<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:02 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 22:10:02 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ ٹیرف سے بھارت کے روسی تیل کے ذریعے بچائے گئے اربوں ڈالر ضائع ہونے کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276312/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارت نے روس سے رعایتی قیمت پر تیل کی درآمدات بڑھا کر اربوں ڈالر کی بچت کی تھی، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد تک کے اضافی محصولات کے نفاذ سے یہ فائدہ تیزی سے ختم ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے فروری 2022 سے روسی تیل کی خریداری بڑھا کر کم از کم 17 ارب ڈالر کی بچت کی، تاہم نئی ڈیوٹیاں بھارتی برآمدات کو موجودہ مالی سال میں 40 فیصد یا تقریباً 37 ارب ڈالر تک کم کر سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تجارتی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال وزیراعظم نریندر مودی کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ لاکھوں ملازمتیں خاص طور پر ٹیکسٹائل، جواہرات اور ہینڈ کرافٹ جیسے شعبوں میں خطرے میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر بھارت کے لیے امریکہ اور روس کے درمیان توازن قائم رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بھارت اب بھی روس پر دفاعی آلات، سستا تیل اور سفارتی تعاون کے لیے انحصار کرتا ہے، جبکہ امریکہ کو سب سے اہم اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ روسی تیل کی درآمدات ملکی صارفین کے لیے توانائی کی قیمتوں کو قابلِ برداشت رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ نئی دہلی نے خبردار کیا ہے کہ روسی تیل کی خریداری فوری روکنے سے سپلائی چین بکھر جائے گی اور عالمی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ روسی خام تیل اس وقت بھارت کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 40 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی وزیر خزانہ نے بھارت پر روسی تیل سے منافع کمانے کا الزام لگایا ہے، تاہم بھارت کا کہنا ہے کہ چین اور دیگر ممالک بھی روسی تیل خرید رہے ہیں مگر ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی یہ پالیسی نہ صرف تجارتی تعلقات بلکہ دیگر شعبوں، جیسے بھارتی ماہرینِ ٹیکنالوجی کے ویزے اور آؤٹ سورسنگ، کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ویتنام، چین، میکسیکو اور حتیٰ کہ پاکستان بھی بھارتی برآمدات کی جگہ لے سکتے ہیں، جس کے طویل المدتی اثرات بھارت کے عالمی تجارتی امکانات کو محدود کر سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارت نے روس سے رعایتی قیمت پر تیل کی درآمدات بڑھا کر اربوں ڈالر کی بچت کی تھی، لیکن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارتی برآمدات پر 50 فیصد تک کے اضافی محصولات کے نفاذ سے یہ فائدہ تیزی سے ختم ہونے کا خدشہ ہے۔</strong></p>
<p>تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت نے فروری 2022 سے روسی تیل کی خریداری بڑھا کر کم از کم 17 ارب ڈالر کی بچت کی، تاہم نئی ڈیوٹیاں بھارتی برآمدات کو موجودہ مالی سال میں 40 فیصد یا تقریباً 37 ارب ڈالر تک کم کر سکتی ہیں۔</p>
<p>تجارتی ماہرین کے مطابق یہ صورتحال وزیراعظم نریندر مودی کے لیے سیاسی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ لاکھوں ملازمتیں خاص طور پر ٹیکسٹائل، جواہرات اور ہینڈ کرافٹ جیسے شعبوں میں خطرے میں ہیں۔</p>
<p>ادھر بھارت کے لیے امریکہ اور روس کے درمیان توازن قائم رکھنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ بھارت اب بھی روس پر دفاعی آلات، سستا تیل اور سفارتی تعاون کے لیے انحصار کرتا ہے، جبکہ امریکہ کو سب سے اہم اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتا ہے۔</p>
<p>بھارتی حکومت کا مؤقف ہے کہ روسی تیل کی درآمدات ملکی صارفین کے لیے توانائی کی قیمتوں کو قابلِ برداشت رکھنے کے لیے ناگزیر ہیں۔ نئی دہلی نے خبردار کیا ہے کہ روسی تیل کی خریداری فوری روکنے سے سپلائی چین بکھر جائے گی اور عالمی قیمتیں 200 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔ روسی خام تیل اس وقت بھارت کی مجموعی درآمدات کا تقریباً 40 فیصد ہے۔</p>
<p>امریکی وزیر خزانہ نے بھارت پر روسی تیل سے منافع کمانے کا الزام لگایا ہے، تاہم بھارت کا کہنا ہے کہ چین اور دیگر ممالک بھی روسی تیل خرید رہے ہیں مگر ان پر کوئی دباؤ نہیں ڈالا گیا۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق ٹرمپ کی یہ پالیسی نہ صرف تجارتی تعلقات بلکہ دیگر شعبوں، جیسے بھارتی ماہرینِ ٹیکنالوجی کے ویزے اور آؤٹ سورسنگ، کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ویتنام، چین، میکسیکو اور حتیٰ کہ پاکستان بھی بھارتی برآمدات کی جگہ لے سکتے ہیں، جس کے طویل المدتی اثرات بھارت کے عالمی تجارتی امکانات کو محدود کر سکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276312</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Aug 2025 14:19:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/27141523804acfe.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/27141523804acfe.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
