<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 10:40:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 10:40:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مودی کا دورہ ایشیا، امریکی ٹیرف کے اثرات کم کرنے کیلئے قریبی تعلقات استوار کرنے کی کوشش</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276362/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی جمعرات کو بیرونِ ملک روانہ ہو گئے ہیں تاکہ چین، جاپان اور روس کے رہنماؤں سے ملاقات کریں اور قریبی سفارتی تعلقات کو فروغ دیں، جبکہ نئی دہلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی ٹیرف پالیسی کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کی اس عالمی دورے میں خاص توجہ دنیا کی بڑی معیشتوں سے روابط مضبوط کرنے پر ہے، جن میں سات سال بعد چین کا پہلا دورہ بھی شامل ہے۔ مودی کا مقصد جاپان سے خاص طور پر اپنے ”میک ان انڈیا“ منصوبے کے لیے حمایت حاصل کرنا ہے، جبکہ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات نئی شراکت داریوں کو فروغ دے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سیکرٹری خارجہ وکرَم مسری نے جاپان کے دورے کے حوالے سے کہا کہ یہ موقع کئی نئے اقدامات شروع کرنے اور تعلقات میں مضبوطی پیدا کرنے کا ہے، نیز ابھرتے مواقع اور چیلنجز کا جواب دینے کا بھی۔ جاپان کے اعلیٰ تجارتی نمائندے نے دو طرفہ ٹیرف معاہدے میں رکاوٹ کی وجہ سے امریکہ کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کا جاپان کا دورہ جمعہ اور ہفتہ کو ہوگا، اور یہ اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ دونوں ممالک کوآرڈینیشن فورم ’کواڈ‘ کا حصہ ہیں، جس میں آسٹریلیا اور امریکہ بھی شامل ہیں، اور اس گروپ کا مقصد ہند-پیسیفک خطے میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا تدارک کرنا ہے۔ جاپانی کمپنیاں اگلے دس سالوں میں بھارت میں تقریباً 10 ٹریلین ین (68 بلین ڈالر) کی سرمایہ کاری کریں گی، جبکہ سوزوکی موٹرز اگلے پانچ چھ سال میں تقریباً 8 بلین ڈالر لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مودی کے بعد چین کا دورہ ہے جہاں وہ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے دو روزہ اجلاس میں شرکت کریں گے اور چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادی میر پوتن سے ملاقات کریں گے۔ دونوں ممالک 2020 میں ہونے والے مہلک سرحدی تصادم کے بعد کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت اور چین براہِ راست پروازوں کی بحالی اور تجارتی رکاوٹوں میں نرمی پر بھی بات کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ بھارت چین کے توازن کے طور پر کام کرے، اور اس پس منظر میں بھارت کو چین کی قیادت میں فری ٹریڈ معاہدے آر سی ای پی میں شامل ہونے کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی گنجائش محدود ہے اور موجودہ اختلافات برقرار رہنے تک وسیع سفارتی پیش رفت کا امکان کم ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی جمعرات کو بیرونِ ملک روانہ ہو گئے ہیں تاکہ چین، جاپان اور روس کے رہنماؤں سے ملاقات کریں اور قریبی سفارتی تعلقات کو فروغ دیں، جبکہ نئی دہلی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی بڑھتی ہوئی ٹیرف پالیسی کے اثرات کا سامنا کر رہا ہے۔</strong></p>
<p>مودی کی اس عالمی دورے میں خاص توجہ دنیا کی بڑی معیشتوں سے روابط مضبوط کرنے پر ہے، جن میں سات سال بعد چین کا پہلا دورہ بھی شامل ہے۔ مودی کا مقصد جاپان سے خاص طور پر اپنے ”میک ان انڈیا“ منصوبے کے لیے حمایت حاصل کرنا ہے، جبکہ ٹرمپ کے ٹیرف اقدامات نئی شراکت داریوں کو فروغ دے رہے ہیں۔</p>
<p>سیکرٹری خارجہ وکرَم مسری نے جاپان کے دورے کے حوالے سے کہا کہ یہ موقع کئی نئے اقدامات شروع کرنے اور تعلقات میں مضبوطی پیدا کرنے کا ہے، نیز ابھرتے مواقع اور چیلنجز کا جواب دینے کا بھی۔ جاپان کے اعلیٰ تجارتی نمائندے نے دو طرفہ ٹیرف معاہدے میں رکاوٹ کی وجہ سے امریکہ کا دورہ منسوخ کر دیا تھا۔</p>
<p>مودی کا جاپان کا دورہ جمعہ اور ہفتہ کو ہوگا، اور یہ اس لیے اہمیت رکھتا ہے کیونکہ دونوں ممالک کوآرڈینیشن فورم ’کواڈ‘ کا حصہ ہیں، جس میں آسٹریلیا اور امریکہ بھی شامل ہیں، اور اس گروپ کا مقصد ہند-پیسیفک خطے میں چین کے بڑھتے اثر و رسوخ کا تدارک کرنا ہے۔ جاپانی کمپنیاں اگلے دس سالوں میں بھارت میں تقریباً 10 ٹریلین ین (68 بلین ڈالر) کی سرمایہ کاری کریں گی، جبکہ سوزوکی موٹرز اگلے پانچ چھ سال میں تقریباً 8 بلین ڈالر لگانے کا ارادہ رکھتی ہے۔</p>
<p>مودی کے بعد چین کا دورہ ہے جہاں وہ شنگھائی کوآپریشن آرگنائزیشن کے دو روزہ اجلاس میں شرکت کریں گے اور چین کے صدر شی جن پنگ اور روس کے صدر ولادی میر پوتن سے ملاقات کریں گے۔ دونوں ممالک 2020 میں ہونے والے مہلک سرحدی تصادم کے بعد کشیدگی کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ بھارت اور چین براہِ راست پروازوں کی بحالی اور تجارتی رکاوٹوں میں نرمی پر بھی بات کر رہے ہیں۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا ہے کہ واشنگٹن چاہتا ہے کہ بھارت چین کے توازن کے طور پر کام کرے، اور اس پس منظر میں بھارت کو چین کی قیادت میں فری ٹریڈ معاہدے آر سی ای پی میں شامل ہونے کا امکان بھی بڑھ سکتا ہے۔ تاہم، چین کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی گنجائش محدود ہے اور موجودہ اختلافات برقرار رہنے تک وسیع سفارتی پیش رفت کا امکان کم ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276362</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Aug 2025 15:51:50 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/2815510129cfba6.webp" type="image/webp" medium="image" height="701" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/2815510129cfba6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
