<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Editorials</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:48 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:43:48 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برآمد کنندگان کی مشکلات</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276339/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کے مطابق جولائی 2025 کے دوران برآمدات میں ڈالر کے حساب سے جون 2025 کے مقابلے میں 8.44 فیصد اور جولائی 2024 کے مقابلے میں 16.43 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم جولائی 2025 میں تجارتی خسارہ جولائی 2024 کے مقابلے میں 29.43 فیصد اور جون 2025 کے مقابلے میں 10.57 فیصد بڑھ گیا — یہ اضافہ درآمدات میں نمایاں اضافے کے باعث ہوا جو جولائی 2024 کے مقابلے میں 23.13 فیصد اور رواں سال جون کے مقابلے میں 9.58 فیصد زیادہ رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ معیشت اب بھی بوم اینڈ بسٹ (تیزی اور گراوٹ) کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے، یعنی وہی پرانا رجحان جہاں نمو کو بڑھانے کے لیے برآمدات کو سہولت دی جاتی ہے اور درآمدی پابندیاں نرم کی جاتی ہیں۔ اکتوبر 2024 میں جاری ہونے والی آئی ایم ایف کی اسٹاف رپورٹ برائے 2024 آرٹیکل IV مشاورت اور توسیعی فنڈ سہولت کی درخواست کے مطابق، وقت کے ساتھ پاکستان کی معیشت میں یہ عدم استحکام مزید گہرا ہوا ہے اور اس کا براہِ راست تعلق پالیسیوں میں مستقل مزاجی کی کمی سے ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالیاتی اور مانیٹری پالیسی کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو بار بار فروغ دینے کی کوششیں پائیدار ترقی میں تبدیل نہیں ہوسکیں۔ ملکی طلب بارہا پائیدار صلاحیت سے بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوا اور زرمبادلہ ذخائر دباؤ کا شکار ہوئے—خاص طور پر اس وقت جب سیاسی طور پر مستحکم ایکسچینج ریٹ کو ترجیح دی گئی۔ ہر نیا معاشی بحران نہ صرف پالیسی سازی کی ساکھ کو مجروح کرتا رہا بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی کمزور کرتا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ رجحانات یہ واضح کرتے ہیں کہ تجارتی خسارہ مزید بڑھنے کا خطرہ ہے، جو حکومت کے اس بنیادی ہدف کو نقصان پہنچا سکتا ہے کہ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کو آخری بنایا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکا کے ساتھ طے پانے والا 19 فیصد ٹیرف جو اُن چند مارکیٹوں میں سے ایک ہے جہاں پاکستان نے ہمیشہ تجارتی سرپلس حاصل کیا قائم رہنے کا امکان کم نظر آتا ہے۔ اس رائے کو اس حقیقت سے مزید تقویت ملتی ہے کہ آئی ایم ایف اپنی سخت شرائط کے تحت حکومت کو وہ روایتی مالیاتی مراعات فراہم کرنے سے روک رہا ہے جو ماضی میں برآمدات کو سہارا دینے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطے کے مقابلے میں زیادہ یوٹیلٹی چارجز اور محصولات کے حصول کے لیے پیٹرولیم لیوی پر بھاری انحصار بھی صنعت اور برآمدات پر دباؤ ڈال رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے برعکس یورپی یونین کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس جو اکتوبر 2023 میں 31 دسمبر 2027 تک بڑھایا گیا، گزشتہ دہائی میں ہماری برآمدات میں 108 فیصد اضافے کا سبب بنا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یورپی یونین کا ایک معمول کا مانیٹرنگ مشن جلد متوقع ہے اور اسلام آباد میں یورپی یونین کے سفیر کے مطابق