<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 20:36:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کابینہ کمیٹی نے اوگرا کے تعین کردہ نرخوں پر آر ایل این جی کنکشن کی فراہمی کا عندیہ دیدیا</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276379/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ذرائع نے وزیر پٹرولیم کے قریب حلقوں کے حوالے سے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی،  سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (اسی این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کو اجازت دینے جارہی ہے کہ وہ ری-گیسفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کنکشن کے زیر التوا درخواست گزاروں کو اوگرا کی مقرر کردہ قیمتوں پر آر ایل این جی فراہم کریں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت جمعرات (28 اگست 2025) کو ہونا تھا، تاہم وزیرِ اعظم کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے باعث ملتوی کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی وزیر برائے پٹرولیم، علی پرویز ملک، حال ہی میں قطر سے واپس آئے ہیں، جہاں انہوں نے پاکستان پر بوجھ کم کرنے کے لیے نظرثانی شدہ ایل این جی کارگو کا معاملہ  پیش کیا۔ قطر نے اسلام آباد کو بتایا ہے کہ وہ داخلی مشاورت کے بعد جواب دے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات کے مطابق، دسمبر 2022 میں کمیٹی برائے توانائی نے 2013 تا 2018 کے نامکمل گیس ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کی منظوری دی تھی، لیکن مقامی گیس کنکشنز پر عائد پابندی برقرار رکھی تھی کیونکہ سپلائی میں شدید کمی تھی۔ البتہ، وفاقی کابینہ نے صنعت، کمرشل صارفین اور نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز/کالونیوں کے لیے آر ایل این جی کنکشنز کی اجازت دی، بشرطیکہ صارفین پائپ لائنز کی لاگت خود برداشت کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی بنیاد پر اب تک سوئی کمپنیاں 33,808 آر ایل این جی کنکشن فراہم کرچکی ہیں، تاہم اب انہیں بھاری بیک لاگ کا سامنا ہے: تقریباً 150,898 نئی درخواستیں زیر التوا ہیں (جن میں سے 136,903 ایس این جی پی ایل اور 14,086 ایس ایس جی سی ایل کے پاس ہیں)۔ اس کے برعکس صرف ایس این جی پی ایل کے پاس مقامی گیس کنکشن کے لیے 32 لاکھ درخواستیں التوا میں ہیں، جن میں سے 2.4 لاکھ درخواست گزار ادائیگی کرچکے ہیں اور تقریباً 4,000 نے فوری کنکشن کے لیے 25,000 روپے فیس بھی جمع کرائی ہے۔ ایس ایس جی سی ایل کے پاس بھی 19,797 ایسے ہی کیسز موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق، کمپنیوں نے اب تک مقامی گیس کے منتظر صارفین کو آر ایل این جی دینے سے اعتراز کیا ہے تاکہ ٹیرف کے امتیاز پر ممکنہ قانونی چارہ جوئی سے بچا جاسکے، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ اگر صارفین اور یوٹیلیٹیز کے درمیان باضابطہ، رضاکارانہ معاہدے ہوں تو یہ خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ درآمد شدہ ایل این جی کے فاضل ذخائر کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) قطر انرجی اور ای این آئی کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے تحت ہر ماہ تقریباً 10 کارگو (1,000 ایم ایم سی ایف ڈی) درآمد کرنے کے پابند ہیں۔ ان معاہدوں میں سخت ”ٹیک-اور-پے“ شقیں شامل ہیں، جس کے تحت پاکستان کو طلب نہ ہونے کے باوجود ادائیگی کرنا لازمی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی طور پر ایل این جی درآمدات کا مقصد بجلی کے جدید اور کارگر پلانٹس کو چلانا تھا، لیکن بجلی کی سستی پیداوار کے متبادل ذرائع دستیاب ہونے سے ایل این جی کی کھپت کم ہوگئی۔ اس دوران، کیپٹو پاور پروڈیوسرز نے بھی گرڈ ٹرانزیشن لیوی کے نفاذ کے بعد کھپت میں کمی کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتیجتاً ایس این جی پی ایل کو فاضل کارگو کا سامنا ہے: جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران 11 کارگو استعمال نہ ہوسکیں گے، جبکہ 2026 میں مزید تقریباً 40 کارگو زائد ہوسکتے ہیں۔ اس اضافی سپلائی کو سنبھالنے کے لیے کمپنی کو مہنگی آر ایل این جی گھریلو صارفین کی جانب موڑنی پڑی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت کی جانب سے زیر التواء درخواست گزاروں کو آر ایل این جی کنکشن کی متوقع منظوری کو اضافی سپلائی جذب کرنے کا قدم قرار دیا جارہا ہے، تاہم آر ایل این جی اور مقامی گیس کے نرخوں کے فرق کے باعث صارفین کی استطاعت پر خدشات برقرار ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>ذرائع نے وزیر پٹرولیم کے قریب حلقوں کے حوالے سے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ کابینہ کی کمیٹی برائے توانائی،  سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (اسی این جی پی ایل) اور سوئی سدرن گیس کمپنی لمیٹڈ (ایس ایس جی سی ایل) کو اجازت دینے جارہی ہے کہ وہ ری-گیسفائیڈ لیکویفائیڈ نیچرل گیس (آر ایل این جی) کنکشن کے زیر التوا درخواست گزاروں کو اوگرا کی مقرر کردہ قیمتوں پر آر ایل این جی فراہم کریں۔</strong></p>
<p>کمیٹی برائے توانائی کا اجلاس وزیرِ اعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت جمعرات (28 اگست 2025) کو ہونا تھا، تاہم وزیرِ اعظم کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے باعث ملتوی کردیا گیا۔</p>
<p>وفاقی وزیر برائے پٹرولیم، علی پرویز ملک، حال ہی میں قطر سے واپس آئے ہیں، جہاں انہوں نے پاکستان پر بوجھ کم کرنے کے لیے نظرثانی شدہ ایل این جی کارگو کا معاملہ  پیش کیا۔ قطر نے اسلام آباد کو بتایا ہے کہ وہ داخلی مشاورت کے بعد جواب دے گا۔</p>
<p>دستاویزات کے مطابق، دسمبر 2022 میں کمیٹی برائے توانائی نے 2013 تا 2018 کے نامکمل گیس ترقیاتی منصوبے مکمل کرنے کی منظوری دی تھی، لیکن مقامی گیس کنکشنز پر عائد پابندی برقرار رکھی تھی کیونکہ سپلائی میں شدید کمی تھی۔ البتہ، وفاقی کابینہ نے صنعت، کمرشل صارفین اور نئی ہاؤسنگ سوسائٹیز/کالونیوں کے لیے آر ایل این جی کنکشنز کی اجازت دی، بشرطیکہ صارفین پائپ لائنز کی لاگت خود برداشت کریں۔</p>
<p>اسی بنیاد پر اب تک سوئی کمپنیاں 33,808 آر ایل این جی کنکشن فراہم کرچکی ہیں، تاہم اب انہیں بھاری بیک لاگ کا سامنا ہے: تقریباً 150,898 نئی درخواستیں زیر التوا ہیں (جن میں سے 136,903 ایس این جی پی ایل اور 14,086 ایس ایس جی سی ایل کے پاس ہیں)۔ اس کے برعکس صرف ایس این جی پی ایل کے پاس مقامی گیس کنکشن کے لیے 32 لاکھ درخواستیں التوا میں ہیں، جن میں سے 2.4 لاکھ درخواست گزار ادائیگی کرچکے ہیں اور تقریباً 4,000 نے فوری کنکشن کے لیے 25,000 روپے فیس بھی جمع کرائی ہے۔ ایس ایس جی سی ایل کے پاس بھی 19,797 ایسے ہی کیسز موجود ہیں۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق، کمپنیوں نے اب تک مقامی گیس کے منتظر صارفین کو آر ایل این جی دینے سے اعتراز کیا ہے تاکہ ٹیرف کے امتیاز پر ممکنہ قانونی چارہ جوئی سے بچا جاسکے، تاہم ان کا مؤقف ہے کہ اگر صارفین اور یوٹیلیٹیز کے درمیان باضابطہ، رضاکارانہ معاہدے ہوں تو یہ خطرہ کم کیا جاسکتا ہے۔</p>
<p>یہ فیصلہ درآمد شدہ ایل این جی کے فاضل ذخائر کے تناظر میں سامنے آیا ہے۔ پاکستان اسٹیٹ آئل (پی ایس او) اور پاکستان ایل این جی لمیٹڈ (پی ایل ایل) قطر انرجی اور ای این آئی کے ساتھ طویل المدتی معاہدوں کے تحت ہر ماہ تقریباً 10 کارگو (1,000 ایم ایم سی ایف ڈی) درآمد کرنے کے پابند ہیں۔ ان معاہدوں میں سخت ”ٹیک-اور-پے“ شقیں شامل ہیں، جس کے تحت پاکستان کو طلب نہ ہونے کے باوجود ادائیگی کرنا لازمی ہے۔</p>
<p>ابتدائی طور پر ایل این جی درآمدات کا مقصد بجلی کے جدید اور کارگر پلانٹس کو چلانا تھا، لیکن بجلی کی سستی پیداوار کے متبادل ذرائع دستیاب ہونے سے ایل این جی کی کھپت کم ہوگئی۔ اس دوران، کیپٹو پاور پروڈیوسرز نے بھی گرڈ ٹرانزیشن لیوی کے نفاذ کے بعد کھپت میں کمی کردی۔</p>
<p>نتیجتاً ایس این جی پی ایل کو فاضل کارگو کا سامنا ہے: جولائی تا دسمبر 2025 کے دوران 11 کارگو استعمال نہ ہوسکیں گے، جبکہ 2026 میں مزید تقریباً 40 کارگو زائد ہوسکتے ہیں۔ اس اضافی سپلائی کو سنبھالنے کے لیے کمپنی کو مہنگی آر ایل این جی گھریلو صارفین کی جانب موڑنی پڑی ہے۔</p>
<p>حکومت کی جانب سے زیر التواء درخواست گزاروں کو آر ایل این جی کنکشن کی متوقع منظوری کو اضافی سپلائی جذب کرنے کا قدم قرار دیا جارہا ہے، تاہم آر ایل این جی اور مقامی گیس کے نرخوں کے فرق کے باعث صارفین کی استطاعت پر خدشات برقرار ہیں۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276379</guid>
      <pubDate>Fri, 29 Aug 2025 09:38:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/29093613ef4cd50.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/29093613ef4cd50.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
