<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 19 Jul 2026 22:21:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 19 Jul 2026 22:21:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سابقہ فاٹا، پاٹا، اشیا پر جی ایس ٹی کے ازسرنو جائزے کیلئے کمیٹی قائم</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276287/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وفاقی بجٹ 26-2025 کے نفاذ کو دو ماہ سے بھی کم عرصہ ہوا ہے کہ حکومت نے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں فراہم اور استعمال ہونے والی اشیا پر حالیہ عائد کیے گئے سیلز ٹیکس کا ازسرِ نو جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ انکشاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے اجلاس میں ہوا جس کی صدارت نوید قمر نے کی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے اعتراف کیا کہ ٹیکس کے نفاذ میں مشکلات درپیش ہیں کیونکہ ان علاقوں کی سرحدیں غیر محفوظ اور کھلی ہیں، جس سے اگر ٹیکس واپس لیا گیا تو نفاذ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت مقامی آبادی پر بوجھ کم کرنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے سبسڈی یا مراعات فراہم کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین ایف بی آر نے مزید بتایا کہ حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں دونوں اطراف کے نمائندے شامل ہیں اور سفارش کی کہ پارلیمانی کمیٹی اس کمیٹی کو حل تجویز کرنے کی مہلت دے۔ اجلاس میں کمیٹی کو 26-2025 کے بجٹ میں فاٹا اور پاٹا پر عائد سیلز ٹیکس اور اس کے نفاذ کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ اراکین نے نئے ضم شدہ اضلاع خیبر پختونخوا میں ٹیکس کی شرح کے مسائل اور متبادل ذرائع پر غور کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نوید قمر نے ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ موجودہ ٹیکس پالیسیوں کو روزگار کے مواقع یا ترقیاتی نتائج سے جوڑنے کے لیے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس مراعات دیتے وقت منافع کے بجائے روزگار اور صنعتی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمیٹی کے اراکین نے تشویش ظاہر کی کہ سیلز ٹیکس میں اضافے سے مقامی صنعت، روزگار اور پسماندہ علاقوں کی معیشت متاثر ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے مقامی صنعت سے متعلق پالیسی مسائل بھی اٹھائے اور بجٹ میں دی گئی نامکمل ٹیکس چھوٹوں پر سوال اٹھایا۔ کمیٹی نے معاملے پر مزید غور کے لیے ایجنڈا آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید بتایا گیا کہ فنانس ایکٹ 2025 کے ذریعے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت سابقہ قبائلی علاقوں میں دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ بتدریج ختم کی جائے گی۔ شرحِ ٹیکس مرحلہ وار بڑھائی جائے گی تاکہ ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے یہ اقدام ملک بھر میں ٹیکس کے یکساں نفاذ اور مساوات کو یقینی بنانے کے لیے کیا ہے، جو وزیراعظم کی جانب سے رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے مشورے سے طے پایا۔ اس کمیٹی نے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد مرحلہ وار شرحِ ٹیکس کا ڈھانچہ مرتب کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ایک سال کے لیے مزید بڑھا دی گئی ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ سابق فاٹا/پاٹا کے کاروباری افراد ملک کے دیگر حصوں میں اپنی مصنوعات 16 فیصد سیلز ٹیکس کے ساتھ بیچ سکتے ہیں، جو کہ دیگر کاروباروں کے 18 فیصد کے مقابلے میں دو فیصد کم ہے، یوں انہیں قیمت میں برتری حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وفاقی بجٹ 26-2025 کے نفاذ کو دو ماہ سے بھی کم عرصہ ہوا ہے کہ حکومت نے سابقہ فاٹا اور پاٹا میں فراہم اور استعمال ہونے والی اشیا پر حالیہ عائد کیے گئے سیلز ٹیکس کا ازسرِ نو جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کر دی ہے۔ یہ انکشاف قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و ریونیو کے اجلاس میں ہوا جس کی صدارت نوید قمر نے کی۔</strong></p>
