<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>Business Recorder - Business &amp; Finance</title>
    <link>https://urdu.brecorder.com/</link>
    <description>Business Recorder</description>
    <language>en-Us</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 03 Jun 2026 18:09:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 03 Jun 2026 18:09:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹرمپ کو مجھے برطرف کرنے کا کوئی اختیار حاصل نہیں، فیڈ گورنر لیزا کُک</title>
      <link>https://urdu.brecorder.com/news/40276275/</link>
      <description>&lt;p&gt;&lt;strong&gt;فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انہیں برطرف کرنے کی غیر معمولی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کو آزاد امریکی مرکزی بینک کے رکن کو ہٹانے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے ان سے استعفے کا مطالبہ کرنے کے بعد، ٹرمپ نے پیر کی شام اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر ایک خط جاری کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے کُک کو ”فوری طور پر موثر“ طریقے سے برطرف کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس فیصلے کی بنیاد ان کے مارگیج معاہدوں (رہن قرضوں) میں مبینہ جھوٹے بیانات پر رکھی گئی، اور کہا گیا ہے کہ “انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے کافی وجوہات موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیزا کُک، جو مرکزی بینک کی بورڈ میں شامل ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون ہیں، نے اپنے وکیل ایبی لووِل کے ذریعے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو جاری بیان میں کہا ہے کہ میں استعفیٰ نہیں دوں گی۔ صدر ٹرمپ نے مجھے ’وجہ‘ کی بنیاد پر برطرف کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ قانون کے تحت ایسی کوئی وجہ موجود نہیں اور نہ ہی انہیں ایسا کوئی اختیار حاصل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کُک کے وکیل ایبی لووِل نے کہا ہے کہ وہ ”اس غیر قانونی کوشش کو روکنے کے لیے ہر ممکن قانونی اقدام کریں گے۔“&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ممکنہ قانونی تنازع ٹرمپ کی نئی مدتِ صدارت میں صدر کے اختیارات کے دائرہ کار کا تازہ امتحان بن سکتا ہے، جہاں 79 سالہ ریپبلکن صدر، جو حکومتی اداروں میں موجود اپنے حامیوں کی پشت پناہی سے، ایگزیکٹو اتھارٹی کو جارحانہ انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ نے دیگر خودمختار حکومتی اداروں کے ارکان کو برطرف کرنے کے ٹرمپ کے اختیار کی توثیق کی، مگر فیڈرل ریزرو کو خصوصی استثنیٰ دے دیا&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سپریم کورٹ کی قدامت پسند اکثریت نے حالیہ فیصلے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بعض خودمختار سرکاری اداروں کے ارکان کو برطرف کرنے کی اجازت دے دی، تاہم فیڈرل ریزرو کے لیے خصوصی استثنیٰ بھی واضح کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وفاقی قانون کے مطابق فیڈ کے عہدیداروں کو صرف ”جائز وجہ“ (cause) کی بنیاد پر ہٹایا جا سکتا ہے، جس کی تشریح بدعنوانی یا فرائض سے غفلت کے زمرے میں کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ لیزا کُک کو برطرف کرنے کے لیے ”وجہ موجود“ ہے&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے بیان میں لیزا کُک کو برطرف کرنے کے فیصلے کا جواز پیش کرتے ہوئے، ٹرمپ نے فیڈرل ہاؤسنگ فنانس ایجنسی (ایف ایچ ایف اے) کے ڈائریکٹر کی جانب سے 15 اگست کو امریکی اٹارنی جنرل کو بھیجی گئی ایک فوجداری ریفرل کا حوالہ دیا، جو ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ کے مطابق، اس ریفرل میں یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ کُک نے اپنے مارگیج معاہدوں میں ایک یا زائد جھوٹے بیانات دیے ہو سکتے ہیں، جو ان کے خلاف کارروائی کی ”کافی وجہ“ فراہم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے ایک مبینہ جھوٹ یہ بتایا گیا کہ کُک نے دو مختلف ریاستوں، مشی گن اور جارجیا، میں اپنی بنیادی رہائش گاہ ہونے کا دعویٰ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کُک پر تاحال کوئی فردِ جرم عائد نہیں ہوئی اور الزامات ان کے موجودہ عہدے سے پہلے کے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ لیزا کُک پر کسی قسم کی فوجداری کارروائی شروع نہیں ہوئی اور یہ مبینہ خلاف ورزیاں ان کے فیڈرل ریزرو کے بورڈ میں شامل ہونے سے قبل کی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ کے آغاز میں، کُک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ میری برطرفی کے لیے دباؤ ڈالنے کی کسی کوشش سے مرعوب نہیں ہوں گی، البتہ انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اپنے مالی معاملات سے متعلق سوالات کو سنجیدگی سے لیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی تک فیڈرل ریزرو نے میڈیا کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل جاری نہیں کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پیر کے روز اپنے خط میں ٹرمپ نے لکھا ہے کہ کم از کم، زیر بحث طرز عمل مالیاتی معاملات میں ایسی سنگین غفلت کی نشاندہی کرتا ہے، جو ایک مالیاتی نگران کی حیثیت سے آپ کی صلاحیت اور دیانت داری پر سوال اٹھاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سینیٹ بینکنگ کمیٹی کی سینئر ڈیموکریٹ سینیٹر الزبتھ وارن نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک آمرانہ طاقت کا ناجائز استعمال ہے جو فیڈرل ریزرو ایکٹ کی صریح خلاف ورزی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہیے اور کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال فیڈرل ریزرو پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے اور اس کے چیئرمین جیروم پاول کو بارہا تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ وہ کم افراطِ زر کے باوجود شرحِ سود میں کمی میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فیڈ حکام نے شرح سود میں کمی کے معاملے پر احتیاط سے کام لیا ہے، خاص طور پر ٹرمپ کے تجارتی محصولات (ٹیرفس) کے مہنگائی پر اثرات کے تناظر میں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے پاول کے بارے میں ”احمق“ اور ”نادان“ جیسے توہین آمیز الفاظ بھی استعمال کیے ہیں، جس سے ان کی ناراضی ظاہر ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دسمبر میں آخری بار شرح سود میں کمی کے بعد فیڈ نے 2025 کے دوران شرح کو 4.25 فیصد سے 4.50 فیصد کے درمیان برقرار رکھا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیئرمین پاول نے حال ہی میں اشارہ دیا ہے کہ ستمبر میں پالیسی اجلاس کے دوران شرح سود میں کمی کا امکان زیر غور آ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کے ہیڈکوارٹر کی ”انتہائی مہنگی“ تزئین و آرائش پر بھی تنقید کی اور اشارہ دیا کہ یہ معاملہ بھی پاول کو ہٹانے کی ممکنہ وجہ ہو سکتا ہے، تاہم بعد میں وہ اس مطالبے سے پیچھے ہٹ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ نے اپنے معاشی مشاورتی پینل کے سربراہ اسٹیفن میران کو حالیہ خالی نشست پر فیڈ بورڈ کا رکن نامزد کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیزا کُک مئی 2022 میں فیڈرل ریزرو کی گورنر مقرر ہوئیں اور ستمبر 2023 میں دوبارہ تعینات ہوئیں۔ ان کی موجودہ مدت 2038 میں ختم ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل وہ صدر باراک اوباما کے دور میں کونسل آف اکنامک ایڈوائزرز کی رکن کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹرمپ انتظامیہ مارگیج فراڈ کے الزامات کے تحت ان ڈیموکریٹس کو نشانہ بناتی رہی ہے جو ان کے سیاسی مخالف سمجھے جاتے ہیں اور مبصرین کے مطابق لیزا کُک کے خلاف حالیہ اقدام کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p><strong>فیڈرل ریزرو کی گورنر لیزا کُک نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انہیں برطرف کرنے کی غیر معمولی کوشش کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر کو آزاد امریکی مرکزی بینک کے رکن کو ہٹانے کا کوئی قانونی اختیار حاصل نہیں۔</strong></p>
<p>گزشتہ ہفتے ان سے استعفے کا مطالبہ کرنے کے بعد، ٹرمپ نے پیر کی شام اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ”ٹروتھ سوشل“ پر ایک خط جاری کیا ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ انہوں نے کُک کو ”فوری طور پر موثر“ طریقے سے برطرف کر دیا ہے۔</p>
<p>اس فیصلے کی بنیاد ان کے مارگیج معاہدوں (رہن قرضوں) میں مبینہ جھوٹے بیانات پر رکھی گئی، اور کہا گیا ہے کہ “انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے کافی وجوہات موجود ہیں۔</p>
<p>لیزا کُک، جو مرکزی بینک کی بورڈ میں شامل ہونے والی پہلی سیاہ فام خاتون ہیں، نے اپنے وکیل ایبی لووِل کے ذریعے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو جاری بیان میں کہا ہے کہ میں استعفیٰ نہیں دوں گی۔ صدر ٹرمپ نے مجھے ’وجہ‘ کی بنیاد پر برطرف کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ قانون کے تحت ایسی کوئی وجہ موجود نہیں اور نہ ہی انہیں ایسا کوئی اختیار حاصل ہے۔</p>
<p>کُک کے وکیل ایبی لووِل نے کہا ہے کہ وہ ”اس غیر قانونی کوشش کو روکنے کے لیے ہر ممکن قانونی اقدام کریں گے۔“</p>
<p>یہ ممکنہ قانونی تنازع ٹرمپ کی نئی مدتِ صدارت میں صدر کے اختیارات کے دائرہ کار کا تازہ امتحان بن سکتا ہے، جہاں 79 سالہ ریپبلکن صدر، جو حکومتی اداروں میں موجود اپنے حامیوں کی پشت پناہی سے، ایگزیکٹو اتھارٹی کو جارحانہ انداز میں استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔</p>
<p>سپریم کورٹ نے دیگر خودمختار حکومتی اداروں کے ارکان کو برطرف کرنے کے ٹرمپ کے اختیار کی توثیق کی، مگر فیڈرل ریزرو کو خصوصی استثنیٰ دے دیا</p>
<p>سپریم کورٹ کی قدامت پسند اکثریت نے حالیہ فیصلے میں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بعض خودمختار سرکاری اداروں کے ارکان کو برطرف کرنے کی اجازت دے دی، تاہم فیڈرل ریزرو کے لیے خصوصی استثنیٰ بھی واضح کیا۔</p>
<p>وفاقی قانون کے مطابق فیڈ کے عہدیداروں کو صرف ”جائز وجہ“ (cause) کی بنیاد پر ہٹایا جا سکتا ہے، جس کی تشریح بدعنوانی یا فرائض سے غفلت کے زمرے میں کی جا سکتی ہے۔</p>
<p>ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ لیزا کُک کو برطرف کرنے کے لیے ”وجہ موجود“ ہے</p>
<p>اپنے بیان میں لیزا کُک کو برطرف کرنے کے فیصلے کا جواز پیش کرتے ہوئے، ٹرمپ نے فیڈرل ہاؤسنگ فنانس ایجنسی (ایف ایچ ایف اے) کے ڈائریکٹر کی جانب سے 15 اگست کو امریکی اٹارنی جنرل کو بھیجی گئی ایک فوجداری ریفرل کا حوالہ دیا، جو ٹرمپ کے قریبی اتحادی سمجھے جاتے ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ کے مطابق، اس ریفرل میں یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ کُک نے اپنے مارگیج معاہدوں میں ایک یا زائد جھوٹے بیانات دیے ہو سکتے ہیں، جو ان کے خلاف کارروائی کی ”کافی وجہ“ فراہم کرتے ہیں۔</p>
<p>ان میں سے ایک مبینہ جھوٹ یہ بتایا گیا کہ کُک نے دو مختلف ریاستوں، مشی گن اور جارجیا، میں اپنی بنیادی رہائش گاہ ہونے کا دعویٰ کیا۔</p>
