<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Pakistan</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:01 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:42:01 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>وزیراعظم کا دورہ چین، بورڈ آف انویسٹمنٹ نے بی ٹو بی ایونٹ میں شریک چینی کمپنیوں کی تعداد انتہائی کم قرار دیدی</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276281/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;وزیراعظم کے متوقع دورۂ چین کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، تاہم بورڈ آف انویسٹمنٹ نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ بیزنس ٹو بیزنس (بی ٹو بی) ایونٹ میں شرکت کی تصدیق کرنے والی چینی کمپنیوں کی تعداد کم ہے۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بورڈ آف انویسٹمنٹ  کے ماہر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس کمی کے نتیجے میں پاکستانی کمپنیوں کی جانب سے بھی شرکت منسوخ ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ مقامی کمپنیاں اس بات کی خواہش رکھتی ہیں کہ وہ کم از کم 4 تا 5 چینی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں ہونے والے اجلاس میں، جس کی صدارت وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات نے کی، چین میں پاکستان کے سفارتخانے نے بتایا کہ تقریب میں دونوں ممالک کی مجموعی طور پر تقریباً 286 کمپنیاں شریک ہونے کی توقع رکھتی ہیں اور اب تک 30 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) موصول ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتخانے نے شرکا کو بتایا کہ ہر شعبے کے لیے وی چیٹ گروپس بنائے جا رہے ہیں تاکہ کمپنیوں کے درمیان باضابطہ رابطہ آسان ہو سکے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ  کے تعاون سے مشن دو انٹرایکٹو سیشنز کا اہتمام کرے گا، ہر سیشن میں پانچ شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ ان سیشنز میں شعبہ جاتی بریفنگ کے بعد سوال و جواب کے مواقع بھی شامل ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین نے بورڈ آف انویسٹمنٹ  کو ہدایت دی کہ پاکستان کی وفد کے لیے معلوماتی پیک تیار کیا جائے جو چین میں بی ٹو بی ملاقاتوں میں شرکت کرے گا۔ اجلاس میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ تقریب کے لیے چین ورلڈ ہوٹل، بیجنگ کو حتمی مقام کے طور پر طے کیا گیا ہے۔ سفارتخانے نے شرکاء کو یقین دلایا کہ مناسب جگہ دستیاب ہے اور ہر پاکستانی کمپنی کے لیے الگ بوٹ کا اہتمام کیا جائے گا۔ چینی کمپنیاں مقررہ شیڈول کے مطابق ان بوٹ کا دورہ کریں گی اور بوٹ کی تفصیلات مقام پر ظاہر کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں صوبائی نمائندگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جس کے جواب میں چیئرمین نے کہا کہ تمام صوبائی سرمایہ کاری محکمے یا ان کے مساوی ادارے ایونٹ میں شرکت کریں گے۔ مزید ہدایت کی گئی کہ سفارتخانہ مقام کا فزیکل لے آؤٹ پیش کرے تاکہ تمام شرکا کے لیے مناسب جگہ مختص کی جا سکے۔ یہ لے آؤٹ کمپنیوں کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دے گا کہ وہ اپنے بوٹ کی تیاری کے لیے کون سا مواد لائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں، پاکستان کے کاروباری اداروں کی معلومات اور کمپنی پروفائلز آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کی جا رہی ہیں، جبکہ پچ بُکس مکمل ہونے کے بعد شامل کی جائیں گی۔ وزارتِ خارجہ کے نمائندے نے بتایا کہ ویزا درخواستوں کے لیے چینی سفارتخانے کی طرف سے رسمی دعوتی خط درکار ہوگا، جو شرکا کی تفصیلات حتمی ہونے کے بعد فراہم کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے نمائندے نے شرکا کی تعداد اور متوقع سفر کے تاریخوں کے بارے میں استفسار کیا تاکہ لاگت کا تخمینہ لگایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ وقت میں پی آئی اے کے پاس صرف چار بوئنگ 777 یا مساوی طیارے ہیں جو بین الاقوامی پروازوں کے لیے پہلے سے مختص ہیں۔ نتیجتاً، ایونٹ کے لیے خصوصی پرواز کے طور پر ایک ایئر بس A320 استعمال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اجلاس میں متعدد فیصلے کیے گئے: پاکستان کے سفارتخانے کو فزیکل لے آؤٹ شیئر کرنا، ایس ای سی پی، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور صوبوں کے لیے جگہ یقینی بنانا، ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر سے کم از کم  بی ایس-21 کے نمائندے، اور صوبائی بورڈ آف انویسٹمنٹ  سے کم از کم بی ایس-20 کے نمائندے ایونٹ میں شرکت کریں گے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ  شرکاء کی تفصیلات وزارتِ خارجہ کے ساتھ ویزا کی سہولت کے لیے شیئر کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد میں ایک اور اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ کاروباری وفد کے لیے خصوصی پرواز (بوئنگ 777) کا انتظام کیا جائے گا۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ  پانچ بزنس فیسلیٹیشن سینٹرز کے قیام کے لیے ٹائم لائن فراہم کرے گا اور کاروباری سہولت کے لیے 24/7 کال سینٹر فعال کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید یہ کہ چینی آئی پی پیز سے متعلق کم از کم 100 ارب روپے کی سرکلر ڈیبٹ کی ادائیگی 25 اگست 2025 تک منتقل کی جائے گی، لیکن یہ ہدف ابھی تک پورا نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کانفرنس کے دوران تکنیکی معاونت کے لیے ایک واحد بوٹ میں ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، بورڈ آف انویسٹمنٹ  اور دیگر متعلقہ اداروں کے تربیت یافتہ ایچ آر دستیاب ہوں گے، اور چینی زبان کے مترجم بھی موجود ہوں گے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ  اس ٹیم کی تربیت اور ریہرسل کے ذمہ دار ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق کوئلہ گیسفیکیشن منصوبے کو چینی شراکت داروں کے ساتھ رسمی شکل دینے اور پیش رفت سے آگاہ رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ تیار ایس ای زیڈ کی سہولیات کا اعلیٰ معیار کا ویڈیو تیار کیا جائے گا تاکہ ممکنہ چینی سرمایہ کاروں کو دکھایا جا سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی حکومت کی دلچسپی کے پیش نظر خصوصی توجہ اور شراکت داری کے ماڈلز درج ذیل شعبوں کے لیے تیار کیے جائیں گے: زرعی شعبہ، منتخب چینی صنعتوں کی منتقلی، کے کے ایچ کی اپگریڈیشن، ایم ایل-ون کے لیے مالی معاونت، آئی ٹی/آی ٹی ای ایس اور اے آئی میں تربیت و ہنر کی ترقی، اور