انسانی اور محنت کشوں کے حقوق سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانا ناگزیر ہے، یہ امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان کا ان کنونشنز پر عملدرآمد اطمینان بخش ہوگا کیونکہ یورپی یونین کو برآمدات ملک کیلئے زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2025 کے وسط تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 14.256 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جس نے روپے کو 290 روپے فی ڈالر سے نیچے رکھنے میں مدد دی۔ یہ کامیابی بنیادی طور پر دو عوامل کا نتیجہ ہے: (1) دوطرفہ ذرائع سے حاصل کردہ قرضوں کے رول اوورز (16 ارب ڈالر)، اور (2) اسٹیٹ بینک کی جانب سے مارکیٹ سے تقریباً 8 ارب ڈالر کی خریداری۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روپے کی قدر میں کمی سے ہماری برآمدات سستی اور زیادہ پرکشش ہو جاتیں؛ تاہم دیگر عوامل غالب ہیں، جن میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ 2025-26 کے لیے بجٹ شدہ جاری اخراجات کا 50 فیصد اور کل بجٹ شدہ اخراجات کا 47 فیصد صرف مارک اپ کی ادائیگیوں پر مشتمل ہے۔ یہ صورتحال روپے اور ڈالر کی قدر کو مستحکم رکھنے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تشویشناک امر یہ ہے کہ بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم)، جن میں برآمدی شعبہ بھی شامل ہے، نے جولائی تا مئی 2025  1.21 فیصد منفی شرح نمو ظاہر کی۔ یہ صورتحال واضح اشارہ دیتی ہے کہ موجودہ معاشی حکمتِ عملی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ آئی ایم ایف کسی بھی قسم کے ترغیبی اقدامات کی مخالفت کرتا ہے اور شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں پروگرام معطل ہونے کا خطرہ موجود ہے، لیکن شاید بہتر راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت اپنے موجودہ اخراجات میں نمایاں کمی کرے۔ اس سے بڑی صنعتوں پر محصولات کا دباؤ کم ہوگا اور برآمدکنندگان کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (پی بی ایس) کے مطابق جولائی 2025 کے دوران برآمدات میں ڈالر کے حساب سے جون 2025 کے مقابلے میں 8.44 فیصد اور جولائی 2024 کے مقابلے میں 16.43 فیصد کا نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ۔</p>
<p>تاہم جولائی 2025 میں تجارتی خسارہ جولائی 2024 کے مقابلے میں 29.43 فیصد اور جون 2025 کے مقابلے میں 10.57 فیصد بڑھ گیا — یہ اضافہ درآمدات میں نمایاں اضافے کے باعث ہوا جو جولائی 2024 کے مقابلے میں 23.13 فیصد اور رواں سال جون کے مقابلے میں 9.58 فیصد زیادہ رہیں۔</p>
<p>یہ اعداد و شمار اس حقیقت کی عکاسی کرتے ہیں کہ معیشت اب بھی بوم اینڈ بسٹ (تیزی اور گراوٹ) کے چکر میں پھنسی ہوئی ہے، یعنی وہی پرانا رجحان جہاں نمو کو بڑھانے کے لیے برآمدات کو سہولت دی جاتی ہے اور درآمدی پابندیاں نرم کی جاتی ہیں۔ اکتوبر 2024 میں جاری ہونے والی آئی ایم ایف کی اسٹاف رپورٹ برائے 2024 آرٹیکل IV مشاورت اور توسیعی فنڈ سہولت کی درخواست کے مطابق، وقت کے ساتھ پاکستان کی معیشت میں یہ عدم استحکام مزید گہرا ہوا ہے اور اس کا براہِ راست تعلق پالیسیوں میں مستقل مزاجی کی کمی سے ہے۔</p>
<p>مالیاتی اور مانیٹری پالیسی کے ذریعے معاشی سرگرمیوں کو بار بار فروغ دینے کی کوششیں پائیدار ترقی میں تبدیل نہیں ہوسکیں۔ ملکی طلب بارہا پائیدار صلاحیت سے بڑھ گئی، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ ہوا اور زرمبادلہ ذخائر دباؤ کا شکار ہوئے—خاص طور پر اس وقت جب سیاسی طور پر مستحکم ایکسچینج ریٹ کو ترجیح دی گئی۔ ہر نیا معاشی بحران نہ صرف پالیسی سازی کی ساکھ کو مجروح کرتا رہا بلکہ سرمایہ کاروں کے اعتماد کو بھی کمزور کرتا گیا۔</p>
