<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 04 Jun 2026 01:01:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت نے ڈیموں سے پانی چھوڑ دیا، پاکستانی دریاؤں میں سیلابی صورتحال کا خدشہ</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276306/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;بھارتی حکومتی ذرائع کے مطابق بھارت نے بدھ کے روز مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریاؤں پر قائم بڑے ڈیموں کے تمام دروازے شدید بارشوں کے بعد کھول دیے اور پڑوسی ملک پاکستان کو ممکنہ سیلابی خطرے سے آگاہ کر دیا۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے کہا کہ اسلام آباد کو یہ وارننگ موصول ہوئی اور اس کے بعد بھارت سے آنے والے تین دریاؤں پر سیلاب کے خدشے کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شدید مون سون بارشوں اور سیلاب نے حالیہ ہفتوں میں دونوں حریف ممالک، بھارت اور پاکستان کو بری طرح متاثر کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان کے زرعی مرکز پنجاب کو اس وقت انتہائی زیادہ سیلابی خطرے کا سامنا ہے جو شدید بارشوں اور بھارت کی جانب سے ڈیموں سے چھوڑے گئے زائد پانی کے ملاپ سے پیدا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پنجاب پاکستان کی گندم کی بڑی پیداوار گاہ ہے اور یہ ملک کی 240 ملین آبادی میں سے نصف سے زیادہ لوگوں کا گھر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ذرائع نے بتایا کہ تقریباً 200,000 کیوسک پانی چھوڑا جا سکتا ہے۔
ایک کیوسک پانی کا وہ پیمانہ ہے جو فی سیکنڈ ایک مکعب فٹ یا 28 لیٹر کے برابر ہوتا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ بھارت پانی ایک ہی بار چھوڑے گا یا مرحلہ وار۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ایک اہلکار نے منگل کو متنبہ کیا تھا کہ بھارت آنے والے دنوں میں قابو شدہ مقدار میں پانی چھوڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا کہنا ہے کہ نئی دہلی اتوار سے اب تک دو سیلابی وارننگز پہلے ہی دے چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت جب بھی اس کے ڈیم زیادہ بھر جاتے ہیں تو پانی چھوڑ دیتا ہے، اور یہ زائد پانی دریا کے بہاؤ کے ساتھ پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے کیونکہ دونوں ممالک یہ دریا شیئر کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی حکام نے بدھ کو صوبہ پنجاب کے پہلے سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے لیے فوج کو طلب کر لیا، جب کہ جمعے سے ہی متاثرین کی جبری انخلا کی کارروائیاں جاری ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی پنجاب میں سیلاب کے باعث بے گھر افراد کی تعداد اب 167,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں سے تقریباً 40,000 لوگ وہ ہیں جنہوں نے 14 اگست سے جاری سیلابی وارننگ کے بعد رضاکارانہ طور پر علاقے چھوڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں مون سون سیزن کے آغاز، یعنی جون کے آخر سے اب تک سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 802 ہو گئی ہے، جن میں نصف ہلاکتیں صرف اگست کے مہینے میں ہوئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 1947 میں آزادی کے وقت پنجاب کا خطہ دونوں ممالک کے درمیان تقسیم ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>بھارتی حکومتی ذرائع کے مطابق بھارت نے بدھ کے روز مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریاؤں پر قائم بڑے ڈیموں کے تمام دروازے شدید بارشوں کے بعد کھول دیے اور پڑوسی ملک پاکستان کو ممکنہ سیلابی خطرے سے آگاہ کر دیا۔</strong></p>
<p>پاکستان نے کہا کہ اسلام آباد کو یہ وارننگ موصول ہوئی اور اس کے بعد بھارت سے آنے والے تین دریاؤں پر سیلاب کے خدشے کے حوالے سے الرٹ جاری کر دیا گیا۔</p>
<p>شدید مون سون بارشوں اور سیلاب نے حالیہ ہفتوں میں دونوں حریف ممالک، بھارت اور پاکستان کو بری طرح متاثر کیا ہے۔</p>
<p>پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان کے زرعی مرکز پنجاب کو اس وقت انتہائی زیادہ سیلابی خطرے کا سامنا ہے جو شدید بارشوں اور بھارت کی جانب سے ڈیموں سے چھوڑے گئے زائد پانی کے ملاپ سے پیدا ہوا ہے۔</p>
<p>پنجاب پاکستان کی گندم کی بڑی پیداوار گاہ ہے اور یہ ملک کی 240 ملین آبادی میں سے نصف سے زیادہ لوگوں کا گھر ہے۔</p>
<p>بھارتی ذرائع نے بتایا کہ تقریباً 200,000 کیوسک پانی چھوڑا جا سکتا ہے۔
ایک کیوسک پانی کا وہ پیمانہ ہے جو فی سیکنڈ ایک مکعب فٹ یا 28 لیٹر کے برابر ہوتا ہے۔ یہ واضح نہیں کہ بھارت پانی ایک ہی بار چھوڑے گا یا مرحلہ وار۔</p>
<p>پاکستانی ڈیزاسٹر مینجمنٹ کے ایک اہلکار نے منگل کو متنبہ کیا تھا کہ بھارت آنے والے دنوں میں قابو شدہ مقدار میں پانی چھوڑے گا۔</p>
<p>پاکستان کا کہنا ہے کہ نئی دہلی اتوار سے اب تک دو سیلابی وارننگز پہلے ہی دے چکا ہے۔</p>
<p>بھارت جب بھی اس کے ڈیم زیادہ بھر جاتے ہیں تو پانی چھوڑ دیتا ہے، اور یہ زائد پانی دریا کے بہاؤ کے ساتھ پاکستان میں داخل ہو جاتا ہے کیونکہ دونوں ممالک یہ دریا شیئر کرتے ہیں۔</p>
<p>پاکستانی حکام نے بدھ کو صوبہ پنجاب کے پہلے سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن کے لیے فوج کو طلب کر لیا، جب کہ جمعے سے ہی متاثرین کی جبری انخلا کی کارروائیاں جاری ہیں۔</p>
<p>پاکستانی پنجاب میں سیلاب کے باعث بے گھر افراد کی تعداد اب 167,000 سے تجاوز کر گئی ہے، جن میں سے تقریباً 40,000 لوگ وہ ہیں جنہوں نے 14 اگست سے جاری سیلابی وارننگ کے بعد رضاکارانہ طور پر علاقے چھوڑے۔</p>
<p>پاکستان میں مون سون سیزن کے آغاز، یعنی جون کے آخر سے اب تک سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 802 ہو گئی ہے، جن میں نصف ہلاکتیں صرف اگست کے مہینے میں ہوئیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ 1947 میں آزادی کے وقت پنجاب کا خطہ دونوں ممالک کے درمیان تقسیم ہوا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276306</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Aug 2025 12:46:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/271243278e1467f.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/271243278e1467f.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