ایس ای زیڈ کی تیاری۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت خوراک زرعی شعبے میں چینی سرمایہ کاری کے مواقع پر علیحدہ پریزنٹیشن دے گی اور ممکنہ شراکت داروں کی شناخت اور ویڈیو کے ذریعے پیش رفت دکھائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارتِ داخلہ کو ہدایت دی گئی کہ ویزا اصلاحات کے حوالے سے کابینہ کے لیے سمری فوری طور پر جمع کرائی جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>وزیراعظم کے متوقع دورۂ چین کی تیاریاں زور و شور سے جاری ہیں، تاہم بورڈ آف انویسٹمنٹ نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ بیزنس ٹو بیزنس (بی ٹو بی) ایونٹ میں شرکت کی تصدیق کرنے والی چینی کمپنیوں کی تعداد کم ہے۔</strong></p>
<p>بورڈ آف انویسٹمنٹ  کے ماہر ذرائع نے بزنس ریکارڈر کو بتایا کہ اس کمی کے نتیجے میں پاکستانی کمپنیوں کی جانب سے بھی شرکت منسوخ ہونے کا خدشہ ہے، کیونکہ مقامی کمپنیاں اس بات کی خواہش رکھتی ہیں کہ وہ کم از کم 4 تا 5 چینی کمپنیوں کے نمائندوں سے ملاقات کریں۔</p>
<p>حال ہی میں ہونے والے اجلاس میں، جس کی صدارت وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی اور خصوصی اقدامات نے کی، چین میں پاکستان کے سفارتخانے نے بتایا کہ تقریب میں دونوں ممالک کی مجموعی طور پر تقریباً 286 کمپنیاں شریک ہونے کی توقع رکھتی ہیں اور اب تک 30 مفاہمتی یادداشتیں (ایم او یوز) موصول ہو چکے ہیں۔</p>
<p>سفارتخانے نے شرکا کو بتایا کہ ہر شعبے کے لیے وی چیٹ گروپس بنائے جا رہے ہیں تاکہ کمپنیوں کے درمیان باضابطہ رابطہ آسان ہو سکے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ  کے تعاون سے مشن دو انٹرایکٹو سیشنز کا اہتمام کرے گا، ہر سیشن میں پانچ شعبوں پر توجہ دی جائے گی۔ ان سیشنز میں شعبہ جاتی بریفنگ کے بعد سوال و جواب کے مواقع بھی شامل ہوں گے۔</p>
<p>چیئرمین نے بورڈ آف انویسٹمنٹ  کو ہدایت دی کہ پاکستان کی وفد کے لیے معلوماتی پیک تیار کیا جائے جو چین میں بی ٹو بی ملاقاتوں میں شرکت کرے گا۔ اجلاس میں یہ بھی اعلان کیا گیا کہ تقریب کے لیے چین ورلڈ ہوٹل، بیجنگ کو حتمی مقام کے طور پر طے کیا گیا ہے۔ سفارتخانے نے شرکاء کو یقین دلایا کہ مناسب جگہ دستیاب ہے اور ہر پاکستانی کمپنی کے لیے الگ بوٹ کا اہتمام کیا جائے گا۔ چینی کمپنیاں مقررہ شیڈول کے مطابق ان بوٹ کا دورہ کریں گی اور بوٹ کی تفصیلات مقام پر ظاہر کی جائیں گی۔</p>
<p>اجلاس میں صوبائی نمائندگی پر بھی سوالات اٹھائے گئے، جس کے جواب میں چیئرمین نے کہا کہ تمام صوبائی سرمایہ کاری محکمے یا ان کے مساوی ادارے ایونٹ میں شرکت کریں گے۔ مزید ہدایت کی گئی کہ سفارتخانہ مقام کا فزیکل لے آؤٹ پیش کرے تاکہ تمام شرکا کے لیے مناسب جگہ مختص کی جا سکے۔ یہ لے آؤٹ کمپنیوں کو یہ فیصلہ کرنے میں مدد دے گا کہ وہ اپنے بوٹ کی تیاری کے لیے کون سا مواد لائیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں، پاکستان کے کاروباری اداروں کی معلومات اور کمپنی پروفائلز آن لائن پورٹل پر اپ لوڈ کی جا رہی ہیں، جبکہ پچ بُکس مکمل ہونے کے بعد شامل کی جائیں گی۔ وزارتِ خارجہ کے نمائندے نے بتایا کہ ویزا درخواستوں کے لیے چینی سفارتخانے کی طرف سے رسمی دعوتی خط درکار ہوگا، جو شرکا کی تفصیلات حتمی ہونے کے بعد فراہم کیا جائے گا۔</p>
