پر اجلاس میں شریک ہوئے تھے۔</p>
<p>گورنر اسٹیٹ بینک کا محتاط مؤقف بالکل درست ہے۔ اسٹیٹ بینک نے ہمیشہ اپنی ریگولیٹری ذمہ داری کو بخوبی نبھایا ہے، اسی لیے پاکستان کا بینکاری نظام آج بھی مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہے۔</p>
<p>حال ہی میں اسٹیٹ بینک نے شرحِ سود میں کمی کے دباؤ کو مسترد کر کے پالیسی استحکام برقرار رکھا، جب کرنسی دباؤ میں تھی۔ ادارے کو چاہیے کہ ڈیجیٹل کرنسی اور کرپٹو اثاثوں کے لیے سنجیدگی سے مضبوط اور جامع ضابطے تیار کرے اور اس شعبے کو غیر محفوظ طریقے سے کھولنے کے دباؤ کی سخت مزاحمت کرے، تاکہ دستاویزی اور غیر دستاویزی سرمائے کے غیر قابو بہاؤ کو روکا جا سکے۔</p>
<p>اطلاعات ہیں کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے بعض حکام نہ صرف ڈیجیٹل کرنسی فریم ورک کے فوری نفاذ کے حامی ہیں بلکہ کرپٹو مائننگ کے لیے ممکنہ مراعات پر بھی غور کررہے ہیں۔</p>
<p>اطلاعات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم پاکستان کو متحدہ عرب امارات سے موازنہ نہیں کرنا چاہیے، جو کم ٹیکس اور بہتر معیارِ زندگی کے باعث عالمی سرمایہ کھینچتا ہے۔ پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے، جہاں لوگ اپنی بچت کو بیرون ملک منتقل کرنے کے طریقے ڈھونڈتے ہیں۔</p>
<p>اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے اسٹیٹ بینک نے غیر ملکی کرنسی کی خریداری پر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جبکہ حکومت غیر قانونی رقوم کی منتقلی کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ حکومت کے کچھ حلقے مناسب فریم ورک کے بغیر ہی ڈیجیٹل کرنسی کو قانونی حیثیت دینے کی وکالت کر رہے ہیں۔ یہ منطق بالکل میل نہیں کھاتی۔ دباؤ یا مجبوری خواہ کچھ بھی ہو، اسٹیٹ بینک کو اپنے مؤقف پر ڈٹے رہتے ہوئے نہایت احتیاط سے فریم ورک تیار کرنا ہوگا۔</p>
<p>ڈیجیٹل کرنسیاں، کرپٹو اور ٹوکنائزیشن عالمی مالیاتی نظام کا حصہ بن چکی ہیں اور پاکستان کو بھی انہیں سنجیدگی سے لینا ہوگا۔ اسٹیٹ بینک اپنی ڈیجیٹل کرنسی پر پہلے ہی کام کر رہا ہے اور اسے اسی وقت متعارف کرایا جانا چاہیے جب کرپٹو اور ڈیجیٹل اثاثوں کے ضوابط پر مشتمل جامع فریم ورک مکمل تیاری کے ساتھ نافذ کرنے کے لیے تیار ہو۔</p>
<p>آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ کرپٹو سے متعلق اسٹیٹ بینک کا محتاط رویہ وجوہات کی بنا پر پیچیدہ ہے۔ یہ ایک طرف اس ٹیکنالوجی کی بے پناہ صلاحیت کو تسلیم کرتا ہے، خاص طور پر اُن ترقی پذیر ممالک کے لیے جہاں کرنسی کی قدر میں کمی ایک تلخ حقیقت ہے، لیکن دوسری طرف دنیا کے کئی حصوں میں اس صنعت کی تیز رفتار ترقی سے جڑے جرائم اور مفادات کے ٹکراؤ پر اس کے تحفظات بھی بالکل جائز ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276391</guid>
      <pubDate>Fri, 29 Aug 2025 11:25:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/291113101a712cc.webp" type="image/webp" medium="image" height="676" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/291113101a712cc.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
