<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - World</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:58 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:41:58 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ وائٹ ہاؤس میں غزہ پر اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کریں گے</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276302/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے منگل کو کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں غزہ پر ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کو توقع ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی علاقے میں جاری جنگ رواں سال کے آخر تک ختم ہو جائے گی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی محکمہ خارجہ نے علیحدہ بیان میں بتایا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو بدھ کو واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کا وقت مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 15 منٹ (1915 جی ایم ٹی) مقرر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ، جنہوں نے اپنی 2024 کی انتخابی مہم میں غزہ جنگ کے جلد خاتمے کا وعدہ کیا تھا، جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سات ماہ گزرنے کے باوجود اس ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی مدت صدارت کے آغاز میں ایک جنگ بندی قائم ہوئی تھی جو صرف دو ماہ جاری رہی اور 18 مارچ کو اسرائیلی فضائی حملوں میں تقریباً 400 فلسطینیوں کی شہادت کے بعد ختم ہو گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حالیہ ہفتوں میں غزہ میں بھوک اور قحط سے متاثر بچوں سمیت فلسطینیوں کی دل دہلا دینے والی تصاویر نے دنیا کو جھنجھوڑ دیا ہے اور اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر تنقید میں اضافہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں وٹکوف نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ایک جامع منصوبے پر بات ہوگی اور امید ہے کہ یہ جنگ ہر صورت سال کے اختتام تک ختم کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل حماس کے ساتھ مذاکرات کے لیے کھلا ہے جبکہ حماس نے بھی تصفیے میں دلچسپی کا عندیہ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غزہ کے صحت حکام کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 62,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ پورا علاقہ داخلی طور پر بے گھر اور شدید بھوک کے بحران کا شکار ہے۔ ادھر اسرائیل نے الزام عائد کیا ہے کہ جنگ کا آغاز حماس کے حملے سے ہوا تھا جس میں 1,200 اسرائیلی ہلاک اور 250 کے قریب یرغمال بنائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>امریکی خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف نے منگل کو کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ بدھ کے روز وائٹ ہاؤس میں غزہ پر ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کریں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ واشنگٹن کو توقع ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی علاقے میں جاری جنگ رواں سال کے آخر تک ختم ہو جائے گی۔</strong></p>
<p>امریکی محکمہ خارجہ نے علیحدہ بیان میں بتایا کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو بدھ کو واشنگٹن میں اسرائیلی وزیر خارجہ گیڈون سار سے ملاقات کریں گے۔ اس ملاقات کا وقت مقامی وقت کے مطابق سہ پہر 3 بج کر 15 منٹ (1915 جی ایم ٹی) مقرر کیا گیا ہے۔</p>
<p>یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب صدر ٹرمپ، جنہوں نے اپنی 2024 کی انتخابی مہم میں غزہ جنگ کے جلد خاتمے کا وعدہ کیا تھا، جنوری میں عہدہ سنبھالنے کے بعد سات ماہ گزرنے کے باوجود اس ہدف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ ان کی مدت صدارت کے آغاز میں ایک جنگ بندی قائم ہوئی تھی جو صرف دو ماہ جاری رہی اور 18 مارچ کو اسرائیلی فضائی حملوں میں تقریباً 400 فلسطینیوں کی شہادت کے بعد ختم ہو گئی۔</p>
<p>حالیہ ہفتوں میں غزہ میں بھوک اور قحط سے متاثر بچوں سمیت فلسطینیوں کی دل دہلا دینے والی تصاویر نے دنیا کو جھنجھوڑ دیا ہے اور اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر تنقید میں اضافہ کیا ہے۔</p>
<p>فاکس نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں وٹکوف نے کہا کہ وائٹ ہاؤس میں ایک جامع منصوبے پر بات ہوگی اور امید ہے کہ یہ جنگ ہر صورت سال کے اختتام تک ختم کر دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل حماس کے ساتھ مذاکرات کے لیے کھلا ہے جبکہ حماس نے بھی تصفیے میں دلچسپی کا عندیہ دیا ہے۔</p>
<p>غزہ کے صحت حکام کے مطابق اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 62,000 سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ پورا علاقہ داخلی طور پر بے گھر اور شدید بھوک کے بحران کا شکار ہے۔ ادھر اسرائیل نے الزام عائد کیا ہے کہ جنگ کا آغاز حماس کے حملے سے ہوا تھا جس میں 1,200 اسرائیلی ہلاک اور 250 کے قریب یرغمال بنائے گئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276302</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Aug 2025 11:59:18 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (رائٹرز)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/271158083836fa3.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/271158083836fa3.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