<p>پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے نمائندے نے شرکا کی تعداد اور متوقع سفر کے تاریخوں کے بارے میں استفسار کیا تاکہ لاگت کا تخمینہ لگایا جا سکے۔ انہوں نے بتایا کہ موجودہ وقت میں پی آئی اے کے پاس صرف چار بوئنگ 777 یا مساوی طیارے ہیں جو بین الاقوامی پروازوں کے لیے پہلے سے مختص ہیں۔ نتیجتاً، ایونٹ کے لیے خصوصی پرواز کے طور پر ایک ایئر بس A320 استعمال کیا جائے گا۔</p>
<p>اجلاس میں متعدد فیصلے کیے گئے: پاکستان کے سفارتخانے کو فزیکل لے آؤٹ شیئر کرنا، ایس ای سی پی، ایف بی آر، اسٹیٹ بینک اور صوبوں کے لیے جگہ یقینی بنانا، ایس ای سی پی، اسٹیٹ بینک اور ایف بی آر سے کم از کم  بی ایس-21 کے نمائندے، اور صوبائی بورڈ آف انویسٹمنٹ  سے کم از کم بی ایس-20 کے نمائندے ایونٹ میں شرکت کریں گے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ  شرکاء کی تفصیلات وزارتِ خارجہ کے ساتھ ویزا کی سہولت کے لیے شیئر کرے گا۔</p>
<p>بعد میں ایک اور اجلاس میں فیصلہ ہوا کہ کاروباری وفد کے لیے خصوصی پرواز (بوئنگ 777) کا انتظام کیا جائے گا۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ  پانچ بزنس فیسلیٹیشن سینٹرز کے قیام کے لیے ٹائم لائن فراہم کرے گا اور کاروباری سہولت کے لیے 24/7 کال سینٹر فعال کیا جائے گا۔</p>
<p>مزید یہ کہ چینی آئی پی پیز سے متعلق کم از کم 100 ارب روپے کی سرکلر ڈیبٹ کی ادائیگی 25 اگست 2025 تک منتقل کی جائے گی، لیکن یہ ہدف ابھی تک پورا نہیں ہوا۔</p>
<p>کانفرنس کے دوران تکنیکی معاونت کے لیے ایک واحد بوٹ میں ایف بی آر، اسٹیٹ بینک، ایس ای سی پی، بورڈ آف انویسٹمنٹ  اور دیگر متعلقہ اداروں کے تربیت یافتہ ایچ آر دستیاب ہوں گے، اور چینی زبان کے مترجم بھی موجود ہوں گے۔ بورڈ آف انویسٹمنٹ  اس ٹیم کی تربیت اور ریہرسل کے ذمہ دار ہوگا۔</p>
<p>ذرائع کے مطابق کوئلہ گیسفیکیشن منصوبے کو چینی شراکت داروں کے ساتھ رسمی شکل دینے اور پیش رفت سے آگاہ رکھنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ تیار ایس ای زیڈ کی سہولیات کا اعلیٰ معیار کا ویڈیو تیار کیا جائے گا تاکہ ممکنہ چینی سرمایہ کاروں کو دکھایا جا سکے۔</p>
<p>چینی حکومت کی دلچسپی کے پیش نظر خصوصی توجہ اور شراکت داری کے ماڈلز درج ذیل شعبوں کے لیے تیار کیے جائیں گے: زرعی شعبہ، منتخب چینی صنعتوں کی منتقلی، کے کے ایچ کی اپگریڈیشن، ایم ایل-ون کے لیے مالی معاونت، آئی ٹی/آی ٹی ای ایس اور اے آئی میں تربیت و ہنر کی ترقی، اور ایس ای زیڈ کی تیاری۔</p>
<p>وزارت خوراک زرعی شعبے میں چینی سرمایہ کاری کے مواقع پر علیحدہ پریزنٹیشن دے گی اور ممکنہ شراکت داروں کی شناخت اور ویڈیو کے ذریعے پیش رفت دکھائے گی۔</p>
<p>وزارتِ داخلہ کو ہدایت دی گئی کہ ویزا اصلاحات کے حوالے سے کابینہ کے لیے سمری فوری طور پر جمع کرائی جائے۔</p>
<p>کاپی رائٹ بزنس ریکارڈر، 2025</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276281</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Aug 2025 09:14:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مشتاق گھمن)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/27091336712d2f6.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/27091336712d2f6.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
