<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 17:34:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسرائیلی افواج کی دمشق کے قریب چھاپہ مار کارروائی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276361/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;شامی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی افواج نے شامی دارالحکومت کے قریب ایک مقام پر فضائی بمباری کے بعد فضائی حملہ (ایئر بورن ریڈ) کیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل نے اس کارروائی کی تصدیق نہیں کی، تاہم وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اس کی افواج ملک کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام جنگی محاذوں پر کام کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ شام کے اندر اسرائیل کی اب تک کی سب سے اندر گھس کر کارروائی ہوگی جو اسلام پسند اتحاد کے دسمبر میں دمشق پر قبضے کے بعد سامنے آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ خارجہ کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے منگل کو دمشق کے قریب کسویہ  کے علاقے میں ایک مقام کو نشانہ بنایا، جس میں چھ شامی فوجی مارے گئے۔ سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق بدھ کو دوبارہ اسی جگہ پر بمباری کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے ثنا نے ایک حکومتی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ فوجیوں نے علاقے میں نگرانی اور جاسوسی کے آلات دریافت کیے تھے، جس کے بعد اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ دفاع کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہدف کسویہ کے قریب تل مناہ  میں ایک سابق شامی فوجی اڈہ تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بدھ کے دوسرے حملے کے بعد ثنا نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے علاقے میں اتارے گئے تاکہ چھاپہ مار کارروائی کی جائے، جس کی تفصیلات تاحال نامعلوم ہیں، جب کہ فضائی نگرانی کی پروازیں بدستور جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کے لیے شامی مبصر ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اس مقام پر ایران کے حمایت یافتہ لبنانی جنگجو گروہ حزب اللہ کے ہتھیار موجود تھے، جو معزول صدر بشار الاسد کے بڑے اتحادیوں میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو ایکس (ایکس) پر پوسٹ میں اسرائیلی وزیرِ دفاع نے کہا  کہ ہماری افواج دن رات ہر جنگی محاذ پر اسرائیل کی سلامتی کے لیے کارروائی کر رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی سے رابطہ کرنے پر اسرائیلی فوج نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ میں قائم مبصر ادارے، جو زمینی ذرائع کے نیٹ ورک پر انحصار کرتا ہے، کے مطابق یہ چھاپہ دسمبر میں اسد کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسرائیل دسمبر سے اب تک شام میں سیکڑوں حملے کر چکا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی لائن کے شامی حصے پر واقع اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی غیر عسکری زون کے بڑے حصے پر قبضہ کر چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے دمشق میں عبوری حکام کے ساتھ بات چیت بھی شروع کر دی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>شامی سرکاری میڈیا کے مطابق اسرائیلی افواج نے شامی دارالحکومت کے قریب ایک مقام پر فضائی بمباری کے بعد فضائی حملہ (ایئر بورن ریڈ) کیا۔</strong></p>
<p>اسرائیل نے اس کارروائی کی تصدیق نہیں کی، تاہم وزیرِ دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ اس کی افواج ملک کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے تمام جنگی محاذوں پر کام کر رہی ہیں۔</p>
<p>اگر اس کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ شام کے اندر اسرائیل کی اب تک کی سب سے اندر گھس کر کارروائی ہوگی جو اسلام پسند اتحاد کے دسمبر میں دمشق پر قبضے کے بعد سامنے آئی ہے۔</p>
<p>وزارتِ خارجہ کے مطابق اسرائیلی جنگی طیاروں نے منگل کو دمشق کے قریب کسویہ  کے علاقے میں ایک مقام کو نشانہ بنایا، جس میں چھ شامی فوجی مارے گئے۔ سرکاری ٹیلی وژن کے مطابق بدھ کو دوبارہ اسی جگہ پر بمباری کی گئی۔</p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے ثنا نے ایک حکومتی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ فوجیوں نے علاقے میں نگرانی اور جاسوسی کے آلات دریافت کیے تھے، جس کے بعد اسرائیلی فضائی حملے کیے گئے۔</p>
<p>وزارتِ دفاع کے ایک اہلکار نے اے ایف پی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہدف کسویہ کے قریب تل مناہ  میں ایک سابق شامی فوجی اڈہ تھا۔</p>
<p>بدھ کے دوسرے حملے کے بعد ثنا نے بتایا کہ اسرائیلی فوجی ہیلی کاپٹروں کے ذریعے علاقے میں اتارے گئے تاکہ چھاپہ مار کارروائی کی جائے، جس کی تفصیلات تاحال نامعلوم ہیں، جب کہ فضائی نگرانی کی پروازیں بدستور جاری ہیں۔</p>
<p>انسانی حقوق کے لیے شامی مبصر ادارے سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اس مقام پر ایران کے حمایت یافتہ لبنانی جنگجو گروہ حزب اللہ کے ہتھیار موجود تھے، جو معزول صدر بشار الاسد کے بڑے اتحادیوں میں سے ایک ہے۔</p>
<p>جمعرات کو ایکس (ایکس) پر پوسٹ میں اسرائیلی وزیرِ دفاع نے کہا  کہ ہماری افواج دن رات ہر جنگی محاذ پر اسرائیل کی سلامتی کے لیے کارروائی کر رہی ہیں۔</p>
<p>اے ایف پی سے رابطہ کرنے پر اسرائیلی فوج نے کسی قسم کا تبصرہ کرنے سے انکار کیا۔</p>
<p>برطانیہ میں قائم مبصر ادارے، جو زمینی ذرائع کے نیٹ ورک پر انحصار کرتا ہے، کے مطابق یہ چھاپہ دسمبر میں اسد کے اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد اپنی نوعیت کی پہلی کارروائی ہے۔</p>
<p>اسرائیل دسمبر سے اب تک شام میں سیکڑوں حملے کر چکا ہے اور دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی لائن کے شامی حصے پر واقع اقوامِ متحدہ کے زیرِ نگرانی غیر عسکری زون کے بڑے حصے پر قبضہ کر چکا ہے۔</p>
<p>اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے دمشق میں عبوری حکام کے ساتھ بات چیت بھی شروع کر دی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276361</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Aug 2025 15:44:14 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/28154241d502430.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/28154241d502430.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