<p>اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین ایف بی آر راشد لنگڑیال نے اعتراف کیا کہ ٹیکس کے نفاذ میں مشکلات درپیش ہیں کیونکہ ان علاقوں کی سرحدیں غیر محفوظ اور کھلی ہیں، جس سے اگر ٹیکس واپس لیا گیا تو نفاذ مزید پیچیدہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت مقامی آبادی پر بوجھ کم کرنے کے لیے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے ذریعے سبسڈی یا مراعات فراہم کرسکتی ہے۔</p>
<p>چیئرمین ایف بی آر نے مزید بتایا کہ حکومت نے ایک کمیٹی تشکیل دی ہے جس میں دونوں اطراف کے نمائندے شامل ہیں اور سفارش کی کہ پارلیمانی کمیٹی اس کمیٹی کو حل تجویز کرنے کی مہلت دے۔ اجلاس میں کمیٹی کو 26-2025 کے بجٹ میں فاٹا اور پاٹا پر عائد سیلز ٹیکس اور اس کے نفاذ کی صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔ اراکین نے نئے ضم شدہ اضلاع خیبر پختونخوا میں ٹیکس کی شرح کے مسائل اور متبادل ذرائع پر غور کیا۔</p>
<p>نوید قمر نے ڈیٹا پر مبنی پالیسی سازی کی ضرورت پر زور دیا اور اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ موجودہ ٹیکس پالیسیوں کو روزگار کے مواقع یا ترقیاتی نتائج سے جوڑنے کے لیے کوئی ٹھوس شواہد موجود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس مراعات دیتے وقت منافع کے بجائے روزگار اور صنعتی ترقی پر توجہ دینی چاہیے۔</p>
<p>کمیٹی کے اراکین نے تشویش ظاہر کی کہ سیلز ٹیکس میں اضافے سے مقامی صنعت، روزگار اور پسماندہ علاقوں کی معیشت متاثر ہوگی۔ ساتھ ہی انہوں نے مقامی صنعت سے متعلق پالیسی مسائل بھی اٹھائے اور بجٹ میں دی گئی نامکمل ٹیکس چھوٹوں پر سوال اٹھایا۔ کمیٹی نے معاملے پر مزید غور کے لیے ایجنڈا آئندہ اجلاس تک مؤخر کر دیا۔</p>
<p>مزید بتایا گیا کہ فنانس ایکٹ 2025 کے ذریعے سیلز ٹیکس ایکٹ 1990 میں ترمیم کی گئی ہے جس کے تحت سابقہ قبائلی علاقوں میں دی گئی سیلز ٹیکس چھوٹ بتدریج ختم کی جائے گی۔ شرحِ ٹیکس مرحلہ وار بڑھائی جائے گی تاکہ ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ نہ پڑے۔</p>
<p>حکومت نے یہ اقدام ملک بھر میں ٹیکس کے یکساں نفاذ اور مساوات کو یقینی بنانے کے لیے کیا ہے، جو وزیراعظم کی جانب سے رانا ثناء اللہ کی سربراہی میں قائم کمیٹی کے مشورے سے طے پایا۔ اس کمیٹی نے مختلف اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد مرحلہ وار شرحِ ٹیکس کا ڈھانچہ مرتب کیا۔</p>
<p>اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ قبائلی علاقوں میں بجلی کی فراہمی پر سیلز ٹیکس کی چھوٹ ایک سال کے لیے مزید بڑھا دی گئی ہے تاکہ عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ سابق فاٹا/پاٹا کے کاروباری افراد ملک کے دیگر حصوں میں اپنی مصنوعات 16 فیصد سیلز ٹیکس کے ساتھ بیچ سکتے ہیں، جو کہ دیگر کاروباروں کے 18 فیصد کے مقابلے میں دو فیصد کم ہے، یوں انہیں قیمت میں برتری حاصل ہے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276287</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Aug 2025 09:56:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر امین)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/270955288eaa942.webp" type="image/webp" medium="image" height="768" width="1024">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/270955288eaa942.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