<p>کُک پر تاحال کوئی فردِ جرم عائد نہیں ہوئی اور الزامات ان کے موجودہ عہدے سے پہلے کے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ لیزا کُک پر کسی قسم کی فوجداری کارروائی شروع نہیں ہوئی اور یہ مبینہ خلاف ورزیاں ان کے فیڈرل ریزرو کے بورڈ میں شامل ہونے سے قبل کی ہیں۔</p>
<p>رواں ماہ کے آغاز میں، کُک نے ایک بیان میں کہا تھا کہ میری برطرفی کے لیے دباؤ ڈالنے کی کسی کوشش سے مرعوب نہیں ہوں گی، البتہ انہوں نے یہ یقین دہانی کرائی تھی کہ اپنے مالی معاملات سے متعلق سوالات کو سنجیدگی سے لیں گی۔</p>
<p>ابھی تک فیڈرل ریزرو نے میڈیا کی جانب سے اس معاملے پر کوئی ردعمل جاری نہیں کیا۔</p>
<p>پیر کے روز اپنے خط میں ٹرمپ نے لکھا ہے کہ کم از کم، زیر بحث طرز عمل مالیاتی معاملات میں ایسی سنگین غفلت کی نشاندہی کرتا ہے، جو ایک مالیاتی نگران کی حیثیت سے آپ کی صلاحیت اور دیانت داری پر سوال اٹھاتا ہے۔</p>
<p>سینیٹ بینکنگ کمیٹی کی سینئر ڈیموکریٹ سینیٹر الزبتھ وارن نے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک آمرانہ طاقت کا ناجائز استعمال ہے جو فیڈرل ریزرو ایکٹ کی صریح خلاف ورزی ہے۔</p>
<p>انہوں نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جانا چاہیے اور کالعدم قرار دیا جانا چاہیے۔</p>
<p>ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال فیڈرل ریزرو پر دباؤ میں اضافہ کیا ہے اور اس کے چیئرمین جیروم پاول کو بارہا تنقید کا نشانہ بنایا ہے کہ وہ کم افراطِ زر کے باوجود شرحِ سود میں کمی میں ناکام رہے۔</p>
<p>فیڈ حکام نے شرح سود میں کمی کے معاملے پر احتیاط سے کام لیا ہے، خاص طور پر ٹرمپ کے تجارتی محصولات (ٹیرفس) کے مہنگائی پر اثرات کے تناظر میں۔</p>
<p>ٹرمپ نے پاول کے بارے میں ”احمق“ اور ”نادان“ جیسے توہین آمیز الفاظ بھی استعمال کیے ہیں، جس سے ان کی ناراضی ظاہر ہوتی ہے۔</p>
<p>دسمبر میں آخری بار شرح سود میں کمی کے بعد فیڈ نے 2025 کے دوران شرح کو 4.25 فیصد سے 4.50 فیصد کے درمیان برقرار رکھا ہے۔</p>
<p>چیئرمین پاول نے حال ہی میں اشارہ دیا ہے کہ ستمبر میں پالیسی اجلاس کے دوران شرح سود میں کمی کا امکان زیر غور آ سکتا ہے۔</p>
<p>ٹرمپ نے فیڈرل ریزرو کے ہیڈکوارٹر کی ”انتہائی مہنگی“ تزئین و آرائش پر بھی تنقید کی اور اشارہ دیا کہ یہ معاملہ بھی پاول کو ہٹانے کی ممکنہ وجہ ہو سکتا ہے، تاہم بعد میں وہ اس مطالبے سے پیچھے ہٹ گئے۔</p>
<p>ٹرمپ نے اپنے معاشی مشاورتی پینل کے سربراہ اسٹیفن میران کو حالیہ خالی نشست پر فیڈ بورڈ کا رکن نامزد کیا ہے۔</p>
<p>لیزا کُک مئی 2022 میں فیڈرل ریزرو کی گورنر مقرر ہوئیں اور ستمبر 2023 میں دوبارہ تعینات ہوئیں۔ ان کی موجودہ مدت 2038 میں ختم ہوگی۔</p>
<p>اس سے قبل وہ صدر باراک اوباما کے دور میں کونسل آف اکنامک ایڈوائزرز کی رکن کے طور پر خدمات انجام دے چکی ہیں۔</p>
<p>ٹرمپ انتظامیہ مارگیج فراڈ کے الزامات کے تحت ان ڈیموکریٹس کو نشانہ بناتی رہی ہے جو ان کے سیاسی مخالف سمجھے جاتے ہیں اور مبصرین کے مطابق لیزا کُک کے خلاف حالیہ اقدام کو بھی اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Business &amp; Finance</category>
      <guid>https://urdu.brecorder.com/news/40276275</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Aug 2025 20:23:09 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اے ایف پی)</author>
      <media:content url="https://i.brecorder.com/large/2025/08/26195457a2c03d8.webp" type="image/webp" medium="image" height="600" width="1000">
        <media:thumbnail url="https://i.brecorder.com/thumbnail/2025/08/26195457a2c03d8.webp"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