<p>حالیہ رجحانات یہ واضح کرتے ہیں کہ تجارتی خسارہ مزید بڑھنے کا خطرہ ہے، جو حکومت کے اس بنیادی ہدف کو نقصان پہنچا سکتا ہے کہ موجودہ آئی ایم ایف پروگرام کو آخری بنایا جائے۔</p>
<p>امریکا کے ساتھ طے پانے والا 19 فیصد ٹیرف جو اُن چند مارکیٹوں میں سے ایک ہے جہاں پاکستان نے ہمیشہ تجارتی سرپلس حاصل کیا قائم رہنے کا امکان کم نظر آتا ہے۔ اس رائے کو اس حقیقت سے مزید تقویت ملتی ہے کہ آئی ایم ایف اپنی سخت شرائط کے تحت حکومت کو وہ روایتی مالیاتی مراعات فراہم کرنے سے روک رہا ہے جو ماضی میں برآمدات کو سہارا دینے کے لیے استعمال ہوتی رہی ہیں۔</p>
<p>خطے کے مقابلے میں زیادہ یوٹیلٹی چارجز اور محصولات کے حصول کے لیے پیٹرولیم لیوی پر بھاری انحصار بھی صنعت اور برآمدات پر دباؤ ڈال رہا ہے۔</p>
<p>اس کے برعکس یورپی یونین کا جی ایس پی پلس اسٹیٹس جو اکتوبر 2023 میں 31 دسمبر 2027 تک بڑھایا گیا، گزشتہ دہائی میں ہماری برآمدات میں 108 فیصد اضافے کا سبب بنا۔</p>
<p>تاہم یورپی یونین کا ایک معمول کا مانیٹرنگ مشن جلد متوقع ہے اور اسلام آباد میں یورپی یونین کے سفیر کے مطابق انسانی اور محنت کشوں کے حقوق سے متعلق 27 بین الاقوامی کنونشنز پر مکمل عمل درآمد یقینی بنانا ناگزیر ہے، یہ امید کی جا رہی ہے کہ پاکستان کا ان کنونشنز پر عملدرآمد اطمینان بخش ہوگا کیونکہ یورپی یونین کو برآمدات ملک کیلئے زرمبادلہ کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔</p>
<p>اگست 2025 کے وسط تک پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 14.256 ارب ڈالر تک پہنچ گئے جس نے روپے کو 290 روپے فی ڈالر سے نیچے رکھنے میں مدد دی۔ یہ کامیابی بنیادی طور پر دو عوامل کا نتیجہ ہے: (1) دوطرفہ ذرائع سے حاصل کردہ قرضوں کے رول اوورز (16 ارب ڈالر)، اور (2) اسٹیٹ بینک کی جانب سے مارکیٹ سے تقریباً 8 ارب ڈالر کی خریداری۔</p>
<p>روپے کی قدر میں کمی سے ہماری برآمدات سستی اور زیادہ پرکشش ہو جاتیں؛ تاہم دیگر عوامل غالب ہیں، جن میں یہ حقیقت بھی شامل ہے کہ 2025-26 کے لیے بجٹ شدہ جاری اخراجات کا 50 فیصد اور کل بجٹ شدہ اخراجات کا 47 فیصد صرف مارک اپ کی ادائیگیوں پر مشتمل ہے۔ یہ صورتحال روپے اور ڈالر کی قدر کو مستحکم رکھنے کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔</p>
<p>تشویشناک امر یہ ہے کہ بڑی صنعتوں (ایل ایس ایم)، جن میں برآمدی شعبہ بھی شامل ہے، نے جولائی تا مئی 2025  1.21 فیصد منفی شرح نمو ظاہر کی۔ یہ صورتحال واضح اشارہ دیتی ہے کہ موجودہ معاشی حکمتِ عملی کو بدلنے کی ضرورت ہے۔</p>
<p>اگرچہ آئی ایم ایف کسی بھی قسم کے ترغیبی اقدامات کی مخالفت کرتا ہے اور شرائط پوری نہ ہونے کی صورت میں پروگرام معطل ہونے کا خطرہ موجود ہے، لیکن شاید بہتر راستہ یہ ہو سکتا ہے کہ حکومت اپنے موجودہ اخراجات میں نمایاں کمی کرے۔ اس سے بڑی صنعتوں پر محصولات کا دباؤ کم ہوگا اور برآمدکنندگان کو فوری ریلیف فراہم کیا جا سکے گا۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Editorials</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276339</guid>
      <pubDate>Thu, 28 Aug 2025 11:38:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اداریہ)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/28110757bd6c187.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/28110757bd6c187.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
